قرآن کہانی:حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) حصہ آخر
Posted by ارتقاءِ حيات on December 1, 2011
كس طرح مردوں كو زندہ كرے گا ؟
ايك دن حضرت ابراہيم عليہ السلام دريا كے كنارے سے گزررہے تھے _ آپ نے دريا كے كنارے ايك مردار پڑاہوا ديكھا، اس كا كچھ حصہ دريا كے انداراور كچھ باہر تھا دريا اور خشكى كے جانور دونوں طرف سے اسے كھارہے تھے بلكہ كھاتے كھاتے ايك دوسرے سے لڑنے لگتے تھے ،اس منظر نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ايك ايسے مسئلہ كى فكر ميں ڈال ديا جس كى كيفيت سب تفصيل سے جاننا چاہتے ہيں اور وہ ہے موت كے بعد مردوں كے زندہ ہونے كى كيفيت ابراہيم عليہ السلام سوچنے لگے كہ اگر ايسا ہى انسانى جسم كے ساتھ ہو اور انسان كا بدن جانوروں كے بدن كا جزء بن جائے تو قيامت ميں اٹھنے كا معاملہ كيسے عمل ميں آئے گا جب كہ وہاں انسان كو اسى بدن كے ساتھ اٹھنا ہے _
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے كہا : خدايا مجھے دكھا كہ تو مردوں كو كيسے زندہ كرے گا؟اللہ تعالى نے فرمايا : كيا تم اس بات پر ايمان نہيں ركھتے؟ انہوں نے كہا: ايمان تو ركھتا ہوں ليكن چاہتاہوں دل كو تسلى ہوجائے _
خدا متعال نے حكم ديا : چار پرندے لے لو اور ان كا گوشت ايك دوسرے سے ملادو پھر اس سارے گوشت كے كئي حصے كردو اور ہر حصہ كو ايك پہاڑپر ركھ دو اس كے بعد ان پرندوں كو پكار و تاكہ ميدان حشر كا منظر ديكھ سكو _ انہوں نے ايسا ہى كيا تو انتہائي حيرت كے ساتھ ديكھا كہ پرندوں كے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہوكر ان كے پاس آگئے ہيں اور ان كى ايك نئي زندگى كا آغاز ہوگيا ہے _
اس سلسلہ ميں قرآن كہتا ہے :
”اس وقت (كو ياد كرو)جب ابراہيم نے كہا : خدايا : مجھے دكھا دے تو كيسے مردوں كو زندہ كرتا ہے ،فرمايا : كيا تم ايمان نہيں لائے _ كہنے لگے : كيوں نہيں، ميں چاہتاہوں ميرے دل كو اطمينان ہوجائے فرمايا : يہ بات ہے تو چار پرندے انتخاب كرلو (ذبح كرنے كے بعد ) انہيں ٹكڑے ٹكڑے كرلو (پھر ان كے گوشت كو آپس ميں ملادو ) پھر ہر پہاڑپر ايك حصہ ركھ دو ، پھر انہيں پكارو ، وہ تيزى سے تمہارے پاس آئےں گے، اور جان لوكہ خدا غالب اور حكيم ہے ”_( سورہ بقرہ آيت 259)(وہ مردوں كے اجزائے بدن كو بھى جانتا ہے اور انہيں جمع كرنے كى طاقت بھى ركھتا ہے)
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے كہا : خدايا مجھے دكھا كہ تو مردوں كو كيسے زندہ كرے گا؟اللہ تعالى نے فرمايا : كيا تم اس بات پر ايمان نہيں ركھتے؟ انہوں نے كہا: ايمان تو ركھتا ہوں ليكن چاہتاہوں دل كو تسلى ہوجائے _
خدا متعال نے حكم ديا : چار پرندے لے لو اور ان كا گوشت ايك دوسرے سے ملادو پھر اس سارے گوشت كے كئي حصے كردو اور ہر حصہ كو ايك پہاڑپر ركھ دو اس كے بعد ان پرندوں كو پكار و تاكہ ميدان حشر كا منظر ديكھ سكو _ انہوں نے ايسا ہى كيا تو انتہائي حيرت كے ساتھ ديكھا كہ پرندوں كے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہوكر ان كے پاس آگئے ہيں اور ان كى ايك نئي زندگى كا آغاز ہوگيا ہے _
اس سلسلہ ميں قرآن كہتا ہے :
”اس وقت (كو ياد كرو)جب ابراہيم نے كہا : خدايا : مجھے دكھا دے تو كيسے مردوں كو زندہ كرتا ہے ،فرمايا : كيا تم ايمان نہيں لائے _ كہنے لگے : كيوں نہيں، ميں چاہتاہوں ميرے دل كو اطمينان ہوجائے فرمايا : يہ بات ہے تو چار پرندے انتخاب كرلو (ذبح كرنے كے بعد ) انہيں ٹكڑے ٹكڑے كرلو (پھر ان كے گوشت كو آپس ميں ملادو ) پھر ہر پہاڑپر ايك حصہ ركھ دو ، پھر انہيں پكارو ، وہ تيزى سے تمہارے پاس آئےں گے، اور جان لوكہ خدا غالب اور حكيم ہے ”_( سورہ بقرہ آيت 259)(وہ مردوں كے اجزائے بدن كو بھى جانتا ہے اور انہيں جمع كرنے كى طاقت بھى ركھتا ہے)
چندا ہم نكات
1_ چار پرندے : اس ميں شك نہيں كہ مذكورہ چار پرندے مختلف قسم كے پرندوں ميں سے تھے كيونكہ اس كے بغير حضرت ابراہيم كا مقصد پورا نہيں ہوسكتاہے _ اس كے لئے ضرورى تھا كہ ہرايك كے اجزاء اس كے اصلى بدن ميںواپس آئيں اوريہ مختلف قسم كے ہونے كى صورت ميں ہى ظاہر ہوسكتا تھا _ مشہور رو آيت كے مطابق وہ چار پرندے اس طرح تھے مور، مرغ ،كبوتر اور كوا جو كہ كئي پہلوئوں سے ايك دوسرے سے بہت مختلف ہيں _
بعض ان پرندوں كو انسانوں كى مختلف صفات اور جذبات كا مظہر سمجھتے ہيں _
مور: خود نمائي، زيبائشے اور تكبركا مظہر ہے _
مرغ : شديد جنسى ميلانات كا مظہرہے_
كبوتر : لہوولعب اور كھيل كود كا مظہر ہے _
كوا: لمبى چوڑى آرزئوں اور تمنائوں كا مظہر ہے _
2_ پہاڑوں كى تعداد : جن پہاڑوں پر حضرت ابراہيم عليہ السلام نے پرندوں كے اجزاركھے تھے ان كى تعدا كى صراحت قرآن حكيم ميں نہيں ہے ليكن روايات اہل بيت ميں يہ تعداد دس بتائي گئي ہے _( اسى لئے بعض روايات ميں آيا ہے كہ اگر كوئي شخص وصيت كرجائے كہ اس كے مال كا ايك جزء فلاں سلسلے ميں صرف كرنا اور اس كى مقدار معين نہ كرجائے تو مال كا دسواں حصہ دينا كافى ہے _ )
3_ واقعہ كب رونماہوا : جب حضرت ابراہيم بابل ميں تھے يا جب شام چلے آئے تھے ،يوں لگتا ہے ،يہ شام ميں آنے كے بعد كا واقعہ ہے كيونكہ سرزمين بابل ميں پہاڑنہيں ہيں _
بعض ان پرندوں كو انسانوں كى مختلف صفات اور جذبات كا مظہر سمجھتے ہيں _
مور: خود نمائي، زيبائشے اور تكبركا مظہر ہے _
مرغ : شديد جنسى ميلانات كا مظہرہے_
كبوتر : لہوولعب اور كھيل كود كا مظہر ہے _
كوا: لمبى چوڑى آرزئوں اور تمنائوں كا مظہر ہے _
2_ پہاڑوں كى تعداد : جن پہاڑوں پر حضرت ابراہيم عليہ السلام نے پرندوں كے اجزاركھے تھے ان كى تعدا كى صراحت قرآن حكيم ميں نہيں ہے ليكن روايات اہل بيت ميں يہ تعداد دس بتائي گئي ہے _( اسى لئے بعض روايات ميں آيا ہے كہ اگر كوئي شخص وصيت كرجائے كہ اس كے مال كا ايك جزء فلاں سلسلے ميں صرف كرنا اور اس كى مقدار معين نہ كرجائے تو مال كا دسواں حصہ دينا كافى ہے _ )
3_ واقعہ كب رونماہوا : جب حضرت ابراہيم بابل ميں تھے يا جب شام چلے آئے تھے ،يوں لگتا ہے ،يہ شام ميں آنے كے بعد كا واقعہ ہے كيونكہ سرزمين بابل ميں پہاڑنہيں ہيں _
اسماعيل عليہ السلام اور ہاجرہ عليہ السلام كو منتقل كرنے كا حكم
سالہا گذرگئے كہ جناب ابراہيم عليہ السلام نے اس صالح فرزند كے انتظار اور خواہش ميں زندگى بسركرتے رہے، انھوں نے عرض كيا:” پروردگارا: مجھے ايك فرزند صالح عطا فرما_”(سورہ صافات آيت 100)
آخر كار خدا نے ان كى دعا قبول كرلي، پہلے انھيںاسماعيل عليہ السلام اور پھر اسحاق عليہ السلام مرحمت فرمايا كہ جن ميں سے ہر ايك بزرگ پيغمبر اور صاحب منزلت تھے_ آپ نے اپنى كنيزہاجرہ كو اپنى بيوى بناليا تھا _ اس سے انہيں اسماعيل جيسا بيٹا نصيب ہوا آپ كى پہلى بيوى سارہ نے ان سے حسد كيا يہى حسد سبب بنا كہ آپ ہاجرہ اور اپنے شيرخوار بچے كو حكم خدا سے فلسطين سے لے كر مكہ كى جلتى ہوئي سنگلاخ پہاڑوں كى سرزمين ميں لے گئے يہ وہ علاقہ تھا جہاں پانى كى ايك بوند بھى دستياب نہ تھى آپ عليہ السلام حكم خدا سے ايك عظيم امتحان سے گزرتے ہوئے انہيں وہاں چھوڑ كر واپس فلسطين آگئے _
وہاں چشمہ زمزم پيدا ہوا اس اثنا ميں جرہم قبيلہ ادھر سے گزرا اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قيام كى اجازت چاہى __گويا واقعات كا ايك طولانى سلسلہ ہے كہ جو اس علاقے كى آبادى كا باعث بنا_
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے خدا سے دعا كى تھى كہ اس جگہ كو آباد اور پر بركت شہر بنادے اور لوگوں كے دل ميرى اولاد كى طرف مائل كردے ان كى اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگى تھى _( سورہ ابراہيم آيت 37 تا 41)
يہ بات جاذب نظر ہے كہ بعض مو رخين نے نقل كيا ہے كہ جب حضرت ابراہيم ہاجرہ اور شير خوار اسماعيل كو مكہ ميں چھوڑ كر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فرياد كي: اے ابراہيم عليہ السلام آپ كو كس نے حكم ديا ہے كہ ہميں ايسى جگہ پر چھوڑ جائيں كہ جہاں نہ كوئي سبزہ ہے ، نہ دودھ دينے والا كوئي جانور،يہاں تك كہ يہاں پانى كا ايك گھونٹ بھى نہيں ہے آپ پھر بھى ہميں بغير زادو توشہ اور مونس ومدد گار كے چھوڑے جارہے ہيں _
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے مختصر سا جواب ديا : ميرے پروردگار نے مجھے يہى حكم ديا ہے _
ہاجرہ نے يہ سنا تو كہنے لگيں: اگر ايسا ہے تو پھر خدا ہرگز ہميں يونہى نہيں چھوڑے گا _
ابراہيم عليہ السلام نے حكم خدا كى اطاعت كى اور انہيں سرزمين مكہ ميں لے گئے جو ايسى خشك اور بے آب وگياہ تھى كہ وہاں كسى پرندے كا بھى نام ونشان نہ تھا جب ابراہيم انہيں چھوڑ كر تنہا واپس ہولئے تو ان كى اہليہ رونے لگيںكہ ايك عورت اور ايك شيرخوار بچہ اس بے آب وگياہ بيابان ميں كيا كريں گے_
اس خاتون كے گرم آنسو اور ادھر بچے كا نالہ ودزارى اس منظرنے ابراہيم عليہ السلام كا دل ہلاكے ركھ ديا _
انہوں نے بارگاہ الہى ميں ہاتھ اٹھائے اور عرض كيا:
خدا وندا: ميں تيرے حكم پر اپنى بيوى اور بچے كو اس جلادينے والے بے آب وگياہ بيابان ميں تنہا چھوڑ رہا ہوں، تاكہ تيرا نام بلند اور تيرا گھر آباد ہو_
يہ كہہ كر غم واندوہ اور شديد محبت كے عالم ميں الوداع ہوئے _
زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ ماں كے پاس آب وغذا كا جو توشہ تھا ختم ہوگيا اور اس كى چھاتى كا دودھ بھى خشك ہوگيا شير خوار بچے كى بے تابى اور تضرع وزارى نے ماں كو ايسا مضطرب كرديا كہ وہ اپنى پياس بھول گئي وہ پانى كى تلاش ميں اٹھ كھڑى ہوئي، پہلے كوہ صفا كے قريب گئي تو پانى كا كوئي نام ونشان نظر نہ آيا، سراب كى چمك نے اسے كوہ مروہ كى طرف كھينچا تو وہ اس كى طرف دوڑى ليكن وہاں بھى پانى نہ ملا، وہاں ويسى چمك صفاپر دكھائي دى تو پلٹ كر آئي، زندگى كى بقاء اور موت سے مقابلہ كے لئے اس نے سات چكر لگائے، آخر شيرخوار بچہ زندگى كى آخرى سانسيں لينے لگا كہ اچانك اس كے پائوں كے پاس انتہائي تعجب خيز طريقہ سے زمزم كا چشمہ ابلنے لگا، ماں اور بچے نے پانى پيا اور موت جو يقينى ہوگئي تھى اس سے بچ نكلے_
زمزم كا پانى گويا آب حيات تھا، ہر طرف سے پرندے اس چشمہ كى طرف آنے لگے، قافلوں نے پرندوں كى پروازديكھى تو اپنے رُخ كو اس طرف موڑديا اور ظاہراً ايك چھوٹے سے خاندان كى فداكارى كے صلے ميں ايك عظيم مركز وجود ميں آگيا_
آج خانہ خدا كے پاس اس خاتون اور اس كے فرزند اسماعيل عليہ السلام كا مسكن ہے، ہر سال تقريباً 20 / لاكھ افراد اطراف عالم سے آتے ہيں ان كى ذمہ دارى ہے كہ اس مسكن كو جسے مقام اسماعيل كہتے ہيں اپنے طواف ميں شامل كريں گويا اس خاتون اور اس كے بيٹے كے مدفن كو كعبہ كا جز ء سمجھيں_
آخر كار خدا نے ان كى دعا قبول كرلي، پہلے انھيںاسماعيل عليہ السلام اور پھر اسحاق عليہ السلام مرحمت فرمايا كہ جن ميں سے ہر ايك بزرگ پيغمبر اور صاحب منزلت تھے_ آپ نے اپنى كنيزہاجرہ كو اپنى بيوى بناليا تھا _ اس سے انہيں اسماعيل جيسا بيٹا نصيب ہوا آپ كى پہلى بيوى سارہ نے ان سے حسد كيا يہى حسد سبب بنا كہ آپ ہاجرہ اور اپنے شيرخوار بچے كو حكم خدا سے فلسطين سے لے كر مكہ كى جلتى ہوئي سنگلاخ پہاڑوں كى سرزمين ميں لے گئے يہ وہ علاقہ تھا جہاں پانى كى ايك بوند بھى دستياب نہ تھى آپ عليہ السلام حكم خدا سے ايك عظيم امتحان سے گزرتے ہوئے انہيں وہاں چھوڑ كر واپس فلسطين آگئے _
وہاں چشمہ زمزم پيدا ہوا اس اثنا ميں جرہم قبيلہ ادھر سے گزرا اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قيام كى اجازت چاہى __گويا واقعات كا ايك طولانى سلسلہ ہے كہ جو اس علاقے كى آبادى كا باعث بنا_
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے خدا سے دعا كى تھى كہ اس جگہ كو آباد اور پر بركت شہر بنادے اور لوگوں كے دل ميرى اولاد كى طرف مائل كردے ان كى اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگى تھى _( سورہ ابراہيم آيت 37 تا 41)
يہ بات جاذب نظر ہے كہ بعض مو رخين نے نقل كيا ہے كہ جب حضرت ابراہيم ہاجرہ اور شير خوار اسماعيل كو مكہ ميں چھوڑ كر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فرياد كي: اے ابراہيم عليہ السلام آپ كو كس نے حكم ديا ہے كہ ہميں ايسى جگہ پر چھوڑ جائيں كہ جہاں نہ كوئي سبزہ ہے ، نہ دودھ دينے والا كوئي جانور،يہاں تك كہ يہاں پانى كا ايك گھونٹ بھى نہيں ہے آپ پھر بھى ہميں بغير زادو توشہ اور مونس ومدد گار كے چھوڑے جارہے ہيں _
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے مختصر سا جواب ديا : ميرے پروردگار نے مجھے يہى حكم ديا ہے _
ہاجرہ نے يہ سنا تو كہنے لگيں: اگر ايسا ہے تو پھر خدا ہرگز ہميں يونہى نہيں چھوڑے گا _
ابراہيم عليہ السلام نے حكم خدا كى اطاعت كى اور انہيں سرزمين مكہ ميں لے گئے جو ايسى خشك اور بے آب وگياہ تھى كہ وہاں كسى پرندے كا بھى نام ونشان نہ تھا جب ابراہيم انہيں چھوڑ كر تنہا واپس ہولئے تو ان كى اہليہ رونے لگيںكہ ايك عورت اور ايك شيرخوار بچہ اس بے آب وگياہ بيابان ميں كيا كريں گے_
اس خاتون كے گرم آنسو اور ادھر بچے كا نالہ ودزارى اس منظرنے ابراہيم عليہ السلام كا دل ہلاكے ركھ ديا _
انہوں نے بارگاہ الہى ميں ہاتھ اٹھائے اور عرض كيا:
خدا وندا: ميں تيرے حكم پر اپنى بيوى اور بچے كو اس جلادينے والے بے آب وگياہ بيابان ميں تنہا چھوڑ رہا ہوں، تاكہ تيرا نام بلند اور تيرا گھر آباد ہو_
يہ كہہ كر غم واندوہ اور شديد محبت كے عالم ميں الوداع ہوئے _
زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ ماں كے پاس آب وغذا كا جو توشہ تھا ختم ہوگيا اور اس كى چھاتى كا دودھ بھى خشك ہوگيا شير خوار بچے كى بے تابى اور تضرع وزارى نے ماں كو ايسا مضطرب كرديا كہ وہ اپنى پياس بھول گئي وہ پانى كى تلاش ميں اٹھ كھڑى ہوئي، پہلے كوہ صفا كے قريب گئي تو پانى كا كوئي نام ونشان نظر نہ آيا، سراب كى چمك نے اسے كوہ مروہ كى طرف كھينچا تو وہ اس كى طرف دوڑى ليكن وہاں بھى پانى نہ ملا، وہاں ويسى چمك صفاپر دكھائي دى تو پلٹ كر آئي، زندگى كى بقاء اور موت سے مقابلہ كے لئے اس نے سات چكر لگائے، آخر شيرخوار بچہ زندگى كى آخرى سانسيں لينے لگا كہ اچانك اس كے پائوں كے پاس انتہائي تعجب خيز طريقہ سے زمزم كا چشمہ ابلنے لگا، ماں اور بچے نے پانى پيا اور موت جو يقينى ہوگئي تھى اس سے بچ نكلے_
زمزم كا پانى گويا آب حيات تھا، ہر طرف سے پرندے اس چشمہ كى طرف آنے لگے، قافلوں نے پرندوں كى پروازديكھى تو اپنے رُخ كو اس طرف موڑديا اور ظاہراً ايك چھوٹے سے خاندان كى فداكارى كے صلے ميں ايك عظيم مركز وجود ميں آگيا_
آج خانہ خدا كے پاس اس خاتون اور اس كے فرزند اسماعيل عليہ السلام كا مسكن ہے، ہر سال تقريباً 20 / لاكھ افراد اطراف عالم سے آتے ہيں ان كى ذمہ دارى ہے كہ اس مسكن كو جسے مقام اسماعيل كہتے ہيں اپنے طواف ميں شامل كريں گويا اس خاتون اور اس كے بيٹے كے مدفن كو كعبہ كا جز ء سمجھيں_
اسماعيل عليہ السلام قربان گاہ ميں
اسماعيل كا سن 13 /سال كا تھا كہ حضرت ابراہيم نے ايك عجيب اور حيرت انگيز خواب ديكھا ،يہ خواب اس عظيم الشان پيغمبر كے لئے ايك اور آزمائشے كو بيان كرتا تھا _ انھوں نے خواب ديكھا كہ انھيں خدا كى طرف سے يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ اپنے اكلوتے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے قربانى كريں اور اسے ذبح كرديں _
ابراہيم عليہ السلام وحشت زدہ خواب سے بيدار ہوئے ،وہ جانتے تھے كہ پيغمبروں كے خواب حقيقت اور شيطانى وسو سوں سے دور ہوتے ہيں ليكن اس كے باوجود دو راتوں ميں بھى يہى خواب ديكھا جو اس امر كے لازم ہونے اور اسے جلد انجام دينے كے لئے تاكيد تھى _
كہتے ہيں كہ پہلى مرتبہ ” شب ترويہ” (آٹھ ذى الحجہ كى رات ) يہ خواب ديكھا اور ” عرفہ ” اور ” عيد قربان ” (نويں اور دسويں ذى الحجہ ) كى راتوں ميں خواب كا تكرار ہوا _ لہذا اب ان كے لئے ذراسا بھى شك باقى نہ رہا كہ يہ خدا كا قطعى فرمان ہے _
ابراہيم عليہ السلام جو بار ہا امتحان خداوندى كى گرم بھٹى سے سرفراز ہو كر باہر آچكے تھے،اس دفعہ بھى چاہئے كہ بحر عشق ميں كود پڑيں اور خداوند عالم كے فرمان كے سامنے سرجھكاديں،اور اس فرزند كو جس كے انتظار ميں عمر كا ايك حصہ گذارديا تھا اور اب وہ ايك آبرومند نوجوان تھا، اسے اپنے ہاتھ سے ذبح كرديں _
ليكن ضرورى ہے كہ ہر چيز سے پہلے اپنے فرزند كو اس كام كے لئے آمادہ كريں ، لہذا اس كى طرف رخ كركے فرمايا :” ميرے بيٹے : ميں نے خواب ديكھا ہے كہ ميں تجھے ذبح كررہاہوں ، اب تم ديكھو: تمہارى اس بارے ميں كيا رائے ہے ”؟ (سورہ صافات آيت 102)
بيٹا بھى تو ايثار پيشہ باپ كے وجود كا ايك حصہ تھا اور جس نے صبرو استقامت اور ايمان كا درس اپنى چھوٹى سى عمر ميں اسى كے مكتب ميں پڑھا تھا ، اس نے خوشى خوشى خلوص دل كے ساتھ اس فرمان الہى كا استقبال كيا اور صراحت اور قاطيعت كے ساتھ كہا:
”اباجان : جو حكم آپ كو ديا گيا ہے اس كى تعميل كيجئے”_( سورہ صافات آيت 102)
ميرى طرف سے بالكل مطمئن رہئے_ ” انشاء اللہ آپ مجھے صابرين ميں سے پائيں گے ”_( سورہ صافات آيت 102)
باپ اور بيٹے كى يہ باتيں كس قدر معنى خيز ہيں اور كتنى باريكياں ان ميں چھپى ہوئي ہيں _
ايك طرف تو باپ، 13 سالہ بيٹے كے سامنے اسے ذبح كرنے كى بات بڑى صراحت كے ساتھ كرتا ہے اور اس سے اس كى رائے معلوم كرتا ہے اس كے لئے مستقل شخصيت اور ارادے كى آزادى كا قائل ہوتا ہے ، وہ ہرگز اپنے بيٹے كو دھوكے ميں ركھنا نہيں چاہتا اور اسے اندھيرے ميں ركھتے ہوئے امتحان كے اس عظيم ميدان ميں آنے كى دعوت نہيں ديتا وہ چاہتا ہے كہ بيٹا بھى اس عظيم امتحان ميں پورے دل كے ساتھ شركت كرے اور باپ كى طرح تسليم ورضا كا مزہ چكھے _
دوسرى طرف بيٹا بھى يہ چاہتا ہے كہ باپ اپنے عزم وارادہ ميں پكااور مضبوط رہے، يہ نہيں كہتا كہ مجھے ذبح كريں بلكہ كہتا ہے : جوآپ كو حكم ديا گيا ہے اسے بجالائيں ميں اس كے امرو فرمان كے سامنے سر تسليم خم ہوں ،خصوصاً باپ كو ” يا ابت ” (ابا جان
كہہ كر مخاطب كرتا ہے ،تاكہ اس بات كى نشاندہى كردے كہ اس مسئلے پر جذبات فرزندو پدر كاسوئي كى نوك كے برابر بھى اثر نہيں ، كيونكہ فرمان خدا ہر چيز پر حاكم ہے _
اور تيسرى طرف سے پروردگار كى بارگاہ ميں مراتب اداب كى اعلى ترين طريقے سے پاسدارى كرتا ہے ،ہرگز اپنے ايمان اور عزم وارادہ كى قوت پر بھروسہ نہيں كرتا ، بلكہ خدا كى مشيت اور اس كے ارادہ پر تكيہ كرتاہے اور اس عبادت كے ساتھ اس سے پامردى اور استقامت كى توفيق چاہتاہے _
اس طرح سے باپ بھى اور بيٹا بھى اس عظيم آزمائشے كے پہلے مرحلے كو مكمل كاميابى كے ساتھ گزارديتے ہيں_
ابراہيم عليہ السلام وحشت زدہ خواب سے بيدار ہوئے ،وہ جانتے تھے كہ پيغمبروں كے خواب حقيقت اور شيطانى وسو سوں سے دور ہوتے ہيں ليكن اس كے باوجود دو راتوں ميں بھى يہى خواب ديكھا جو اس امر كے لازم ہونے اور اسے جلد انجام دينے كے لئے تاكيد تھى _
كہتے ہيں كہ پہلى مرتبہ ” شب ترويہ” (آٹھ ذى الحجہ كى رات ) يہ خواب ديكھا اور ” عرفہ ” اور ” عيد قربان ” (نويں اور دسويں ذى الحجہ ) كى راتوں ميں خواب كا تكرار ہوا _ لہذا اب ان كے لئے ذراسا بھى شك باقى نہ رہا كہ يہ خدا كا قطعى فرمان ہے _
ابراہيم عليہ السلام جو بار ہا امتحان خداوندى كى گرم بھٹى سے سرفراز ہو كر باہر آچكے تھے،اس دفعہ بھى چاہئے كہ بحر عشق ميں كود پڑيں اور خداوند عالم كے فرمان كے سامنے سرجھكاديں،اور اس فرزند كو جس كے انتظار ميں عمر كا ايك حصہ گذارديا تھا اور اب وہ ايك آبرومند نوجوان تھا، اسے اپنے ہاتھ سے ذبح كرديں _
ليكن ضرورى ہے كہ ہر چيز سے پہلے اپنے فرزند كو اس كام كے لئے آمادہ كريں ، لہذا اس كى طرف رخ كركے فرمايا :” ميرے بيٹے : ميں نے خواب ديكھا ہے كہ ميں تجھے ذبح كررہاہوں ، اب تم ديكھو: تمہارى اس بارے ميں كيا رائے ہے ”؟ (سورہ صافات آيت 102)
بيٹا بھى تو ايثار پيشہ باپ كے وجود كا ايك حصہ تھا اور جس نے صبرو استقامت اور ايمان كا درس اپنى چھوٹى سى عمر ميں اسى كے مكتب ميں پڑھا تھا ، اس نے خوشى خوشى خلوص دل كے ساتھ اس فرمان الہى كا استقبال كيا اور صراحت اور قاطيعت كے ساتھ كہا:
”اباجان : جو حكم آپ كو ديا گيا ہے اس كى تعميل كيجئے”_( سورہ صافات آيت 102)
ميرى طرف سے بالكل مطمئن رہئے_ ” انشاء اللہ آپ مجھے صابرين ميں سے پائيں گے ”_( سورہ صافات آيت 102)
باپ اور بيٹے كى يہ باتيں كس قدر معنى خيز ہيں اور كتنى باريكياں ان ميں چھپى ہوئي ہيں _
ايك طرف تو باپ، 13 سالہ بيٹے كے سامنے اسے ذبح كرنے كى بات بڑى صراحت كے ساتھ كرتا ہے اور اس سے اس كى رائے معلوم كرتا ہے اس كے لئے مستقل شخصيت اور ارادے كى آزادى كا قائل ہوتا ہے ، وہ ہرگز اپنے بيٹے كو دھوكے ميں ركھنا نہيں چاہتا اور اسے اندھيرے ميں ركھتے ہوئے امتحان كے اس عظيم ميدان ميں آنے كى دعوت نہيں ديتا وہ چاہتا ہے كہ بيٹا بھى اس عظيم امتحان ميں پورے دل كے ساتھ شركت كرے اور باپ كى طرح تسليم ورضا كا مزہ چكھے _
دوسرى طرف بيٹا بھى يہ چاہتا ہے كہ باپ اپنے عزم وارادہ ميں پكااور مضبوط رہے، يہ نہيں كہتا كہ مجھے ذبح كريں بلكہ كہتا ہے : جوآپ كو حكم ديا گيا ہے اسے بجالائيں ميں اس كے امرو فرمان كے سامنے سر تسليم خم ہوں ،خصوصاً باپ كو ” يا ابت ” (ابا جان
اور تيسرى طرف سے پروردگار كى بارگاہ ميں مراتب اداب كى اعلى ترين طريقے سے پاسدارى كرتا ہے ،ہرگز اپنے ايمان اور عزم وارادہ كى قوت پر بھروسہ نہيں كرتا ، بلكہ خدا كى مشيت اور اس كے ارادہ پر تكيہ كرتاہے اور اس عبادت كے ساتھ اس سے پامردى اور استقامت كى توفيق چاہتاہے _
اس طرح سے باپ بھى اور بيٹا بھى اس عظيم آزمائشے كے پہلے مرحلے كو مكمل كاميابى كے ساتھ گزارديتے ہيں_
شيطانى وسوسہ
شيطان نے بہت ہاتھ پائوں مارے كہ كوئي ايسا كام كرے كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام اس ميدان سے كامياب ہوكر نہ نكليں ، كبھى وہ (اسمعيل كي) ماں ہاجرہ كے پاس آيا اور ان سے كہا:كيا تمھيں معلوم ہے كہ ابراہيم نے كيا ارادہ كيا ہے ؟ وہ چاہتاہے كہ آج اپنے بيٹے كو ذبح كردے_
ہاجرہ نے كہا: دورہوجا ، محال اور نہ ہونے والى بات نہ كر، كيونكہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بيٹے كو كيسے ذبح كرسكتا ہے ؟ اصولاً كيا دنيا ميں كوئي ايسا انسان پيدا ہوسكتا ہے جو اپنے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كردے ؟
شيطان نے اپنے وسوسہ كو جارى ركھتے ہوئے كہا: اس كا دعوى ہے كہ خدانے اسے حكم ديا ہے _ ہاجرہ نے كہا : اگر خدا نے اسے حكم ديا ہے تو پھر اسے اطاعت كرنا چاہيے، اور سوائے رضاو تسليم كے كوئي دوسرى راہ نہيں ہے _
پھر شيطان ان كے بيٹے اسماعيل عليہ السلام كے پاس آيا،اور انھيں ورغلانے لگا ،ان سے بھى اسے كچھ حاصل نہ ہوسكا، كيونكہ اس نے اسماعيل عليہ السلام كو تسليم ورضا كا پيكر پايا _
آخرميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس آيا اور ان سے كہا: ابراہيم عليہ السلام : جو خواب تم نے ديكھا ہے وہ شيطانى خواب ہے، تم شيطان كى اطاعت نہ كرو _
ابراہيم عليہ السلام نے نور ايمان اور نبوت كے پر تو ميں اسے پہچان ليا : چلاكر كہا: ”دورہوجااے دشمن خدا _”
ايك حديث ميں منقول ہے كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام پہلے” مشعرالحرام” ميں آئے تاكہ بيٹے كى قربانى ديں، تو شيطان ان كے پيچھے دوڑا _ وہ” جمرہ اولى ” كے پاس آئے شيطان كو ديكھا ، اس كو سات پتھر مارے، اس كے بعد وہاں سے جمرہ دوم پر ائے وہاں شيطان كو ديكھا تو دوبارہ سات پتھراسے مارے يہاںتك كہ ” جمرہ عقبہ ” ميں آئے تو سات اور پتھراسے مارے _(اور اسے ہميشہ ہميشہ كے لئے اپنے سے مايوس كرديا)_
ہاجرہ نے كہا: دورہوجا ، محال اور نہ ہونے والى بات نہ كر، كيونكہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بيٹے كو كيسے ذبح كرسكتا ہے ؟ اصولاً كيا دنيا ميں كوئي ايسا انسان پيدا ہوسكتا ہے جو اپنے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كردے ؟
شيطان نے اپنے وسوسہ كو جارى ركھتے ہوئے كہا: اس كا دعوى ہے كہ خدانے اسے حكم ديا ہے _ ہاجرہ نے كہا : اگر خدا نے اسے حكم ديا ہے تو پھر اسے اطاعت كرنا چاہيے، اور سوائے رضاو تسليم كے كوئي دوسرى راہ نہيں ہے _
پھر شيطان ان كے بيٹے اسماعيل عليہ السلام كے پاس آيا،اور انھيں ورغلانے لگا ،ان سے بھى اسے كچھ حاصل نہ ہوسكا، كيونكہ اس نے اسماعيل عليہ السلام كو تسليم ورضا كا پيكر پايا _
آخرميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس آيا اور ان سے كہا: ابراہيم عليہ السلام : جو خواب تم نے ديكھا ہے وہ شيطانى خواب ہے، تم شيطان كى اطاعت نہ كرو _
ابراہيم عليہ السلام نے نور ايمان اور نبوت كے پر تو ميں اسے پہچان ليا : چلاكر كہا: ”دورہوجااے دشمن خدا _”
ايك حديث ميں منقول ہے كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام پہلے” مشعرالحرام” ميں آئے تاكہ بيٹے كى قربانى ديں، تو شيطان ان كے پيچھے دوڑا _ وہ” جمرہ اولى ” كے پاس آئے شيطان كو ديكھا ، اس كو سات پتھر مارے، اس كے بعد وہاں سے جمرہ دوم پر ائے وہاں شيطان كو ديكھا تو دوبارہ سات پتھراسے مارے يہاںتك كہ ” جمرہ عقبہ ” ميں آئے تو سات اور پتھراسے مارے _(اور اسے ہميشہ ہميشہ كے لئے اپنے سے مايوس كرديا)_
ميرى والدہ كو سلام كہنا
اس دوران كيا كيا حالات پيش آئے، قرآن نے انھيں تشريح كے ساتھ بيان نہيں كيا اور صرف اس عجيب ماجرے كے نہ آيت حساس پہلو ذكركئے ہيں _
بعض نے لكھا ہے كہ فدا كار بيٹے نے اس بنا پر كہ باپ كى اس ماموريت كى انجام دہى ميں مدد كرے اور ماں كے رنج واندوہ ميں كمى كرے جس وقت وہ اسے سرزمين ” منى ”كے خشك اور جلاڈالنے والے گرم پہاڑوں كے درميان ، قربان گاہ ميں لائے توباپ سے كہا: اباجان :رسى كو مضبوطى كے ساتھ باندھ ديجئے، تاكہ ميں فرمان خداوندى كے اجراء كے وقت ہاتھ پائوں نہ ہلا سكوں ،مجھے ڈرہے كہ كہيں اس سے ميرے اجر ميں كمى واقع نہ ہوجائے _
اباجان :چھرى تيزكر ليجيے اور تيزى كے ساتھ ميرے گلے پر چلايئےاكہ اسے برداشت كرنا مجھ پر بھى (اور آپ پر بھى ) زيادہ آسان ہوجائے_
اباجان : ميرا كرتا پہلے ہى ميرے بدن سے اتار ليجئے تاكہ وہ خون آلودنہ ہو، كيونكہ مجھے خوف ہے كہ كہيں ميرى ماں اسے ديكھے تو دامن صبر اس كے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے_
پھر مزيد كہا: ميرا سلام ميرى ماں كو پہنچاديجئے گا اور اگر كوئي امر مانع نہ ہو تو ميرا كرتا اس كے لئے لے جايئےا جو اسكى تسلى خاطر اور تسكين كا باعث بنے گا كيونكہ وہ اس سے بيٹے كى خوشبوسونگھے گى اور جس وقت دل بے قرار ہوگا تو اسے اپنى آغوش ميں لے لے گى اس طرح يہ اس كے درددل ميں تخفيف كا باعث ہوگا _
بعض نے لكھا ہے كہ فدا كار بيٹے نے اس بنا پر كہ باپ كى اس ماموريت كى انجام دہى ميں مدد كرے اور ماں كے رنج واندوہ ميں كمى كرے جس وقت وہ اسے سرزمين ” منى ”كے خشك اور جلاڈالنے والے گرم پہاڑوں كے درميان ، قربان گاہ ميں لائے توباپ سے كہا: اباجان :رسى كو مضبوطى كے ساتھ باندھ ديجئے، تاكہ ميں فرمان خداوندى كے اجراء كے وقت ہاتھ پائوں نہ ہلا سكوں ،مجھے ڈرہے كہ كہيں اس سے ميرے اجر ميں كمى واقع نہ ہوجائے _
اباجان :چھرى تيزكر ليجيے اور تيزى كے ساتھ ميرے گلے پر چلايئےاكہ اسے برداشت كرنا مجھ پر بھى (اور آپ پر بھى ) زيادہ آسان ہوجائے_
اباجان : ميرا كرتا پہلے ہى ميرے بدن سے اتار ليجئے تاكہ وہ خون آلودنہ ہو، كيونكہ مجھے خوف ہے كہ كہيں ميرى ماں اسے ديكھے تو دامن صبر اس كے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے_
پھر مزيد كہا: ميرا سلام ميرى ماں كو پہنچاديجئے گا اور اگر كوئي امر مانع نہ ہو تو ميرا كرتا اس كے لئے لے جايئےا جو اسكى تسلى خاطر اور تسكين كا باعث بنے گا كيونكہ وہ اس سے بيٹے كى خوشبوسونگھے گى اور جس وقت دل بے قرار ہوگا تو اسے اپنى آغوش ميں لے لے گى اس طرح يہ اس كے درددل ميں تخفيف كا باعث ہوگا _
باپ بيٹے ايك دوسرے سے مل كررونے لگے
آخروہ حساس لمحے آن پہنچے جب فرمان الہى كى تعميل ہونا تھى حضرت ابراہيم عليہ السلام نے جب بيٹے كے مقام تسليم كو ديكھا، اسے اپنى آغوش ميں لے ليا، اس كے ر خساروں كے بوسے لئے اوراس گھڑى دونوں رونے لگے _ ايسا گريہ تھا كہ ان كے جذبات اور لقائے خدا كےلئے ان كا شوق ظاہر ہوتا تھا _
قرآن مختصر اور معنى خيز عبارت ميں صرف اتنى سى بات كہتا ہے : ”جب دونوں آمادہ وتيار ہوگئے اور (باپ ) ابراہيم عليہ السلام نے بيٹے كو ماتھے كے بل لٹايا”(سورہ صافات آيت 103)
قرآن يہاں پھر اختصار كے ساتھ گزرگيا ہے اور سننے والے كو اجازت ديتا ہے كہ وہ اپنے احساسات كى موجوں كى ساتھ قصے كو سمجھے _
بعض نے كہا ہے كہ ” تلہ للجبين ”_سے مراد يہ تھى كہ پيشانى خود اس كى فرمائشے پر زمين پر ركھى كہ مبادان كى نگاہ بيٹے كے چہرے پر پڑے اور پدرى جذبات جوش ميں آجائيں اور فرمان خدا كے اجراء ميں مانع ہوجائيں _
بہرحال حضرت ابراہيم نے بيٹے كے چہرے كو خاك پر ركھا اور چھرى كو حركت دى اور تيزى اور طاقت كے ساتھ اسے بيٹے كے گلے پر پھير ديا جب كہ ان كى روح ہيجان ميں تھى اور صرف عشق خداہى انھيں اپنى راہ ميں كسى شك كے بغير آگے بڑھا رہاتھا _
ليكن تيزدھار چھرى نے بيٹے كے لطيف ونازك گلے پر معمولى سا بھى اثر نہ كيا _
حضرت ابراہيم عليہ السلام حيرت ميں ڈوب گئے ،دوبارہ چھرى كو چلايا ، ليكن پھر بھى وہ كار گر ثابت نہ ہوئي ، ہاں : خليل تو كہتے ہيں كہ ”كاٹ” ليكن خدا وند جليل يہ حكم دے رہا ہے كہ ”نہ كاٹ ” اور چھرى تو صرف اسى كى فرمانبردارہے _
يہ وہ منزل ہے كہ جہاں قرآن ايك مختصر اور معنى خيز جملے كے ساتھ انتظار كو ختم كرتے ہوئے كہتا ہے:” اس وقت ہم نے ندادى (اور پكار كر كہا ) كہ اے ابراہيم : خواب ميں جو حكم تمھيں ديا گيا تھا وہ تم نے پورا كرديا ،ہم نيكو كاروں كو اسى طرح جزا ديا كرتے ہيں_ ” (سورہ صافات آيات 104)
ہم ہى انھيں امتحان ميں كاميابى كى توفيق ديتے ہيں اور ہم ايسا بھى نہيں ہونے ديں گے كہ ان كا فرزند دل بندان كے ہاتھ ہى سے چلاجائے ہاں: جو شخص سرتاپا ہمارے حكم كے سامنے سر تسليم خم كئے ہوئے ہے اوراس نے نيكى كو اعلى حد تك پہنچا ديا ہے ، اس كى اس كے سوااور كوئي جزا نہيں ہوگى _
اس كے بعد مزيد كہتا ہے :” بے شك يہ اہم اور آشكار امتحان ہے _” (سورہ صافات آيات 106)
بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كرنا ، وہ بھى نيك اور لائق بيٹا ،اس باپ كے لئے جس نے ايك عمر ايسے فرزند كے انتظار ميں گذارى ہو، آسان كام نہيں ہے _ ايسے فرزندكى ياد كس طرح دل سے نكال سكتا تھا ؟اس سے بھى بالا تر يہ كہ وہ انتہائي تسليم ورضا كے ساتھ ماتھے پرشكن لائے بغير ايسے فرمان كى تعميل كے لئے آگے بڑھے اور اس كے تمام مقدمات كو آخرى مرحلے تك انجام دے ، اس طور پر كہ روحانى اور عملى آمادگى كے لحاظ سے كوئي كسرباقى نہ چھوڑے _
اس سے بھى بڑھ كر عجيب، اس فرمان كے آگے اس نوجوان كى اطاعت شعارى كى انتہا ،وہ خوشى خوشى ، اطمينان قلب كے ساتھ پروردگار كے لطف سے ، اس كے ارادے كے سامنے ، سرتسليم خم كرتے ہوئے ، ذبح كے استقبال كےلئے آگے بڑھا _
قرآن مختصر اور معنى خيز عبارت ميں صرف اتنى سى بات كہتا ہے : ”جب دونوں آمادہ وتيار ہوگئے اور (باپ ) ابراہيم عليہ السلام نے بيٹے كو ماتھے كے بل لٹايا”(سورہ صافات آيت 103)
قرآن يہاں پھر اختصار كے ساتھ گزرگيا ہے اور سننے والے كو اجازت ديتا ہے كہ وہ اپنے احساسات كى موجوں كى ساتھ قصے كو سمجھے _
بعض نے كہا ہے كہ ” تلہ للجبين ”_سے مراد يہ تھى كہ پيشانى خود اس كى فرمائشے پر زمين پر ركھى كہ مبادان كى نگاہ بيٹے كے چہرے پر پڑے اور پدرى جذبات جوش ميں آجائيں اور فرمان خدا كے اجراء ميں مانع ہوجائيں _
بہرحال حضرت ابراہيم نے بيٹے كے چہرے كو خاك پر ركھا اور چھرى كو حركت دى اور تيزى اور طاقت كے ساتھ اسے بيٹے كے گلے پر پھير ديا جب كہ ان كى روح ہيجان ميں تھى اور صرف عشق خداہى انھيں اپنى راہ ميں كسى شك كے بغير آگے بڑھا رہاتھا _
ليكن تيزدھار چھرى نے بيٹے كے لطيف ونازك گلے پر معمولى سا بھى اثر نہ كيا _
حضرت ابراہيم عليہ السلام حيرت ميں ڈوب گئے ،دوبارہ چھرى كو چلايا ، ليكن پھر بھى وہ كار گر ثابت نہ ہوئي ، ہاں : خليل تو كہتے ہيں كہ ”كاٹ” ليكن خدا وند جليل يہ حكم دے رہا ہے كہ ”نہ كاٹ ” اور چھرى تو صرف اسى كى فرمانبردارہے _
يہ وہ منزل ہے كہ جہاں قرآن ايك مختصر اور معنى خيز جملے كے ساتھ انتظار كو ختم كرتے ہوئے كہتا ہے:” اس وقت ہم نے ندادى (اور پكار كر كہا ) كہ اے ابراہيم : خواب ميں جو حكم تمھيں ديا گيا تھا وہ تم نے پورا كرديا ،ہم نيكو كاروں كو اسى طرح جزا ديا كرتے ہيں_ ” (سورہ صافات آيات 104)
ہم ہى انھيں امتحان ميں كاميابى كى توفيق ديتے ہيں اور ہم ايسا بھى نہيں ہونے ديں گے كہ ان كا فرزند دل بندان كے ہاتھ ہى سے چلاجائے ہاں: جو شخص سرتاپا ہمارے حكم كے سامنے سر تسليم خم كئے ہوئے ہے اوراس نے نيكى كو اعلى حد تك پہنچا ديا ہے ، اس كى اس كے سوااور كوئي جزا نہيں ہوگى _
اس كے بعد مزيد كہتا ہے :” بے شك يہ اہم اور آشكار امتحان ہے _” (سورہ صافات آيات 106)
بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كرنا ، وہ بھى نيك اور لائق بيٹا ،اس باپ كے لئے جس نے ايك عمر ايسے فرزند كے انتظار ميں گذارى ہو، آسان كام نہيں ہے _ ايسے فرزندكى ياد كس طرح دل سے نكال سكتا تھا ؟اس سے بھى بالا تر يہ كہ وہ انتہائي تسليم ورضا كے ساتھ ماتھے پرشكن لائے بغير ايسے فرمان كى تعميل كے لئے آگے بڑھے اور اس كے تمام مقدمات كو آخرى مرحلے تك انجام دے ، اس طور پر كہ روحانى اور عملى آمادگى كے لحاظ سے كوئي كسرباقى نہ چھوڑے _
اس سے بھى بڑھ كر عجيب، اس فرمان كے آگے اس نوجوان كى اطاعت شعارى كى انتہا ،وہ خوشى خوشى ، اطمينان قلب كے ساتھ پروردگار كے لطف سے ، اس كے ارادے كے سامنے ، سرتسليم خم كرتے ہوئے ، ذبح كے استقبال كےلئے آگے بڑھا _
جبرئيل عليہ السلام كى فرياد تكبير
جس وقت يہ كام انجام پاچكا تو جبرئيل نے (تعجب كرتے ہوئے )پكاركر كہا ” اللّہ اكبر”” اللّہ اكبر” ابراہيم عليہ السلام كے فرزندنے كہا : ” لاالہ الااللّہ و اللّہ اكبر ”_اور عظيم فداكار باپ نے بھى كہا ” اللّہ اكبر واللّہ الحمد ” _
اور يہ ان تكبيروں كے مشابہ ہے جو ہم عيد قربان كے دن پڑھتے ہيں _
ہم جانتے ہيں كہ اسلامى روايات ميں عيد الاضحى كے بارے ميں جو احكام آئے ہيں ان ميں كچھ مخصوص تكبيريں ہيں جو تمام مسلمان پڑھتے ہيں چاہے وہ مراسم حج ميں شريك ہوں اوريا منى ميں موجود ہوں اور چاہے دوسرے مقامات پر ہوں _ فرق اتنا ہے كہ جو منى ميں ہيں وہ ان نمازوں كے بعد پڑھتے ہيں جن سے پہلى عيد كے دن كى نماز ظہر ہے اور جو منى ميں نہيں ہوتے وہ ان نمازوں كے بعد تكرار كرتے ہيں اور ان تكبيرات كى صورت اس طرح ہے :
” اللّہ اكبر، اللّہ اكبر، لاالہ الاللّہ ، اللّہ اكبر ، اللّہ اكبر، وللّہ الحمد، اللّہ اكبر على ماھدانا ”_
جس وقت ہم اس حكم كا اس حديث كے ساتھ موازنہ كركے ديكھتے ہيں ، جسے ہم پہلے نقل كرچكے ہيں_ تو معلوم ہوتا ہے كہ يہ تكبيريں حقيقت ميں جبرئيل عليہ السلام اور اسماعيل عليہ السلام اور ان كے باپ ابراہيم كى تكبيروں كا مجموعہ ہيں، اور كچھ اس پراضافہ ہے _دوسرے لفظوں ميں يہ الفاظ حضرت ابراہيم عليہ السلام اور حضرت اسماعيل كى اس عظيم آزمائشے ميں كاميابى كى ياد لوگوں كى نظروںميں زندہ كرتے ہيں ، اور تمام مسلمانوں كو ايك پيغام الہى ديتے ہيں چاہے وہ منى ميں ہوں يا منى كے علاوہ دوسرے مقامات پر _”(سورہ حجر آيت 51)
اور يہ ان تكبيروں كے مشابہ ہے جو ہم عيد قربان كے دن پڑھتے ہيں _
ہم جانتے ہيں كہ اسلامى روايات ميں عيد الاضحى كے بارے ميں جو احكام آئے ہيں ان ميں كچھ مخصوص تكبيريں ہيں جو تمام مسلمان پڑھتے ہيں چاہے وہ مراسم حج ميں شريك ہوں اوريا منى ميں موجود ہوں اور چاہے دوسرے مقامات پر ہوں _ فرق اتنا ہے كہ جو منى ميں ہيں وہ ان نمازوں كے بعد پڑھتے ہيں جن سے پہلى عيد كے دن كى نماز ظہر ہے اور جو منى ميں نہيں ہوتے وہ ان نمازوں كے بعد تكرار كرتے ہيں اور ان تكبيرات كى صورت اس طرح ہے :
” اللّہ اكبر، اللّہ اكبر، لاالہ الاللّہ ، اللّہ اكبر ، اللّہ اكبر، وللّہ الحمد، اللّہ اكبر على ماھدانا ”_
جس وقت ہم اس حكم كا اس حديث كے ساتھ موازنہ كركے ديكھتے ہيں ، جسے ہم پہلے نقل كرچكے ہيں_ تو معلوم ہوتا ہے كہ يہ تكبيريں حقيقت ميں جبرئيل عليہ السلام اور اسماعيل عليہ السلام اور ان كے باپ ابراہيم كى تكبيروں كا مجموعہ ہيں، اور كچھ اس پراضافہ ہے _دوسرے لفظوں ميں يہ الفاظ حضرت ابراہيم عليہ السلام اور حضرت اسماعيل كى اس عظيم آزمائشے ميں كاميابى كى ياد لوگوں كى نظروںميں زندہ كرتے ہيں ، اور تمام مسلمانوں كو ايك پيغام الہى ديتے ہيں چاہے وہ منى ميں ہوں يا منى كے علاوہ دوسرے مقامات پر _”(سورہ حجر آيت 51)
ذبح عظيم
ليكن اس غرض سے كہ ابراہيم عليہ السلام كا پروگرام بھى نامكممل نہ رہ جائے اور خدا كى بارگاہ ميں ان كى طرف سے قربانى بھى ہوجائے اور ابرہيم كى آرزو پورى ہوجائے ، خدا نے ايك بہت بڑا مينڈھا بھيج ديا تاكہ بيٹے كى جگہ اس كى قربانى كريں اور مراسم ” حج” اور سرزمين ” منى ” ميں آنے والوں كے لئے اپنى سنت چھوڑجائيں چنانچہ قرآن كہتا ہے :” ہم نے ذبح عظيم كو اس كا فديہ قرارديا _”(سورہ صافات آيات 107)( ) اس بارے ميں كہ اس ذبح كى عظمت كس لحاظ سے تھى ، جسمانى اور ظاہرى لحاظ سے يااس جہت سے كہ فرزند ابراہيم كا فديہ تھى يا اس لحاظ سے كہ خدا كى راہ ميں اور خداكے لئے تھى يا اس لحاظ سے كہ قربانى خدا كى طرف سے ابراہيم كے لئے بھيجى گئي تھى _
مفسرين نے اس سلسلے ميں بہت كچھ كہا، ليكن كوئي مانع نہيں كہ يہ تمام جہات ذبح عظيم ميں جمع ہوں اور وہ مختلف جہات سے عظمت كى حامل ہو_ )
اس ذبح كى عظمت كى ايك نشانى يہ ہے كہ زمانہ گذرنے كے ساتھ ساتھ ہر سال زيادہ وسعت پارہى ہے _
اس وقت ہر سال اس ذبح عظيم كى ياد ميں بيس لاكھ سے زيادہ” منى ”ميں جانورذبح كيے جاتے ہيں اوراس ياد كو زندہ كيا جاتاہے_
وہ بہت بڑامينڈھا ابراہيم كو كس طرح ديا گيا اس بارے ميں زيادہ تر اس بات كے معتقد ہيں كہ اسے جبرئيل لائے تھے ، بعض يہ بھى كہتے ہيں كہ وہ ”مني” كے پہاڑوں كے دامن سے نيچے اتراتھا _ بہرحال جو كچھ بھى تھا خدا كے حكم اور اس كے ارادے سے تھا ،خدانے نہ صرف اس دن كے عظيم امتحان ميں حضرت ابراہيم كى كاميابى كى تعريف وتوصيف كى بلكہ اس كى ياد كو جاويدانى بناديا _
جيسا كہ قرآن ميں فرمايا گيا ہے :”ہم نے ابراہيم كے نيك نام كوبعد كى امتوں ميں باقى رہنے والا بنايا _” (سورہ صافات آيت 108)
وہ آنے والى سب نسلوں اور لوگوں كے لئے نمونہ اور تمام پاكباز اور كوئے دوست كے دلدادہ عاشقوں كے لئے راہنمابن گئے اور ہم نے ان كے طرز عمل كو رہتى دنيا تك كے لئے حج كى سنت كے طور پر جاويدانى بناديا وہ عظيم پيغمبروں كے باپ تھے وہ امت اسلامى اور پيغمبر اسلام كے باپ تھے _
” ابراہيم پر سلام (جو مخلص اور پاكباز تھے) _” (سورہ صافات آيت 109)ہاں ” ہم اسى طرح سے نيكو كاروں كو بدلہ ديا كرتے ہيں _”(سورہ صافات آيت 110) عظمت دنيا كاصلہ، تمام زمانوں ميں باقى رہنے والا كاصلہ ،خدائے برزگ كے لائق درودوسلام كاصلہ _
مفسرين نے اس سلسلے ميں بہت كچھ كہا، ليكن كوئي مانع نہيں كہ يہ تمام جہات ذبح عظيم ميں جمع ہوں اور وہ مختلف جہات سے عظمت كى حامل ہو_ )
اس ذبح كى عظمت كى ايك نشانى يہ ہے كہ زمانہ گذرنے كے ساتھ ساتھ ہر سال زيادہ وسعت پارہى ہے _
اس وقت ہر سال اس ذبح عظيم كى ياد ميں بيس لاكھ سے زيادہ” منى ”ميں جانورذبح كيے جاتے ہيں اوراس ياد كو زندہ كيا جاتاہے_
وہ بہت بڑامينڈھا ابراہيم كو كس طرح ديا گيا اس بارے ميں زيادہ تر اس بات كے معتقد ہيں كہ اسے جبرئيل لائے تھے ، بعض يہ بھى كہتے ہيں كہ وہ ”مني” كے پہاڑوں كے دامن سے نيچے اتراتھا _ بہرحال جو كچھ بھى تھا خدا كے حكم اور اس كے ارادے سے تھا ،خدانے نہ صرف اس دن كے عظيم امتحان ميں حضرت ابراہيم كى كاميابى كى تعريف وتوصيف كى بلكہ اس كى ياد كو جاويدانى بناديا _
جيسا كہ قرآن ميں فرمايا گيا ہے :”ہم نے ابراہيم كے نيك نام كوبعد كى امتوں ميں باقى رہنے والا بنايا _” (سورہ صافات آيت 108)
وہ آنے والى سب نسلوں اور لوگوں كے لئے نمونہ اور تمام پاكباز اور كوئے دوست كے دلدادہ عاشقوں كے لئے راہنمابن گئے اور ہم نے ان كے طرز عمل كو رہتى دنيا تك كے لئے حج كى سنت كے طور پر جاويدانى بناديا وہ عظيم پيغمبروں كے باپ تھے وہ امت اسلامى اور پيغمبر اسلام كے باپ تھے _
” ابراہيم پر سلام (جو مخلص اور پاكباز تھے) _” (سورہ صافات آيت 109)ہاں ” ہم اسى طرح سے نيكو كاروں كو بدلہ ديا كرتے ہيں _”(سورہ صافات آيت 110) عظمت دنيا كاصلہ، تمام زمانوں ميں باقى رہنے والا كاصلہ ،خدائے برزگ كے لائق درودوسلام كاصلہ _





احمد عرفان شفقت said
اتنی طویل تحریر؟
اور اس کا فونٹ بھی بدلا ہوا ہے۔
تحریم said
جی فونٹ تبدیل کرتے وقت لائٹ جانے کا وقت ہو رہا تھا
جس حالت میں جلد ہو سکا شائع کر دیا
Atif Salman said
Yeh waqia hum ne bachpan se suna aur parha hoa ha, magar aaj aap k blog me ek dafa phir parh ka Emaan taaza hogaya…………
“Hum ishi tarah se naiku karon ko badla dia karte hain”. (Surah Safaat Ayat 109).
JazakAllah Khair.
تحریم said
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Khalid Naeem said
Jazak ALLAH
ارتقاءِ حيات said
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔