ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

غلام عباس

Posted by ارتقاءِ حيات on December 21, 2011



افسانہ نگارغلام عباس 17نومبر 1909؁ کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔لاہور میں تعلیم حاصل کی 1928؁ میں لاہور سے شائع ہونے والےبچوں کے ماہنامے “پھول”اور خواتین کے رسالے “تہذیب نسواں”کے نائب صدر مقرر ہوئے۔1938؁ میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ اس دوران ریڈیو کے رسائل”آواز اور سارنگ” کی ادارت بھی کی۔کچھ عرصہ بی بی سی سے بھی وابستہ رہے۔قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔اور ریڈیو کے رسالے “آہنگ”کے مدیر مقرر ہوئے۔
ان کا پہلا افسانہ “جلاوطن” جنوری1925؁ میں رسالہ “ہزار داستان” میں چھپا ۔جو ٹالسٹائی کے افسانے سے ماخوذ تھا۔ پہلا
طبع زاد افسانہ “مجسمہ” تھا کو 1932؁میں رسالہ “کارواں”کے سالنامے میں شائع ہوا۔بچپن ہی میں انہوں نے کلاسیکی ادب پڑھ ڈالا تھا۔ ابتداء میں رتن ناتھ سرشاد اور عبدالحلیم شرر سے متاثر تھے۔ غیر ملکی افسانہ نگاروں میں چیخوف اور موپاساں کے اثرات قبول کیئے۔1948؁ میں پنجاب اڈوئزری بورڈ لاہور نے ان کی ادبی خدمات پر نقد ادبی انعام سے نوازا۔ افسانوں کے مجموعے جاڑے کی چاندنی پر آدم جی  انعام ملا 2نومبر 1982؁کو وفات پائی۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers