ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

پیشہ ورانہ اخلاق

Posted by ارتقاءِ حيات on December 19, 2011


ہندو پریس مین ایک خبر چھپی کہ کل شام جب مہاتما گاندھی برلا ہاؤس میں پراتھنا کر رہے تھے تو وہاں ایک بڑا سانپ نکل آیاتھا۔ا س بات کو مہاتما جی کے اردگرد عقیدت مندآنہ کرامت اور روحانی فضیلت کے مظاہرے کے طور پر خوب اچھا لا گیا۔یہاں تک کہ ایک ہندو صحافی نے قائد اعظم کو بھی گھیرا
“سر مہاتما جی کی پراتھنا میں ایک سانپ کے عقیدت مندآنہ آنے کی خبر آُ نے بھی پڑھی ہو گی؟
قائد اعظم نے جواب دیا “جی ہاں ۔۔ پڑھی ہے”
“تو آپ کا کیا خیال ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ سانپ آئے اور مہاتما جی سے کوئی تعرض نہ کرے؟”
“جی ہاں۔۔ یہ بھی ممکن ہے” قائد اعظم نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔
صحافی نے حیرت سے پوچھا “یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ ایسا کیسے؟”
“پیشہ ورانہ اخلاق کی بات ہے” قائد اعظم یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے۔

3 Responses to “پیشہ ورانہ اخلاق”

  1. پيشہ ورانہ اخلاق” ايسا فعل ہے جسے وہی سمجھ سکتا ہے جو اس کا فاعل ہو ۔ ”
    ويسے سانپ کا انسان کے پاس پہنچ جانا اور اُسے کچھ نہ کہنا کوئی انوکھی بات نہيں ہے ۔ ايسا ہوتا رہتا ہے ۔ ميری والدہ نے بتايا تھا کہ ميری نانی نے اُنہين بتايا تھا کہ جب وہ چھوٹی سی تھيں ميری نانی اُنہيں کھانے کو حلوہ دے کر اندر چليں گئيں ۔ کچھ دير بعد باہر آئيں تو ميری والدہ بول رہی تھيں “تُو بھی کھا ۔ ميں بھی کھاتی ہوں” اور يہ بار بار دہرا رہی تھيں ۔ ميری نانی نے ميری والدہ کی طرف ديکھا تو ميری والدہ نے سانپ کو گردن سے پکڑ رکھا تھا اور ايک بار اُس کا سر حلوے ميں ڈالتی اور ايک بار اپنی اُنگلی اور بولتی جاتی ” تُو بھی کھا ۔ ميں بھی کھاتی ہوں”

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers