ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

رانجھا

Posted by ارتقاءِ حيات on December 7, 2011



دراصل “رانجھا” جاٹوں کے ایک قبیلے کا نام ہے چوں کے ہیر کا عاشق بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اسی لئے اسے “رانجھا”کہا جاتا ہے، مگر اس کا نام یہ نہیں تھا۔ اس کا نام “دھیدو ” ہے۔
(کتب لغات کا تحقیقی و لسانی جائزہ :جلد 6، از وارث سرہندی)

4 Responses to “رانجھا”

  1. بالکل درست فرمايا آپ نے ۔ جس کی کُنيت رانجھا بنی اُس کا نام دھيدو تھا
    اسی طرح جس کی کُنيت مجنوں ہے اُس کا نام قيس تھا
    رانجھا قبيلے کا نام ہو گا مگر رانجھا کا مطلب ہے فريفتہ ہونا اس طرح کہ اپنا آپ ہی بھول جائے ۔ اگر کوئی کسی کے مزار پر اس حال ميں بيٹھا ہو تو اُسے مجذوب کہنے لگيں گے

  2. جس نے بھی رانجھا رانجھا مشہور کیا اچھا ہی کیا۔۔۔ شاعری میں دھیدو بالکل سُوٹ نہیں کرنا تھا۔۔۔ :)

    • تحریم said

      ہیر کو تو رانجھے کا نام کا بھی علم نہ تھا
      وہ تو خود رانجھا کہا کرتی تھی
      بعد میں مرنے کے علم ہوا جناب وارث سرہندی کو
      کہ وہ تہ دھیدو تھا

      پر تب تلک کتب شائع ہو چکی تھیں
      بزرگوں کی تقلید میں اسے رانجھا ہی نام رکھ دیا گیا

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers