منشایاد
Posted by ارتقاءِ حيات on December 19, 2011
منشایاد کا جنم15ستمبر 1937 کو ٹھٹھہ نستر نزد فرخ آباد ضلع شیخوپورہ میں ہوا۔ان کے والد حاجی نظیر احمد حکمت کیا کرتے تھے۔انہوں نے میٹرک1955 میں ایم بی اسکول حافظ آباد سے کیا۔اور سول انجینیئرنگ میں ڈپلومہ1957میں حاصل کیا،اور پی ڈبلیو ڈی میں 1958 سے 1960تک سب انجینئر کی حیثیت سے رہے۔ساتویں جماعت میں تھے کہ بچوں کے پرچوں میں کہانیاں لکھنا شروع کردیں۔فاضل اردو کا امتحان 1964میں ،بی اے 1965میں اور ایم اے 1967 میں اردو اور 1972میں پنجابی میں کیا۔1979 میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔انہوں نے لاہور میں اپنی کزن فرحت نسیم اختر سے 1960میں شادی کی۔1لڑکی اور3لڑکے تھے۔ان کے بڑے بیٹے فرخ جمیل آرمی پبلک اسکول و کالج کے وائس پرنسپل ہیں۔بیٹی نوما شبنم ماڈل کالج برائے خواتین اسلام آباد میں لیکچرار ہیں۔ دوسرے بیٹےڈاکٹر عامر شکیل یورنیورسٹی آف ٹیکساس ،ڈیلاس امریکہ میں پروفیسر آف میڈیسن ہیں۔سب سے چھوٹے صاحبزادے کاشف نوید اسلام آباد کے ایک ٹی وی چینل میں اسسٹنٹ مینجر ہیں۔منشا یاد نے اسلام آباد میں حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد 1972میں رکھی انھوں نے کئی اور ادبی تنظیمیں بھی بنائی تھیں جن میں اردو میں لکھنے والوں کی انجمن، رابطہ ،بزم کتاب،فکشن فورم قابل ذکر ہیں۔
ان کی پہلی کہانی 1955میں کافی سراہی گئی تھی۔پہلا مجموعہ 1975میں آیا ۔ اب تک 9افسانوی مجموعے آچکے ہیں۔1پنجابی ناول اور کئی ٹی وی سیریلز اور ڈارمے کافی مشہور ہیں۔ انہیں 2004میں صدارتی ایوارڈ کے علاوہ پرائیڈ آف پرفامنس بھی دیا گیا ہے۔ صدارتی ایوارڈز کے علاوہ بھی کئی اوارڈز بھی انہوں نے حاصل کئے۔15اکتوبر2011 کی رات ان کی زندگی کی آخری رات ثابت ہوئی۔



