ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) حصہ دوم

Posted by ارتقاءِ حيات on November 5, 2011

گزشتہ سے پیوستہ
آزرسے گفتگو
اس كے بعد ان كى اپنے باپ آزر كے ساتھ گفتگو بيان كى گئي ہے _(يہاں باپ سے مراد چچاہے اور لفظ ” ابا ” عربى لغت ميں كبھى باپ كے معنى ميں اور كبھى چچاكے معنى ميں آتا ہے )_
قرآن كہتا ہے :اس وقت جبكہ اس نے اپنے باپ سے كہا : اے بابا : تو ايسى چيز كى عبادت كيوں كرتا ہے جو نہ تو سنتى ہے اور نہ ہى ديكھتى ہے اور نہ ہى تيرى كوئي مشكل حل كرسكتى ہے ”_( سورہ مريم آيت 42)
يہ مختصر اور زور دار بيان شرك اور بت پرستى كى نفى ونقصان كا احتمال ہے اسے علمائے عقائد ” دفع ضرر محتمل ” سے تعبير كرتے ہيں _ابراہيم  عليہ السلام  كہتے ہيں كہ تو ايسے معبود كى طرف كيوں جاتاہے كہ جو نہ صرف يہ كہ تيرى كسى مشكل كوحل نہيں كرسكتا ،بلكہ وہ تو اصلا ًسننے اور ديكھنے كى قدرت ہى نہيں ركھتا _
دوسرے لفظوں ميں عبادت ايسى ہستى كى كرنى چاہئے كہ جو مشكلات حل كرنے كى قدرت ركھتى ہو، اپنى عبادت كرنے والے كى حاجات وضروريات كو جانتى ،ديكھتى اور سن سكتى ہوں ليكن ان بتوں ميں يہ تمام باتيں مفقود ہيں _
درحقيقت ابراہيم عليہ السلام يہاں اپنى دعوت اپنے چچا سے شروع كرتے ہيں ،كيونكہ قريبى رشتہ داروں ميں اثرو نفوذ پيدا كرنا زيادہ ضرورى ہے پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم بھى اس بات پر مامور ہوئے تھے كہ پہلے اپنے نزديكى رشتہ داروں كو اسلام كى دعوت ديں _
اس كے بعد ابراہيم  عليہ السلام  واضح منطق كے ساتھ اسے دعوت ديتے ہيں كہ وہ اس امر ميں ان كى پيروى كرتے نظر آتے ہيں :”اے بابا ”مجھے وہ علم ودانش ملى ہے جو تجھے نصيب نہيں ہوئي اس بنا پر تو ميرى پيروى كراور ميرى بات سن ميرى پيروى كرتا كہ ميں تجھے سيدھى راہ كى طرف ہد آيت كروں”_
ميں نے وحى الہى كے ذريعہ سے بہت علم وآگہى حاصل كى ہے اور ميں پورے اطمينان كے ساتھ يہ كہہ سكتا ہوں كہ ميں خطاكے راستے پر نہيں چلوں گا تجھے بھى ہرگز غلط راستے كى دعوت نہيں دوں گا ميں تيرى خوش بختى وسعادت كا خواہاں ہوں تو ميرى بات مان لے تاكہ فلاح ونجات حاصل كرسكے اور اس صراط مستقيم كو طے كركے منزل مقصود تك پہنچ جا_ اس كے بعد اس اثباتى پہلو كو منفى پہلو اور ان آثاركے ساتھ ملاتے ہوئے ، كہ جو اس دعوت پر مترتب ہوتے ہيں ، كہتے ہيں :
”اے بابا : شيطان كى پرستش نہ كركيونكہ شيطان ہميشہ خدائے رحمن كا نافرمان رہاہے”_(سورہ مريم آيت 44)
البتہ ظاہرہے كہ يہاں عبادت سے مراد شيطان كے لئے سجدہ كرنے اور نمازروزہ بجالانے والى عبادت نہيں ہے بلكہ اطاعت اورا س كے علم كى پيروى كرنے كے معنى ميں ہے اور يہ بات خود ايك قسم كى عبادت شمار ہوتى ہے _
ايك مرتبہ پھر اسے شرك اور بت پرستى كے برے نتائج كى طرف متوجہ كرتے ہوئے كہتے ہيں: ”اے بابا : ميں اس بات سے ڈرتاہوں كہ تيرے اختياركردہ شرك وبت پرستى كے سبب خدائے رحمن كى طرف سے تجھ پر عذاب آئے اور تو اوليائے شيطان ميں سے ہوجائے ”_( سورہ مريم آيت 45)
اے ابراہيم تم پر پتھر برسائوںگا
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ان كے چچا كى ہد آيت كے سلسلے ميں منطقى باتيں جو خاص لطف ومحبت كى آميزش ركھتى تھيں گزرچكى ہيں اب آزركے جوابات بيان كرنے كى نوبت ہے تاكہ ان دونوں كا آپس ميں موازنہ كرنے سے حقيقت اور واقعيت ظاہر ہوجائے _قرآن كہتاہے كہ نہ صرف ابراہيم كى دل سوزياں اور ان كا مدلل بيان آزر كے دل پر اثرانداز نہ ہوسكا بلكہ وہ ان باتوں كو سنكر سخت برہم ہوا ،اور اس نے كہا :
”اے ابراہيم عليہ السلام  كيا تو ميرے خدائوںسے روگردان ہے ،اگر تو اس كام سے باز نہيں آئے گاتو ميں ضرور ضرور تجھے سنگسار كروں گا،اور تو اب مجھ سے دور ہوجاميں پھر تجھے نہ ديكھوں”_ (سورہ مريم آيت 46)
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اولاًآزر يہ تك كہنے كے لئے تيار نہيں تھا كہ بتوںكے انكار ،يا مخالفت اور ان كے بارے ميں بدگوئي كا ذكر زبان پر لائے،بلكہ بس اتنا كہا:كيا تو بتوں سے روگردان ہے ؟ تاكہ كہيں ايسانہ ہو بتوں كے حق ميںجسارت ہوجائے ثانياًابراہيم  عليہ السلام  كو تہديد كرتے وقت اسے سنگسار كرنے كى تہديد كى وہ بھى اس تاكيد كے ساتھ كہ جو ”لام” اور ” نون ” تاكيد ثقيلہ سے جو ”لارجمنك” ميں واردہے، اور ہم جانتے ہيں كہ سنگسار كرنا قتل كرنے كى ايك بدترين قسم ہے ثالثاً اس مشروط تہديد اور دھمكى پر ہى قناعت نہيں كى بلكہ اس حالت ميں جناب ابراہيم كو ايك ناقابل برداشت وجود شمار كرتے ہوئے ان سے كہا كہ تو ہميشہ كے لئے ميرى نظروں سے دور ہوجا_
يہ تعبير بہت ہى توہين آميزہے،جسے سخت مزاج افراد اپنے مخالفين كے لئے استعمال كرتے ہيں ،اور فارسى زبان ميں اس كى جگہ ”گورت راگم كن”كہتے ہيں ، يعنى نہ صرف اپنے آپ كو مجھ سے ہميشہ كے لئے چھپالے بلكہ كسى ايسى جگہ چلے جائو كہ ميں تمہارى قبرتك كو بھى نہ ديكھوں ليكن ان تمام باتوں كے باوجود حضرت ابراہيم نے تمام پيغمبروں اور آسمانى رہبروں كى مانند اپنے اعصاب پر كنڑول ركھا، اور تندى اور تيزى اور شديد خشونت وسختى كے مقابلے ميں انتہائي بزرگوارى كے ساتھ كہا:” سلام ہو تجھ پر”_( سورہ مريم آيت 47)
ممكن ہے كہ يہ ايسا سلام الوداعى اورخدا حافظى كا سلام ہو، كيونكہ اس كے چند جملوں كے كہنے كے بعد حضرات ابرہيم عليہ السلام نے آزركو چھوڑديا يہ بھى ممكن ہے كہ يہ ايسا سلام ہوكہ جودعوى اور بحث كو ترك كرنے كے لئے كہاجاتاہے جيسا كہ سورہ قصص ميں ہے :
”اب جبكہ تم ہمارى بات قبول نہيں كرتے ہو، ہمارے اعمال ہمارے لئے ہيں اور تمہارے اعمال تمہارے ليے،تم پر سلام ہے ہم جاہلوں كے ہواخواہ نہيں ہيں”_( سورہ قصص آيت 55)
اس كے بعد مزيد كہا :” ميں عنقريب تيرے لئے اپنے پروردگار سے بخشش كى درخواست كروں گا، كيونكہ وہ ميرے لئے رحيم ولطيف اور مہربان ہے”_( سورہ مريم آيت 47 )
حقيقت ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام  نے آزركى خشونت وسختى اور تہديدودھمكى كے مقابلے ميں اسى جيسا جواب دينے كى بجائے اس كے برخلاف جواب ديا اور اس كے لئے پروردگار سے استغفار كرنے اور اس كے ليئے بخشش كى دعا كرنے كا وعدہ كيا _
اس كے بعد يہ فرمايا كہ :”ميں تم سے (تجھ سے اوراس بت پرست قوم سے )كنارہ كشى كرتاہوں اور اسى طرح ان سے بھى كہ جنہيںتم خدا كے علاوہ پكارتے ہو، يعنى بتوں سے بھى (كنارہ كشى كرتاہوں)”اور ميں تو صرف اپنے پروردگار كو پكارتاہوں اورمجھے اميد ہے كہ ميرى دعا ميرے پروردگاركى بارگاہ ميں قبول ہوئے بغير نہيں رہے گا ”_( سورہ مريم آيت 48)
قرآن ايك طرف حضرت ابراہيم  عليہ السلام  كے آزر كے مقابلے ميں ادب كى نشاندہى كرتاہے _كہ اس نے كہا كہ مجھ سے دور ہوجا تو ابراہيم عليہ السلام  نے بھى اسے قبول كرليا اور دوسرى طرف ان كى اپنے عقيدہ ميں قاطعيت اوريقين كوواضح كرتى ہے يعنى وہ واضح كررہے ہيں كہ ميرى تم سے يہ دورى اس بناء پر نہيں ہے كہ ميں نے اپنے توحيد اعتقاد راسخ سے دستبردارى اختيار كرلى ہے بلكہ اس بناء پر ہے كہ ميں تمہارے نظريہ كو حق تسليم كرنے كے لئے تيار نہيں ہوں، لہذا ميں اپنے عقيد ے پر اسى طرح قائم ہوں_
ضمنى طور پر يہ كہتے ہيں كہ اگر ميں اپنے خداسے دعا كروں تو وہ ميرى دعا كو قبول كرتاہے ليكن تم بيچارے تو اپنے سے زيادہ بيچاروں كو پكارتے ہو اور تمہارى دعا ہرگز قبول نہيں ہوتى يہاں تك كہ وہ تو تمہارى باتوں كو سنتے تك نہيں _
ابراہيم  عليہ السلام  نے اپنے قول كى وفا كى اور اپنے عقيدہ پر جتنا زيادہ سے زيادہ استقامت كے ساتھ رہا جاسكتا ہے، باقى رہے ،ہميشہ توحيد كى منادى كرتے رہے اگرچہ اس وقت كے تمام فاسد اور برے معاشرے نے ان كے خلاف قيام كيا ليكن وہ جناب بالآخراكيلے نہ رہے اور تمام قرون واعصارميں بہت سے پيروكار پيدا كرلئے اس طورپر كہ دنيا كے تمام خدا پرست لوگ ان كے وجود پر فخركرتے ہيں _ (كيا آزر حضرت ابراہيم عليہ السلام  كا باپ تھا؟)
لفظ ”اب ”عربى زبان ميںعام طور پر باپ كے لئے بولا جاتا ہے،اور جيسا كہ ہم ديكھيں گے كہ بعض اوقات چچا،نانا،مربى و معلم اور اسى طرح وہ افراد كہ جو انسان كى تربيت ميں كچھ نہ كچھ زحمت و مشقت اٹھاتے ہيں ان پر بھى بولا جاتا ہے ليكن اس ميں شك نہيں كہ جب يہ لفظ بولا جائے اور كوئي قرينہ موجود نہ ہو تو پھر معنى كے لئے پہلے باپ ہى ذہن ميں آتا ہے_
اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ كيا سچ مچ قرآن كہتا ہے كہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہيم عليہ السلام كاباپ تھا، تو كيا ايك بت پرست اور بت ساز شخص ايك اولوالعزم پيغمبر كا باپ ہوسكتا ہے،اس صورت ميں كيا انسان كى نفسيات و صفات كى وراثت اس كے بيٹے ميں غير مطلوب اثرات پيدا نہيں كردے گي_
مفسرين كى ايك جماعت نے پہلے سوال كا مثبت جواب ديا ہے اور آزر كو حضرت ابراہيم عليہ السلام كا حقيقى باپ سمجھا ہے،جب كہ دوسری مفسرين و علماء کی جماعت كا عقيدہ يہ ہے كہ آزر حضرت ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا،بعض اسے آپ كا نانا اور بہت سے حضرت ابراہيم عليہ السلام كا چچا سمجھتے ہيں_
وہ قرائن جودوسرے علماء كے نقطہ نظر كى تائيد كرتے ہيں حسب ذيل ہيں:
1_كسى تاريخى منبع و مصدر اور كتاب ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كے والد كا نام آزر شمار نہيں كيا گيا بلكہ سب نے”تارخ”لكھا ہے_كتب عہدين ميں بھى يہى نام آيا ہے،قابل توجہ بات يہ ہے كہ جو لوگ اس بات پر اصرار كرتے ہيں كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كا باپ آزر تھا،يہاں انہوں نے ايسى توجيہات كى ہيں جو كسى طرح قابل قبول نہيں ہيں_منجملہ ان كے يہ ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے باپ كا نام تارخ اور اس كا لقب آزر تھا_حالانكہ يہ لقب بھى منابع تاريخ ميں ذكر نہيں ہوا_يا يہ كہ آزر ايك بت تھا كہ جس كى ابراہيم عليہ السلام كا باپ پوجا كرتا تھا،حالانكہ يہ احتمال قرانى آيت كے ظاہر كے ساتھ جو يہ كہتى ہے كہ آزر ان كا باپ تھا كسى طرح بھى مطابقت نہيں ركھتي،مگر يہ كہ كوئي جملہ يا لفظ مقدر مانيں جو كہ خلاف ظاہر ہو_
2_قرآن مجيد كہتا ہے كہ مسلمان يہ حق نہيں ركھتے كہ مشركين كے لئے استغفار كريں اگر چہ وہ ان كے عزيز و قريب ہى كيوں نہ ہوں_اس كے بعد اس غرض سے كہ كوئي آزر كے بارے ميں ابراہيم عليہ السلام كے استغفار كو دستاويز قرار نہ دے اس طرح كہتا ہے:
”ابراہيم عليہ السلام كى اپنے باپ آزر كے لئے استغفار صرف اس وعدہ كى بنا پر تھى جو انہوں نے اس سے كيا تھا_(سورہ توبہ آيت 114)
چونكہ آپ نے يہ كہا تھا كہ:”يعنى ميں عنقريب تيرے لئے استغفار كروں گا_”
يہ اس اميد پر تھا كہ شايد وہ اس وعدہ كى وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستى سے باز آجائے ليكن جب اسے بت پرستى كى راہ ميں پختہ اور ہٹ دھرم پايا تو اس كے لئے استغفار كرنے سے دستبردار ہوگئے_
يہاں سے يہ بات اچھى طرح معلوم ہوجاتى ہے كہ ابراہيم عليہ السلام نے آزر سے مايوس ہوجانے كے بعد پھر كبھى اس كے لئے طلب مغفرت نہيں كي_اور ايسا كرنا مناسب بھى نہيں تھا_ تمام قرائن اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ يہ واقعہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جوانى كے زمانے كا ہے جب كہ آپ شہر بابل ميں رہائش پذير تھے اور بت پرستوں كے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ كررہے تھے_
ليكن قرآن كى دوسرى آيات نشاندہى كرتى ہيں كہ ابراہيم عليہ السلام نے اپنى آخرى عمر ميں خانہ كعبہ كى تعمير كے بعد اپنے باپ كے لئے طلب مغفرت كى ہے(البتہ ان آيات ميں جيسا كہ آئندہ بيان ہوگا،باپ سے”اب”كو تعبير نہيں كيا بلكہ”والد”كے ساتھ تعبير كيا ہے جو صراحت كے ساتھ باپ كے مفہوم كو ادا كرتا ہے)_
جيسا كہ قرآن ميں ہے:
”حمدوثنا اس خدا كے لئے ہے كہ جس نے مجھے بڑھاپے ميں اسماعيل اور اسحاق عطا كيے ،ميرا پروردگار دعائوں كا قبول كرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے ،ميرے ماں باپ اور مومنين كو قيامت كے دن بخش دے ”_(سورہ ابراہيم آيت 39و41
سورہ ابراہيم كى اس آيت كو سورہ توبہ كى آيت كے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں كو مشركين كےلئے استغفار كرنے سے منع كرتى ہے اور ابراہيم كو بھى ايسے كام سے سوائے ايك مدت محدود كے وہ بھى صرف ايك مقدس مقصدوہدف كے لئے روكتى ہے، اچھى طرح معلوم ہوجاتاہے كہ زيربحث قرآنى آيت ميں ”اب”سے مراد باپ نہيں ہے بلكہ چچايانانا يا كوئي اور اسى قسم كارشتہ ہے دوسرے لفظوں ميں ” والد” باپ كے معنى ميں صريح ہے جب كہ” اب” ميں صراحت نہيں پائي جاتى _
قرآن كى آيات ميں لفظ” اب” ايك مقام پرچچا كے لئے بھى استعمال ہوا ہے مثلا سورہ بقرہ آيت 133:
يعقوب  عليہ السلام  كے بيٹوں نے اس سے كہا ہم تيرے خدا اور تيرے آباء ابراہيم واسماعيل واسحاق كے خدائے يكتا كى پرستش كرتے ہيں_
ہم يہ بات اچھى طرح سے جانتے ہيں كہ اسماعيل  عليہ السلام  يعقوب  عليہ السلام  كے چچا تھے باپ نہيں تھے _
3_مختلف اسلامى روايات سے بھى يہ بات معلوم ہوتى ہے ،پيغمبر اكرم (ص) كى ايك مشہور حديث ميں آنحضرت(ص) سے منقول ہے:
”خداوند تعالى مجھے ہميشہ پاك آبائو اجداد كے صلب سے پاك مائوں كے رحم ميں منتقل كرتارہا اور اس نے
مجھے كبھى زمانہ جاہليت كى آلود گيوں اور گندگيوں ميں آلودہ نہيں كيا ”_
اس ميں شك نہيں ہے كہ زمانہ جاہليت كى واضح ترين آلودگى شرك وبت پرستى ہے اور جنہوں نے اسے آلودگى كوزنا ميں منحصر سمجھا ہے ان كے پاس اپنے قول پر كوئي دليل موجود نہيں ہے خصوصا جبكہ قرآن كہتا ہے: ”مشركين گندگى ميں آلودہ اور ناپاك ہيں”_(سورہ توبہ آيت 28)
طبرى اپنى تفسير جامع البيان ميں مشہور مجاہد سے نقل كرتا ہے _وہ صراحت كے ساتھ يہ كہتا ہے كہ ازر ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا_
ايك دوسرا مفسر الوسى اپنى تفسير روح المعانى ميں مندرجہ ذيل قرآنى گفتگو ميں كہتا ہے كہ جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ يہ عقيدہ كہ ازر، ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا بہت سے علماء (اہل سنت) بھى اسى بات كا عقيدہ ركھتے ہيں كہ ازر ابراہيم عليہ السلام كا چچا تھا_
”سيوطي”مشہور عالم كتاب ”مسالك الحنفاء” ميں فخر الدين رازى كى كتاب ”اسرارالتنزيل”سے نقل كرتا ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) كے ماں باپ اور اجداد كبھى بھى مشرك نہيں تھے اور اس حديث سے جو ہم اوپر پيغمبر اكرم (ص) سے نقل كر چكے ہيں استدلال كيا ہے ،اس كے بعد سيوطى خود اضافہ كرتے ہوئے كہتا ہے : ہم اس حقيقت كو دوطرح كى اسلامى روايات سے ثابت كر سكتے ہيں :
پہلى قسم كى روايات تو وہ ہيں كہ جو يہ كہتى ہيں كہ پيغمبر كے اباء واجداد حضرت ادم عليہ السلام تك ہر ايك اپنے زمانہ كا بہترين فرد تھا (ان احاديث كو”صحيح بخاري”اور ”دلائل النبوة”سے بيہقى وغيرہ نے نقل كيا ہے)_
اور دوسرى قسم كى روايات وہ ہيں جو يہ كہتى ہيں كہ ہر زمانے ميں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہيں ،ان دونوں قسم كى رو آيت كو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے كہ اجداد پيغمبر (ص) كہ جن ميں سے ايك ابراہيم  عليہ السلام  كے باپ بھى ہيں يقناً موحد تھے.
طريق سے اصل توحيد كو ثابت كر نے كى كيفيت بيان كرتا ہے _
قرآن پہلے كہتا ہے :”جس طرح ہم نے ابراہيم عليہ السلام كو بت پرستى كے نقصانات سے اگاہ كيا اسى طرح ہم نے اس كے لئے تمام اسمانوں اور زمين پر پرودگار كى مالكيت مطلقہ اور تسلط كى نشاندہى كي”_( سورہ انعام آيت 76)
اس ميں شك نہيں ہے كہ ابراہيم عليہ السلام خدا كى يگانگيت كا استدلال و فطرى يقين ركھتے تھے،ليكن اسرار آفرينش كے مطالعہ سے يہ يقين درجہ كمال كو پہنچ گيا ،جيسا كہ وہ قيامت اور معاد كا يقين ركھتے تھے ،ليكن سربريدہ پرندوں كے زندہ كرنے كے مشاہدہ سے ان كاايمان”عين اليقين”كے مرحلہ كو پہنچ گيا _
اس كے بعد ميں اس موضوع كو تفصيلى طور پر بيان كيا ہے جو ستاروں اور افتاب كے طلوع و غروب سے ابراہيم عليہ السلام كے استدلال كو ان كے خدا نہ ہونے پر واضح كرتا ہے _
پہلے ارشاد ہوتا ہے:”جب رات كے تاريك پردے نے سارے عالم كو چھپا ليا تو ان كى آنكھوں كے سامنے ايك ستارہ ظاہر ہوا ،ابراہيم عليہ السلام نے پكا ر كر كہا كہ كيا يہ ميرا خدا ہے ؟ليكن جب وہ غروب ہو گيا تو انھوں نے پورے يقين كے ساتھ كہا كہ ميں ہرگز ہرگز غروب ہوجانے والوں كو پسند نہيں كرتا اور انھيں عبوديت و ربوبيت كے لائق نہيں سمجھتا”_( سورہ انعام آيت 76)
انھوں نے دوبارہ اپنى انكھيں صفحہ اسمان پر گاڑديں ،اس دفعہ چاند كى چاندى جيسى ٹكيہ وسيع اور دل پذير روشنى كے ساتھ صفحہ اسمان پر ظاہر ہوئي،جب چاند كو ديكھا تو ابراہيم عليہ السلام نے پكار كر كہا كہ كيا يہ ہے ميرا پروردگار ؟ليكن اخر كار چاند كا انجام بھى اس ستارے جيسا ہى ہوااور اس نے بھى اپنا چہرہ پر دہ افق ميں چھپا ليا ،تو حقيقت كے متلاشى ابراہيم عليہ السلام نے كہا كہ اگر ميرا پروردگار مجھے اپنى طرف رہنمائي نہ كرے تو ميں گمراہوں كى صف ميں جا كھڑا ہو ں گا_( سورہ انعام آيت 77)
اس وقت رات اخر كو پہنچ چكى تھى اور اپنے تاريك پردوں كو سميٹ كر اسمان كے منظر سے بھاگ رہى تھى ،افتاب نے افق مشرق سے سر نكالا اور اپنى زيبا اور لطيف نور كو زر بفت كے ايك ٹكڑے كى طرح دشت و كوہ و بيابان پر پھيلا ديا،جس وقت ابراہيم عليہ السلام كى حقيقت بين نظر اس كے خيرہ كرنے والے نور پر پڑى تو پكار كر كہا :كيا ميرا خدا يہ ہے ؟جو سب سے بڑا ہے اور سب سے زيادہ روشن ہے ،ليكن سورج كے غروب ہوجانے اور افتاب كى ٹكيہ كے ہيولائے شب كے منہ ميں چلے جانے سے ابراہيم عليہ السلام نے اپنى اخرى بات ادا كى ،اور كہا:”اے گروہ(قوم)ميں ان تمام بناوٹى معبودوں سے جنھيں تم نے خدا كا شريك قرار دے ليا ہے برى و بيزار ہوں ”_( سورہ انعام آيت 78)
اب جبكہ ميں نے يہ سمجھ ليا ہے كہ اس متغير و محدود اور قوانين طبيعت كے چنگل ميں اسير مخلوقات كے ماوراء ايك ايسا خدا ہے كہ جو اس سارے نظام كائنات پر قادر و حاكم ہے،” تو ميں تو اپنا رخ ايسى ذات كى طرف كرتا ہوں كہ جس نے آسمانوں اور زمين كو پيدا كيا ہے اور اس عقيدے ميں كم سے كم شرك كو بھى راہ نہيں ديتا،ميں تو موحد خالص ہوں اور مشركين ميں سے نہيں ہوں”_( سورہ انعام آيت 79)( جناب ابراہيم عليہ السلام جيسے موحد و يكتا پرست نے كس طرح اسمان كے ستارے كى طرف اشارہ كيا اور يہ كہا كہ يہ ميرا خدا ہے مفسرين نے بہت بحث كى ہے ،ان تمام تفاسير ميں سے دو تفسير يں زيادہ قابل ملاحظہ ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك كو بعض بزرگ مفسرين نے اختيا ر كيا ہے ہم ان ميں سے ايك كو بيا ن كرتے ہيں كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات ستارہ پرستوں اور سور ج پرست لوگوںسے گفتگو كرتے ہوئے كى اور احتمال يہ ہے كہ بابل ميں بت پرستوںكے ساتھ سخت قسم كے مقابلے اور مبارزات كرنے اور اس زمين سے شام كى طرف نكلنے كے بعد جب ان اقوام سے ان كا سامنا ہوا تو اس وقت يہ گفتگو كى تھى ،حضرت ابراہيم عليہ السلام بابل ميں نادان قوموں كى ہٹ دھرمى كو ان كى غلط راہ ورسم ميں ازما چكے تھے لہذا اس بنا پر كہ افتاب و ماہتاب كے پجاريوں اور ستارہ پرستوں كو اپنى طرف متوجہ كريں ،پہلے ان كے ہم صدا ہو گئے اور ستارہ پرستوں سے كہنے لگے كہ تم يہ كہتے ہو كہ يہ زہرہ ستارہ ميرا پروردگار ہے ،بہت اچھا چلو اسے ديكھتے ہيں يہاں تك كہ اس عقيدے كا انجام تمہارے سامنے پيش كروں ،تھوڑى ہى دير گزرى تھى كہ اس ستارے كا چمكدار چہرہ افق كے تاريك پردے كے پيچھے چھپ گيا،يہ وہ مقام تھا كہ ابراہيم عليہ السلام كے ہاتھ ميں ايك محكم ہتھيار اگيا اور وہ كہنے لگے ميں تو كبھى ايسے معبود كو قبول نہيں كر سكتا ،اس بنا پر”ھذاربي” كا مفہوم يہ ہے كہ تمہارے عقيدے كے مطابق يہ ميرا خدا ہے ،يا يہ كہ اپ نے بطور استفہام فرمايا: ”كيا يہ ميرا خدا ہے ”؟)
جاری ہے

2 Responses to “حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) حصہ دوم”

  1. سورت ۔ 6 ۔ الانعام ۔ آيت ۔ 74 ۔ اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (١) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں

    نام کے حوالے سے تفسير ابنِ کثير سے اقتباس
    حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا ۔ آزر سے مراد بُت ہے ۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا ۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بُت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس بُت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو ۔ واللہ اعلم
    ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں ۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے ۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو ۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم
    سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا
    یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود ۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں

  2. حضرت ابراھيم عليہ السلام کے والد کا نام تارخ يا تارح تھا ۔ بحوالہ دائرہ معارف الاسلاميہ طبع اول 1964ء جلد اول صفحہ 115
    اس سلسلہ ميں مزيد ديکھيئے قصص الانبياء جس کا متعلقہ اقتباس انٹرنيٹ پر يہاں ديکھا جا سکتا ہے
    http://urdu.co/islam/qisas-ul-anbiya/hazrat-ibraheem-a.s/

    آزر کا مطلب چچا
    سيّد احمد خان کی لکھی تفسير طبع آگرہ ۔ 1904ء ۔ 3-56
    اور ابوالکلام کا ترجمان القرآن طبع دہلی ۔ 1931ء 1-431ح
    جواز يہ پيش کيا گيا تھا کہ عرب چچا کو مجازی طور پر باپ کہتے ہيں
    مجازی استعمال وہيں درست ہوتا ہے جہاں قرينہ موجود ہو جو مُراد پر دلالت کرے ۔ آيات ميں وہ قرينہ موجود نہيں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers