ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری
Posted by ارتقاءِ حيات on December 23, 2011
بھارتی صوبہ مدھیہ پردیش کے ایک دور افتادہ معمولی سے شہر میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری نے اس جہاں فانی میں آنکھیں کھولیں۔اس وقت کسی کے خواب و خیال میں نہ ہوگاکہ یہ بچہ ایک دن دنیا ئے شہر ت کے آسمان کو چھو لے گا۔ جب وہ کچھ ہوشمند ہوئے تو انہیں مقامی پرائمری اسکول میں داخل کرایا گیا۔مڈل پاس کرنے کے بعدانہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول رائے پور میں داخلہ لیا۔میٹرک میں امتیازی نمبر ملے تو انہیں کلکتہ بھیج دیا گیا۔اس وقت کلکتہ برصغیر کے اہم شہروں میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ یہاں انہیں ودیا ساگر اسکول میں داخلہ ملا جہاں سے انٹر پاس کر کے وہ علیگڑھ چلے گئے۔اس وقت علیگڑھ مسلمانوں کا خصوصی تعلیمی مرکز تھا۔ یہاں کے طلبہ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔193میں علیگڑھ سے ایم اے کی ڈگری لے کر بنارس گئے ۔یہاں یوپی کا شہر ہندوؤن کے مقدس شہروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔کاشی کے مرکزی مندروں کے علاوہ بھی شہر بھر میں مندروں کی بھرمار ہے۔مندروں کی زیادتی کی وجہ سے پنڈتوں کی کھپت بھی خوب ہے۔اس لئے ہندوستان بھر کے برہمن یہاں کھنچے چلے آتےہیں اور کسی نہ کسی مندر کے پنڈت بن جاتے ہیں۔پنڈتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے درسگاہیں بھی ہیں۔علی گڑھ یورنیورسٹی کی طرز پر بنارس میں ہندو یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے، انہوں نے بنارس یورنیورسٹی سے ساہتہ النکار کی ڈگری لی جو ایم اے کے مساوی سمجھی جاتی ہے۔1940میں پیرس سے”ہند کی سماجی تاریخ” پر ڈاکٹریٹ کیا ۔ وطن واپس آنے کے بعد کئی جگہ نوکریاں کیں،ہندوستانی سیاست کےاہم رکن راج گوپال اچاریہ کے پرائیوٹ سیکریٹری کی نوکری کی تو گاندھی، نہرو،مولانا ابو الکلام آزاد، سروجنی نائیڈو،مرار جی ڈیسائی سمیت تمام بڑے سیاستدانوں کے قریب آگیا۔دوستی کا رشتہ استوار ہوگیا، مگر جیسے ہی پاکستان آزاد ہوا اس نے تمام دوستی، عہدے وغیرہ پر لات ماری اور پاکستان آگیا۔اب وہ نوجوان طالب علم نہیں معروف فنکار،قلمکاراور دانشور بن چکا تھا۔لوگ اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اس نے تشکیل پاکستان کو بغور دیکھا بلکہ بھگتا تھا۔اس نے ان تمام باتوں کو”گردراہ”میں بیان کیا ۔ یہ اپنی نوعیت کی خودنوشت تھی۔قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ان کی ایک اور کتاب”ادب اور انقلاب”پہلے ہی مشہور ہو چکی تھی۔تنقیدی کتاب “روشن مینار”اورافسانوں کا مجموعہ”محبت اور نفرت”بھی ادب میں تہلکہ مچا رہی تھی کہ افسانوں کا ایک اور مجموعہ “زندگی کا میلہ”بھی لے آئے۔
دنیائے ادب کی اس قدآورشخصیت کی برسی23جولائی کو ہوتی ہے دیکھنا ۔




ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری | Tea Break said
[...] ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری [...]
dr.khalidnadeem said
گزارش ہے کہ ڈاکٹر اختر حسین راے پوری کی تاریخ پیدائش ۱۲؍جون ۱۹۱۲ ہے، جب کہ ان کی رحلت کی تاریخ ۲؍جون ۱۹۹۲۔ یہاں ۲۳؍جولائی کا ذکر کیا گیا ہے، جو کہ غلط ہے۔ ازراہِ نوازش تصھیح کر لی جائے۔
خالد ندیم (محقق: ڈاکٹر اختر حسین راے پوری: حیات و خدمات، مطبوعہ از مجلس ترقی ادب، لاہور ۲۰۰۹)
ارتقاءِ حيات said
شکریہ خالد صاحب آپ کہ کہنے پر اس تحریر میں ترمیم کر لی جائے گی
ڈاکٹر خالد ندیم said
اختر حسین راے پوری سے متعلق دو مضامین ایوانِ اردو، دہلی اور کتاب نما، دہلی میں شائع ہوئے ہیں۔ ممکن ہو تو دیکھ لیجیے گا۔
ارتقاءِ حيات said
ہم جیسے خواتین جو کہ نہ سکی ادبی تنظیم کا حصہ ہیں اور نہ ہی لائبریریوں مین جا سکتی ہیں وہ تو بس ان اخبارات و رسائل کا ہی مطالعہ کر کے دلی شوق کو تسکین پہنچا لیتی ہیں کہ جو عام دسترس میں ہو
کوشش کریں گے آپ کی دی ہوئی کتب و مضامین پر مشتمل تحریریں مل دستیاب ہوں تو پڑھیں گے
Dr. Khalid Nadeem said
ڈاکٹر اختر حسین راے پوری کی افسانہ نگاری پر حال ہی میں کتاب نما نئی دہلی کے شمارے میں میرا مضمون شائع ہوا ہے۔ جون ۲۰۱۲ کو قومی زبان، کراچی کے شمارے میں راے پوری صاحب کے سو سالہ جشن ولادت کی مناسبت سے میرا ایک مضمون شائع ہو رہا ہے۔ اس سے قبل فروری میں ایوانِ اردو، نئی دہلی میں اقبال کے ایک ناقد: اختر حسین راے پوری کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اگر ان کے حصول کی خواہش ظاہر کی جائے گی تو مَیں بڑی خوشی سے یہ مضامین ارسال کر سکوں گا۔
ارتقاءِ حيات said
ڈاکٹرصاحب آپ کو سہہ بار آپ کو یاہں دیکھ کردلی خوشی ہوئی
کوشش کروں گی جون کا مقتدرہ قومی زبان کا شمارہ حاصل کرنے مین کامیاب ہو سکوں
اگر آپ کو دشواری نہ ہو اور آپ مجھے بھیج سکیں تو نوازش ہو گی