ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

عہد جہالیت یا عہد جدیدیت

Posted by ارتقاءِ حيات on December 12, 2011

عرب عورتیں ایسی قمیضیں پہنا کرتی تھیں جن میں موتی ٹکے ہوتےتھے۔اور بغلوں کے ددنوں جانب سلائی نہیں ہوتی تھی۔جن سے پیٹھ کا حصہ کھلا رہتا تھا۔ان کا لباس علی العموم ایسے باریک حریر و ریشم کا ہوتا تھا کہ جس سے بدن کا رنگ جھلکتا تھا۔جن سے وہ ڈھکی ہوئی بھی ننگی نظر آتی تھیں۔

یہ خواتین اپنے آپ کو مشک و عنبر سے معطر کرتی تھیں۔ موتیوں کے کنٹھے پہنا کرتی تھیں۔ مانگ میں مشک بھرا رہتا تھا،جسکی خوشبو سے وہ مہکتی تھیں۔چوٹیوں اور مینڈھیوں کی زینت پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔

کیا یہ طرز لباس عہد جہالیت کی عورتوں پر ختم ہو گیا؟مغرب ہی نہیں مشرق کی بھی،ماضی کی نہیں حال کی بھی، دور جہالیت کی نہیں دور علم و قابلیت کی، مہذب و شائستہ خواتین کا لباس کیا اس سے کچھ مختلف ہے۔۔۔۔۔۔؟ہاں بالکل مختلف ہے۔۔۔۔!!!

چہرے کو حسین بنانے کے لئے جو پاؤڈر اور غازے نکلے ہیں، اعضائے زینت کو چھپانے کے بجائے نمایاں کرنے کے جو طریقے بڑے سوچ و بچار کے مہذب و شائستہ دماغوں نے نکالے ہیں، نمائش و آراستگی، برہنگی و عریانی کو جن سائنٹفک ذریعوں سے ایک مستقل فن دیا گیا ہے۔ وہاں تک آج سے1.5ہزار سال قبل کے ان پڑھ صحرا نشینوں کا وہم و خیال بھی نہ گیا ہو گا۔آج ہر شئے ترقی پر ہےتو کیا دور قدیم کی جہالت و جہالیت دور جدید میں ترقی سے محروم رہ جائے گی؟

زیب و زینت کے لئے ایست کرتے بھی استعمال ہوتے تھے جن سے ستر معدوم ہوجاتا تھا۔پاؤں میں اس قسم کے زیور پہنا کرتی تھیں جن سے جھنکار ہوتی تھی۔شانے اور پنڈلیاں کھلی رہا کرتی تھیں۔اس زیب و زینت کے ساتھ مردوں کی محافلوں میں شریک ہوا کرتی تھیں۔بڑے بڑے گھروں کی کنواری لڑکیاں اپنے دوستوں کے ہمراہ آبادی سے دور مرغزاروں اور چشموں پر جایا کرتی تھیں۔ میلوں میں اسی بناؤ سنگھار کے ساتھ سیر و تفریح کرتی تھیں اور مردوں کےجلسے میں بے تکلف بیٹھا کرتی تھیں۔

کیا یہی کیفیت زیادہ و ترقی کے ساتھ آج موجود نہیں ہے؟آج کی مہذب خواتین کا لباس ان کے جسموں کو کہاں تک چھپاتا ہے؟

شانہ پشت اور پنڈلیوں کا آج کتنا حصہ مردوں کی نظر سے مخفی رہتا ہے؟ہوٹلوں، کلبوں، پارکوں ،ساحلوں،تھیٹروں،سینماؤں اور دوسرے تماشوں و تفریح گاہوں میں آج کتنی آذادی و بے باکی و بےحجابی سے ،شادی شدہ و کنواری دوشیزائیں مردوں کےساتھ تماشہ دیکھنے اور اپنا تماشہ دکھانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔

پھر کیا وجہ ہے کہ قدیم دور کی انہی رسموں اور دستوروں کو “جہالت و جہالیت کا دور “کا لقب دیا جاتا ہے؟ اور دور جدید کو انہی رسموں ،رواجوں کو کہ جب وہ مزید ترقی کر چکی ہیں اسے “ترقی یافتہ اور مہذیب و شائستہ تمدن”کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

4 Responses to “عہد جہالیت یا عہد جدیدیت”

  1. True

  2. آپ کو يہ لکھائی درست لگتی ہے يا جيسا اس سے پہلی تحرير کا پہلا بند ہے ؟

    يہاں سے نفيس نستاليق فونٹ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر ليجئے
    http://www.crulp.org/software/localization/Fonts/nafeesNastaleeq.html

    اور يہاں سے نفيس ويب نسخ فونٹ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر ليجئے
    http://www.crulp.org/software/localization/Fonts/nafeesWebNaskh.html

  3. جی بہتر

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers