امریکہ میں جرائم کی رفتار
Posted by ارتقاءِ حيات on November 29, 2011
امریکہ یوں تو کہنے کو اقتصادی طور پرنہایت مستحکم ،تعلیمی لحاظ سے تہایت ترقی یافتہ اور سیاسی طور پر نہایت آزاد اور جمہوریت پسند واقع ہوا ہے۔زرعی پیدا وار کے لحاظ سے بھی کوئی دوسرا ملک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک کا ان داتا بھی ہے۔صنعتی ترقی میں اتنا بڑھا ہوا ہے کہ روس جیسا اشتراکی ملک اپنی زبردست افرادی قوت سے بھر پور اور زیادہ سے زیادہ کام لینے کے باوجود اب تک اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
یہ سب کچھ ایک طرف ،لیکن اس کوشحال ملک کا ایک تاریک پہلو بھی ہے اور وہ ہے یہاں کے نت نئے جرائم کی کثرت۔قتل، ڈکیتی اور اغواء کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہی ہوا چلا جارہا ہے۔حالانکہ یہاں کی پولیس کا شمار دنیا کی نہایت ترقی یافتہ اور تربیت یافتہ محافظ قانون اداروں میں کیا جاتا ہے۔امریکی پولیس کے جاسوس اور سراغرساںبڑے تجربے کار اور محنتی ہیں۔انہیں اپنی مہمات کی کامیابیوں پر خطیر رقومات بطور انعامات دی جاتی ہیں۔
امریکہ میں جرائم کی نوعیت کا تجزیہ کی جائے تو سرفہرست ڈکیتی اور چوری ہے۔مجرم بڑی منصوبہ سازی کے ساتھ ان جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ دھوکہ دہی فراڈ اور جعلسازی میں نت نئے سائنٹفک طریقے اختیار کئے جاتے ہیں مجرموں کے گروہ در گروہ آئے دن پکڑے جاتے ہیں۔لیکن پھر بھی ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔
قتل اور اغواء کی وارداتیں بھی بڑھتی چلی جا رہی ہیں اسکولوں کے کمسن بچے راستوں سے اٹھا لئے جاتے ہیں۔جب تک ان کے والدین معقول معاوضہ نہ دیں اور بچے مقبوض رہتے ہیں اور رقم موصول نہ ہونے کی صورت میں انہیں بے دردی سے قتل کر کے نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔ان تمام جرائم کا مقصد حصول زر ہے۔
روپیہ اور دولت ناجائز طور پر حاصل کرنے کا رجحان اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ جب تک سعودی عرب کے قانون طرح چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا قانون نہ بنایا جائے گا ان جرائم کو روکنا نا ممکن ہے۔
جنسی جرائم میں بھی پہلے کی نسبت کافی اضافہ ہوا ہے۔ارتکاب جرم کے بعد عورتوں کو بڑی بیدردی سے قتل کرنے کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔حسین اور خوبصورت عوتوں کو بڑی دیدہ دلیری سے دن دھاڑے اٹھاکر کار میں ڈال کر لے جایا جاتا ہےاور اگلے دن اکثر ان کی لاش ہی کہیں پائی جاتی ہے۔
کثرت شراب نوشی کے علاوہ دوسسری منشیات کا استعمال بھی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ کاروں کے حادثے زیادہ تر اسی لئے ہوتے ہیں کہ ڈرائیور نشے کی حالت میں انھیں چلاتے ہیں حرص زر اور ہوس لذت اندوزی نے امریکیوں کے اکثر طبقوں کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ سمجھدار لوگوں کی جانب سے طرح طرح کی مذہبی اور معاشرتی اصلاحی تحریکیں چلائی جاتی ہیں،لیکن ان کا اثر قبول کرنے والوں کی تعداد اس قدر کم ہوتی ہے کہ وہ تحریکیں چند دنوں بعد خود ہی دم توڑ جاتی ہیں۔امریکی تعلیمیافتہ نوجوان طبقہ اب اس قدر ڈھیٹ ہوچکا کہ اس پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ نہ تو وہ بزرگوں کا احترام کرتے ہیں نہ ہی ان کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔









Bilal ahmed said
Aoa success me hum ameriqa se kafi pichey lekin jin juraim ki ap ne nishan dahi ki hai un me hm ameriqa se aagey na sahi per baraber tu zrur hain Pakistan ka nojawan tabqa b aqsar eisi harkatein krta rehta hai or phir apne apko faher se cool n fun loving kehta hai
تحریم said
درست کہا جی آپ نے
میرا پاکستان said
جو آپ نے امریکہ کی تصویر کشی کی ہے کیا اس کے اعدادوشمار کا پاکستان یا کسی اور اسلامی ملک کیساتھ موازنہ کر سکتی ہیں۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہاں جرائم میں اضافہ ہو رہا ہو گا مگر اتنا نہیں جتنا پاکستان یا دوسرے اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے۔
تحریم said
جو پاکستان مین ہو رہا ہے وہ تو سب ہی جانتے ہیں
پر جو دوسروں کے گھر مین جا کر اس لئے ھملہ کریں کہ وہاں دہشت گردی ہے اور
جرائم زیادہ ہیں
وہ وہاں اس لئے حملہ کریں کہ وہ ترقی یافتہ ہین اور وہی امن کراسکتے ہیں
تو ایسے ملک کی پول پٹی کھولنے کے لئے یہ تحریر لکھی گئی
کہ اپنے ملک میں امن کر نہ سکے
وہاں کے لوگ خود جرائم کا شکار ہیں
اور ان کے حکمران ہم پر انگلیاں اٹھاتے ہین
Atif Salman said
Inspite of getting happy on American Society problems we should concentrate on moral development of our Pakistani society.