محمد بن موسیٰ الخوارزمی
Posted by ارتقاءِ حيات on November 10, 2011
محمد بن موسیٰ الخوارزمی (780تا847)وہ پہلا عرب سائنسدان تھا جس نے یونانی اور ہندی علم الحساب کو ملایا اور دنیا کی پہلی کتاب”الجمع و التفریق”لکھی۔ خوارزمی نے ہندو ماہرین ریاضی سے استفادہ کرتے ہوئے اعداد میں “صفر”0کا اضافہ کیا ۔جس سے عملی ریاضی کی استعداد میں زبردست اضافہ ہوا۔علاوہ ازیں ہندوؤں میں حساب کتاب کے لئے رائج عددی نظام کو (جسے آج ہم اعشاری نظام کی حیثیت سے جانتے ہیں)دنیا کے سامنے پیش کرنے اور اس کی مفصل وضاحت کرنے کا سہرا بھی محمد بن موسٰی الخوارزمی ہی کے سر جاتا ہے۔
قبل ازیں حساب کتاب کے لئے یونانی اعداد و علامات استعمال ہوتیں تھیں۔جن کی وجہ سے جمع، نفی،ضرب اور تقسیم کا عمل بہت پیچیدہ ہوجاتا تھا۔اس نظام کی وجہ سے طویل حساب کتاب تقریباً نا ممکن تھا ۔جبکہ خصوصی طور پر تربیت یافتہ ماہرین سے بھی اس غلطی کا قوی امکان رہتاتھا۔اس کے برعکس ہندی اعداد و علامات انتہائی سادہ تھیں۔ جن میں صفر سے لے کر نو تک کے اعداد کے لئے علامات مخصوص تھیں۔جبکہ اکائی ،دہائی، سیکڑا اور ہزار وغیرہ کو مقامات مخصوصہ پر رکھا جاتا تھا۔ان ہندی اصولوں کی بدولت حسابی عمل اس قدر تیز ہو گیا کہ جس کا تصور یونانی ریاضی دانوں کے تصور سے بھی ماورا تھا۔الخوارزمی نے ریاضی میں منفی کی علامت کا بھی اضافہ کیا۔
تاہم الخوارزمی کا سب سے بڑا کارنامہ “الجبر و المقابلہ” ہے جسے آج “الجبرا”کے نام سے اسکولوں ، کالجوں اور جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔ جبری طریقے(الجبرا)سے مختلف درجوں کی ریاضیاتی مساواتیں حل کرنے اور معلوم مقداروں کی مدد سے متعلقہ نامعلوم مقداروں کا پتا چلانے کے لئے اس نے اپنی معرکتہ آرا کتاب “الجبرو المقابلہ”تصنیف کی جس نے نہ صرف بعد کے مسلمان ریاضی دانوں بلکہ مغربی سائنس دانوں اور انجینئروں پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے۔
اس نامور مسلمان سائنس دان نے المامون کی فرمائش پر دنیا کے نقشوں کی پہلی منظم کتاب (اٹلس)بنائی اور اس کا نام “صورت الارض “رکھا۔بلا خوف و تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ الخوارزمی اسلامی تاریخ کا سب سےبڑاریاضی دان تھا۔اس کی خدمات کے اعتراف میں آج کمپیوٹر پروگرام کے لئے ہدایات وغیرہ کو منطقی کہلاتا ہے۔Algorithmترتیب میں لکھنے کا عمل الگورتھم
جو الخوارزم کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے۔







أبو فارس said
آپ کی تحریر میں دو مسئلے ہیں (جوکہ ایسی ہی ایک میری تحریر میں بھی ہیں) پہلی بات تو یہ ہے کہ الخوارزمی عرب نہیں ازبک تھا اور دوسری یہ کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں مسلمان ہوا تھا یعنی اس کی یہ ساری دریافتیں اس کے دورِ مجوسیت کی تھیں ناکہ دورِ اسلام کی اگرچہ اس کا اسلام ثابت نہیں ہے کیونکہ بعض محققین کے نزدیک اس کا اسلام مشکوک ہے.. لہذا زیادہ خُشک ہونے کی ضرورت نہیں ہے..
تحریم said
تصحیح کا شکریہ جلد ہی اپڈیٹ ہوجائے گا مزید مواد ملتے ہی
موجو said
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوارزمی عرب ہو یا ازبک اگر اللہ اور اس کے رسول کو انہی کے دئیے ہوئے علم کے مطابق اللہ کے پاس اپنا اجر محفوظ پائیں گے اگر مجوسی تھے تو ان کو اور ان کے خاندان کو ان کے کام کا فائدہ ضرور پہنچا ہوگا لیکن مسلمان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی نبی کے فرمان کے مطابق حکمت کی تلاش میں رہتا ہے ہر ایسی چیز جو اس کے ایمان میں اضافے اور عقیدے میں پختگی لائے وہ اس کی میراث ہے۔
افتخار اجمل بھوپال said
ابو فارس صاحب کے اعتراض نے مجھے يہاں لکھنے پر مجبور کر ديا ہے ۔ ہو سکتا ہے مگر ثبوت نہيں ہے کہ ابو جعفر محمد ابنِ موسٰی الخوارزمی کے آباؤ اجداد زوروايسٹر تھے جنہيں پاکستان ميں پارسی کہا جاتا ہے ۔ اس سلسلہ ميں يہ پڑھيئے
However, Rashed[11] suggests:
There is no need to be an expert on the period or a philologist to see that al-Tabari’s second citation should read “Muhammad ibn Mūsa al-Khwārizmī and al-Majūsi al-Qutrubbulli,” and that there are two people (al-Khwārizmī and al-Majūsi al-Qutrubbulli) between whom the letter wa [Arabic ‘و’ for the article ‘and’] has been omitted in an early copy. This would not be worth mentioning if a series of errors concerning the personality of al-Khwārizmī, occasionally even the origins of his knowledge, had not been made. Recently, G. J. Toomer … with naive confidence constructed an entire fantasy on the error which cannot be denied the merit of amusing the reader.
Regarding al-Khwārizmī’s religion, Toomer writes:
Another epithet given to him by al-Ṭabarī, “al-Majūsī,” would seem to indicate that he was an adherent of the old Zoroastrian religion. This would still have been possible at that time for a man of Iranian origin, but the pious preface to al-Khwārizmī’s Algebra shows that he was an orthodox Muslim, so al-Ṭabarī’s epithet could mean no more than that his forebears, and perhaps he in his youth, had been Zoroastrians.[1]
يہ خاندان الخوارزم [خوراساں] سے ہجرت کر کے جنوبی عراق ميں آباد ہوا اور گمان اغلب ہے کہ محمد وہيں پيدا ہوا جب وہ مسلمان ہو چُکے تھے ۔ خوارزم اس علاقہ ميں واقعہ تھا جسے آجکل ازبکستان کہا جاتا ہے ۔ کچھ معلومات يہاں سے مل سکتی ہيں
http://www.gap-system.org/~history/Biographies/Al-Khwarizmi.html
جيسے لاہور ميں رہنے والے لوگ جو لوگ کشميری کہلاتے ہيں اور افغانستان سے جا کر ہندوستان کے مختلف علاقوں ميں آباد ہو جانے والے خان کہلاتے ہيں حالانکہ کہ اُن کے آبا ؤ اجداد دو تين صدياں قبل وہ سے کشمير يا افغانستان سے کوچ کر گئے تھے اور پھر کبھی واپس نہ گئے ۔ اسی طرح محمد کا خاندان بھی الخوارزمی کہلاتا تھا
مزيد معلومات مندرجہ ذيل روابط پر مل سکتی ہيں
http://en.wikipedia.org/wiki/Mu%E1%B8%A5ammad_ibn_M%C5%ABs%C4%81_al-Khw%C4%81rizm%C4%AB
http://wzzz.tripod.com/KHAWARIZ.html
http://math.truman.edu/~thammond/history/IslamicWorld.html
أبو فارس said
بھوپال صاحب آپ نے میری بات کی تصدیق ہی کی ہے اس میں کوئی نیا اضافہ نہیں کیا ہے نا ہی ایسی کوئی بات لائے ہیں جو میرے علم میں پہلے نہیں تھی..
تحریم said
چلو پھر بحث ختم
دونوں صلح کر لو