ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

فرڈی ننڈوفرانسسکو گریونیا

Posted by ارتقاءِ حيات on November 21, 2011

 سسلی کے شمال مغرب میں پالر مو کے مقام پر 1723؁ میں بگیریا کے شاہی خاندان میں فرڈی ننڈوفرانسسکو گریونیانام کے ایک شہزادے کی ولادت ہوئی لیکن اس کی صورت اس قدر بھیانک تھی کہ خود اس کے والدین کے چہرے اسے پہلی بار دیکھ کر مرجھا گئے۔جوں جوں اسکی عمر بڑھتی گئی اور وہ شباب کی منزلوں کی جانب بڑھتا گیا اس کے نقوش اور بھی بھیانک ہوتے چلے گئے۔موٹے موٹے ہونٹ ، بڑے بڑے دانت جو ہمیشہ منہ سے باہر نکلے رہتے۔اوپر والا ہونٹ موٹی ناک سے متصل تھا۔قد پستہ اور کوبڑ نکلا ہوا تھا۔چھوٹی چھوٹی سرخ ڈراؤنی آنکھیں، رخسار ابھرے ہوئے اور پھر ان پر چیچک جیسے بڑے  دانے جسے دیکھ کر ہر شخص کو گھن آنے لگتی۔
فرڈی ننڈوکو اپنی بدصورتی کا مکمل احساس تھا اس لئے اس نے دولت کی فراوانی کے باوجود گوشہ نشینی اختیار کی ہوئی تھی۔کسی عورت سے شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔رعایا علی الاعلان اس کا مزاق اڑایا کرتی اور اس کی بد صورتی پر بھتیاں کستی تھی۔شہزادہ فرڈی ننڈو بعض اوقات قدرت کی جانب سے اس نا انصافی پر بے حد کڑھتا اور اپنی ذات سے انتقام لینے کے لئے خود کو کمرہ میں بند کر لیتا اور خود پر کوڑے مارتا تھا۔اس سے اس کو کسی قدر سکون ملتا تھا۔اسے عیش و عشرت سے نفرت ہو چکی تھی۔ اپنی ذات سے نفرت ہونے کی وجہ سے کسی آسائش اور آرام کا خیال نہ کرتا تھا۔بستر پر سونے کے بجائے نیچے گیلی زمین پر سویا کرتا تھا۔سسلی کی دوشیزاؤں کے سامنے اس کا نام لیا جاتا تو وہ زمین پر تھوکا کرتیں۔اسی زمانے میں روم کا ایک سنگتراش اور مجسمہ سازماسوری ناپوری سسلی کی جانب نکل آیا جب فرڈی ننڈو کو علم ہوا تو اس نے اس مجسمہ ساز کو بلوایا اور اسے حکم دیا کہ اس کے محل کے چپے چپے پر ایسےبد صورت اور بھیانک شکلوں کےمجسمے بنائے جائیں کہ صنف نازک اور لطیف جذبات  رکھنے والے تو کیا بڑے بڑے دل گردے رکھنے والے جری بھی ڈر جائیں اور تھوڑی دیر کے لئے دم بخود رہ جائیں۔
چنانچہ ماسوری نے شہزادے فرڈی ننڈو کے حکم کے مطابق اپنا کام شروع کیا اور سات سال تک لگاتار شب و روز نت نئے بدشکل اور ڈراؤنے چہرے والے بت بنتے گئے۔انہیں محل کے پائیں باغ سے لیکر اندرونی حصوں تک جابجا نصب کیا گیا یہ محل آج تک موجود ہے اور اس مین بھیانک اور ڈاؤنے چہرے والے ایسے مجسمے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے اب تو یہ محل ایک پبلک میوزیم بنا دیا گیا ہے لیکن اس کے باہر پھاٹک کے قریب ایک بڑا سائن بورڈ موجود ہے جس پر لکھا ہے کہ
“یہاں عورتوں، بچوں اور کمزور دل والے مردوں کا داخلہ ممنوع ہے”

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers