ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

چھوٹ

Posted by ارتقاءِ حيات on December 9, 2011

جوش ملیح آبادی نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف ایک نظم لکھی۔ مخبروں نے فیلڈ مارشل کو وہ نظم جوش کی آواز میں سنوا دی۔ نظم سن کر  ایوب خان نے کہا:
“اتنے بڑے شاعر کو اتنی چھوٹ تو ہونی ہی چاہیئے”

4 Responses to “چھوٹ”

  1. ہمیں بھی سنوائیں وہ نظم۔۔۔۔

    • تحریم said

      یو ٹیوب پر تو نہ مل سکی
      ہاں مگر ابوشامل جی کے بلاگ پر نظم ملی ہے

      واقعہ کافی پرانہ پڑھا ہے یاد نہیں آرہی کہ یہی وہ نظم تھی یا دوسری
      مجھے تو یہی یاد رہی اب مکمل طور پر کالج کے دن یاد نہیں آرہے کہین گڈ مڈ نہ ہو جائے
      یہ گر وہ نظم نہیں تو یہ حبیب جالب کی ہو گی جس پر انہیں زندان نشین کیا گیا تھا

      اہل علم حضرات سے گستاخی کی معذرت کے ساتھ

      اور اس امید پر کہ یہی وہ نظم ہو گی جناب جوش کی
      ؎مصاحبین
      حضور ہم دس برس سے حاشیہ بردار اولٰی ہیں
      عمومی شور و غل شہروں کی دیرینہ طبیعت ہے
      سیاسی کھیل ہیں، شوریدہ سر ہلڑ مچاتے ہیں
      انہیں لیڈر نچاتے ہیں
      ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں
      اگر ہم جیل بھجوائیں
      تو اکثر تلملاتے ہیں
      حضور! ہم خانہ زادِ سلطنت سجدے لٹاتے ہیں
      شاہ
      بکو مت چپ رہو، آغازِ بد انجام پر سوچو
      یہاں کیا ہو رہا ہے، کون سا شیطان اٹھا ہے
      جھروکے سے اُدھر دیکھو، یہ کیا طوفاں اٹھا ہے
      دمادم، پے بہ پے ایوب مردہ باد کے نعرے؟
      افق پر بے تحاشا جھملاتی شام کے تارے
      گرجتے گونجتے الفاظ میں تقریر کے پارے
      بکو مت، چپ رہو، آغازِ بد انجام پر سوچو
      ایک اور مصاحب داخل ہو کر آداب بجا لاتا ہے
      مصاحب
      امیر المومنین! بالی عمریا کا وزیر آیا
      بہتر نشتروں میں ایک نشتر میر صاحب کا
      بہ قول آنجہانی شیخ، چہرہ ماہتابی ہے
      طبیعت آفتابی ہے
      خدا جانے؟ سنا ہے
      بچپنے ہی سے شرابی ہے
      شاہ
      بلا لاؤ، اکیلا ہے
      کہ کوئی دوسرا بھی ہے؟
      مصاحب
      جماعت کے بہت سے منچلے بھی ساتھ آئے ہیں
      غزلہائے ہفت خواں کے ولولے بھی ساتھ آئے ہیں
      جوانی ناگنوں کے رنگ میں آواز دیتی ہے
      دل سد رہ نشیں کو طاقت پرواز دیتی ہے
      بالی عمریا کا وزیر دربار میں داخل ہو کر قدم بوس ہوتا ہے
      شاہ
      چپڑ غٹو، الل ٹپو، نکھٹو، دًم کٹے ٹٹو
      فضا لاہور کی ہنگامہ پرور ہوتی جاتی ہے
      کہاں ہو؟ کس طرف ہو؟ دیکھتے کیا ہو میاں لٹو
      جماعت کی صدارت اس لیے تم کو عطا کی ہے
      عوام الناس بازاروں میں نعرہ باز ہو جائیں
      سیاسی مسخرے اس دور کے شہباز ہوجائیں
      ارے گھسیٹے، ارے بچھیے کے باوا
      سوچتا کیا ہے؟
      وزیر
      امیر المومنین!۔۔۔۔ ہم بندگانِ خاص کے آقا
      ہم ایسے سینکڑوں سرکارِ عالی پر نچھاور ہیں
      یقیں کیجیے، حریفوں کے مقابل میں دلاور ہیں
      جری ہیں، جانتے ہیں بچپنے سے جاننے والے
      کہ ہم ہیں آپکو ظلِ الٰہی ماننے والے
      مرے قبلہ، مرے آقا، مرے مولا، مرے محسن
      سوائے چند اوباشوں کے، ساری قوم خادم ہے
      سیاسی نٹ کھٹوں کی گرم گفتاری پر نادم ہے
      شاہ
      بکو مت، چپ رہو، یہ ہم سمجھتے ہیں یہاں کیا ہے
      وہ مودودی کے فتنے اور نصر اللہ کے شوشے
      وہ پاکستان مسلم لیگ کے بھڑکے ہوئے گوشے
      ڈیورنڈ روڈ کا وہ شاطرِ اعظم، معاذ اللہ
      کوئی ٹکرائے اس شہباز سے، یہ تاب ہے کس میں؟
      کوئی ایسا بھی ہے، یہ جوہرِ نایاب ہے کس میں؟
      وہ کائیاں چودھری یعنی وزیراعظم سابق
      پڑا ہے لٹھ لیے پیچھے مرے اور ضرب ہے کاری
      تمہیں معلوم ہے عبد الولی خاں کی سیہ کاری؟
      وہ بھٹو، جو مجھے کہتا تھا ڈیڈی، اب کہاں پر ہے
      کہ سخت گفتنی نا گفتنی اس کی زباں پر ہے
      وہ شورش جس نے بھوک ہڑتال سے لرزا دیا سب کو
      تمہیں معلوم ہے بد بخت نے تڑپا دیا سب کو
      قصوری اور شوکت کس لیے آزاد پھرتے ہیں
      انہیں زنداں میں ڈلواؤ، دار پر کھنچواؤ، مرواؤ
      ہمارا حکم ہے ان سب کے خنجر گھونپتے جاؤ
      جسارت اس قدر؟ اب گالیاں دینے پہ اترے ہیں
      سیاسی نٹ کھٹوں کے بیچ بازاریوں کے نخرے ہیں
      کچھ دیر چپ رہنے کے بعد حکومت کی ایک رقاصہ سے
      شاہ
      اری نازک بدن، زہرہ ادا، گوہر صفت لیلٰی
      ترے قربان، بوڑھی ہڈیوں میں جان آ جائے
      رخِ زیبا
      پہ غازہ ہے مگر سی آئی اے کا ہے
      کوئی داؤ بتا، یہ بے تکا طوفان تھم جائے
      ہمارا پاؤں اکھڑا جا رہا ہے پھر سے جم جائے
      بتا نور جہاں، نورِ نظر، رقاصۂ عالم
      ہماری ذات اقدس سے عوام الناس ہیں برہم
      رقاصہ
      مرے آقا! اجازت ہو تو میری بات اتنی ہے
      شریروں کی ہمارے ملک میں تعداد کتنی ہے؟
      یہی دو چار مُلا، پانچ چھ لڑکے شریروں سے
      پرانے گھاگ لیڈر، جیل خانے کے اسیروں میں
      انہیں زہر اب دے کر گولیوں سے کیجیے ٹھنڈا
      کہ شوریدہ سروں کی ڈار کا استاد ہے ڈنڈا
      یہ سب گستاخ ہیں، ان کے لیے تعزیر واجب ہے
      یہ سب غدار ہیں، ان کے لیے زنجیر واجب ہے
      یہ سب بزدل مسافر موت کے ہیں، موت پائیں گے
      کسی حیلے بہانے سے نہ ہر گز باز آئیں گے
      شاہ
      بہت اچھا، ہم اب ان کے لیے اعلان کرتے ہیں
      بس ان کی ناگہانی موت کا سامان کرتے ہیں
      مارچ کو ورق الٹ جاتا ہے
      در و دیوار پہ حسرت کی نظر کرتے ہیں
      الٹ ڈالا، عوام الناس سے فرعون کا تختہ
      طنابیں ٹوٹتی ہیں، شاہ زادے تھر تھراتے ہیں
      وہ گوہر جان نے لاہور کو رخت سفر باندھا
      وہ رقاصہ نکل کے پہلوئے اغیار میں پہنچی
      کٹی شب دختِ رز پیمانۂ افکار میں پہنچی
      سیاسی ڈوم ڈھاری چل بسے، شورِ فغاں اٹھا
      زمانے کی روش پر ایک سیلاب رواں اٹھا
      بہت سی قمریوں سے باغبانوں کو ہلا ڈالا
      کئی ذروں نے مل کر آسمانوں کو ہلا ڈالا
      عوام الناس جاگ اٹھیں،تو ناممکن ہے سو جائیں
      علی بابا کے چوروں کی زبانیں گنگ ہو جائیں

  2. Saba said

    Yup share the nazm

  3. اس نظم کا تو مجھے ياد نہيں البتہ اتنا جانتا ہوں کہ فيلڈ مارشل محمد ايوب خان زندہ دل آدمی تھے اور اپنے ساتھ مذاق خندہ پيشانی سے سُنتے تھے ۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers