دلچسپ کہانی
Posted by ارتقاءِ حيات on November 23, 2011
ہم لوگ کتنا کم جانتے ہیں اپنی آنکھوں کے بارے میں اور کانوں کے بارے میں اور ہاتھوں اور پیروں ،نتھنوں سے تخنوں تک ،ہم لوگ ان اعضاء کو کتنا کم جانتے ہیں ہمارے لئے یہ منظم جسم ہیں۔ یہ ہیں تو وہی مگر کچھ اور بھی ہیں جسے ہم جان ہی نہیں پاتے۔ان سب کی ایک مکمل الگ زندگی ہیں ۔جب سے ہم زندہ ہوئے ہیں اور جب تلک ہم مریں گے یہ سب وہ کچھ دیکھتے ہیں وہ جو ہمیں بھی یاد نہیں رہتا۔ان کانوں نے کیا کچھ سنا ہے جس پر ہم نے کبھی دھیان نہیں دیا جسے ہم سن ہی نہ سکے کہ ہم سننے کے قابل یا سننا چاہنے کے باوجود سمجھ نہ سکے۔ان ہاتھوں نے کیا کچھ ٹٹولا ہے۔ یہ پاؤں کن کن راہ پر چلے کیسی کیسی مٹی سے آشنا ہیں ۔ زبان نے کیا کچھ چکھا اور بولا ہے ۔ کبھی ہم نے ان سے الگ الگ کچھ پوچھا ہے؟
اگر انسان صرف اپنی آنکھوں کی ہی کہانی دیکھنا شروع کرے ، یا صرف ان کانوں کی آوازیں ہی سنے یا اپنے ہاتھوں کا لمس ہی محسوس کرے کہ جو پیدائش کے لمحے سے شروع ہوئی ان سب کی کہانی ،ہر عضو کی الگ کہانی ۔ذرا سوچئے کیا کہانی ہوگی۔ کتنی دلچسپ کہانی ہوگی۔




فرحان دانش said
ایسی دلچسپ کہانی میں توضرور پڑھوں گا۔
افتخار اجمل بھوپال said
آپ نے تو تيسری منزل پر بُلا کر چھت سے نيچے پھينک ديا ہے ۔ بی بی ۔ وہ کہانی کہاں ہے ؟
اچھا يہ بتايئے کہ ميری ناک جو 28 ستمبر 1910ء کے بعد سے مجھے خوشبو يا بدبو کا کچھ نہيں بتا رہی يہ ساری معلومات اپنے پاس جمع کر رہی ہے ؟
تحریم said
چچا جان یہ کہانی میں سناؤں ایسا تو نہیں کہا تحریر میں یا مضمون میں
یہ کہانی خود آپ کے پاس ہے بس دھیان اور گیان کو مجتمع کیجئے
خود بھی سنیئے اور اچھے واقعات ہمیں بھی سنایئے