حاجی وارث علی شاہ ؒ
Posted by ارتقاءِ حيات on November 16, 2011
حاجی وارث علی شاہ ؒ پائے کے بزرگ تھے اور درویشانہ صفت رکھتے تھے۔ان کے والد بزگروار کا نام سید قربان علی شاہ تھا۔ مورث اعلٰی نیشا پور سے ہجرت کر کے قصبہ رسول پور(بارہ بنکی)میں آباد ہوئے وارث علی شاہؒ نے 7برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔اس کے بعد وہ اپنے بہنوئی سید خادم علی شاہ ؒ کے پاس لکھنؤ تشریف لے گئے۔انہوں نے وارث شاہ کو خلافت سے نوازا۔سید صاحب کے انتقال کے بعد جانشین ہوئے۔ اس کے بعد جے پور سے با پیادہ سفر کیا اور وہاں سے خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے مزار پر حاضری دی۔روحانی دولت حاصل کی ۔ اجمیر کے بعد بمبئی اور پھر وہاں سے مکہ معظمہ پہنچے۔وہاں قیام کے دوران 1ماہ تک روضہ رسولﷺ پر حاضری دیتے رہے۔اس کے بعد بیت المقدس ، شام دمشق ، بیروت، کاظمین، نجف اشرف ،کربلا معلٰی کے سفر کے علاوہ ترکی ،روس اور افریقہ کی سیر بھی کی۔اس کے بعد وطن واپس آگئے۔اور لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے رہے۔وارثی طریقۂ درویشی انہی سے منسوب ہے۔ان کے پیروکاروں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ عام طور پر زرد رنگ کا احرام باندھتے ہیں۔
[http://www.youtube.com/watch?v=pOI3JaBCksw]





Shahzad said
Hi,
The video you have shared at the end of the article is nothing to do with the person described, I believe it is from the the movie ‘Waris Shah’, Syed Waris Shah is a punjabi sufi poet who wrote ‘Heer Ranja’. He was born in Jandiala sher khan near Shekhupura.
تحریم said
غلطی کی تصحیح کر لی گئی ہے
شکریہ
Ali Hasaan said
یہ وہ والے وارث شاہ صاحب ہیں جنہوں نے لکھا ہے “آج اکھاں وارث شاہ نوں”؟
تحریم said
جی نہیں جناب یہ وہ ہیر وارث شاہ والے وارث نہیں ہیں