فرینکسٹینFrankenstein
Posted by ارتقاءِ حيات on December 12, 2011
برطانیہ کے چند ادب دوست ،شاعر اور ادیب ایک بار ایک جزیرے میں گئے تاکہ سیر و تفریح کر سکیں۔ان کا ارادہ وہاں رکنے کا نہ تھا۔مگر جزیرے پر پہنچنے کے بعد وہاں طوفان باد و باراں نے انہیں گھیر لیا۔طوفان کوئی ہفتے بھر تک رہا۔دو تین دن گذرنے کے بعد گروپ جب بوریت کا شکار ہو گیا تو۔طے ہوا کے سب لوگ کچھ تخلیقی کام کریں۔اس گروپ میں مشہہور شاعر شیلے کی بیوی میری شیلے بھی تھی۔وہ لکھنے لکھانے والی عورت نہ تھی مگر اس جگہ اس نے کاغذ قلم سنبھالا۔اور آپ یہ پڑھ کر حیران ہو جائیں گے کہ اس نے جو ناول لکھا وہ میری شیلے کو دوام بخش گیا۔یہ ناول“فرینکسٹین”تھا۔جس مین ایک سائنسدن ڈاکٹر ایک انسان تخلیق کرتا ہے۔جو حقیقتاً ایک عفریت ہوتا ہے۔یہ انتہائی دلچسپ ناول ہے۔اور فرینکسٹین نامی کردار ادب کا ایک حصہ بن چکا ہے۔




.jpg)

Atif Salman said
Women always project Men image like a Monster
تحریم said
اب ایسا بھی نہین ہے جناب
Abdullah said
Do remember he was a monster with a kind heart and never know his strenght!