ڈاکٹر عبدالسلام
Posted by ارتقاءِ حيات on November 13, 2011
سائنس کے میدان میں فرزند پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالسلام کا نام اعلٰی درجے کے سائنسدانوں میں شمار ہوتا ہے۔1940میں جب یہ گورنمنٹ کالچ لاہور میں پڑھتے تھے تو کھانے کے بعد فوراً اپنے کمرے میں چلے جاتے،جہاں انہوں نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ملازم باہر سے دروازے کو تالا لگا دیتے تاکہ انہیں کوئی پریشان نہ کرسکے۔ان کی واحد تفریح کامن روم میں شطرنج کی بازی ہوتی جو کامن روم کے نگران کے ساتھ وہ کھیلا کرتے تھے۔
انہوں نے پنجاب یورنیورسٹی کے میٹرک اور بی اے کے امتحانات میں نئے ریکارڈز قائم کیے۔ان دنوں وہ اپنے لباس پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دیا کرتے تھے۔انہیں دیکھ کر کوئی اجنبی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ ایک انتہائی ذہین اور اعلٰی دماغ کے حامل شخص ہیں۔
1950 میں انہیں اپنے ہی کالج یعنی گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے شعبے کی سربراہی سونپی گئی،مگر وہ زیادہ دن یہاں نہ رہ سکے اور استعفٰی دے دیا۔پوچھا تو بتایا گیا کہ یہاں میرا مصرف صحیح نہیں ہو رہامیرا بہت سا وقت یورنیورسٹی سے خط و کتابت میں ضائع ہو جاتا ہےجو طرح طرح کے اعتراضات میرے مشاہدات کے بارے میں اٹھاتے ہیں۔اور پھر پرنسپل نے مجھے فٹبال ٹیم کا انچارج بنا دیا ہے جبکہ میں اس کھیل سے نابلد ہوں۔
وہ کیمبرج چلے گئے جہاں انہوں نے ریاضی کے علاوہ سائنس کی اعلٰی تعلیم حاصل کی اور ہر امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی۔انہیں عظیم درسگاہ امپریل کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لند سے فل پروفیسر شپ کی آفر دی گئی، جسے منظور کر لیا گیا۔یہ اعزازانہیں30برس کی عمر میں حاصل ہوا۔اسکے لئےوہ اب تک کے کم عمر ترین شخص تھےاس سے پہلے کسی اور کو اتنی عمر میں یہ اعزاز حاصل نہ ہوا تھا۔1956 میں وہ لندن آکر ایک معمولی مکان میں رہنے لگےاور آخر وقت تک یہیں رہے۔
ان کے ایک دوست نے ان کے بارے میں ایک دلچسپ لطیفہ لکھا ہے کہ:
ایک روز وہ ایک لڑکے کے ساتھ ان سے ملنے گئے تو دیکھا حضرت اپنے گھر کے سامنے پریشانی کے عالم میں ٹہل رہے ہیں۔معلوم ہوا کے لیکچر دینے جانا ہے اور کار اسٹارٹ نہیں ہو رہی۔معاملہ دیکھا گیا تو پتا چلا کہ بیٹری کی کمزوری تھی دکھا لگانے سے چل پڑی ۔حضرت بڑے حیران ہوئے انہیں اس قسم کے دیگر چھوٹے مسائل کا کچھ علم نہ تھا۔
انکی خواہش تھی کہ پاکستان میں سائنس کے لئے ایک اعلٰی درجے کا ادارہ قائم کیا جائے،مگر چند ناسمجھ اور حاسد صاحبان اختیار نے انہیں یہ کام کرنے نہ دیا۔انکی یہی تجویز اٹلی کی حکومت نے مان لی اور ادارہ قائم ہوگیا۔ بہت سے افراد فیضیاب ہوئے۔یہ ادارہ اٹلی میں انہی کے نام سے موسوم ہے۔
انہیں اکرام و انعام میں جتنی بھی رقومات ملیں وہ سب انہوں نے ایسے طالب علموں کے دےدیں جو سائنس کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، اور مالی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔60سال کی عمر میں انہیں فالج نے آلیا اور وہ معذور ہو گئے۔اور پھر ان کا انتقال ہوگیا۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ جب انہیں ریاضی کا نوبل انعام ملا تو وہ اچکن،شلوار ،پگڑی اور دیسی چپل،پہن کر وصول کرنے آئے یہ اسی علاقے میں پہنی جاتی ہے جہاں سے اس نابغۂ روزگار کا خمیر اٹھا تھا۔یہ نوبل انعام پانے والے پہلے پاکستانی تھے۔
(پر کاش وہ ایک مسلمان بھی ہوتے۔ )











محمد بلال خان ( بلاگ نامہ ) said
ماشاءاللہ ڈاکٹر عبد السلام کی تو بات ہی اور تھی ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین
تحریم said
بھائی بلال جذبات اپنی جگہ مگر حقیقت بھی مد نگاہ رکھنی چاہیئے
کیا ہم امیتابھ کو کہہ سکتے ہیں کہ
وہ جنت الفردوس میں جگہ پائے
یا کہ پرنس کریم آغا خان کو؟
جس انسان نے اچھا کام وہ مسلمان ہے تو آخرت میں اس کا حصہ ہے
ورنہ کوئی حصہ مشرکین و کفار و مرتدین کا نہیں ہے
انہیں ان کے اچھے کام کی جزا اسی دنیا میں دے دی گئی گر دی جانی تھی
Muhammad Furqan said
Bht Khoooooooooooob…Achi kawish hy….. KhuDa KaRe MeRi Arze Pak Pe uTRy… Wo FaSL e GuL jissy AnDesha e ZawaaL na Ho…
تحریم said
پسند کا شکریہ
بھائی فرحان پہلی بار آئے ہین
آتے جاتے رہا کیجئے
Hasan said
“(پر کاش وہ ایک مسلمان بھی ہوتے۔ ”
وہ مسلمان تھے- ساری عمر اپنے آپ کو مسلمان کہا-
تحریم said
ہم مسلمان جو حضرت محمد صلی الله علیه و آله وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں
وہ قادیانیوں کو غیر مسلم مانتے اور گردانتے ہیں
آپ کا کچھ نہیں پتا
Hasan said
ان ديوبنديوں کا کيا بننا ہے؟ فتوی مل جائے تو نوازش
Hasan said
اس ويڈيو پہ فتوی نہيں ملا۔۔۔مفتی صاحب؟
تحریم said
یہ کوئی مسجد یا دارلعلوم یا کوئی فقہ کا ادارہ یا اسلامی مذہبی بلاگ نہیں جو
آپ کے مختلف طرح کے گروہی یا فقہی مسائل حل کیئے جائی
اور نہ ہی مین نے کسی رح کی سند لی ہے
کسی عالم سے رابطہ کیجئے
اور فقہی مسائل اور بات ہے اور مذہبی مسائل اور بات
آپ کی طنزیہ گفتگو سے ثابت ہو رہا ہے آپ قادیانیوںکے حمایتی ہیں
گر ہاں تو بلاججحک یہ کہنے میں شرم نہیں
آپ بھی دین اسلام کے اصل راستے پر نہیں ہیں
راشد کامران said
ریاضی میں نوبل پرائز؟
تحریم said
فزکس بہت بڑی ہے اس کی ایک شاخ ریاضی مین انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا
شہزاد وحید said
ہمیں اپنے قومی ہیروز پر فخر ہے۔
تحریم said
پاکستانی ہونے کے ناطے ہمین بھی ان پر فخر ہے
ضیاءالحسن خان said
پوری تحریر بہت اچھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جو آخری لائن بریکٹ میں لکھی گئی ہے اسکی تو بات ہی کچھ اور ہے ۔۔۔۔۔ بس اب آپ تیار رہیں کہ کوئی روشن خیال آیا اگر آپکے بلاگ پر تو آپکی خیر نہیں :ڈڈ
تحریم said
میرا مقصد اصل حقائق آنے والوں کو واضع کر دینا ہے
بحث و مباحثہ آتا ہے نہ کرنا ہے
پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے انہیں یاد رکھیں
ضیاءالحسن خان said
جی یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ بحث و مباحثہ سے پرہیز کرتی ہیں ۔۔۔۔ اور اگر کرتی بھی ہوتی تو ان روشن خیالوں سے نہین جیت سکتی تھیں کیونکہ اسکے لئے انسان کا عزت کت بغیر ہونا بہت ضروری ہے
تحریم said
میں نہین جانتی آپ کس قسم کے روشن خیالون کی بات کررہے ہیں
ہاں میں کچھ دنوں سے ایک روشن خیال شخص کے خیالات آج ٹی وی پر دیکھ رہی ہوں
جو سنت کے خلاف کافی باتین کررہا ہے
میں امدی کی بات کر رہی ہوں
جلد اس پر بھی کچھ لکھنے کی کوشش کرتی ہوں
یا کہیں سے کچھ مواد ملا تو آپ سے شیئر کروں گی
اسلام کے حوالے سے خدمت میں خواتین بھی کسی سے کم نہیں
دفاع اسلام صرف مردوں پر لازم نہیں ہے جناب
fikrepakistan said
بہت عمدہ تحریر ہے اللہ آپکو جزاء دیں، انکا مذہب کیا تھا یہ انکا زاتی معاملہ تھا، مگر ہم نے روایتی تعصب کی بنا پر ایک عظیم سائنسدان کھو دیا یہ پاکسان کی رہتی نسلوں تک کے لئیے شرم کا مقام رہے گا۔
تحریم said
فکر پاکستان کو ہی نہیں ہمیں بھی پاکستان کی فکر ہے
غلام مرتضیٰ علی said
حسن اور بلال صاحبان کے جواب میں
وہ بہت بڑے سائنس دان ضرور تھے مگر مسلمان نہیں تھے۔ اپنی تمام تر سائنسی فکر کے باوجود وہ آخر دم تک قادیانی مذہب پر قائم رہے۔ اُن کی قادیانی جماعت کے سربراہ نے خود ۱۹۷۴ میں قومی اسمبلی کو حلفیہ بیان دیا کہ وہ صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اور باقی دنیا کے کروڑوں ( اب سوا ارب سے زیادہ( مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ نبی کریم کی ختم نبوت کا انکار کر کے ایسے عقیدے پر قائم رہنے والا شخص مسلمان کیسے ہو سکتا ہے۔ ہمیں کافروں کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے قرآن پاک میں ابرہیم علیہ السلام کا قصہ جس میں انھیں اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنے سے منع فرما دیا گیا۔ خود ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی اپنی سب سے پیاری اور رحمۃ للعالمین ہستی کو منافقوں کے لیے دعائے مغفرت سے منع فرما دیا۔
نوبل انعام لیتے ہوئے جو تصویر جو آپ نے شائع کی ہے اس میں بھی یہ پنجابی زمینداروں والا لباس پنجاب یا پاکستان کی محبت میں نہیں بلکہ اپنے [حضور] مرزا صاحب کی اتباع میں پہنا۔
تحریم said
علی بھائی
میں بھی آپ سے متفق ہوں
پر پاکستانی ہونے کے ناطے جنہوں نے بھی پاکستان کی ترقی مین کردا ادا کیا چاہے مسلم ہو ہندو ہو یا کرسچن یا قادیانی
بحیثیت پاکستانی ہمارے لئے اہم ہے
Hasan said
ان ويڈيو والے دارالعلوم ديوبند کے بانی صاحب کے بارے ميں کيا خيال ہے؟ دارالعلوم ديوبند کی تو پہلی اينٹ ہی غلط لگی پھر تو۔
Hasan said
“جماعت کے سربراہ نے خود ۱۹۷۴ میں قومی اسمبلی کو حلفیہ بیان دیا کہ وہ صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اور باقی دنیا کے کروڑوں ( اب سوا ارب سے زیادہ( مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ”
سارے فرقہ ہی اپنے علاوہ باقی مسلمانوں کو کا فر سمجھتے ہيں اسميں حيرت کی کيا بات ہے؟ البتہ باقی فرقے تو ايک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہيں يعنی صرف کافر ہی نہيں واجب القتل بھی سمجھتے ہيں۔ يہ ويڈيو ملاحظہ کريں۔ مذيد فتوی بھی پيش کيئے جاسکتے ہيں۔
تحریم said
یہ کوئی مسجد یا دارلعلوم یا کوئی فقہ کا ادارہ یا اسلامی مذہبی بلاگ نہیں جو
آپ کے مختلف طرح کے گروہی یا فقہی مسائل حل کیئے جائی
اور نہ ہی مین نے کسی رح کی سند لی ہے
کسی عالم سے رابطہ کیجئے
افتخار اجمل بھوپال said
ہم بھی جو ٹھہرے اجنبی اپنوں ہی کی محفل ميں ۔ اجازت ہو تو کچھ گستاخی ہم بھی کر ليں ۔ سوال يہ ہے کہ کيا ڈاکٹر عبدالسلام پاکستانی تھے ؟
شايد مصنفہ صاحبہ اور مبصرين صاحبان جانتے ہوں کہ پاکستان نے اسرائيل کو بطور ملک آج تک تسليم نہيں کيا اور قانونِ پاکستان کے تحت کوئی پاکستانی اسرائيل نہيں جا سکتا ۔
جب اقوامِ متحدہ نے ايک مشن ميں قدرت اللہ شہاب صاحب کو بھيس بدلا کر کسی اور مُلک کا پاسپورٹ دے کر اسرائيل ميں داخل کيا تو انہوں نے اسرائيل کی ہائی کمان کے دفاتر کا دورہ بھی کيا تھا ۔ بقول قدرت اللہ شہاب صاحب جب اُن کے مشن کے لوگ ہائی کمان کی راہداری ميں داخل ہوئے تو اُنہوں نے ديکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام ايک بڑے اسرائيلی عہديدار کے دفتر سے نکل کر دوسرے بڑے اسرائيلی عہديدار کے دفتر ميں داخل ہوئے ۔ قدرت اللہ شہاب صاحب نے اس اطلاع کو اس فقرہ پر ختم کيا تھا ۔ ” ڈاکٹر عبدالسلام اسرائيل کی ہائی کمان کے دفاتر ميں کيا کر رہے تھے؟”۔
تحریم said
چچا جان جانکاری دینے کا شکریہ
میں اب تک شہاب نامہ پڑھ نہین سکی ہوں جلد ہی اسے کوشش کرکے پڑھتی ہوں
اتنی ضخیم کتاب کو ہضم کرنا بھی تو اتنا مشکل ہے کہ نہ پوچھیں ہمت ہی نہیں ہوتی بچوں سے بچ کر پڑھنا لکھنا اور پھر سب کا م نمٹانا کتنا مشکل ہے
Hasan said
“اقوامِ متحدہ نے ايک مشن ميں قدرت اللہ شہاب صاحب کو بھيس بدلا کر کسی اور مُلک کا پاسپورٹ دے کر اسرائيل ميں داخل کيا ”
ہے نا جيمز بانڈ فلم کا سين۔ اقوام متحدہ جو ہے ہی اسرائيل کی باندی اسنے قدرت اللہ شہاب کو جاسوس بنا کے اسرائيل ہی بھجوانا تھا؟ يہيں سے قدرت اللہ شہاب کے جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب کی کمپنی کی مشہوری کے ليئے باتيں گھڑنے کی عادت پہ جميل الدين عالی جيسے لوگ روشنی ڈال چکے ہيں۔ ساری عمر قوم کے مفاد کے خلاف ڈکٹيٹروں کی خدمت کرنے والے قدرت اللہ شہاب ميں ايسی خصوصيات نہ ہوں تو اور کيا ہوں۔ البتہ آخری عمر ميں يہ بيوروکريٹ نيک دکھائی دينے کی دوڑ ميں شامل ہوجاتے ہيں۔ آجکل روئيداد خان نے يہ کام پکڑا ہوا ہے۔
غلام مرتضیٰ علی said
محترم حسن صاحب
دوسروں کو جھٹلانے سے قبل اپنے اس دعوے کا ثبوت توپیش کیجیے کہ آنجہانی ڈاکٹر صاحب مسلمان تھے۔
کسی شخص کے خود دعویٰ کرنے سے کیا ہوتا ہے جبکہ اس کا اپنا سوچا سمجھا اور اعلانیہ عقیدہ اس دعوے کے خلاف ہو۔ موصوف آخر دم تک عقیدہ ختم نبوت کے انکاری اور قادیانی مذہب کے پیروکار رہے۔ اسی مذہب پر مرے اور اسی کے پیروکاروں نے ان کی آخری رسومات ادا کرکے اپنے اس قبرستان میں دفن کیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے والوں کو دفن ہونے کی اجازت نہیں۔
آخر آپ کس بنیاد پر انھیں مسلمان کہنے پر مصر ہیں؟؟؟؟؟؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ مرحوم قدرت اللہ شہاب جو ۱۹۷۰ کے لگ بھگ یونیسکو کے چھے رُکنی ایگزیکٹو بورڈ کے رُکن تھے، نے عرب ممالک کی ایک شکایت پر اُنھی کے تعاون سے ایک ایرانی ٹورسٹ کے بھیس میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کا خفیہ دورہ کیا تھا ۔ شکایت یہ تھی کہ ان مقبوضہ علاقوں میں یونیسکو کے قائم کردہ فلسطینی سکولوں میں اسرائیل نے وہاں کے عرب اساتذہ کو بے دخل کر کے یہودی ٹیجروں کے ذریعے مسلمان بچوں کو اسلام، پیغمبر اسلام اور عرب ثقافت کے خلاف اپنی من مرضی کی نفرت انگیز کتب پڑھنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ اس شکایت پر یونیسکو والوں نے قبل ازیں دو بار اپنی انسپیکشن ٹیمیں وہاں بھیجی تھیں لیکن پہلے سے طے شدہ دورہ ہونے کی بنا پر اسرائیل نے سب کچھ یونیسکو کے حسب خواہش دکھا کر ان دوروں کو ناکام اور عرب شکایت کنندگان کو شرمندہ کر دیا تھا۔ چنانچہ عربوں کی خواہش تھی کہ کوئی ذمہ دار شخص پیشگی اطلاع کے بغیر وہاں سے ثبوت اکٹھے کر کے لائے۔ شہاب مرحوم نے یہ چیلنج قبول کیا اور کئی دن رات سوئے بغیر اپنا خفیہ مشن پورا کرکے بے شمار ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ واپس لوٹے اور اسرائیلیوں کو لاجوا ب و شرمندہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں یونیسکو نے ان سکولوں کی نگرانی کا ایک فول پروف نظام قائم کیا۔
شہاب مرحوم تب ریٹائر ہو چکے تھے اور انھیں کسی روزگار کی اشد ضرورت تھی۔ عربوں نے انھیں بڑے اعزاز و اکرام اور امداد کی پیشکش کی جس سے انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ انھوں نے یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کیا ہے۔ اس کا بدلہ اللہ ہی سے لیں گے۔
اس سارے معاملے کی تفصیل ان کی خود نوشت شہاب نامہ کے صفحات۱۱۱۶ سے ۱۱۳۰ تک میں موجود ہے۔
باقی ڈاکٹر صاحب کی اسرائیل موجودگی کے واقعے کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں۔ ہاں قادیانی جماعت کا ایک ہیڈکوارٹر یقینا اسرائیل میں بھی موجود ہے۔ اور ایک زمانے میں اس جماعت کے سربراہ نے اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا اور وہاں کے وزیر اعظم کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائی تھیں۔
Hasan said
اتنی لمبی کہانی کا قدرت اللہ شہاب کے علاوہ بھی کوئی گواہ ہے؟
اگر نہيں تو قدرت اللہ شہاب کی تو سنجيدہ حلقوں ميں جو قدرت اللہ شہاب کے کرتوتوں سے واقف ہيں کوئی کريڈيبيليٹی نہيں۔ تمام واقف حال جانتے ہيں کہ يہ شخص جھوٹا مکار، ڈکٹيٹروں کے غلط کاموں ميں انکا ساتھ دينے والا اور بعد ميں ان سب باتوں سے مکر کر اپنے آپ کو نيک شريف اور صوفی ثابت کرنے لگ جانے والا شخص تھا۔ ايسے جھوٹے شخص کی باتيں بغير ثبوت کے وہی مان سکتا ہے جو يا تو بيوقوف ہے يا جھوٹ سچ کي تميز سے عاري۔
قوم کو بيوقوف بنانے کا فن ايوب خان کو قدرت اللہ شہاب نے ہی سکھايا۔ اس زمانے کے لوگ يہ سب جانتے تھے اس ليئے سنجيدہ لوگ قدرت اللہ شہاب سے تھوڑا ہٹ کے چلا کرتے تھے۔
قدرت اللہ شہاب کی عادتيں آجکل کے ڈاکٹر قدير خان سے ملتی تھيں کہ اپنے آپ کو اچھا اور دوسرے کو برا کہنے کے ليئے جو مرضی جھوٹ بول دينا۔ اسليئے يہ رويہ کوئی حيرت انگيز نہيں۔
تحریم said
آپ کو قدرت اللہ شہاب سے محبت نہیں تو ہمیں بھی قادیانی نام سے ہی نفرت ہے
اس بحث کو یہیں ختم کریں کیا؟
جو حق پر وہ حق پر جو باطل اس کا اللہ ہی حافظ
ضیاءالحسن خان said
حسن کی باتوں سے تو یہی لگ رہا ہے کہ یہ بھی مرزا غلام قادیانی ملعون کے بھگت ہیں ۔۔۔۔ ا
تحریم said
مجھے تو مکمل یقین ہوتا جا رہا ہے
کیوں کوئی کسی قادیانی ملعون کی حمایت کرے گا؟
Ali Hasaan said
شکر ہے میں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تحریم said
کس سے ڈر لگتا ہے؟
ارسلان said
پاکستان کے ایٹم بم کے ڈیزاین کے بارے میں امریکہ کو ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے ہی معلومات فراہم کی تھیں
چونکہ میری یادداشت بس ایویں ہی ہے لہذا حوالہ دینے سے قاصر ہوں ، بہرحال یہ بات غالبا ایک سفیر نے اپنے انٹرویو میں بتای تھی اور میں تحریری طور پر پڑھ چکا ہوں
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ درست بھی ہے تو اس میں ڈاکٹر صاحب کا قصور کم ہے اور “اگر” اور “کاش” کا زیادہ ہے جو ہمیں ایک قوم بننے سے روک رہا ہے
جو “کاش” اور “اگر” ہم دوسروں کے لیے استعمال کرتے ہیں اگر تقریبا کروڑوں کی تعداد میں مسیحی یا سیکولر ممالک میں آباد مسلمانوں کے لیے استعمال ہونے لگے تو ہم بہت مشکل میں پڑ سکتے ہیں
تحریم said
کاش اس لئے استعمال کیا ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ ان کو فخر سے آخرت میں بھی اپنے ساتھ دیکھنا چاہتے
گر وہ مسلمان ہوتے
ehsan said
wo muslman hi the
Hasan said
“ہاں قادیانی جماعت کا ایک ہیڈکوارٹر یقینا اسرائیل میں بھی موجود ہے۔ اور ایک زمانے میں اس جماعت کے سربراہ نے اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا اور وہاں کے وزیر اعظم کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائی تھیں۔
”
اس بات کا ثبوت چاہيئے ورنہ جھوٹ بولنا تسليم کرنا ہوگا۔
تحریم said
گفتگو کہیں اور نہ لے جائیں
موضوع کچھ اور ہی تھا
افتخار اجمل بھوپال said
عجب منطق ہے کہ “ساری عمر قوم کے مفاد کے خلاف ڈکٹيٹروں کی خدمت کرنے والے قدرت اللہ شہاب”۔ اگر ايسے ہی آمروں کے تابع تھے تو پھر قدرت اللہ شہاب صاحب نے آمر کے خلاف کيوں لکھا ؟
مرزائيوں کا دفتر حيفہ اسرائيل ميں تھا جس کيلئے زمين اور امداد اسرائيلی صيہونيوں نے مہيا کی تھی
تحریم said
قادیانیوں کو ابھارنے والے مددگار ہین ہی زیادہ تر یہود و نصاریٰ
mdnoor7 said
محترمہ تحریم صاحبہ ، مُجھے کچھ یقین سا تھا کہ آپ کے بلاگ پر دلائل کا تماشا لگے گا ۔ حالانکہ یہ سب کے سب مصوم ہیں اس میں سارا قصور اُن چشموں کا جو ہم سب کی آنکھوں پر چڑھ جاتا ہے۔ یعنی کسی کو بریلوی چشمہ ،کسی کو دیوبندی ، کسی کو اہل حدیث، کسی کو شیعہ, کسی کو قادیانی ، کسی کو ذکری ، کسی کو پوہری ، کسی کو آغا خانی ، وغیرہ وغیرہ کراچی یونیورسٹی شعبہ تصنیف و تالیف نے ایک کتاب چھا پی تھی جس کا نام مجھے یاد نہیں آرہا ہے جس میں 200 سے بھی زیادہ چشموں کا ذکر ہے ۔ اب جس پر جو چشمہ چڑھ گیا وہ اُسی رنگ میں دیکھتا ہے اور ہر ایک چشمہ والے کے پاس اپنے چشمہ کی حقانیت ثابت کرنے کیلئے ( دلائل بھری بال کی کھالوں کا وافر اسٹاک موجود ہے )۔ ان چشموں کی وجہ سے سب ایک دوسرے کو کافر کافر کہتے ہیں ۔ اب مجھے اجازت دیں ۔ آپ کا بُہت شُکریہ( ایم ۔ ڈی )۔
تحریم said
یہ وہ چشمے ہیں جن کی بدولت ایمان مین ملاوٹ کرنے والوں کو پہچانا جاتا ہے
اور دیوبندی بریلوی میں نظریاتی فرق ہے مگر قادیانی فرق نہین کرتے
وہ ایمان پر حملہ کرتے ہیں
مسلمانوں کا بھیس بدل کر دھوکا دیتے ہیں
Ghufran Mohsin said
کون کافر ہے کون حق پر اس کا فیصلہ خدا خود بہتر طریقے سے کر سکتا کیا خبر خدا کے نزدیک نیک اور بد کا پیمانہ کیا ہے۔۔
تحریم said
اللہ نے قرآن و حدیث اسی لئے نازل کیئے کہ اس کی رو سے
اس کی تعلیمات سے جو بھی انحراف کرے
غیرامضوب علیھم والضالین
بھٹکے ہوئے لوگوں سے نہ ملائے
اور بھٹکے ہوئے کون ہیں جو کہ تعلیمات نبوی ﷺ کی حدوں سے ٓگے بڑھ چکے ہیں
ehsan said
dr.abdul salam the great.magarwo aik muslim b the
ehsan said
dr.sahib aik ahmadi muslim the humain un pr fakhar h
ڈاکٹر عبدالسلام … تصویر کا دوسرا رخ - پاکستان کی آواز said
[...] عبدلاسلام پر ایک تحریر یہ بھی کچھ ہی عرصہ قبل پڑھی میں نے شائد آپ لوگوں کی نگاہ [...]
Faheem said
یہ کتاب ضرور پرھیں
http://islamanalysis.com/urdu_books_mirzai/Ghaddaar-e-Pakistan-Dr-Abdussalam-by-MUHAMMAD-MATEEN-KHALID.pdf