ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ایک وصیت….

Posted by ارتقاءِ حيات on November 18, 2011

ایک عورت چھوٹی عمر میں بیوہ ہوگئی تھی۔اس نے ہمیشہ روزہ رکھنا اور ہمہ وقت اطاعت و عبادت کو اپنا معمول بنا لیا۔شب و روز تلاوت قرآن میں مشغول رہتی اسی حال میں وہ بوڑھی ہو گئی ہزاروں عورتیں اس کی پارسائی اور تقویٰ دیکھ کر اس کی مرید ہو گئیں۔
مرتے وقت اس نے سب سے پوچھا میں نے کیسی پارسائی کی زندگی گزاری ہے؟
تمام نے کہا کہ ایسا کرنا بہت مشکل یا نا ممکن ہے کہ کبھی کسی مرد کا منہ تک نہ دیکھا ہو ساری عمر روزہ رکھا ہو، سوکھی روٹی کھائی ،شب و روز مصروف عبادت رہیں،
اس عابدہ نے کہا جوانی سے لیکر بڑھاپے تک رات کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت کئی فحش خیالات آتے لیکن خوف خدا اور دنیا کی شرم نجھے بچاتی رہی اب میرا آخری وقت ہے، میں وصیت کرتی ہوں کہ کبھی جوان بیواہ کو بے نکاح نہ رکھنا۔

8 Responses to “ایک وصیت….”

  1. ارسلان said

    اس موضوع پر الطاف حسین حالی کی نظم “مناجات بیوہ” پڑھنے سر تعلق رکھتی ہے اور ہزار نثر پر بھاری ہے

    http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D9%90-%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%81-%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C.2002/

    اپنے لیے کچھ کہہ نہیں سکتی
    پر یہ کہے بِن رہ نہیں سکتی
    میں ہی اکیلی نہیں ہوں دُکھیا
    پڑی ہے لاکھوں پر یہی بپتا
    بالیاں اک اک ذات کی لاکھوں
    بیاہیاں اک اک رات کی لاکھوں
    ہوگئیں آخر اسی الم میں
    کاٹ گئیں عمریں اسی غم میں
    سینکڑوں بے چاری مظلومیں
    بھولی، نادانیں، معصومیں
    بیاہ سے انجان اور منگنی سے
    بنے سے واقف اور نہ بنی سے
    دو دو دن رہ رہ کے سہاگن
    جنم جنم کو ہوئی بروگن
    شرط سے پہلے بازی ہاری
    بیاہ ہوا اور رہی کنواری
    آئیں بِلکتی، گئیں سِسکتی
    رہیں ترستی اور پھڑکتی
    کوئی نہیں جو غور کرے اب
    نبض پہ ان کی ہاتھ دھرے اب
    چوٹ نہ جن کے جی کو لگی ہو
    وہ کیا جانیں دل کی لگی کو

  2. hummm

    ایک انتہائی قابل غور بات ہے یہ۔

    اکثر لوگ باہر ملک پیسہ کمانے چلے جاتے ہیں اور سال ہا سال وہاں رہتے ہین حالانکہ گھر میں انکی جوان بیویاں ہوتی ہیں۔ فکر کی بات ہے

    • تحریم said

      بالکل فکر نہین کرتے
      بلکہ کام پر بھی جائیں ملک میں ہی شہر ہی میں
      یا سچ کہیں تو گھر سے باہر جاتے ہی بیویوں کو لوگ بھول ہی جایا کرتے ہین

  3. Aoa bilkul theek likha ap ne hmari shariyat b isi baat ki taqeed krti hai or aik baat aoko jo meine last comment kya tha us k liye darvesh bhai jan ne pucha tha k mujhe itni becheni se ap ki post ka wait q hota hai tu mujhe laga k apna intro sahi tarha kra dn me bilal nai bilal ki begum hn aamna bilal mere husband k pas time nai mujhe blog bna k dene ka or mujhe khud se aata nai so me un hi ki id use krti hn ap me se agar koi meri rehnumai kre tu bht shukar guzaar hn gi

    • تحریم said

      مسز بلال آپ ورڈ پریس پر اکاؤنٹ بنا کر
      یو تیوب سے ویڈیو کی مدد بھی لے سکتی ہیں
      مجھے بھی نہیں آرہا تھا میری مدد
      افتخار اجمل صاحب نے کی آپ ان سے رابطہ کیجئے

    • سوری امنہ بلال :
      ہم نے تو ویسے ہی شوخی کی تھی ،کیا پتہ تھا کہ وہاں بلال ساحب کے بجائے بیگم بلال ہے۔
      ویسے یہ بیگموں کے معاملے میں ہم کچھ ڈرپوک واقعہ ہوئے ہیں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers