قرآن کہانی:حضرت صالح عليہ السلام (حصہ آخر)
Posted by ارتقاءِ حيات on December 22, 2011
قوم ثمود كا انجام
قرآن كريم ميں اس سركش قوم (قوم ثمود ) پر تين دن كى مدت ختم ہونے پر نزول عذاب كى كيفيت بيان كى گئي ہے :”اس گروہ پر عذاب كے بارے ميں جب ہمارا حكم آپہنچا تو صالح اور اس پر ايمان لانے والوں كو ہم نے اپنى رحمت كے زير سايہ نجات بخشى ”_( سورہ ہود آيت 66)
انہيں نہ صرف جسمانى ومادى عذاب سے نجات بخشى بلكہ ”رسوائي ،خوارى اور بے آبروئي سے بھى انہيں نجات عطا كى كہ جو اس روز اس سركش قوم كو دامنگير تھى ” _( سورہ ہود آيت 66)
انہيں نہ صرف جسمانى ومادى عذاب سے نجات بخشى بلكہ ”رسوائي ،خوارى اور بے آبروئي سے بھى انہيں نجات عطا كى كہ جو اس روز اس سركش قوم كو دامنگير تھى ” _( سورہ ہود آيت 66)
كيونكہ تمہارا پروردگار ہر چيز پر قادر اور ہر كام پر تسلط ركھتا ہے اس كے لئے كچھ محال نہيں ہے اور اس كے ارادے كے سامنے كوئي طاقت كچھ بھى حيثيت نہيں ركھتي،”لہذا اكثرجمعيت كے عذاب الہى ميں مبتلا ہونے سے صاحب ايمان گروہ كو كسى قسم كى كوئي مشكل اور زحمت پيش نہيں ہوگى يہ رحمت الہى ہے جس كا تقاضا ہے كہ بے گناہ، گنہگاروں كى آگ ميں نہ جليں اور بے ايمان افراد كى وجہ سے مومنين گرفتار بلانہ ہوں_
”ليكن ظالموں كو صيحہ آسمانى نے گھيرليا اس طرح سے كہ يہ چيخ نہايت سخت اور وحشت ناك تھى اس كے اثر سے وہ سب كے سب گھروں ہى ميں زمين پر گركر مرگئے ،وہ اس طرح مرے اور نابود ہوئے اور ان كے آثار مٹ گئے كہ گويا وہ اس سرزمين ميں كبھى رہتے ہى نہ تھے ”_( سورہ ہود آيت 67_68)
جان لوكہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے كفر كيا تھا اور انہوں نے احكام الہى كو پس پشت ڈال ديا تھا_ ”دور ہو قوم ثمود، اللہ كے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت ہو”_( سورہ ہود آيت 86)
”ليكن ظالموں كو صيحہ آسمانى نے گھيرليا اس طرح سے كہ يہ چيخ نہايت سخت اور وحشت ناك تھى اس كے اثر سے وہ سب كے سب گھروں ہى ميں زمين پر گركر مرگئے ،وہ اس طرح مرے اور نابود ہوئے اور ان كے آثار مٹ گئے كہ گويا وہ اس سرزمين ميں كبھى رہتے ہى نہ تھے ”_( سورہ ہود آيت 67_68)
جان لوكہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے كفر كيا تھا اور انہوں نے احكام الہى كو پس پشت ڈال ديا تھا_ ”دور ہو قوم ثمود، اللہ كے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت ہو”_( سورہ ہود آيت 86)
”صيحة” سے كيا مرادہے ؟
”صيحة”لغت ميں ”بہت بلند آواز ” كو كہتے ہيں جو عام طور پر كسى انسان يا جانور كے منہ سے نكلتى ہے ليكن اس كا مفہوم اسى سے مخصوص نہيں ہے بلكہ ہر قسم كى ” نہايت بلند آواز ”اس كے مفہوم ميں شامل ہے _
آيات قرآنى كے مطابق صيحہ آسمانى كے ذريعہ چند ايك گنہگارقوموں كوسزا دى گئي ہے ان ميں سے ايك يہى قوم ثمود تھي، دوسرى قوم لوط ،( سورہ حجرآيت 73)اور تيسرى قوم شعيب _( سورہ ہودآيت 94)
قرآن كى دوسرى آيات سے قوم ثمود كے بارے ميں معلوم ہوتا ہے كہ اسے صاعقہ كے ذريعہ سزا ہوئي ارشاد الہى ہے : ”اگر وہ منھ پھير ليں تو پھر كہہ دو كہ ميں ايسى بجلى سے ڈراتا ہوں جيسى عاد و ثمود پر گري”_( سورہ فصلت آيت13) يہ چيز نشاندہى كرتى ہے كہ ”صيحہ” سے مراد ” صاعقہ ” كى وحشتناك آوازہے _
آيات قرآنى كے مطابق صيحہ آسمانى كے ذريعہ چند ايك گنہگارقوموں كوسزا دى گئي ہے ان ميں سے ايك يہى قوم ثمود تھي، دوسرى قوم لوط ،( سورہ حجرآيت 73)اور تيسرى قوم شعيب _( سورہ ہودآيت 94)
قرآن كى دوسرى آيات سے قوم ثمود كے بارے ميں معلوم ہوتا ہے كہ اسے صاعقہ كے ذريعہ سزا ہوئي ارشاد الہى ہے : ”اگر وہ منھ پھير ليں تو پھر كہہ دو كہ ميں ايسى بجلى سے ڈراتا ہوں جيسى عاد و ثمود پر گري”_( سورہ فصلت آيت13) يہ چيز نشاندہى كرتى ہے كہ ”صيحہ” سے مراد ” صاعقہ ” كى وحشتناك آوازہے _
(سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا صاعقہ كى وحشت ناك آواز كسى جمعيت كو نابود كرسكتى ہے ؟ اس كا جواب مسلما ًمثبت ہے_ كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ آوازكى لہريں جب ايك معين حدسے گزرجائيں تو وہ شيشے كو توڑديتى ہيں يہاں تك كہ بعض عمارتوں كو تباہ كرديتى ہيں اورا نسانى بدن كے لئے اندر كے آرگا نزم كو بيكار كرديتى ہيں _
ہم نے سنا ہے كہ جب ہوائي جہازصوتى ديوارتوڑديتے ہيں (اور آواز كى لہروں سے تيز رفتار سے چلتے ہيں )توكچھ لوگ بے ہوش ہوكر گرجاتے ہيں يا عورتوں كے حمل ساقط ہوجاتے ہيں يا ان علاقوں ميں موجود عمارتوں كے تمام شيشے ٹوٹ جاتے ہيں _
فطرى اور طبيعى ہے كہ اگر آواز كى لہروں كى شدت اس سے بھى زيادہ ہوجائے تو آسانى سے ممكن ہے كہ اعصاب ميں،دماغ كى رگوں ميں اور دل كى دھڑكن ميں تباہ كن اختلال پيدا ہوجائے جو انسانوں كى موت كا سبب بن جائے _آيات قرآنى كے مطابق اس دنيا كا اختتام ميں تباہ كن اختلال پيدا ہوجائے جو انسانوں كى موت كا سبب بن جائے گا_)
آيات قرآنى كے مطابق اس دنيا كا اختتام بھى ايك عمومى صيحہ كے ذريعے ہوگا _
ہم نے سنا ہے كہ جب ہوائي جہازصوتى ديوارتوڑديتے ہيں (اور آواز كى لہروں سے تيز رفتار سے چلتے ہيں )توكچھ لوگ بے ہوش ہوكر گرجاتے ہيں يا عورتوں كے حمل ساقط ہوجاتے ہيں يا ان علاقوں ميں موجود عمارتوں كے تمام شيشے ٹوٹ جاتے ہيں _
فطرى اور طبيعى ہے كہ اگر آواز كى لہروں كى شدت اس سے بھى زيادہ ہوجائے تو آسانى سے ممكن ہے كہ اعصاب ميں،دماغ كى رگوں ميں اور دل كى دھڑكن ميں تباہ كن اختلال پيدا ہوجائے جو انسانوں كى موت كا سبب بن جائے _آيات قرآنى كے مطابق اس دنيا كا اختتام ميں تباہ كن اختلال پيدا ہوجائے جو انسانوں كى موت كا سبب بن جائے گا_)
آيات قرآنى كے مطابق اس دنيا كا اختتام بھى ايك عمومى صيحہ كے ذريعے ہوگا _
حضرت صالح عليہ السلام كے ساتھ نجات پانے والے افراد
بعض مفسرين كہتے ہيں كہ حضرت صالح عليہ السلام كے دوستوں كى تعداد چار ہزار تھي_جوآپ كے ساتھ عذاب سے بچ گئے تھے اور حكم پرردگار كے مطابق فساد و گناہ سے لبريز اس علاقہ سے كوچ كركے ”حضر موت” جاپہنچے تھے_
وادى القرى ميں نو(9)مفسدٹولوں كى سازش
يہاں پر حضرت صالح اور ان كى قوم كى داستان كا ايك اور حصہ بيان كيا گيا ہے جو درحقيقت گزشتہ حصے كا تتمہّ ہے اور اسى پر اس داستان كا اختتام ہوتا ہے _اس ميں حضرت صالح عليہ السلام كے قتل كے منصوبے كا ذكر ہے جو نوكا فراورمنافق لوگوں نے تيار كيا تھا اور خدا نے ان كے اس منصوبے كو ناكام بناديا_فرمايا گيا ہے :”اس شہر( وادى القرى ) ميں نوٹولے تھے جو زمين ميں فساد برپا كرتے تھے اور اصلاح نہيں كرتے تھے _”(سورہ نمل آيت 48)
ان نوميں سے ہرگروہ كا ايك ايك سربراہ بھى تھا اور شايدان ميں سے ہر ايك كسى نہ كسى قبيلے كى طرف منسوب بھى تھا _ ظاہر ہے كہ جب صالح عليہ السلام نے ظہور فرمايا اور اپنا مقدس اور اصلاحى آئين لوگوں كے سامنے پيش كيا تو ان ٹولوں پر عرصہ حيات تنگ ہونے لگا يہى وجہ ہے كہ قرآن كے مطابق انھوں نے كہا :” آئو خدا كى قسم اٹھا كر عہد كريں كہ صالح عليہ السلام اور ان كے خاندان پر شب خون ماركر انھيں قتل كرديں گے پھر ان كے خون كے وارث سے كہيں گے كہ ہميں اس كے خاندان كے قتل كى كوئي خبر نہيں اور اپنى اس بات ميں ہم بالكل سچے ہيں_” (سورہ نمل آيت 49)
پھر لائق غور بات يہ ہے كہ انھوں نے قسم بھى ”اللہ ” كى كھائي تھى جس سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ بتوںكو پوجنے كے علاوہ زمين وآسمان كے خالق اللہ پر بھى عقيدہ ركھتے تھے اور اپنے اہم مسائل ميں اسى كے نام كى قسم كھاتے تھے يہ بھى واضح ہوتاہے كہ وہ اتنے مغرور اور بدمست ہوچكے تھے كہ اس قدر ہولناك جرم كے ارتكاب كے لئے بھى انھوں نے خدا ہى كا نام ليا گوياوہ كوئي اہم عبادت يا كوئي ايسا كام انجام دينے لگے ہوں جو اللہ كو بہت منظور ہے خدا سے بے خبر مغروراور گمراہ لوگوں كا وطيرہ ايساہى ہوا كرتا ہے _
وہ صالح عليہ السلام عليہ السلام كے ہمنوائوں اور ان كے قوم وقبيلہ سے خوف كھاتے تھے لہذا انھوں نے ايسا منصوبہ بنايا كہ جس سے وہ اپنے مقصد ميں بھى كامياب ہوجائيں اور صالح عليہ السلام كے طرفداروں كے غيظ وغضب كابھى شكار نہ ہوں_ گويا وہ ايك تير سے دو شكار كرنا چاہتے تھے بنابر اين انھوں نے رات كے وقت حملہ كى تركيب سوچى اور طے كرليا كہ جب بھى كوئي شخص ان سے پوچھ گچھ كرے گا تو سب متفق ہوكر قسم اٹھائيں گے كہ اس منصوبے ميں ان كا كوئي عمل دخل نہيں تھا يہاں تك كہ وہ اس وقت موجود بھى نہيں تھے _ (كيونكہ ان كي صالح عليہ السلام كے ساتھ مخالفت پہلے سے دنيا كو معلوم تھى )_
تاريخوں ميں ہے كہ ان كى سازش كچھ يوں تھى كہ شہر كے اطراف ميں ايك پہاڑ تھا اور پہاڑميں ايك غار تھى جس ميں جناب صالح عليہ السلام عبادت كيا كرتے تھے اور كبھى كبھار وہ رات كو بھى اسى غار ميں جاكر اپنے پروردگار كى عبادت كرتے تھے اور اس سے رازونياز كيا كرتے تھے _
انھوں نے طے كرليا كہ وہاں كمين لگا كر بيٹھ جائيں گے جب بھى صالح وہاں آئيں گے انھيں قتل كرديں گے _ان كى شہادت كے بعد ان كے اہل خانہ پر حملہ كركے انھيں بھى راتوں رات موت كے گھاٹ اتارديں گے پھر اپنے اپنے گھروں كو واپس چلے جائيں گے اگر ان سے اس بارے ميں كسى نے پوچھ بھى ليا تو اس سے لاعلمى كا اظہار كرديں گے _
ان نوميں سے ہرگروہ كا ايك ايك سربراہ بھى تھا اور شايدان ميں سے ہر ايك كسى نہ كسى قبيلے كى طرف منسوب بھى تھا _ ظاہر ہے كہ جب صالح عليہ السلام نے ظہور فرمايا اور اپنا مقدس اور اصلاحى آئين لوگوں كے سامنے پيش كيا تو ان ٹولوں پر عرصہ حيات تنگ ہونے لگا يہى وجہ ہے كہ قرآن كے مطابق انھوں نے كہا :” آئو خدا كى قسم اٹھا كر عہد كريں كہ صالح عليہ السلام اور ان كے خاندان پر شب خون ماركر انھيں قتل كرديں گے پھر ان كے خون كے وارث سے كہيں گے كہ ہميں اس كے خاندان كے قتل كى كوئي خبر نہيں اور اپنى اس بات ميں ہم بالكل سچے ہيں_” (سورہ نمل آيت 49)
پھر لائق غور بات يہ ہے كہ انھوں نے قسم بھى ”اللہ ” كى كھائي تھى جس سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ بتوںكو پوجنے كے علاوہ زمين وآسمان كے خالق اللہ پر بھى عقيدہ ركھتے تھے اور اپنے اہم مسائل ميں اسى كے نام كى قسم كھاتے تھے يہ بھى واضح ہوتاہے كہ وہ اتنے مغرور اور بدمست ہوچكے تھے كہ اس قدر ہولناك جرم كے ارتكاب كے لئے بھى انھوں نے خدا ہى كا نام ليا گوياوہ كوئي اہم عبادت يا كوئي ايسا كام انجام دينے لگے ہوں جو اللہ كو بہت منظور ہے خدا سے بے خبر مغروراور گمراہ لوگوں كا وطيرہ ايساہى ہوا كرتا ہے _
وہ صالح عليہ السلام عليہ السلام كے ہمنوائوں اور ان كے قوم وقبيلہ سے خوف كھاتے تھے لہذا انھوں نے ايسا منصوبہ بنايا كہ جس سے وہ اپنے مقصد ميں بھى كامياب ہوجائيں اور صالح عليہ السلام كے طرفداروں كے غيظ وغضب كابھى شكار نہ ہوں_ گويا وہ ايك تير سے دو شكار كرنا چاہتے تھے بنابر اين انھوں نے رات كے وقت حملہ كى تركيب سوچى اور طے كرليا كہ جب بھى كوئي شخص ان سے پوچھ گچھ كرے گا تو سب متفق ہوكر قسم اٹھائيں گے كہ اس منصوبے ميں ان كا كوئي عمل دخل نہيں تھا يہاں تك كہ وہ اس وقت موجود بھى نہيں تھے _ (كيونكہ ان كي صالح عليہ السلام كے ساتھ مخالفت پہلے سے دنيا كو معلوم تھى )_
تاريخوں ميں ہے كہ ان كى سازش كچھ يوں تھى كہ شہر كے اطراف ميں ايك پہاڑ تھا اور پہاڑميں ايك غار تھى جس ميں جناب صالح عليہ السلام عبادت كيا كرتے تھے اور كبھى كبھار وہ رات كو بھى اسى غار ميں جاكر اپنے پروردگار كى عبادت كرتے تھے اور اس سے رازونياز كيا كرتے تھے _
انھوں نے طے كرليا كہ وہاں كمين لگا كر بيٹھ جائيں گے جب بھى صالح وہاں آئيں گے انھيں قتل كرديں گے _ان كى شہادت كے بعد ان كے اہل خانہ پر حملہ كركے انھيں بھى راتوں رات موت كے گھاٹ اتارديں گے پھر اپنے اپنے گھروں كو واپس چلے جائيں گے اگر ان سے اس بارے ميں كسى نے پوچھ بھى ليا تو اس سے لاعلمى كا اظہار كرديں گے _
يہ خالى گھران كے ہيں ؟
ليكن خداوندعالم نے ان كى اس سازش كو عجيب وغريب طريقے سے ناكام بناديا اور ان كے اس منصوبے كو نقش برآب كرديا _
جب وہ ايك كونے ميں گھات لگائے بيٹھے تھے تو پہاڑسے پتھر گرنے لگے اور ايك بہت بڑا ٹكڑاپہاڑكى چوٹى سے گرا اور آن كى آن ميں اس نے ان سب كا صفايا كرديا _
پھر قرآن پاك ان كى ہلاكت كى كيفيت اور ان كے انجام كو يوں بيان كرتاہے :”ديكھويہ ان لوگوں ہى كے گھر ہيں كہ جو اب ان كے ظلم وستم كى وجہ سے ويران پڑے ہيں ”_( سورہ نمل آيت 52)
نہ وہاں سے كوئي آوازسنائي ديتى ہے _
نہ كسى قسم كا شور شرابہ سننے ميں آتا ہے _
اور نہ ہى وہ زرق برق گناہ بھرى محفليں دكھائي ديتى ہيں _
جب وہ ايك كونے ميں گھات لگائے بيٹھے تھے تو پہاڑسے پتھر گرنے لگے اور ايك بہت بڑا ٹكڑاپہاڑكى چوٹى سے گرا اور آن كى آن ميں اس نے ان سب كا صفايا كرديا _
پھر قرآن پاك ان كى ہلاكت كى كيفيت اور ان كے انجام كو يوں بيان كرتاہے :”ديكھويہ ان لوگوں ہى كے گھر ہيں كہ جو اب ان كے ظلم وستم كى وجہ سے ويران پڑے ہيں ”_( سورہ نمل آيت 52)
نہ وہاں سے كوئي آوازسنائي ديتى ہے _
نہ كسى قسم كا شور شرابہ سننے ميں آتا ہے _
اور نہ ہى وہ زرق برق گناہ بھرى محفليں دكھائي ديتى ہيں _
جى ہاں : وہاں پر ظلم وستم كى آگ بھڑكى جس نے سب كو جلاكر راكھ كرديا _
ظالموں كے اس انجام ميں خداوندعالم كى قدرت كى واضح نشانى اور درس عبرت ہے ان لوگوں كے لئے جو علم وآگہى ركھتے ہيں ”_( سورہ نمل آيت 52)
ليكن اس بھٹى ميں سب خشك وترنہيں جلے بلكہ بے گناہ افراد، گناہگاروں كى آگ ميں جلنے سے بچ گئے ہم نے ان لوگوں كو بچاليا جو ايمان لاچكے تھے اور تقوى اختيار كرچكے تھے_
بنابريں حضرت صالح كے قتل كى سازش كے بعد ہى عذاب نازل نہيں ہوا بلكہ قوى احتمال يہ ہے كہ خدا كے اس پيغمبر كے قتل كى سازش كے واقعے ميں فقط سازشى ٹولے ہلاك ہوئے اور دوسرے ظالموں كو سنبھل جانے كے لئے مہلت دى گئي ، ليكن ناقہ كے قتل كے بعد تمام ظالم اور بے ايمان گناہگار فناہوگئے جيسا كہ سورہ ہود اور سورہ اعراف كى آيات كے ملانے سے يہى نكلتاہے _
ظالموں كے اس انجام ميں خداوندعالم كى قدرت كى واضح نشانى اور درس عبرت ہے ان لوگوں كے لئے جو علم وآگہى ركھتے ہيں ”_( سورہ نمل آيت 52)
ليكن اس بھٹى ميں سب خشك وترنہيں جلے بلكہ بے گناہ افراد، گناہگاروں كى آگ ميں جلنے سے بچ گئے ہم نے ان لوگوں كو بچاليا جو ايمان لاچكے تھے اور تقوى اختيار كرچكے تھے_
بنابريں حضرت صالح كے قتل كى سازش كے بعد ہى عذاب نازل نہيں ہوا بلكہ قوى احتمال يہ ہے كہ خدا كے اس پيغمبر كے قتل كى سازش كے واقعے ميں فقط سازشى ٹولے ہلاك ہوئے اور دوسرے ظالموں كو سنبھل جانے كے لئے مہلت دى گئي ، ليكن ناقہ كے قتل كے بعد تمام ظالم اور بے ايمان گناہگار فناہوگئے جيسا كہ سورہ ہود اور سورہ اعراف كى آيات كے ملانے سے يہى نكلتاہے _




حضرت صالح عليہ السلام (حصہ آخر) | Tea Break said
[...] حضرت صالح عليہ السلام (حصہ آخر) [...]