قرآن کہانی:حضرت صالح عليہ السلام (حصہ اوّل)
Posted by ارتقاءِ حيات on December 19, 2011
قوم ثمود اور اس كے پيغمبر جناب صالح عليہ السلام كى جو”وادى القرى ” ميں رہتے تھے جو”مدينہ ” اور” شام” كے درميان واقع ہے يہ قوم اس سرزمين ميںخوشحال زندگى بسر كررہى تھى ليكن اپنى سركشى كى بناء پرصفحہ ہستى سے يوں مٹ گئي كہ آج اس كا نام ونشان تك باقى نہيں رہا_
قرآن اس سلسلے ميں فرماتا ہے : ”قوم ثمودنے (خدا كے )رسولوں كو جھٹلايا ”_( سورہ شعراء آيت 141)
كيونكہ تمام انبياء كى دعوت حق ايك جيسى تھى اور اس قوم كا اپنے پيغمبر جناب صالح كى تكذيب كرنا در حقيقت تمام رسولوں كى تكذيب كے مترادف تھا_
”جبكہ ان كے ہمدرد پيغمبر صالح نے ان لوگوں سے كہاآيا تقوى اختيار نہيں كرتے ہو ؟”(سورہ شعراء آيت 142)
وہ جو كہ تمہارے بھائي كى طرح تمہاراہادى اورراہبر تھا اس كى نظر ميں نہ برترى جتانا تھا اور نہ ہى مادى مفادات ، اسى لئے قرآن نے جناب صالح عليہ السلام عليہ السلام كو ” اخوہم ” سے تعبير كيا ہے جناب صالح نے بھى دوسرے انبياء كى مانند اپنى دعوت كا آغاز تقوى اور فرض كے احساس سے كيا _
پھر اپنا تعارف كرواتے ہوئے فرماتے ہيں :”ميں تمہارے لئے امين پيغمبر ہوں ”(سورہ شعراء آيت143)
ميرا ماضى ميرے اس دعوى كى بين دليل ہے _
قرآن اس سلسلے ميں فرماتا ہے : ”قوم ثمودنے (خدا كے )رسولوں كو جھٹلايا ”_( سورہ شعراء آيت 141)
كيونكہ تمام انبياء كى دعوت حق ايك جيسى تھى اور اس قوم كا اپنے پيغمبر جناب صالح كى تكذيب كرنا در حقيقت تمام رسولوں كى تكذيب كے مترادف تھا_
”جبكہ ان كے ہمدرد پيغمبر صالح نے ان لوگوں سے كہاآيا تقوى اختيار نہيں كرتے ہو ؟”(سورہ شعراء آيت 142)
وہ جو كہ تمہارے بھائي كى طرح تمہاراہادى اورراہبر تھا اس كى نظر ميں نہ برترى جتانا تھا اور نہ ہى مادى مفادات ، اسى لئے قرآن نے جناب صالح عليہ السلام عليہ السلام كو ” اخوہم ” سے تعبير كيا ہے جناب صالح نے بھى دوسرے انبياء كى مانند اپنى دعوت كا آغاز تقوى اور فرض كے احساس سے كيا _
پھر اپنا تعارف كرواتے ہوئے فرماتے ہيں :”ميں تمہارے لئے امين پيغمبر ہوں ”(سورہ شعراء آيت143)
ميرا ماضى ميرے اس دعوى كى بين دليل ہے _
” اسى لئے تم تقوى اختيار كرو ،خداسے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ”(سورہ شعراء آيت145)
كيونكہ ميرے مد نظر رضائے الہي، تمہارى خيرو خوبى اور سعادت كے سوا اور كچھ نہيں _
بنابريں ” اس دعوت كے بدلے ميں تم سے كوئي اجرت نہيں مانگتا_”(سورہ شعراء آيت145)
ميں تو كسى اور كے لئے كام كرتاہوں اور ميرا اجر بھى اسى كے پاس ہے ” ہاںتو ميرا اجر صرف عالمين كے پروردگار كے پاس ہے ” (سورہ شعراء آيت145)
يہ جناب صالح عليہ السلام كى داستان كا ابتدائي حصہ تھا جو دو جملوں ميں بيان كيا گيا ہے ايك دعوت كا پيش كرنا اوردوسرے رسالت كو بيان كرنا _
پھر دوسرے حصے ميں افراد قوم كى زندگى كے قابل تنقيد اور حساس پہلوئوں كى نشاندہى كرتے ہوئے انھيںضمير كى عدالت كے كٹہرے ميں لاكھڑاكيا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ”آيا تم يہ سمجھتے ہو كہ ہميشہ امن وسكون اور نازونعمت كى زندگى بسركرتے رہوگے ”_( سورہ شعراء آيت145)
كيا تم يہ سمجھتے ہو كہ تمہارى يہ مادى اور غفلت كى زندگى ہميشہ كے لئے ہے اور موت ، انتقام اور سزا كا ہاتھ تمہارے گريبانوں تك نہيں پہنچے گا ؟
”كياتم گمان كرتے ہو كہ يہ باغات اور چشمے ميں اور يہ كھيت اور كھجور كے درخت جن كے پھل شيريں وشاداب اور پكے ہوئے ہيں ، ہميشہ ہميشہ كے لئے باقى ر ہيں گے _”(سورہ شعراء آيت47اتا 148)
پھر ان پختہ اور خوشحال گھروں كو پيش نظر ركھتے ہوئے كہتے ہيں: ”تم پہاڑوں كو تراش كر گھر بناتے ہو اور اس ميں عياشى كرتے ہو _”(سورہ شعراء آيت 149)
جبكہ قوم ثمودشكم كى اسيراور نازو نعمت بھرى خوشحال زندگى سے بہرہ مند تھى _
فاسداوراسراف كرنے والوں كى اطاعت نہ كرو
كيونكہ ميرے مد نظر رضائے الہي، تمہارى خيرو خوبى اور سعادت كے سوا اور كچھ نہيں _
بنابريں ” اس دعوت كے بدلے ميں تم سے كوئي اجرت نہيں مانگتا_”(سورہ شعراء آيت145)
ميں تو كسى اور كے لئے كام كرتاہوں اور ميرا اجر بھى اسى كے پاس ہے ” ہاںتو ميرا اجر صرف عالمين كے پروردگار كے پاس ہے ” (سورہ شعراء آيت145)
يہ جناب صالح عليہ السلام كى داستان كا ابتدائي حصہ تھا جو دو جملوں ميں بيان كيا گيا ہے ايك دعوت كا پيش كرنا اوردوسرے رسالت كو بيان كرنا _
پھر دوسرے حصے ميں افراد قوم كى زندگى كے قابل تنقيد اور حساس پہلوئوں كى نشاندہى كرتے ہوئے انھيںضمير كى عدالت كے كٹہرے ميں لاكھڑاكيا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ”آيا تم يہ سمجھتے ہو كہ ہميشہ امن وسكون اور نازونعمت كى زندگى بسركرتے رہوگے ”_( سورہ شعراء آيت145)
كيا تم يہ سمجھتے ہو كہ تمہارى يہ مادى اور غفلت كى زندگى ہميشہ كے لئے ہے اور موت ، انتقام اور سزا كا ہاتھ تمہارے گريبانوں تك نہيں پہنچے گا ؟
”كياتم گمان كرتے ہو كہ يہ باغات اور چشمے ميں اور يہ كھيت اور كھجور كے درخت جن كے پھل شيريں وشاداب اور پكے ہوئے ہيں ، ہميشہ ہميشہ كے لئے باقى ر ہيں گے _”(سورہ شعراء آيت47اتا 148)
پھر ان پختہ اور خوشحال گھروں كو پيش نظر ركھتے ہوئے كہتے ہيں: ”تم پہاڑوں كو تراش كر گھر بناتے ہو اور اس ميں عياشى كرتے ہو _”(سورہ شعراء آيت 149)
جبكہ قوم ثمودشكم كى اسيراور نازو نعمت بھرى خوشحال زندگى سے بہرہ مند تھى _
فاسداوراسراف كرنے والوں كى اطاعت نہ كرو
حضرت صالح عليہ السلام اس تنقيد كے بعد انھيں متبنہ كرتے ہو ئے كہتے ہيں : ” حكم خدا كى مخالفت سے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ،اور مسرفين كا حكم نہ مانو، وہى جو زمين ميں فساد كرتے ہيں اور اصلاح نہيں كرتے_” (سورہ شعراء آيات 150 تا 152) ”يہ دھيان ميںرہے كہ خدانے قوم ”عاد” كے بعد تمہيں ان كا جانشين اور خليفہ قرار ديا ہے اور زمين ميں تمہيں جگہ دى ہے ” (سورہ اعراف آيت 74)
يعنى ايك طرف تو تم كواللہ كى نعمتوں كا خيال رہناچاہيئے، دوسرے يہ بھى ياد رہے كہ تم سے پہلے جو قوم تھى وہ اپنى سركشى اور طغيانى كے باعث عذاب الہى سے تباہ وبرباد ہوچكى ہے_
پھر اس كے بعد انہيں عطا كى گئي كچھ نعمتوں كا ذكر كياگيا ہے ،ارشاد ہوتا ہے: ” تم ايك ايسى سرزمين ميں زندگى بسر كرتے ہو جس ميں ہموار ميدان بھى ہيں جن كے اوپر تم عاليشان قصر اور آرام دہ مكانات بناسكتے ہو ، نيز اس ميں پہاڑى علاقے بھى ہيں جن كے دامن ميں تم مضبوط مكانات تراش سكتے ہو (جو سخت موسم ، اورسرديوںكے زمانے ميں) تمہارے كام آسكتے ہيں ”_( سورہ اعراف آيت 74)
اس تعبير سے يہ پتہ چلتاہے كہ وہ لوگ (قوم عاد )سردى اور گرمى ميں اپنى سكونت كى جگہ بدل ديتے تھے فصل بہار اور گرميوں ميں وسيع اور پربركت ميدانوںميں زراعت كرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے ميں مشغول رہا كرتے تھے اس وجہ سے وہ وہاں خوبصورت اور آرام دہ مكانات بناتے تھے جو انہوں نے پہاڑوں پر تراش كربنائے تھے اور يہ مكانات انہيں سيلابوں اور طوفانوں سے محفوظ ركھتے تھے يہاں وہ اطمينان سے سردى كے دن گزار ديتے تھے_ آخر ميں فرمايا گيا ہے :
” خداوندكريم كى ان سب نعمتوں كو ياد كرو اور زمين ميں فسادنہ كرو اور كفران نعمت نہ كرو”_ (سورہ اعراف آيت 74)
قوم صالح كى ہٹ دھرمي
يعنى ايك طرف تو تم كواللہ كى نعمتوں كا خيال رہناچاہيئے، دوسرے يہ بھى ياد رہے كہ تم سے پہلے جو قوم تھى وہ اپنى سركشى اور طغيانى كے باعث عذاب الہى سے تباہ وبرباد ہوچكى ہے_
پھر اس كے بعد انہيں عطا كى گئي كچھ نعمتوں كا ذكر كياگيا ہے ،ارشاد ہوتا ہے: ” تم ايك ايسى سرزمين ميں زندگى بسر كرتے ہو جس ميں ہموار ميدان بھى ہيں جن كے اوپر تم عاليشان قصر اور آرام دہ مكانات بناسكتے ہو ، نيز اس ميں پہاڑى علاقے بھى ہيں جن كے دامن ميں تم مضبوط مكانات تراش سكتے ہو (جو سخت موسم ، اورسرديوںكے زمانے ميں) تمہارے كام آسكتے ہيں ”_( سورہ اعراف آيت 74)
اس تعبير سے يہ پتہ چلتاہے كہ وہ لوگ (قوم عاد )سردى اور گرمى ميں اپنى سكونت كى جگہ بدل ديتے تھے فصل بہار اور گرميوں ميں وسيع اور پربركت ميدانوںميں زراعت كرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے ميں مشغول رہا كرتے تھے اس وجہ سے وہ وہاں خوبصورت اور آرام دہ مكانات بناتے تھے جو انہوں نے پہاڑوں پر تراش كربنائے تھے اور يہ مكانات انہيں سيلابوں اور طوفانوں سے محفوظ ركھتے تھے يہاں وہ اطمينان سے سردى كے دن گزار ديتے تھے_ آخر ميں فرمايا گيا ہے :
” خداوندكريم كى ان سب نعمتوں كو ياد كرو اور زمين ميں فسادنہ كرو اور كفران نعمت نہ كرو”_ (سورہ اعراف آيت 74)
قوم صالح كى ہٹ دھرمي
آپ حضرات، گمراہ قوم كے سامنے حضرت صالح عليہ السلام كى منطقى اور خيرخواہى پر مبنى گفتگو ملاحظہ فرماچكے ہيں جناب صالح عليہ السلام كے جواب ميں اس قوم كى گفتگو بھى سينے_
انھوں نے كہا:”اے صالح : تم سحرزدہ ہوكر اپنى عقل كھوچكے ہو، لہذا غير معقول باتيں كرتے ہو ” (سورہ شعراء آيت53)
ان كا يہ عقيدہ تھا كہ بسا اوقات جادو گر لوگ جادو كے ذريعے انسان كى عقل و ہوش كو بيكار بناديتے ہيں صرف انھوں نے جناب صالح پر ہى يہ تہمت نہيں لگائي بلكہ اور لوگوں نے بھى دوسرے انبياء پر ايسى تہمتيں لگائي ہيں ،حتى كہ خود پيغمبر اسلام (ص) كى ذات تك كو متہم كيا_
جى ہاں ان كے نزديك عقل مند انسان وہ ہوتا ہے جو ماحول ميں ڈھل جائے ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائيوں پر منطبق ہو جائے اگر كوئي انقلابى مرد خدا فاسد عقائد اور غلط نظام كے بطلان كے لئے قيام كرتا تو وہ اپنى اس منطق كى رو سے اسے ديوانہ ،مجنون اور سحر زدہ كہتے_
اسى طرح قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتاہے” اس خود پسند طبقے نے اللہ كى وحدانيت كا انكار كيا كہ آخرت كى ملاقات كو جھٹلايا،حالانكہ ہم نے انہيں دنيا كى بہت سى نعمتوں سے مالا مال كرركھا تھا وہ كہنے لگے كہ يہ تمہارى ہى طرح كا انسان ہے جو تم كھاتے ہو يہ بھى كھاتاہے_ اور جو تم پيتے ہو يہ بھى پيتا ہے”_( سورہ مومنون آيت33)
بے شك وہ اشراف كا خوشحال طبقہ جو قرآن مجيد كى اصطلاح ميں صرف ظاہربين تھا اور كور باطن تھا وہ اس عظيم پيغمبر كے مشن كو اپنے مفاد كا مخالف ،ناجائز منافع خوارى ، استحصال اور بے جابالادستى سے متصادم ديكھ رہاتھا ،يہ طبقہ اپنى پر عيش زندگى كى وجہ سے اللہ سے كوسوں دور چلاگيا تھا اور آخرت كا منكرتھا _
انہوں نے اللہ كے نمائندوں كے انسان ہونے اور ديگرانسانوں كى طرح كھانے پينے كو ان كى رسالت كى نفى كى دليل قرارديا حالانكہ يہ بات ان مايہ ناز شخصيتوں كى نبوت ورسالت كى پرزور تائيد تھى كہ وہ عام لوگوں ميں سے ہوں تاكہ انسان كى ضروريات اور مسائل سے اچھى طرح آگاہ ہوں ،مزيد برآں وہ ايك دوسرے سے كہتے تھے:”اگر تم اپنے ہى جيسے آدمى كے مطيع بنوگے تويہ بڑى نقصان دہ بات ہوگى ”_( سورہ مومنون آيت34)
يہ كور باطن اتنا نہيں سمجھتے تھے كہ خود تويہ توقع كررہے ہيں كہ لوگ ان كے شيطانى عزائم كى تكميل اور پيغمبر سے مقابلے كے لئے ان كى پيروى كريں،مگر اس شخصيت كى اطاعت وپيروى كو جومركز وحى سے وابستہ ہے اور جس كا دل نور علم پروردگارعالمين سے منور ہے انسان كے لئے ذلت ،ننگ وعار اور حريت كے منافى بتارہے تھے _
انھوں نے كہا:”اے صالح : تم سحرزدہ ہوكر اپنى عقل كھوچكے ہو، لہذا غير معقول باتيں كرتے ہو ” (سورہ شعراء آيت53)
ان كا يہ عقيدہ تھا كہ بسا اوقات جادو گر لوگ جادو كے ذريعے انسان كى عقل و ہوش كو بيكار بناديتے ہيں صرف انھوں نے جناب صالح پر ہى يہ تہمت نہيں لگائي بلكہ اور لوگوں نے بھى دوسرے انبياء پر ايسى تہمتيں لگائي ہيں ،حتى كہ خود پيغمبر اسلام (ص) كى ذات تك كو متہم كيا_
جى ہاں ان كے نزديك عقل مند انسان وہ ہوتا ہے جو ماحول ميں ڈھل جائے ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائيوں پر منطبق ہو جائے اگر كوئي انقلابى مرد خدا فاسد عقائد اور غلط نظام كے بطلان كے لئے قيام كرتا تو وہ اپنى اس منطق كى رو سے اسے ديوانہ ،مجنون اور سحر زدہ كہتے_
اسى طرح قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتاہے” اس خود پسند طبقے نے اللہ كى وحدانيت كا انكار كيا كہ آخرت كى ملاقات كو جھٹلايا،حالانكہ ہم نے انہيں دنيا كى بہت سى نعمتوں سے مالا مال كرركھا تھا وہ كہنے لگے كہ يہ تمہارى ہى طرح كا انسان ہے جو تم كھاتے ہو يہ بھى كھاتاہے_ اور جو تم پيتے ہو يہ بھى پيتا ہے”_( سورہ مومنون آيت33)
بے شك وہ اشراف كا خوشحال طبقہ جو قرآن مجيد كى اصطلاح ميں صرف ظاہربين تھا اور كور باطن تھا وہ اس عظيم پيغمبر كے مشن كو اپنے مفاد كا مخالف ،ناجائز منافع خوارى ، استحصال اور بے جابالادستى سے متصادم ديكھ رہاتھا ،يہ طبقہ اپنى پر عيش زندگى كى وجہ سے اللہ سے كوسوں دور چلاگيا تھا اور آخرت كا منكرتھا _
انہوں نے اللہ كے نمائندوں كے انسان ہونے اور ديگرانسانوں كى طرح كھانے پينے كو ان كى رسالت كى نفى كى دليل قرارديا حالانكہ يہ بات ان مايہ ناز شخصيتوں كى نبوت ورسالت كى پرزور تائيد تھى كہ وہ عام لوگوں ميں سے ہوں تاكہ انسان كى ضروريات اور مسائل سے اچھى طرح آگاہ ہوں ،مزيد برآں وہ ايك دوسرے سے كہتے تھے:”اگر تم اپنے ہى جيسے آدمى كے مطيع بنوگے تويہ بڑى نقصان دہ بات ہوگى ”_( سورہ مومنون آيت34)
يہ كور باطن اتنا نہيں سمجھتے تھے كہ خود تويہ توقع كررہے ہيں كہ لوگ ان كے شيطانى عزائم كى تكميل اور پيغمبر سے مقابلے كے لئے ان كى پيروى كريں،مگر اس شخصيت كى اطاعت وپيروى كو جومركز وحى سے وابستہ ہے اور جس كا دل نور علم پروردگارعالمين سے منور ہے انسان كے لئے ذلت ،ننگ وعار اور حريت كے منافى بتارہے تھے _
باقی آئیندہ



