ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

مقدس مقامات پر شرک کےفتوؤں پر اعتراضات کا رد

Posted by ارتقاءِ حيات on December 22, 2011


ایک دفعہ ایک بزرگ مدینہ میں روضہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس گئے انہوں نے وہاں موجود شرطی (امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے کارکن جو ضریح مقدس کا بوسہ دینے والوں کو روکتے ہیں )کو غافل پا کر اور ضریح  مقدس کو بوجہ تعظیم و بزرگی و قرب رسولﷺ کے بوسہ لینا شروع کر دیا۔
شرطی نے جب دیکھا تو بہت ناراض ہوا اور میرے پاس آکر اس نے بڑے احترام سے کہا: ” یہ درو دیوار کو جو بوسہ دیتے ہو یہ لوہے کے علاوہ کچھ بھی نہیں جسے استامبول سے لایا گیا ہے انھیں چومنا منع ہے کیونکہ یہ تمام شرک ہے“۔
میں نے کہا: ”تم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہو؟“
شرطی نے کہا: ”ہاں“۔
میں نے کہا: ”حضرت محمد صلی الله علیه و آله وسلم کی قبر پر بھی پتھر ہے اگر اس پتھر کا چومنا شرک ہے تو حجر اسود کا بھی چومنا شرک ہے“۔
اس نے کہا: ”حجر اسود کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چوما ہے“۔
میں نے کہا: ”اگر کسی چیز کا
”تیمناً و تبرکاً“ چومنا شرک ہے تو پیغمبر اور غیر پیغمبر میں کوئی فرق نہیں ہے“۔
اس نے کہا: ” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اس لئے چوما کہ وہ جنت سے آیا ہے“۔
میں نے کہا: ”ہاں حجر اسود جنت سے لایا گیا ہے اس لئے وہ محترم ومقدس ہو گیا ہے اور اسے حضرت محمد صلی الله علیه و آله وسلم نے چوما ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے چوما جائے کیونکہ بہشت کا ایک حصہ ہے“۔
اس نے کہا: ہاں ”یہی وجہ ہے“۔
میں نے کہا: ”بہشت اور اجزاء بہشت کا مقدس اور محترم ہونا وجوحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے“۔
اس نے کہا: ”ہاں“۔
میں نے کہا: ”جب بہشت اور اجزاء بہشت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وجود کی وجہ سے مقدس اور محترم ہو جاتے ہیں اور ان کا بوسہ دینا ”تیمناً و تبرکا ً“جائز ہوجاتا ہے تو یہ لوہا
(جو قبر پیغمبر اکرم کے اطراف میں لگا ہوا ہے)اگر چہ استامبول سے آیا ہے لیکن قبر پیغمبرﷺ میں لگنے کی وجہ سے مقدس اور محترم ہو گیا ہے اس وجہ سے ان کا بھی چومنا جائز ہے“۔
توضیح کے لئے بات آگے بڑھاوٴں؟
 قرآن کی جلدچمڑے سے بنائی جاتی ہے۔کیا یہ چمڑا صحرا اور دریا کی گھاس کھانے والے حیوانوں سے نہیں لیاجاتا ہے جس کا نہ پہلے احترام کر ناضروری تھا اور نہ نجس کرنا حرام تھا لیکن اسی چمڑے سے جلد قرآن بننے سے وہ محترم ہو جاتا ہے اور اس کی توہین کرنا حرام ہے اور ہم اسے بوسہ دیتے ہیں جس طرح صدر اسلام سے اب تک مسلمانوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ جلد قرآن کا چومناجیسے ایک باپ اپنے بیٹے کا بوسہ لیتا ہے،آج تک کسی نہیں کہا کہ یہ شر ک اور حرام ہے، اسی طرح ضریح حضرت محمد  صلی الله علیه و آله وسلم اور تمام صحابہ  و اولیاء اکرام کی ضریحوں کا بوسہ دینا نہ شرک ہے نہ بت پرستی۔
موٴلف کا قول: لیلیٰ ومجنوں کی تاریخ حیات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ لیلیٰ کے محلہ کا ایک کتا مجنوں کے محلہ تک پہنچ گیا مجنوں نے جب اسے دیکھا تو اسے اپنی آغوش میں لے کر بوسہ دینے لگا ، ایک شخص نے اس سے کہا:
”لیس علی المجنون حرج“مجنوں کے لئے یہ کوئی حرج نہیں ہے یعنی تم دیوانہ ہو اس لئے کتے کا بوسہ دینے پر میں کوئی اعتراض نہیں کروں گا۔
مجنوں نے جواب میں کہا
: ”لیس علی الاعمیٰ حرجاندھے کے لئے کوئی بات نہیں ہے ، یعنی تم اندھے ہو اور تم ہمارے اس بوسہ لینے کو درک نہیں کر سکتے ہو“۔
یہ قطعہ بھی مجنوں کے لئے منسوب ہے:

اٴمر علی الدیار دیار لیلی اُقبل ذالجدارو ذالجدار
وما حب الدیار شغفن قلبي ولکن حب من سکن الدیار

”میں لیلیٰ کے گھر کی طرف سے گزرتا ہوں تو اس کے درودیوار کو چومتا ہوں۔ اس گھر کی محبت نے مجھے پاگل نہیں کیا بلکہ اس کی محبت نے مجھے دیوانہ بنا دیا جو اس گھر میں رہتا ہے“۔

جنت

25 Responses to “مقدس مقامات پر شرک کےفتوؤں پر اعتراضات کا رد”

  1. بہت نازک موزوع پر طبع آزماِئی کی ہے آپ نے۔۔
    محبت کرنے والے پابندیوں کو نہیں تسلیم کرتے ۔۔۔اور اگر اعتقاد میں ضعف نا آئے تو کبھی کبھار ان پابندیوں کو توڑ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔۔ اس سے نعوذ با اللہ شرک نہیں کہا جاسکتا بس وہ سب کچھ نا کیا جاَئے جو ہمارے یہاں کی ہری پگڑی کر رہی ہے جو کھلے شرک کے سوا کچھ نہیں۔۔۔
    روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اگر یہ شرطے نا ہوں تو کچھ بعید نہیں کہ ہمارے یہاں کی ہری پگڑی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا تقدس پامال کر کہ رکھ دے اور اپنی خرافات اور ہفویات کو عشق نبی کا نام دے ۔۔۔
    ویسے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر موجود شرطے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جالیان چومنے والے سے کبھی اتنی شرافت سے بات نہیں کرتے۔۔۔۔ خاکسار کو اسکا ذاتی تجربہ ہے ۔۔۔ : )

    • سب ادب و احترام کی باتیں ہیں شرک کوئی کرنا نہیں چاہتا بس دل سے مجبور ہیں

      • یہ ادب و احترام ہی ہوتا ہے جو شرک میں تبدیل ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اس طرف صاف اشارہ ہے کہ شیطان نے کس طرح پچھلی امتوں کے صالحین اور نیک بزرگوں کو کس طرح خدا بنوا کر انکی پرستش کرائی۔۔ انسانی فطرت میں ایک بگاڑ ہے اور وہ یہ کہ انسان کبھی بھی بتائے گئے سیدھے راستے پر نہیں چلنا چاہتا۔۔۔ جب حضرت عیسیِ علیہ السلام کی محبت احترام حد سے تجاوز کر گیا تو انکے ماننے والوں نے انہیں منصب رسالت سے اٹھا کر الوہیت کا درجہ دے دیا۔ یہی کام یہود نے حضرت عزیر علیہ السلام کے ساتھ کیا ۔۔۔ آپ ذرا ہری پگڑی کے عقائد کا تفصیلی مطالعہ کیجیے آپ کو ان میں شرک صاف نظر آجائے گا۔

  2. MD-NOOR said

    محترمہ تحریم صاحبہ شاید آپکو یاد ہو کہ ایک تبصرہ میں میں نے چشموں کو ذکر کیا تھا ۔۔۔ ہر چشمہ والے کے پاس دلائل کا انبار ہے.. جسکی بنیاد پر ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو کافر کہتا ہے ۔۔۔۔ اس لیے میں کبھی ان سے بحث نہیں کرتا ہوں ۔۔۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہتا ہوں کہ بھائی البقرۃ کی آیت 2:62 اور المائدۃ کی آیت 5:69 کا ترجمہ دیکھو۔۔۔ مجھے سب سے اچّھا ترجمہ مولانا مودودی صاحب کا لگا ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا شُکریہ ۔۔(ایم ۔ ڈی)

    • hum to ksi b kalma go ko kafir kehna to dar kinar balke kafir k liye b hidayat ki dua hi karty hain
      pr hum sirf Allah k naik bandon ko aqidat ki nigah se dekhe to b hum pr shirk ki HAD laga dene mai kuch muzaiqah nai samjha jata
      halan k hum b shir ko janty hain
      samjhty hain or shirk nai karty
      sirf aqidat hi rakhy hain
      or Allah se Hidayat k talib hain
      bas on nek bandon se apna rabt rahy is liye in se aqidat se barh kr kuch hum nai rakhty

  3. عیسائیوں کو پھر ایویں لتاڑتے ہیں انہوں نے بھی عشق میں عیسیٰ کو خدا بنا دیا

    • Khaliq or Makhlooq ka farq b janty hian or Makhlooq ki Haad b
      jab k Khaliq hadod se pak hai
      shirk ka mafhoom samjhany k liye kai dalilain b nakafi hon gi
      pr 1 bat hai jo aasan or sada hai

      koi b IBADAT chahy zarra bhr hi q na ho
      ya Makhlooq ko Allah k sath oski zaat o sifaat mai shamil krna

      ye shirk hai

      or Allah ki Qasam Hum is se Dooor hain

  4. شبانه said

    دل كى كجى اور شيطان كى لفاظى جهنم رسيد كى ل لي
    كافى هى بنى اسرايل والى دليلين مت دين پليز.

  5. جو دو تين جماعتيں اور ايک دو کتاب ميں نے پڑھی ہيں ان کے مطابق شرک کسی کو اللہ کا ہمعصر ٹھہرانے کو کہتے ہيں يعنی جو صفات صرف اللہ کی ہيں وہ کسی اور ميں بھی سمجھنا ۔ مندرجہ بالا عبارت ميں جس فعل کا ذکر ہے وہ بدعت کے زمرے ميں آتا ہے اور جہاں تک ميرا واسطہ عربوں سے پڑا ہے وہ ايسے فعل کو بدعت ہی کہتے ہيں

    متذکرہ عبارت ميں جو جواز پيش کيا گيا ہے اسے ميرا دماغ قبول نہيں کرتا کيونکہ اسی طرح کا جواز علی ہجويری المعروف داتا گنج بخش رحمة اللہ عليہ اور دوسرے اکابرين کی قبور پر کئے جانے والے اعمال کيلئے بھی پيش کيا جاتا ہے
    مزيد يہ کہ مسلمان سنّت کے پابند ہيں کيونکہ اللہ کا حکم رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی اطاعت ہے ۔
    سنّت کی تين اقسام ہيں ۔ قولی ۔ فعلی اور اقراری اور ان کی درجہ بندی بھی اسی ترتيب سے ہے ۔ حجر اسود کو بھوسہ دينا قولی بھی ہے اور فعلی بھی يعنی رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے خود بھوسہ ديا اور مسلمانوں کو بھی بھوسہ دينا کا حکم ديا
    کيا کہيں مستند کتاب ميں ايسا بھی تحرير ہے کہ رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے حجر اسود کے علاوہ عمارت کعبہ کے کسی اور حصہ پر بھوسہ ديا ہو ؟ نہيں ۔ تو کيا کعبہ کی باقی عمارت محترم نہيں يا اس سے مسلمانوں کو کوئی عقيدت نہيں ؟
    رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم معراج کے دوران بيت المقدس گئے جہاں بنی اسرائيل کا قبلہ ہے جو مسلمانوں کيلئے بھی قابلِ صد احترام و تقديس ہے وہاں بھی رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے کوئی بھوسہ نہ ديا
    تو پھر رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی لحد کے گرد اُس جنگلے کو بھوسہ کيوں جو ترقی کی اُس حکومت نے بنوايا جو امارتِ مسلمہ بھی نہ تھی ؟

    • ye bas Aqidat ki bat hai
      hum bachon ko piyar krty hain maan baap ko piyar krty hain
      in ki khoda na khoasta koi takleef ho ya js k maa baap in se bichar gay hon
      wo in ki Qabron pr jaty hain to in ki kefiat kia hoti hai
      apne aap ko sanbhalna bara hi mushkil kam hota hai

      phr Muhammad SAWW k liye to hukum hai k apne maa bap or degar piyari chizon se in ko piyara jano

      mai ye nai kehti k ye Lazim hai ya zarori hai
      bas Muhabbat hai k aap in janglon ko chom len

      jin k dil sakht hoty hain wo to maaa bap k zinda hoty hoye b on ko piyar ki nigah to kia bat krna hi gawara nai krty

      bas aqidat hai nazariya hai

      lazim nai hai Hadees nai hai
      Shirk nai hai k Ebadat nai hai ye

      • ميرا پہلا نقطہ تھا کہ شرک غلط لکھا گيا ہے اس کی بجائے بدعت ہو سکتا ہے
        دوسرا ۔ سب اپنی ماں سے پيار کرتے ہوں گے مگر ميری ماں ميرے لئے جو کچھ تھيں اُس اللہ کے علاوہ ميں جانتا ہوں يا ميری بڑی بہن جانتی ہيں ۔ ميں نے اُن کيلئے زندگی ميں اور وفات کے بعد بھی بہت کچھ کيا ہے ليکن اُن کی قبر پر سوائے تلاوت قرآن شريف اور دعا کے کبھی کچھ نہيں کيا ۔ ميری امی کے متعلق ميرے مختصر احساسات يہاں ديکھے جا سکتے ہيں
        http://www.theajmals.com/blog/%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%85%D9%91%DB%8C/
        آپ نے اُردو رسم الخط کيوں چھوڑ ديا ہے

  6. [...] مقدس مقامات پر شرک کےفتوؤں پر اعتراضات کا رد [...]

  7. Jawad Ahmad said

    Allah hum sab ko shirk se bachaye
    aur un logo se b Jo Quraan aur dosre kutub sirf is liye parhte hai ke hume koi aisi cheez mil jaye jis ko dalil bana kr Muhammad(s.a.w) ki shaan mai Kami ke liye paish kiya jae
    Allah Hume seede raste par chalne ki taufeeq ata farmaye

    • Hazarat Muhammad SAWW ki Shan o Azmat k kam krny ki sochna bhi Hum Muslamano k Nazdeek Munafiq hony ki nishaniyon mai se hai

      on logon ko kia kahen ge k jo Hazarat Muhammad SAWW ko bas 1 Messanger hi manty hain k wo aay Allah ka pegham dia or bas …. chaly gay

      Shaeed ko Quran Zinda kehta hai k onhen Murda na kaho k wo zinda hain or tom Shaoor nai rakhty wo Allah ki janib se khaty or pity b hain
      to kia Hazarat Muhammad SAWW Shaheedon se kam martaby pr the (Naauzubillah)
      kia wo zinda na honge pr Hum waqai Shaoor nai rakhty

      Allah Hidayat farmay

  8. Agar baat mohabat, tazeem aur Ishq e Rasool (S.A.W.W.) ki ha to is me hum Sahaba Karam (R.A.) ka moqabla nahin kar saktay. aur kisi Sahabi se aap yeh riwayat nahin kar saktay k unhoon ne Rauza e Rasool (S.A.W.W.) kay dar wa deewar ko chooma ho. Agar aisi koi mustanad riwayat ha to paish karain. Agar nahin to yeh sab adab wa ahtaram ki batain SHIRK hain KHULA SHIRK.

    Wassalam

    • Sahaba e Kiram ne to Jihaad ko Jihaad kaha hai
      or Hum kia keh rahy or kar rahy hain>>>

      sab janty hain

      jidaah ko kia kia name de dia hain hum ne???

      kahiye to bataon

      Ghar mai beth kr kisi 1 sahabi ne jihaad kia ho to bata dain siway os 1 sakhs k k jisy Allah k Rasool ne sakhti se rok apni maa ki Khidmat k liye

      Quraan mai 584 jaga Jihaad Allah ki raah mai ghar se nikal kr Qatal ka name dia gaya hai or hum jihadion k Mukhbir hain
      mujahideen khana chopy bethe hain in ki khabren tak in k hony ko hi Katra girdanty hain

      Media ne humara Brain wash kr dia hai
      Sahi or Ghalat sab hum se koson door hai

      Allah behtar janta hai ksy Hidayat ki zarorat hai

      • My question is still unanswered. I am not talking about K aaj kal jihad ko hum ne kia naam de diya ha. Mera ek seedha sadha sa sawal ha

        Question: Kia aap kisi Sahabi se aap yeh riwayat nahin kar saktay k unhoon ne Rauza e Rasool (S.A.W.W.) kay dar wa deewar ko chooma ho? Agar aisi koi mustanad riwayat ha to paish karain. Agar nahin to yeh sab adab wa ahtaram ki batain SHIRK hain KHULA SHIRK (Ya Chalain Naram Alfaz me Bidat kehlain)

  9. افتخار صاحب، اتمام حجت کا شکریہ

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers