ادھوری کہانی
Posted by ارتقاءِ حيات on November 5, 2011
آدھی رات کو شدید بارش کے عالم میں جب پوری گلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا ایک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔مکان کے مکین نیند کے عالم میں یا شائد بارش کے شور میں دستک کی آواز نہ سن سکے۔دستک دینے والے نے دوسری بار دستک دی اور ساتھ ہی آواز لگائی”جناب کیا دھکّا لگا دیں گے؟”اب کی بار مکان مالک کی نیند توٹی اور آنکھیں ملتے ہوئے کمرے کی گھڑی میں وقت دیکھا تو تقریباً12بجے تھے۔وہ اٹھ کر بیٹھا سوچ ہی رہا تھا کہ جانے کیوں آنکھ کھل گئی ہے، اتنے میں دستک کے ساتھ ہی پھر آواز آئی”"کوئی جاگ رہا ہے تو مدد کو آئے گا کیادھکّا لگا دیں بہت بارش ہو رہی ہے؟”مکان مالک کو سخت غصہ آیا اور دروازے سے ہی دستک دینے والے کو سخت برا بھلا کہا اور واپس بستر پر آکر لیٹ گیا۔
کچھ ہی دیر بعد اسے احساس ہوا کے اس نے ٹھیک نہیں کیا غریب بارش میں کب تک بھیگتا رہے گا شائد کبھی مجھے یہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑجائے،اور مدد کو کوئی بھی نہ آئے اس نے ہمت کی اور ٹارچ اٹھائی اور دروازے کی جانب بڑھا۔
دروازے سے باہر نکل کر دیکھا تو چاروں جانب اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ہر بارش کا پانی سڑک پر بہہ رہا تھا ۔اس نے زور سے چلّا کر پوچھا”کیا ابھی بھی دھکّے کی ضرورت ہے جناب؟”
“ہاں۔۔۔۔”ایک جانب سے جواب آیا۔
آدمی نے ٹارج کا رخ ادھر کیا مگراسےسڑک کے کنارے درختوں کےسوااور کچھ نظر نہ آیا۔
“تم ہو کہاں؟”آخر اس نے پوچھ ہی لیا۔
یہاں باغیچہ میں دیکھو ۔۔
میں جھولے پر ہوں۔۔۔ جلدی سے دھکا لگا دو ۔




عادل بھیا said
اجی یہ کیا تھا؟
تحریم said
بس ای افسانچہ سا تھا
Ali Hasaan said
لاجواب۔
تحریم said
پسندیدیگی کا شکریہ