خاکستری آثار
Posted by ارتقاءِ حيات on November 9, 2011
سر الیگزینڈر کنگھم نے آثار قدیمہ کی تلاش و تحقیق کے سلسلے میں ملتان میں مندر پر ہلاد پوری کے بالمقابل قلعہ کہنہ پر ایک کنواں کھدوایا تھا۔
اس کھدائی کے دوران مختلف سطحوں سے مختلف اشیا برآمد ہوئیں تھیں۔11-10 فٹ کی گہرائی پر معزلدین قیباد کے زمانے حجم کی اینٹیں ملیں،2×6،11x(1286تا 1289)کے روغنی چراغ اور کاشی کے ٹکڑےملے۔12فٹ کی گہرائی پر 5
مگر روغنی اینٹیں نکلنی بند ہو گئیں۔15-20فٹ کی گہرائی پر 300سال قبل مسیح کے وقت کے سکندر اعظم کے شہر سوزحملہ کی2فٹ کی گہری راکھ اور جلی ہوئی مٹی ،ریشم کاتنے کا گولا ،تانبے کے سکے،اور موچی کی پتھری ملی۔40فٹ کی گہرائی پر 800قبل مسیح یعنی 3ہزار سال پہلے کی قدرتی مٹی ملی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آریہ استیلا کے زمانے سے پہلے ملتان کا محل وقوع ،قلعہ پٹنہ سے ہٹ کے تھا۔
اب سے 2 ،3سال قبل ملتان کینٹ کے علاقے لال کرتی میں ایک پلازہ کی کھدائی کے دوران بے شمار سونے کے سکے ملے۔جوکہ وہاں کے لوگوں نے آپس میں ہی بانٹ لیے ۔ اخبارات میں بھی ان کا ذکر آیا تھا۔
ملتان کی جدید خوبصورت عمارتوں میں اسٹیٹ بینک کی عمارت،ہائی کورٹ کی عمارت، ملتان آرٹس کونسل ، ایوان صنعت و تجارت،اور مختلف اچھے ہوٹل قابل دید ہیں۔ملتان میں موجود کرافٹ بازار بھی ہنر مندوں کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہے،مگر بدقسمتی سے اب وہ بازار بند ہو چکا ہے۔اس میں موجود ہنر مندوں کو دوسری جگہ دے دی گئی ہے مگر وہ مستقل نہیں ہے۔ملتان میں کسی بھی دور میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اگر صرف کھدائی میں ملنے والی اشیا کا ہی میوزیم بنا دیا جاتا تو اس وقت دور دورسے لوگ اس شہر کی سیاحت کو آتے۔باہر کے ممالک اور خاص طور سے چین سے خاصی تعداد میں لوگ یہاں سیاحت کو آیا کرتے تھے۔








