گوریلا جنگ
Posted by ارتقاءِ حيات on November 16, 2011
مرہٹوں سے جنگ میں ایک مرتبہ حیدر علی نے ان کے لشکر پر شب خون مارا اور سامان رسد لے جانے والے کئی ہزار بیلوں پر قبضہ کر لیا۔کچھ بیل ادھر ادھر سے مل گئے۔ حیدر علی کے حکم پر سپاہیوں نے دس ہزار بیلوں کے سینگوں پر چیتھڑے باندھے اور انہیں مٹی کے تیل میں بگھو دیا اور جب آدھی رات ہوئی تو ان سینگوں پر لپٹے کپڑوں پر آگ لگا دی اور بیلوں کو مرہٹہ سردار “ترک راؤ ” کے لشکر کی جانب ہانک دیا ۔ مرہٹہ سپاہی آرام کی نیند سو رہے تھے۔بیل ان کے خیموں میں گھس گئے۔وہ بھگدڑ مچی کے خیمے جل اٹھے۔اور سواری کے گھوڑے رسی تڑا کر بھاگ گئے۔ اسی افراتفری مین حیدر علی نے حملہ کر دیا۔اور مرہٹوں کو عبرتناک شکست ہوئی۔ اس جنگ میں حیدر علی کے پاس چند ہزار سپاہی تھے جب کے مرہٹوں کا لشکر ایک لاکھ سے متجاوز تھا۔ حیدر علی نے اپنی چھوٹی سی فوج لے کر زندگی بھر بڑی ہی کامیابی سے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔اس میں اس کی ذاتی ہمت و جرات کے ساتھ ساتھ اس کا طریق جنگ کا بھی دخل تھا، جسے “گوریلا جنگ “بھی کہا جاتا ہے۔چھاپا مار دستے دشمن کی اہم چوکیوں پر اچانک حملہ کر کےانہیں پریشان کرتےہیں۔گوریلا جنگ اس وقت لڑی جاتی ہے جب دشمن طاقت اور تعداد میں زیادہ ہواور اس کے وسائل بے اندازہ ہو۔






Paksource said
buht acha article tha ,i really liked this .
تحریم said
پسند کیا اس کا شکریہ
Paksource said
awesome blog
تحریم said
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Bilal ahmed said
Aoa tehreem me ager ye kahun k ap ki tehreer ka sab se zyada intizar mujhe hota hai tu ise jhoot na samajhye ga
تحریم said
اچھا مان لیتے ہیں
Darvesh Khurasani said
بلال یہ اتنی بے چینی سے انتظار کیوں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟/
Farid Ullah Gandapur said
zbrdast irteqa…..mai to new blogger hu,but apka blog n urdu efforts….ko man’na parega.keep it up..
تحریم said
آج کل مان نہ مان میں تیرا مہمان بہت ہہو رہا ہے
خیر تو ہے جی؟