ڈریکولا
Posted by ارتقاءِ حيات on November 8, 2011
وہ مر چکا تھا ۔اور اسے دفنا بھی دیا گیا تھا۔مگر ہر رات وہ اپنے تابوت کو کھول کر نکلتا تھا۔اور بستی میں جا کر کسی زندہ انسان کو نشانہ بناتا تھا۔اس کی گردن میں دانت گاڑ کر خون پیتا تھا۔اور پھر اپنے تابوت میں واپس آجاتا تھا۔اس کا شکار بھی دنیا والوں کے لئے مر جاتا تھا۔ مگر اپنے تابوت میں پہنچ کر وہ بھی زندہ ہوجاتا تھا ۔ اور رات کا انتظار کرتا تھا۔تاکہ اپنی پیاس کسی کے خون سے بجھا سکے۔
ڈریکولاکا نام کس نے نہیں سنا؟یہ افسانوی کردار جب سے تخلیق ہوا ہے۔ تب سے یہ ایک ماورائی کردار بن چکا ہے۔دنیا کے افسانوی ادب میں ویمپائرز کا نیا تصور اسی سے وابستہ ہے۔اس کردار کو تراشنے والے کا نام “برام اسٹوکر”تھا۔
برام اسٹوکر اپنی ہیبت ناک کہانیوں اور ناولوں کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ڈریکولا اس کا شاہکار ناول سمجھا جاتا ہے۔اس کردار پر بے شمار فلمیں بن چکی ہیں۔کاؤنٹ ڈریکولا کے کر دار کو جس طرح برام اسٹوکر نے اپنی کتاب میں پینٹ کیا اس نے اسے حقیقی بنا دیا ہے۔ اس نے جب یہ کردار تراشہ تو اسے بالکل پتا نہ تھا کہ یہ کردار خود اس پر چھا جائے گا۔آج برام اسٹوکر سے لوگ اتنا واقف نہیں جتنا کہ وہ کاؤنٹ ڈریکولا کے بارے میں جانتے ہیں۔








Ali Hasaan said
ڈریکولا صاحب درحقیقت رومانیہ میں کسی علاقے کے بادشاہ تھے اور موصوف اکثر بادشاہوں کی طرح ظالم واقع ہوئے تھے انہی کے ظلم کی داستانوں نے اتنی ترقی کی کہ وہ اس ڈریکولا کے روپ تک پہنچ گئی۔میں نے سوچا تھوڑا میں بھی ڈریکولا کے پس منظر پر منہ ماری کر لوں کہ بلاگ نہ سہی تبصرہ ہی سہی۔