ٓٓآ خری الفاظ۔۔۔۔۔!!!
Posted by ارتقاءِ حيات on November 6, 2011
جن دنوں جارج پنجم کا انتقال ہوا ہمیں کہا گیا کہ تمام پروگرام روک کر صرف حزنیہ مغربی موسیقی نشر کی جائے۔نیز خبریں پڑھتے وقت لہجہ ایسا رکھیں گویا خود خبریں پڑھنے والے کا کوئی قریبی عزیز رشتہ دار فوت ہو گیا ہو۔
آغا اشرف ان دنوں سخت کھانسی کا شکار تھے ۔ اس حالت میں انہیں خبریں اور جارج پنجم کی علالت سے موت تک کے حالات و واقعات ریڈیو پر سنانے کا فرض سونپا گیا۔
خبریں پڑھتے ہوئے آغا صاحب اس فقرے کو ہی ادا کر پائے تھے کہ:
“حضور ملک معظم نے انتقال سے کوئی پانچ منٹ قبل فرمایا۔”"
اچانک آغا صاحب کو کھانسی کا دورہ پڑ گیاانہوں نے کھانسنے کے لئے ہنڈل گھما کر مائیک کا تعلق دوسرے اسٹوڈیو سے کر دیا جہاں سے موسیقی نشر ہوتی تھی۔عین اس وقت بابا ملنگ خان طبلہ نواز غصہ میں فرما رہے تھےکہ
“یہ میری ہتھوڑی کون حرامزادہ لے گیا۔
اس طرح ریڈیو پر جو فقرہ نشر ہوا وہ کچھ یوں تھا:
حضور ملک معظم نے انتقال سے کوئی پانچ منٹ قبل فرمایا:
“یہ میری ہتھوڑی کون حرامزادہ لے گیا۔”
ذوالفقار علی بخاری کی یاداشت سے اقتباس



