قوانین کا نفاذ اور احترام قوانین
Posted by ارتقاءِ حيات on November 24, 2011
سلطان محمود کا ایک دلیر بہادر سردار علی نوشتگین نائب سپہ سالار تھا اور کم و بیش 50ہزار فوجی اس کی نگرانی میں تھے۔ایک دن وہ شراب پی پر نشے کی حالت میں 100جنگجو سپاہیوں کے دستے کہ ساتھ جھومتا ہوا سیر کے لئے نکل پڑا۔سپہ سالاری کے زعم میں اسے کسی بھی بات کی پروا نہ تھی۔جب وہ بازار سے گذر رہا تھا تو دوسری جانب سے محتسب بھی چند پیادوں کے ہمراہ آنکلا۔ اس نے علی نوشتگین کو اس حالت میں دیکھا تو اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ اسے گھوڑے سے اتار دو اور پھر خوداپنے ہاتھ سے درّے لگاکر اپنا فرض پورا کیا۔ علی نوشتگین کے جنگجو جوان کھڑے دیکھ رہے تھے اور دم نہ مار سکتے تھے۔کہ محتسب نے شریعت اور سلطان کے حکم کی پاسداری ہی کی۔ادھر مارے ندامت کہ نائب سپہ سالار علی نوشتگین زمین میں غرق ہوا چلا جا رہا تھا کہ نشے کی حالت میں گھر سے قدم باہر ہی کیوں نکالا۔
کیا آج بھی کسی محتسب ،پولیس انسپیکٹر یا بڑے پولیس آفسر کی یہ ہمت ہو سکتی ہے کہ اس طرح کسی اعلٰی عہدے دار کو اس کے جر پر اعلانیہ سزا دیا دینا تو درکنار اسے گرفتار کر نے یا محض بازپرس کرنے کی بھی جرات کر سکے؟اور اگر کوئی مائی کا لال یہ ہمت کر ہی بیٹھے تو کیا حکومت وقت کے عہدے داروں میں قانون شریعت کا اتنا احترام ہے کہ وہ خاموشی سے سزا برداشت کر سکیں؟اور انتقاماً محتسب کے خلاف کوئی کاروائی نہ کریں؟
سلطان محمود کو علی نوشتگین کے شراب پینے کی خبر تو تھی مگر محتسب کے ملنے اور حد شرعی جاری کرنے کا علم نہ تھا۔دوسرے دن جب وہ سلطان کی خدمت میں حاضر ہوا تو محمود نے محتسب کے ادائے فرض کی تصدیق کے لئے نائب سپہ سالار کی پشت کھول کر دیکھی وہاں درّوں کے نشانات موجود تھے ہنس کر سلطان بولا”توبہ کرو کہ اب شراب نہیں پیو گےاور اگر پیو گے تو یوں گھر سے جھومتے ہوئے نہیں نکلوگے۔




افتخار اجمل بھوپال said
ہاں جی کی تھی ہمت اسلام آباد کے ايس ايس پی ٹريفک ڈاکٹر سلطان احمد تيموری نے ۔ چلان کيا تھا اُس دور کے وزير اعظم شوکت عزيز کے ڈرائيور اور ايک فوجی افسر کا سُرخ بتی پر گاڑی روکنے کی بجائے گذر جانے پر ۔ اُسے کام سے فارغ کر کے دوسرا افسر لگا ديا گيا تھا ۔ نوکری سے نہيں نکالا گيا تھا شايد اس لئے کہ ساری سالانہ رپورٹيں اتنی اچھی تھيں کہ عدالت ميں چلا جاتا تو اربابِ اختيار کو شرمندہ ہونا پڑتا
اور بندہ خاکسار تو کسی کھاتے ميں نہيں کہ جس نے اپنے ادرے کے چيئرمين کا غلط حکم نہ مانا اور ريٹائرمنٹ لينے پر مجبور ہوا
اللہ کے بندے ہيں ہزاروں بنوں ميں پھرتے ہيں مارے مارے
ميں اُس کا پيرو بنوں گا جو اللہ کے بندوں سے حق نہ چھينے
تحریم said
اللہ آپ کو جزا دے جی صبر بڑی چیزہے
اللہ صابر کو پسند فرماتا ہے
احمد عرفان شفقت said
آج کے معاشرے میں تو یہ باتیں خواب و خیال ہی دکھتی ہیں۔بھلے وقت تھے وہ اور لوگ بھی بھلے تھے۔
تحریم said
سچ کہا جی آپ نے