اسٹیشن ماسٹرنی
Posted by ارتقاءِ حيات on December 17, 2011
جاپانی محاورہ ہے کہ”ضرورت پڑنے پر بلّی کی مدد بھی مانگ سکتے ہیں”۔یہ محاورہ انہوں نے سچ بھی کر دکھایا ہے۔جاپان میں بہت سی ریلوے لائنیں ہیں جنہیں نجی شعبہ چلاتا ہے۔ایسی ہی ایک ریلوے لائن ہے جس کا نام”واکاباما الیکٹرک ریلوے”ہے جس کی لمبائی تقریباً14کلومیڑ ہے۔اس لائن پر 10ریلوے اسٹیشن ہیں ان میں سے ایک ریلوے اسٹیشن “کیشی”پر اسٹیشن ماسٹر کوئی آدمی نہیں ایک 9سالہ بلی ہے۔اسے باقاعدہ تقرر نامہ جاری کیا گیا ہے۔وہ اسٹیشن ماسٹر کی وردی تو نہیں پہنتی مگر وردی پر مشتمل ٹوپی اس پر سر پر مستقل رہتی ہے۔وہ باقاعدگی سے دفتر آتی ہے اور 3وقت کا کھانا جو ا سکے تقرر نامے پر تنخواہ کے عوض درج ہے کھاتی ہے ۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ یہ ریلوے لائن مسلسل خسارے میں جا رہی تھی اس روٹ کے مسافر ٹرین کے بجائے بسوں پر سفر کر رہے تھے،خسارے سے بچنے کے لئے کمپنی نے کئی ملازم فارغ کیئےفارغ کئے جانے والوں میں ایک اسٹیشن ماسٹر بھی تھا۔یہ بلی اس اسٹیشن پر آتی جاتی تھی۔حکام کو جانے کیا سوجھی کہ اس بلی کو “اسٹیشن ماسٹر”بنانے کا اعلان کر دیا ۔اس کے ساتھ ہی اس کمپنی کی قسمت کھل گئی۔مسافر محض اس بلی کو دیکھنے کے لئے ریل کا سفر کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے بلی کو “قومی اسٹار”کا مقام حاصل ہو گیا۔ اب ٹرین کے مسافروں کی تعداد میں17٪اضافہ ہوگیا ہے۔خسارےکے بجائے اب یہ کمپنی منافع میں جا رہی ہے ۔کمپنی اس بلی کو کارکردگی کی بنیاد پر “سپر اسٹیشن ماسٹر “کے عہدے پر ترقی دے رہی ہے، البتہ تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا،کیونکہ ہر جانور کا ایک ہی پیٹ ہوتا ہے ،بھر گیا سو بھر گیا۔
کمپنی کے کاغذات میں ٹوما نامی اس بلی کو “واحد خاتون ملازم”قرار دیا گیا ہے۔فرانسیسی فلمساز و ہدایت کار مرہام لوتو نے اس بلی پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی ہے۔




افتخار اجمل بھوپال said
پتہ نہيں دنيا کے کون کون سے کونو کھدروں سے ڈھونڈ کے معلومات لاتی ہيں آپ ۔ اسی لئے ميں شرگرد بننے کی درخواست بھيجی تھي ليکن شايد داخلہ کا امتحان پاس نہيں کر سکا ۔
جاپان والے تلونڈی موسٰے خان کے خاور صاحب اور ايبٹ آباد کے ياسر صاحب جو جاپانی ہيں کہاں ہيں ؟ تشريف لا کر اس سٹيشن ماسٹرنی سے مزيد تعارف کروايئے
ام تحریم said
ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے کسی کو استاد نہیں بنا لیتے چچا جان
معلومات تو وہ ہے جو دین و مذہب کی ہو
اور مین اس میں بہت کمزور ہوں
دنیا کی معلومات میں تو مجھ سے بھی کہیں ماہر موجود ہیں
یاسرخوامخواہ جاپانی said
جی یہ بلی اسٹیشن ماسٹر کی پالتو بلی ہے یا تھی۔
ایک دفعہ ٹی وی پر کسی پروگرام میں درشن ہوئے تھے۔
کاہل بلی تھی کافی موٹی ہوگئی تھی
ماسٹر ساب نے ایک جگہ بیٹھا دیا تو
ہلنے کا نام ہی نہیں لیا۔
بس اس طرح کچھ شہرت ہوگئی
اور عوام اس بلی کو دیکھنے جانے لگے جس سے
عموماً نقصان میں چلنے والے ریلوے کی پٹڑی منافع کمانے لگی تھی
اس وقت معلوم نہیں کیا ہو رہا
ام تحریم said
یاسر بھائی آپ کی صحت کے لئے بلی کی جدید تصویر کے ساتھ اس کے مطلوبہ احوال لنک میں دے دئے گئے ہیں
باقی فیصلہ آپ لوگ کیجئے
Bilal ahmed said
Aoa lo btao had hi ho gai hai ye tu aik unki billi hai jo itna munafa kra rhi hai or aik hamare billey hn jo rhi sahi railway ka b dum nikaalne pe tuley howe hain
ام تحریم said
کام کرنے والے ہر جگہ کام ہی کرتے ہیں انسان ہوں یا جانور
اور باربادی پھیلانے والے ہر جگہ بربادی ہی پھیلاتے ہیں
یہی ہمارے ملک کا المیہ ہے بربرادی پھیلانے والوں کو ہم اچھا سمجھتنے لگے ہیں
خاور کھوکھر said
یاسر صاحب کی بات کی طرح که کچھ عرصه پہلے ٹی وی پر دیکھا تھا اس بلی کے متعلق
لیکن اس بات کو کوئی اهمیت نهیں دی تھی
لیکن یهاں خاصے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا هے
ام تحریم said
آپ کو پڑھ کر اچھا لگا تو سمجھئے کہ حق ادا ہوا
Shaukat Hussain said
Nice One