ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

خوف کی ایک اور قسم

Posted by ارتقاءِ حيات on November 9, 2011

ہربندوق جو بنائی جاتی ہے۔ ہر جنگی جہاز جو سمندر میں لایا جاتا ہے۔ ہر راکٹ جو اڑایا جاتا ہے وہ چوری ہے
ان کے حقوق کی جن کے پیٹ کو روٹی نہیں ملتی ۔ جو ٹھٹھر تے ہیں لیکن کوٹ اور کمبل سے محروم ہیں۔ جن کے پاس نہ گھر ہے نہ در۔
دنیا جنگی اسلحہ جات بنانے میں صرف رقم خرچ نہیں کر رہی ، یہ مزدوروں کا پسینہ خرچ کر رہی ہے۔ یہ اپنے سائنسدان کاریگروں کی عقل خرچ کر رہی ہے۔جنگی اسلحہ جات بنانا اور بیچنا کوئی عیش و عشرت نہیں
اسے خوف کہتے ہیں۔

 

4 Responses to “خوف کی ایک اور قسم”

  1. امریکہ قریب سالانہ دو سو بلین ڈالر دہشت گردی کی جنگ پر خرچ کرتا ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اس رقم اس قدر ہے کہ اگر ایمانداری نے خرچ کی جائے تو دنیا میں سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ اب تک اس دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ قریب ایک تریلین ڈالر برباد کر چکا ہے۔

  2. امريکا تو بہت دُور ہے ۔ گھر کی بات کيوں نہ کی جائے ۔ جتنا قوم کا مال ہمارے حکمران اور اُن کے چہيتے افسران حرام طريقوں سے ہڑپ کرتے ہيں اگر يہ مال ہڑپ نہ کيا جائے تو ہمارا ملک صرف 10 سال کے اندر معاشی ديو بن سکتا ہے جسے انگرزی ميں کہتے ہيں
    Economic Giant
    اس کی کچھ جھلکياں ميں اِن شاء اللہ جلد اپنے بلاگ پر نقل کروں گا ۔ اس وقت اپنے ساتھ بيتے واقعات ميں سے صرف ايک واقعہ
    جب ميں پی او ايف ٹيکنيکل انسٹيٹيوٹ کا پرنسپل تھا تو 1985ء ميں ايک کمپيوٹرائزڈ نُومَيرِيکل کنٹرول مشينز ٹريننگ سينٹر قائم کرنے کيلئے پيشکشيں طلب کيں ۔ پيشکشيں وصول ہونے کے بعد فنی اور مالياتی مطالعہ کر کے ميں موازنہ تيار کر چکا تھا کہ اُوپر سے بڑے صاحب کی طرف سے ايک پيشکش موصول ہوئی جو قابلِ قبول کم سے کم قيمت والی پيشکش سے 4 گناہ قيمت کی تھی اور فنی لحاظ سے بھی موزوں نہ تھی ۔ ميں نے اُسے بھی شامل کر کے دوبارہ موازنہ تيار کر کے بڑے صاحب کو بھيج ديا اور اُن کی بھيجی پيشکش کے متعلق اصل صورتِ حال سے آگاہ کيا ۔ نتيجہ ۔ ميرا وہاں سے تبادلہ کر ديا گيا اور ميرے بعد آنے والے صاحب مجھے بتايا کہ وہ اپنی نوکری خطرہ ميں نہيں ڈالنا چاہتے اسلئے صاحب کی طرف سے آئی ہوئی پيشکش قبول کر رہے ہيں ۔ اُس سال اور بعد کے سالوں ميں جب تک وہ صاحب ريٹائر نہ ہوئے ميری سالانہ رپورٹ ميں لکھا گيا کہ ابھی ترقی پانے کے قابل نہيں ۔ نتيجہ يہ ہوا کہ مجھ سے جونيئر اور مجھ سے نالائق افسران کو ترقی ملتی رہی اور ميں کچھ نہ کر سکا سوائے دعا کے کہ اللہ مجھے ثابت قدم رکھے ۔ ايسا کرنے والے چھوٹے صاحب تو ريٹائرمنٹ کے بعد وفات پا چکے ہيں اور بڑے صاحب ريٹائرمنٹ کے بعد جنگ گروپ کے ڈيفينس انالِسٹ ہيں

    ايک بات ذہن ميں رہے کہ اللہ نے مجھے اطمينان اور عزت سے ہميشہ مالا مال کر رکھا ہے اور صحت بھی لاکھوں سے اچھی دے رکھی ہے ۔ مالی لحاظ سے بھی اللہ نے ميرا ہاتھ ہميشہ اُوپر ہی رکھا ہے
    کيا خيال ہے ؟ آپ ۔ شعيب صفدر گھمن صاحب اور دوسری خواتين و حضرات جو مجھے عزت سے بُلاتے ہيں ميں کيا ديتا ہوں ان کو ؟
    يہ بھی اللہ کا کرم ہے مجھ پر

  3. کھانا نا ہو تو ملک بچ سکتا ہے ،سردی سے بچاو کیلئے کمبل نہ ہو تو بھی ملک بچ سکتا ہے۔ پاوں میں جوتے نہ ہو پھر بھی ملک بچ سکتا ہے لیکن اگر اسلحہ نہ ہو تو پھر ملک کی تباہی میں کوئی شک نہیں۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers