ہم کس طرح سنتے ہیں؟
Posted by ارتقاءِ حيات on November 3, 2011
آواز کی لہریں کان کے اندر داخل ہو کر سب سے پہلے کان کے پردے سے ٹکراتی ہیں۔ باریک چھلی سے بنا ہوا یہ پردہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔یہ بم کے دھماکے سے لے کر سوئی کے گرنے کی آواز یکساں آسانے کے ساتھ سن لیتا ہے۔یہ پردہ آپ کی چھوٹی انگلی کے ناخن کے برابر ہے۔ہوا کے دوش پر آنے والی آواز جب اس پردے سے ٹکراتی ہے تو اس میں لرزش پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ پردہ سینٹی میٹر کے کھرب ویں حصے کے برابر بھی لرزے تو کان سے لے کر دماغ تک مخصوص حصے عمل اور ردّعمل کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آخر کار ہوا کی بے معنی لہر آپ کے لئے با معنی لفظ میں بد جاتی ہے۔
اس پردے سے آگے سماعت کی حساس تنصیبات موجود ہیں۔ یہ مرکز بمشکل لوبیے کے دانے کے برابر ہیں۔یہاں U3ننھی منی ہڈیاں نصب ہیں ۔ ایک ہڈی ہتھوڑے کی شکل کی ہوتی ہے۔ دوسری انگریزی کے حرف “یو”
جیسی ہے اور تیسری لوہار کے اس اوزار کی طرح جس پر وہ کسی چیز کو رکھ کر اس پر ضرب لگاتا ہے۔
باہر سے آنے والی آواز”یو”کی شکل والی ہڈی میں موجود ایک بیضوی کھڑکی کے ذریعے سماعت کے اصل مرکز
تک پہنچا دیتی ہے۔Cochelea
سماعت کے اس مرکز میں سیال مادّہ بھرا رہتا ہے۔آواز اس مادّے میں ارتعاش پیدا کرتی ہے۔اس ارتعاش کی وجہ سے اس سیال مادّے میں موجود نظر نہ آنے والے خلیے متحرک ہوجاتے ہیں۔ خلیوں کی یہ حرکت بہت مدّھم Auitory Nerve برقی رو پیدا کرجاتی ہے۔جو انتہائی برق رفتاری کے ساتھ آیویٹری نرو
میں سرائیت کر جاتی ہے۔ یہ آیویٹری نرو پینسل کے سرے جتنی پتلی ہوتی ہے لیکن اس میں تقریباً30ہزار الیکٹریکل سرکٹ لگے ہوتے ہیں۔کانوں کا کام صرف اتنا ہے کہ ان برقی پیغامات کو سننا ، سمجھنا اور ان سے متعلق معلومات یا ہدایات فراہم کرنا دماغ کا کام ہے۔




افتخار اجمل بھوپال said
بہت مہربانی ہو گی آپ کی ۔ مجھے ذرا سمجھايئے کہ ميں کيسے سننا شروع کروں ۔ بہت کم سُنتا ہوں ۔ گھر والے تنگ ہيں مجھ سے
تحریم said
لگتا ہے آپ کی بیگم نے سنایا نہیں ٹھیک سے آپ کو
ورنہ کان ٹھیک رہتے جناب کے