عمرو عیار
Posted by ارتقاءِ حيات on November 25, 2011
برصغیر اور ایشیائی ادب کے پڑھنے والے عمرو عیار سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔یہ کردار”طلسم ہو شربا “نامی کتاب کے علاوہ “داستان امیر حمزہ”میں بھی ملتا ہے۔ عیاری اور ہوشیاری کا یہ پتلا خیر کی قوتوں کے ساتھ بدی کی طاقتوں سے الجھنے کے لئے مشہور ہے۔یہ ذہانت و وظانت کے ساتھ دشمنوں کو کاری ضربیں لگاتا ہے۔اور قاری سے داد وصول کرتا ہے۔
طلسم ہوش ربا ہمارے ادب کی ایک حیرت انگیز تصنیف ہے۔ یہ 14جلدوں پر مشتمل ہے۔اسے لکھنؤ کے5داستان گویوں نے مل کر مکمل کیا۔اس میں سیکڑوں کردار ہیں۔اور سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ عمرو عیار(جو ایک جاسوس ہے)کا کردار اس میں بہت نمایاں ہے۔ عمرو عیار کی زنبیل تو محاورے کی طرح مستعمل ہے۔
طلسم ہوشربا ہمارے تصوراتی ادب کی ایک اولین اور عمدہ کتاب ہے۔ مغرب کی لکھی کوئی بھی فینٹیسی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ عمرو عیاراپنے خالق کے ذہن کی عجوبہ تخلیق ہے۔ایک یادگار افسانوی کردار۔



