ابوشاکردیصانی کاتوحیدسےانکار
Posted by ارتقاءِ حيات on November 29, 2011
امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں بہت ہی مشہور و معروف ،ابو شاکر دیصانی نام کا ایک شخص تھا جو توحید کا انکار کرتا تھا اور اس بات کا معتقد تھا کہ ایک نور کا خدا ہے اور دوسرا ظلمت کا۔وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتا تھا کہ اپنی کلامی بحث چھیڑ کر اپنے عقیدے کو ثابت کرے اور اسلام کو نیچا دکھائے، اس نے عقیدہ دیصانیہ کی بنیا د ڈالی تھی اوراس کے کچھ شاگرد بھی تھے۔یہاں تک کہ ہشام بن حکم بھی کچھ دنوں تک اس کے شاگرد رہے تھے، ہم یہاں پر اس کے اعتراض کا ایک نمونہ نقل کرتے ہیں تو جہ فرمائیں:
ابو شاکر نے خود اپنی فکر کے مطابق قرآن کریم میں ایک قابل اعتراض بات ڈھونڈ نکالی۔ایک روز اس نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خاص شاگرد ہشام بن حکم سے کہا: ”مجھے قرآن میں ایک ایسی آیت ملی ہے جو ہمارے عقیدے (ثنویہ) کی تصدیق کرتی ہے“۔
ہشام: ”کس آیت کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ “
ابو شاکر: ”سورہٴ زخرف کی ۸۴ ویں آیت پڑھتا ہوں:
اور وہی ذات آسمان میں معبود ہے اور زمین میں (بھی) معبود ہے، اور وہ بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے
ابو شاکر نے خود اپنی فکر کے مطابق قرآن کریم میں ایک قابل اعتراض بات ڈھونڈ نکالی۔ایک روز اس نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خاص شاگرد ہشام بن حکم سے کہا: ”مجھے قرآن میں ایک ایسی آیت ملی ہے جو ہمارے عقیدے (ثنویہ) کی تصدیق کرتی ہے“۔
ہشام: ”کس آیت کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ “
ابو شاکر: ”سورہٴ زخرف کی ۸۴ ویں آیت پڑھتا ہوں:
اور وہی ذات آسمان میں معبود ہے اور زمین میں (بھی) معبود ہے، اور وہ بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہے
اس بنا پر ایک معبود آسما ن کا ہے اور دوسرا زمین کا ہے۔
ہشام کہتے ہیں: ”میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کا جواب کس طرح دوں، لہٰذا اسی سال میں جب خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تو میں نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں جا کر یہ مسئلہ پیش کردیا۔
امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک بے دین خبیث کی بات ہے جب تم واپس جاوٴ تو اس سے پوچھو کہ کوفے میں تیرا کیا نام ہے ؟وہ کہے گا فلاں، ”تم پھر کہو “: تیرا بصرہ میں کیانام ہے؟ ”وہ کہے گا کہ فلاں، تب تم اس سے کہو ”ہمارا پروردگار بھی اسی طرح ہے ، آسمان میں اس کا نام ”الہ“ ہے اور زمین میں بھی اس کا نام ”الہ “ہے بیشک دریاوٴں صحراوٴں اور ہر جگہ کا وہی معبود الہ ہے“۔
ہشام کہتے ہیں: ”جب میں واپس لوٹا تو ابو شاکر کے پاس جاکر میں نے اسے یہ جواب سنا دیا۔
اس نے کہا: ”یہ تمہاری بات نہیں ہے، تم اسے حجاز سے لے آئے ہو“۔
ہشام کہتے ہیں: ”میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کا جواب کس طرح دوں، لہٰذا اسی سال میں جب خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تو میں نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں جا کر یہ مسئلہ پیش کردیا۔
امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک بے دین خبیث کی بات ہے جب تم واپس جاوٴ تو اس سے پوچھو کہ کوفے میں تیرا کیا نام ہے ؟وہ کہے گا فلاں، ”تم پھر کہو “: تیرا بصرہ میں کیانام ہے؟ ”وہ کہے گا کہ فلاں، تب تم اس سے کہو ”ہمارا پروردگار بھی اسی طرح ہے ، آسمان میں اس کا نام ”الہ“ ہے اور زمین میں بھی اس کا نام ”الہ “ہے بیشک دریاوٴں صحراوٴں اور ہر جگہ کا وہی معبود الہ ہے“۔
ہشام کہتے ہیں: ”جب میں واپس لوٹا تو ابو شاکر کے پاس جاکر میں نے اسے یہ جواب سنا دیا۔
اس نے کہا: ”یہ تمہاری بات نہیں ہے، تم اسے حجاز سے لے آئے ہو“۔
تم یہ جواب حجاز سے لے آئے ہو




Muhammad Asif said
محترمہ تحریم طارق صاحبہ۔
آپ کی تحریریں بہت دلچسپ اور معلومات پر مبنی ہوتی ہیں، آپ سے التماس ہے کہ آپ اپنی تحریر کافونٹ تبدیل کریں تو آپ کی تحریریں مزید پرکشش ہوجائیںگی اور قارئین کو پڑھنے میں مزید دلچسپی پیدا ہو گی۔
افتخار اجمل بھوپال said
يہ تو واضح بات کا غلط ترجمہ ہے ۔ اب تو ايسے ماہرِ فن موجود ہيں جو ايسی آيات نکال دکھائيں گے کہ آدمی لاجواب ہو جائے ۔ وجہ يہ ہے کہ انسان کی عقل کامل نہيں ہے ۔ کامل صرف اللہ ہے ۔
ايک اللہ کو ماننے والے اُسے بغير کسی دليل کے مانتے ہيں