ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ConFucius کنفیوشس

Posted by ارتقاءِ حيات on November 19, 2011

“کبھی کسی کے ساتھ ایسارویہ نہ اختیار کرو جو تم نہیں چاہتے کے تمہارے ساتھ اختیار کیا جائے۔”
بظاہر یہ قول معمولی سا معلوم ہوتا ہے۔مگر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس میں کتنی گہرائی ہے۔اگر صرف اسی قول پر عمل کریں تو یہ دنیاجنت بن سکتی ہے۔دنیا کو جنت بنانے کے خواب دیکھنے والوں کو ہم مصلح قوم، پیغامبر اور فلاسفر کہتے ہیں ۔جس شخصیت کا یہ قول ہے وہ حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش سے کوئی ساڑھے پانچ سو سال پہلے ہوئی۔
کے نام سے جانتی ہے۔ConFuciusتھا مگر دنیا اسے کنفیوشسKingFusteاسکا نام کنگ فوسئے
میں پیدا ہوا۔ShanTungوہ چین کے ایک مقام
وہ کسی مالدار گھرانے میں پیدا نہ ہوا تھا اسی لئے کم عمری ہی میں اس پر روزی کمانے کی ذمہ داری آن پڑی اور شادی بھی سولہ سال کی عمر میں ہو چکی تھی۔
وہ کوئی عام انسان تو تھا نہیں اس لئے جلد ہی اس کے اندر کی روشنی سے چہار اطراف منور ہونے لگے۔وہ فلسفے کی دنیا میں داخل ہوا اور تبلیغی کام شروع کر دیئے۔پھر اس نے گوشہ نشینی اختیار کر لیاور زندگی بھی سادہ گذارنے لگا۔
اسکی تمام تعلیمات صرف ایک ہی نقطہ کی جانب گھومتی ہیں اور ہے “انسانی کردار ، عمدہ کردار”
 ماں باپ کی عزت کا درس اس نے سب سے پہلے دیا ۔جلد ہی چین اس کے خیالات سے منوّر ہوا اور وہ عظیم مفکر کے نام سے پہچانا  جانے لگا۔پھر حکومت وقت بھی اس کی جانب متوجہ ہوئی اور جلد ہی اسے ایک اونچے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔اس نے ایسی بہت سی تجاویز دیں جن سے غربت کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ اس نے ایک اسکول کی داغ بیل بھی ڈالی جس میں وہ کردار سازی کی تعلیم دیا کرتا تھا۔اسے بہت سی زبانیں بھی آتیں تھیں اور کافی فنون بھی وہ جانتا تھا۔اس نے اپنے تجربات پر مبنی ایک ضخیم کتاب بھی تھا۔Chin Shiukingلکھی جس کا نام چن چیو کنگ
اس کی زندگی میں اس کی جو پذیرائی ہوئی وہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو اس کی موت کے بعد ہوئی۔اس کا انتقال 478قبل مسیح میں ہوا اور اس وقت اس کی عمر 74 برس تھی۔ 120قبل مسیح میں یعنی اس کی موت کت 250سال بعد ایک ایسا دور آیا کہ چین کے لوگوں نے اس کو”پیغمبر ” کے درجے پر فائز کر دیا۔ اور اس کی تعلیمات “مذہب” کی طرح اپنائی جانے لگیں اور یہ “مذہب”حکومت وقت کے مذہب کی طرح سارے ملک میں نافذ کروایا گیا۔
اب تو خیر وہ بات نہیں رہی مگر پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے ایک پیغمبر ہی مانتے ہیں اور اس کی تعلیمات کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اس کا عقیدہ تھا کہ دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت دیانت داری اور اخلاقی قوت کی ہے۔اس نے ایسے کئی طریقے بتائے جن سے طبقاتی کشمکش دور کی جا سکتی تھی۔
چین کا یہ دانائے راز اپنے بلند اخلاق کی وجہ سے آج بھی پوری دنیا میں ایک مثالی آدمی مانا جاتا ہے ۔ عظیم فلسفیوں اور مصلح افراد کی فہرست میں اس کا نام سنہرے حروف سے لکھا ہوا ہے۔
http://liberallifestyles.com/wp-content/uploads/2011/05/confucius-2.jpg

2 Responses to “ConFucius کنفیوشس”

  1. Aoa hamesha ki tarha umda or sabaq aamoz tehreer k liye shukriya

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers