ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

Apoplexy سکتہ

Posted by ارتقاءِ حيات on November 22, 2011

خلیفہ معتصم باللہ کے عہد حکومت کے ایک طبیب ثابت ابن قرہ(صابی)دربار جاتے ہوئے ایک قصاب کے گھر کے پاس سے گزرے۔اندر سے عورتوں کے چینخ چینخ کے رونے کی آوازیں آرہیں تھیں۔دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ قصاب انتقال کر گیا ہےاور اس کی تہجیز و تکفین کے انتظامات ہو رہے ہیں۔ثابت نے قصاب کی لاش کا معائنہ کیا اور بتایا کہ یہ ابھی مرا نہیں ہے، پھر اس کی نبض اپنے ہاتھ میں لی جو ڈوب چکی تھی۔اپنے غلام کو ہدایت کی کہ وہ تخنے پر ڈنڈے مارے۔
ڈنڈے مارے جانے کے دوران ثابت نے محسوس کیا کہ قصاب کی نبض پھر سے چلنے لگی ہے۔انہوں نے ایک دوا اس قصاب کے منہ میں ڈالی جسے اس نے حلق سے نیچے اتار لیا۔ پھر کچھ دیر بعد وہ اٹھ بیٹھا۔اسے دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گئے اور شور مچا دیا ثابت نے مردے کو زندہ کر دیا ہے۔ثابت جب وہاں سے دربار کی جانب روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک ہجوم ان کے ہمراہ تھا۔اسی ھال میں وہ دربار خلافت تک پہنچے تو ایک خلیفہ بھی یہ سن کر خوش ہوئے اور مرض کی تفصیل پوچھی۔
ثابت نے بتایا کہ میں قصاب کے گھر کے پاس سے گذرتے ہوئے اکثر یہ دیکھا کرتا تھا کہ وہ اکثر کلیجی پر نمک چھڑک کر کھاتا تھا۔اسے دیکھ کر مجھے دل میں اکثر خیال آتا تھا کہ اسے پرکسی بھی وقت سکتہ طاری ہو سکتا ہےاور میں نے سکتے کی دوا جیب میں رکھنا شروع کر دی۔اور میں نے جیب میں سکتے کی دوا رکھنا شروع کر دی۔یہ اسی دوا کا اثر تھا کہ جس سے قصاب کا سکتہ دور ہو گیا۔
ایک ایسی حالت یا کیفیت ہے جس میں جسمانی افعال اچانک معطل ہو جاتے ہیں Apoplexy سکتہ
یہ دراصل ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے جو کچھ عرصے کے بعد ختم ہوجاتی ہے اور جسم کو کوئی دائمی نقصان نہیں پہنچتا۔تاہم اگر یہ کیفیت انتہائی درجہ پر پہنچ جائے تو اس سےدماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔اس مرض کا علاج کرنے کے لئے
نکال دی جاتی ہیں Clotsخون میں شامل پھٹکاں
یہ عمل سرجری سے بھی ہوتا ہے اور بذریعہ ادویہ بھی۔

5 Responses to “Apoplexy سکتہ”

  1. دوست said

    اس پر فیس بک لائک اور گوگل پلس ون بٹن بھی لگائیں۔ تاکہ انہیں شئیر کیا جا سکے۔

  2. عثمان said

    کیا قصاب کچی کلیجی پر نمک چھڑک کر کھاتا تھا ؟
    کوئی بھی شخص اپنی بیماری کی دوا جیب میں رکھے تو بات ہے۔ ایک راہ گیر کسی دکاندار کو ہونے والی متوقع بیماری کی دوا ہر وقت جیب میں کیوں رکھے گا ؟

    • تحریم said

      آپ کی سوچ بھی خوب ہی جناب
      دور بھی تو دیکھئے اتنا افتراتفری کہ نہیں تھا
      کہ جہاں ایسی صورتحال کو پہلے پولیس کے حوالے کیا جاتا کہ جی تو یہ پولیس کیس ہے جی
      ہمدردی کا اور انسانیت پسندی کا دور تھا
      ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا دور تھا
      انہیں خدشہ تھا کہ ایسا ہو ہی جاے گا
      لہٰذا پہلے ہی دوا ساتھ رکھ لی

      آپ تو شکر کیجئے اس دور مین تھے ہی نہیں
      ورنا ھکیم کی جگہ ہوتے تو پہلے دکانداری چمکاتے اپنی

      اور پیر بن بیٹھتے

      • عثمان said

        آپ کے خیال میں لوگوں نے کچی کلیجی کھانا کس زمانے میں چھوڑی ہو گی۔ بیسویں صدی ، انیسویں صدی یا اس سے پہہلے ؟
        نیک سیرت لوگوں میں یہ رواج کس زمانے تک رائج رہا ہوگا کہ وہ اپنی جیب میں ہروقت ہمسائیوں ،محلے کے نانبائیوں ، موچیوں ، دھوبیوں، ترخانوں اور دیگر دکانداروں کی موجودہ اور مستقبل میں ہونے والی ممکنہ بیماریوں کی ادوایات رکھتے پھریں۔ گمان ہے کہ کاندھے پر ایک تھیلا تو کل علاقے کے لوگوں کی ادویات سے بھرا رہتا ہوگا۔ کیا خیال ہے ؟

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers