سمندری کھیرےسےملیریاکاسدباب
Posted by ارتقاءِ حيات on November 15, 2011
ملیریا کے خلاف سائنسدانوں نے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے جس میں سمندری کھیرا
استعمال کیا گیا ہے ۔Sea Cucumber
اپنے نام کے برعکس یہ کوئی سبزی یا پودا نہیں ہے بلکہ سمندری تہہ میں رہنے والا ایک جانور ہے جسکی کھال پر کانٹے ہوتے ہیں۔اور یہ لیس دار بافتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔سمندری کھیرا بارش کے بعد نکلنے والے کیڑے سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔
کریم،تیل،اورحسن آور مصنوعات(کاسمیٹکس)بنانے میںاستعمال ہوتا ہےExtractاسکا رس
یہ انسانی جسمم میں خون اور رگوں کے مابین عمل کو بھی روکتا ہے۔ لہذااسے سرطان کے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
امپریل کالج ،لندن کے ڈاکٹر باب سنڈن اور انکی ٹیم جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے سمندری کھیرے کے جین ،مچھر کے جین میں ملائے ہیں۔ اسطرح جینیاتی طور پر ترمیم شدہ مچھر اپنے نامی پروٹین بنانے لگتا ہے۔Lectinمعدے میں لیکٹین
جو اسکے معدے میں پھلنے پھولنے والے ملیریا طفیلوں کے اوگینٹیس کو مارڈالتا ہے۔اس طرح جب یہ مچھر کسی صحت مند انسان کو کاٹتا ہے تو اس کے لعاب دہن میں اسپوروزوائٹس بھی نہیں ہوتے۔ یوں ملیریا کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔
——————————–





Bilal ahmed said
Informative as always..
تحریم said
بلال احمد بھائی
شکریہ آپ کو تحریر پسند آئی
افتخار اجمل بھوپال said
بی بی ۔ بات ہے تو بڑی عِلم کی اور آپ کھوج کر بھی بہت دور سے لائی ہيں ۔ يہ اُن لوگوں کيلئے تو ٹھيک ہے جو کيڑوں کو بھی پروٹين کہہ کر کھا جاتے ہيں ۔
ميں اسے پکڑوں گا کيسے ؟ اور کھاؤں گا کيسے ؟ اس کی شکل ديکھ کہ ڈرتا ہوں اور کھانے ميں کراہت آتی ہے ۔ اور قرآن شريف ميں وہ چيز بھی حرام کہی گئی ہے جسے ديکھ کر کراہت آئے
کوئی آسان اور مزيدار نُسخہ نہيں ہے ؟
تحریم said
چچا جان آپ سے کس نے کہدیا کہ اسے پکڑ پکڑ ک کھائیں
ہاں کھانے کا شوق ہر رہا ہے تو جینے کی دعا کرواتے رہیئے ہم سے اور
یقیناً جلد ہی کسی دوا میں اس کے اجزاء استعمال کر رہے ہوں گے
اور علم بھی نہ ہو گا کہ کیا کھاچکے ہین
Darvesh Khurasani said
کافی معلومات کالم لکھا ہے
تحریم said
پسند کرنے کا شکریہ