حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) حصہ اول
Posted by ارتقاءِ حيات on November 3, 2011
حضرت ابراہيم عليہ السلام كا نام قرآن مجيد ميں 69/مقامات پر آياہے اور 65/سورۃ وں ميں ان كے متعلق گفتگو ہوئي ہے، قرآن كريم ميں اس عظيم پيغمبر كى بہت مدح و ثناء كى گئي ہے_ اور ان كے بلند صفات كا تذكرہ كيا گيا ہے،ان كى ذات ہر لحاظ سے راہنما اور اسوہ ہے اور وہ ايك كامل انسان كا نمونہ تھے_
خدا كے بارے ميں ان كى معرفت ،بت پرستوں كے بارے ميں ان كى منطق،جابر و قاہر بادشاہوں كے سامنے ان كا انتھك جہاد،حكم خدا كے سامنے ان كا ايثار اور قربانياں،طوفان،حوادث اور سخت آزمائشوں ميں ان كى بے نظير استقامت،صبر اور حوصلے اور ان جيسے ديگر امور،ان ميں سے ہر ايك مفصل داستان ہے اور ان ميں مسلمانوں كے لئے نمونہ عمل ہے_قرآنى ارشادات كے مطابق وہ ايك نيك اور صالح،( سورہ ص آيت 44)فروتنى كرنے والے، (سورہ نحل آيت 122) صديق، (سورہ نحل آيت 120)بردبار،( سورہ مريم آيت 41)اور ايفائے عہد كرنے والے تھے_( سورہ توبہ آيت 114)وہ ايك بے مثال شجاع اور بہادر تھے_ نيزبہت زيادہ سخى تھے _
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى پر تلاطم زندگي
خدا كے بارے ميں ان كى معرفت ،بت پرستوں كے بارے ميں ان كى منطق،جابر و قاہر بادشاہوں كے سامنے ان كا انتھك جہاد،حكم خدا كے سامنے ان كا ايثار اور قربانياں،طوفان،حوادث اور سخت آزمائشوں ميں ان كى بے نظير استقامت،صبر اور حوصلے اور ان جيسے ديگر امور،ان ميں سے ہر ايك مفصل داستان ہے اور ان ميں مسلمانوں كے لئے نمونہ عمل ہے_قرآنى ارشادات كے مطابق وہ ايك نيك اور صالح،( سورہ ص آيت 44)فروتنى كرنے والے، (سورہ نحل آيت 122) صديق، (سورہ نحل آيت 120)بردبار،( سورہ مريم آيت 41)اور ايفائے عہد كرنے والے تھے_( سورہ توبہ آيت 114)وہ ايك بے مثال شجاع اور بہادر تھے_ نيزبہت زيادہ سخى تھے _
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى پر تلاطم زندگي
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى زندگى كے تين دور ميں بيان كيا جاسكتا ہے:
1_قبل بعثت كا دور_
2_دور نبوت اور بابل كے بت پرستوں سے مقابلہ_
3_بابل سے ہجرت اور مصر،فلسطين اور مكہ ميں سعى و كوشش كا دور_
1_قبل بعثت كا دور_
2_دور نبوت اور بابل كے بت پرستوں سے مقابلہ_
3_بابل سے ہجرت اور مصر،فلسطين اور مكہ ميں سعى و كوشش كا دور_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جائے پيدائش
حضرت ابراہيم عليہ السلام بابل ميں پيدا ہوئے_ يہ دنيا كا حيرت انگيز اور عمدہ خطہ تھا_ اس پر ايك ظالم و جابر اور طاقتور حكومت مسلط تھي_()بعض مو رخين نے لكھا ہے كہ آپ عليہ السلام ملك بابل كے شہر آور ميں پيداہوئے)
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے آنكھ كھولى تو بابل پر نمرود جيسا جابر و ظالم بادشاہ حكمراں تھا_وہ اپنے آپ كو بابل كا بڑاخدا سمجھتا تھا_البتہ بابل كے لوگوں كے لئے يہى ايك بت نہ تھا بلكہ اس كے ساتھ ساتھ ان كے يہاں مختلف مواد كے بنے ہوئے مختلف شكلوں كے كئي ايك بت تھے_ وہ ان كے سامنے جھكتے اور ان كے عبادت كياكرتے تھے_
حكومت وقت سادہ لوح افراد كو بيوقوف بنانے اور انہيں افيون زدہ ركھنے كے لئے بت پرستى كو ايك مو ثرذريعہ سمجھتى تھى لہذا وہ بت پرستى كى سخت حامى تھي_ وہ كسى بھى بت كى اہانت كو بہت بڑا نا قابل معافى جرم قرار ديتى تھي_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ولادت كے سلسلے ميں مو رخين نے عجيب و غريب داستان نقل كى ہے جس كا خلاصہ يوںپيش كيا جاتا ہے:
بابل كے نجوميوں نے پيشن گوئي كى تھى كہ ايك ايسا بچہ پيدا ہوگا جو نمرود كى غير متنازعہ طاقت سے مقابلہ كرے گا_ لہذا اس نے اپنى تمام قوتيں اس بات پر صرف كرديں كہ وہ بچہ پيدا نہ ہو_ اس كى كوشش تھى كہ ايسا بچہ پيدا ہو بھى جائے تو اسے قتل كرديا جائے_ ليكن اس كى كوئي تدبير كار گر نہ ہوئي اور يہ بچہ آخر كار پيدا ہوگيااس بچے كى جائے ولادت كے قريب ہى ايك غار تھى _ اس كى ماں اس كى حفاظت كے لئے اسے اس ميں لے گئي اور اسكى پرورش ہونے لگي_ يہاں تك كہ اس كى عمر كے تيرہ برس وہيں گزر گئے_
اب بچہ نمرود كے جاسوسوں سے بچ بچ كر نوجوانى ميں قدم ركھ چكا تھا_ اس نے ارادہ كيا كہ اس عالم تنہائي كو چھوڑديا جائے اور لوگوں تك وہ درس توحيد پہنچائے جو اس نے باطنى الہام اور فكرى مطالعے سے حاصل كيا تھا_
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے آنكھ كھولى تو بابل پر نمرود جيسا جابر و ظالم بادشاہ حكمراں تھا_وہ اپنے آپ كو بابل كا بڑاخدا سمجھتا تھا_البتہ بابل كے لوگوں كے لئے يہى ايك بت نہ تھا بلكہ اس كے ساتھ ساتھ ان كے يہاں مختلف مواد كے بنے ہوئے مختلف شكلوں كے كئي ايك بت تھے_ وہ ان كے سامنے جھكتے اور ان كے عبادت كياكرتے تھے_
حكومت وقت سادہ لوح افراد كو بيوقوف بنانے اور انہيں افيون زدہ ركھنے كے لئے بت پرستى كو ايك مو ثرذريعہ سمجھتى تھى لہذا وہ بت پرستى كى سخت حامى تھي_ وہ كسى بھى بت كى اہانت كو بہت بڑا نا قابل معافى جرم قرار ديتى تھي_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ولادت كے سلسلے ميں مو رخين نے عجيب و غريب داستان نقل كى ہے جس كا خلاصہ يوںپيش كيا جاتا ہے:
بابل كے نجوميوں نے پيشن گوئي كى تھى كہ ايك ايسا بچہ پيدا ہوگا جو نمرود كى غير متنازعہ طاقت سے مقابلہ كرے گا_ لہذا اس نے اپنى تمام قوتيں اس بات پر صرف كرديں كہ وہ بچہ پيدا نہ ہو_ اس كى كوشش تھى كہ ايسا بچہ پيدا ہو بھى جائے تو اسے قتل كرديا جائے_ ليكن اس كى كوئي تدبير كار گر نہ ہوئي اور يہ بچہ آخر كار پيدا ہوگيااس بچے كى جائے ولادت كے قريب ہى ايك غار تھى _ اس كى ماں اس كى حفاظت كے لئے اسے اس ميں لے گئي اور اسكى پرورش ہونے لگي_ يہاں تك كہ اس كى عمر كے تيرہ برس وہيں گزر گئے_
اب بچہ نمرود كے جاسوسوں سے بچ بچ كر نوجوانى ميں قدم ركھ چكا تھا_ اس نے ارادہ كيا كہ اس عالم تنہائي كو چھوڑديا جائے اور لوگوں تك وہ درس توحيد پہنچائے جو اس نے باطنى الہام اور فكرى مطالعے سے حاصل كيا تھا_
دور نبوت
حضرت ابراہيم عليہ السلام كب مبعوث نبوت ہوئے، اس سلسلے ميں ہمارے پاس كوئي واضح دليل موجود نہيں ہے_ البتہ سورہ مريم سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے كہ جب آپ عليہ السلام نے اپنے چچا آزر سے بحث چھيڑى تو آپ عليہ السلام مقام نبوت پر فائز ہوچكے تھے_ آيت كہتى ہے كہ :”اس كتاب ميں ابراہيم عليہ السلام كو ياد كرو،وہ خداكا بہت ہى سچا نبى تھا_جب اس نے اپنے باپ(چچا) سے كہا:”اے بابا تو ايسى چيز كى كيوں عبادت كرتا ہے كہ جو نہ سنتى ہے اور نہ ہى ديكھتى ہے اور تيرى كوئي مشكل بھى حل نہيں كرتي”_( سورہ مريم آيت 41/42)
ہم جانتے ہيں كہ يہ واقعہ بت پرستوں كے ساتھ شديد معركہ آرائي اور آپ كو آگ ميں ڈالے جانے سے پہلے كا ہے_ بعض م ورخين نے لكھا ہے كہ آگ ميں ڈالے جانے كے وقت حضرت ابراہيم عليہ السلام كى عمر 16/سال تھي_ ہم اس كے ساتھ يہ اضافہ كرتے ہيں كہ يہ عظيم كار رسالت آغاز نوجوانى ميں آپ عليہ السلام كے دوش پر آن پڑا تھا_
ہم جانتے ہيں كہ يہ واقعہ بت پرستوں كے ساتھ شديد معركہ آرائي اور آپ كو آگ ميں ڈالے جانے سے پہلے كا ہے_ بعض م ورخين نے لكھا ہے كہ آگ ميں ڈالے جانے كے وقت حضرت ابراہيم عليہ السلام كى عمر 16/سال تھي_ ہم اس كے ساتھ يہ اضافہ كرتے ہيں كہ يہ عظيم كار رسالت آغاز نوجوانى ميں آپ عليہ السلام كے دوش پر آن پڑا تھا_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پانچ برجستہ صفات
قرآن مجيد ميں خدا كى شكر گزارى ايك كامل مصداق يعنى مكتب توحيد كے مجاہد اور علمبردار حضرت ابراہيم عليہ السلام كا ذكر ہے ان كا ذكر اس لحاظ سے بھى خصوصيت كاحامل ہے كہ مسلمان با لعموم اور عرب بالخصوص حضرت ابراہيم كو اپنا پہلاپيشوا اور مقتداء سمجھتے ہيں _
اس عظيم اور بہادر انسان كى صفات ميں سے يہاںصرف پانچ صفات كى طرف اشارہ كيا گيا ہے :
پہلے فرمايا گيا ہے :” ابراہيم اپنى ذات ميں ايك امت تھے”_( سورہ نمل آيت 120)
اس سلسلے ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كو”امت ” كيوں قرار ديا گيا ، مفسرين نے مختلف نكات بيان كيے ہيں ان ميں سے چارقابل ملاحظہ ہيں :
1_ابراہيم عليہ السلام انسانيت كے عظيم رہبر، مقتداء اور معلم تھے اسى بناء پر انھيں امت كہا گيا ہے كيونكہ ” امت ” اسم مفعول كے معنى ميں اسے كہا جاتاہے جس كى لوگ اقتداء كريں اور جس كى رہبرى لوگ قبول كريں _
2_ ابراہيم عليہ السلام ايسى شخصيت كے مالك تھے كہ اپنى ذات ميں ايك امت تھے _كيونكہ بعض اوقات كسى انسان كى شخصيت كا نور اتنى وسيع شعاعوں كا حامل ہوتا ہے كہ اس كى حيثيت ايك دويا بہت سے افراد سے زيادہ ہوجاتى ہے اور اس كى شخصيت ايك عظيم امت كے برابر ہوجاتى ہے _
ان دونوں معانى ميں ايك خاص روحانى تعلق ہے كيونكہ جو شخص كسى ملت كاسچا پيشوا ہوتا ہے وہ ان سب كے اعمال ميں شريك اور حصہ دار ہوتا ہے اور گويا وہ خود امت ہوتا ہے _
3_ وہ ماحول كہ جس ميں كوئي خدا پرست نہ تھا اور جس ميں سب لوگ شرك وبت پرستى كے جوہڑميں غوطہ زن تھے _اس ميں ابراہيم عليہ السلام تن تنہاموحد اور توحيد پرست تھے پس آپ تنہا ايك امت تھے اور اس دور كے مشركين ايك الگ امت تھے _
4_ ابراہيم عليہ السلام ايك امت كے وجودكا سرچشمہ تھے اسى لئے آپ كو ”امت ” كہا گيا ہے _ اس ميں كوئي اشكال نہيں كہ يہ چھوٹا سالفظ اپنے دامن ميں يہ تمام وسيع معانى لئے ہوئے ہو _
جى ہاں، ابراہيم ايك امت تھے_
__وہ ايك عظيم پيشوا تھے _
__وہ ايك امت سازجوانمرد تھے _
__جس ماحول ميں كوئي توحيد كا دم بھر نے والا نہ تھا وہ توحيدكے عظيم علمبردار تھے_
2_ ان كى دوسرى صفت يہ تھى كہ” وہ اللہ كے مطيع بندے تھے ”_( سورہ نمل آيت 120)
3_ ”وہ ہميشہ اللہ كے سيدھے راستے اور طريق حق پر چلتے تھے”_( سورہ نمل آيت 120)
4_” وہ كبھى بھى مشركين ميں سے نہ تھے ”_( سورہ نمل آيت 120)
ان كے فكر كے ہر پہلو ميں ، ان كے دل كے ہر گوشے ميں اور ان كى زندگى كے ہر طرف اللہ ہى كانور جلوہ گرتھا _
5_ان تمام خصوصيات كے علاوہ ”وہ ايسے جواں مرد تھے كہ اللہ كى سب نعمتوں پر شكر گزار تھے”_( سورہ نمل آيت 121)
ان پانچ صفات كو بيان كرنے كے بعد ان كے اہم نتائج بيان كيے گئے ہيں :
1_” اللہ نے ابراہيم كو نبوت اور دعوت كى تبلغ كے لئے منتخب كيا ”_( سورہ نمل آيت 121)
2_” اللہ نے انھيں راہ است كى ہد آيت كي”_( سورہ نمل آيت 121)
اور انھيں ہر قسم كى لغزش اور انحراف سے بچايا _
ہم نے بارہا كہا ہے كہ خدائي ہد آيت ہميشہ لياقت واہليت كى بنياد پر ہوتى ہے كہ جس كا مظاہرہ خود انسان كى طرف سے ہوتا ہے اس كى طرف سے كسى كو كوئي چيز استعداد اور كسى حساب كتاب كے بغيرنہيں دى جاتى حضرت ابراہيم كو بھى اسى بنياد پر يہ ہد آيت نصيب ہوئي _
3_ ”ہم نے دنيا ميں انھيں ”حسنہ” سے نوازا ”_ وسيع معنى كے اعتبار سے ”حسنہ ” ميں ہر قسم كى نيكى اور اچھائي كا مفہوم موجود ہے اس ميں مقام نبوت رسالت سے لے كر اچھى اولادوغيرہ تك كا مفہوم موجود ہے_
4_ اور آخرت ميں وہ صالحين ميں سے ہوں گے ”_( سورہ نمل آيت 122)
5_ ان صفات كے ساتھ ساتھ اللہ نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ايك ايساا متياز عطا فرمايا ہے كہ ان كا مكتب و مذہب صرف ان كے اہل زمانہ كے لئے نہ تھا بلكہ ہميشہ كے لئے تھا خاص طور پر اسلامى امت كے لئے بھى يہ ايك الہام بخش مكتب قرارپايا ہے _جيساكہ قرآن كہتا ہے :”پھر ہم نے تجھے وحى كى دين ابراہيم كى اتباع كركہ جو خالص توحيد كا دين ہے ” _( سورہ نمل آيت 4)
اس عظيم اور بہادر انسان كى صفات ميں سے يہاںصرف پانچ صفات كى طرف اشارہ كيا گيا ہے :
پہلے فرمايا گيا ہے :” ابراہيم اپنى ذات ميں ايك امت تھے”_( سورہ نمل آيت 120)
اس سلسلے ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كو”امت ” كيوں قرار ديا گيا ، مفسرين نے مختلف نكات بيان كيے ہيں ان ميں سے چارقابل ملاحظہ ہيں :
1_ابراہيم عليہ السلام انسانيت كے عظيم رہبر، مقتداء اور معلم تھے اسى بناء پر انھيں امت كہا گيا ہے كيونكہ ” امت ” اسم مفعول كے معنى ميں اسے كہا جاتاہے جس كى لوگ اقتداء كريں اور جس كى رہبرى لوگ قبول كريں _
2_ ابراہيم عليہ السلام ايسى شخصيت كے مالك تھے كہ اپنى ذات ميں ايك امت تھے _كيونكہ بعض اوقات كسى انسان كى شخصيت كا نور اتنى وسيع شعاعوں كا حامل ہوتا ہے كہ اس كى حيثيت ايك دويا بہت سے افراد سے زيادہ ہوجاتى ہے اور اس كى شخصيت ايك عظيم امت كے برابر ہوجاتى ہے _
ان دونوں معانى ميں ايك خاص روحانى تعلق ہے كيونكہ جو شخص كسى ملت كاسچا پيشوا ہوتا ہے وہ ان سب كے اعمال ميں شريك اور حصہ دار ہوتا ہے اور گويا وہ خود امت ہوتا ہے _
3_ وہ ماحول كہ جس ميں كوئي خدا پرست نہ تھا اور جس ميں سب لوگ شرك وبت پرستى كے جوہڑميں غوطہ زن تھے _اس ميں ابراہيم عليہ السلام تن تنہاموحد اور توحيد پرست تھے پس آپ تنہا ايك امت تھے اور اس دور كے مشركين ايك الگ امت تھے _
4_ ابراہيم عليہ السلام ايك امت كے وجودكا سرچشمہ تھے اسى لئے آپ كو ”امت ” كہا گيا ہے _ اس ميں كوئي اشكال نہيں كہ يہ چھوٹا سالفظ اپنے دامن ميں يہ تمام وسيع معانى لئے ہوئے ہو _
جى ہاں، ابراہيم ايك امت تھے_
__وہ ايك عظيم پيشوا تھے _
__وہ ايك امت سازجوانمرد تھے _
__جس ماحول ميں كوئي توحيد كا دم بھر نے والا نہ تھا وہ توحيدكے عظيم علمبردار تھے_
2_ ان كى دوسرى صفت يہ تھى كہ” وہ اللہ كے مطيع بندے تھے ”_( سورہ نمل آيت 120)
3_ ”وہ ہميشہ اللہ كے سيدھے راستے اور طريق حق پر چلتے تھے”_( سورہ نمل آيت 120)
4_” وہ كبھى بھى مشركين ميں سے نہ تھے ”_( سورہ نمل آيت 120)
ان كے فكر كے ہر پہلو ميں ، ان كے دل كے ہر گوشے ميں اور ان كى زندگى كے ہر طرف اللہ ہى كانور جلوہ گرتھا _
5_ان تمام خصوصيات كے علاوہ ”وہ ايسے جواں مرد تھے كہ اللہ كى سب نعمتوں پر شكر گزار تھے”_( سورہ نمل آيت 121)
ان پانچ صفات كو بيان كرنے كے بعد ان كے اہم نتائج بيان كيے گئے ہيں :
1_” اللہ نے ابراہيم كو نبوت اور دعوت كى تبلغ كے لئے منتخب كيا ”_( سورہ نمل آيت 121)
2_” اللہ نے انھيں راہ است كى ہد آيت كي”_( سورہ نمل آيت 121)
اور انھيں ہر قسم كى لغزش اور انحراف سے بچايا _
ہم نے بارہا كہا ہے كہ خدائي ہد آيت ہميشہ لياقت واہليت كى بنياد پر ہوتى ہے كہ جس كا مظاہرہ خود انسان كى طرف سے ہوتا ہے اس كى طرف سے كسى كو كوئي چيز استعداد اور كسى حساب كتاب كے بغيرنہيں دى جاتى حضرت ابراہيم كو بھى اسى بنياد پر يہ ہد آيت نصيب ہوئي _
3_ ”ہم نے دنيا ميں انھيں ”حسنہ” سے نوازا ”_ وسيع معنى كے اعتبار سے ”حسنہ ” ميں ہر قسم كى نيكى اور اچھائي كا مفہوم موجود ہے اس ميں مقام نبوت رسالت سے لے كر اچھى اولادوغيرہ تك كا مفہوم موجود ہے_
4_ اور آخرت ميں وہ صالحين ميں سے ہوں گے ”_( سورہ نمل آيت 122)
5_ ان صفات كے ساتھ ساتھ اللہ نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ايك ايساا متياز عطا فرمايا ہے كہ ان كا مكتب و مذہب صرف ان كے اہل زمانہ كے لئے نہ تھا بلكہ ہميشہ كے لئے تھا خاص طور پر اسلامى امت كے لئے بھى يہ ايك الہام بخش مكتب قرارپايا ہے _جيساكہ قرآن كہتا ہے :”پھر ہم نے تجھے وحى كى دين ابراہيم كى اتباع كركہ جو خالص توحيد كا دين ہے ” _( سورہ نمل آيت 4)
ابراہيم عليہ السلام سب كے لئے نمونہ ہيں
قرآن مجيد بہت سے موارد ميں اپنى تعليمات كى تكميل كے لئے ايسے نمونے جو جہان انسانيت ميں موجود ہيں،گواہ كے طور پر پيش كرتا ہے_ اس لئے قرآن ميں بھى دشمنان خدا سے دوستى كرنے سے سختى كے ساتھ منع كرنے كے بعد،ابراہيم عليہ السلام اور ان كے طريقہ كارميں ايك ايسے عظيم پيشوا كے عنوان سے جو تمام اقوام كے لئے اور خاص طور پر قوم عرب كے لئے احترام كى نظروں سے ديكھے جاتے تھے،گفتگو كرتے ہوئے فرماتا ہے:”تمھارے لئے ابراہيم عليہ السلام اور ان كے ساتھيوں كى زندگى ميں بہترين نمونہ ہے_”(سورہ ممتحنہ آيت 4)
ابراہيم عليہ السلام پيغمبروں كے بزرگ تھے_ ان كى زندگى سرتا سر خدا كى عبوديت،جہاد فى سبيل اللہ اور اس كى پاك ذات كے عشق كے لئے ايك سبق تھي_وہ ابراہيم عليہ السلام كہ امت اسلامى ان كى بابركت دعا كا نتيجہ ہے اور ان كے ركھے ہوئے نام پر فخر كرتى ہے;وہ تمہارے لئے اس سلسلہ ميں ايك اچھا نمونہ بن سكتے ہيں_
”والذين معہ”(جو لوگ ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ تھے)كى تعبير سے مراد وہ مو منين ہيں جو اس راہ ميں ان كے پيرو اور ساتھى رہے_اگر چہ وہ قليل تعداد ميں تھے_ باقى رہا يہ احتمال كہ اس سے مراد وہ پيغمبر ہيں جو آپ كے ساتھ ہم آواز تھے يا ان كے زمانے كے پيغمبر،جيسا كہ بعض نے احتمال ديا ہے_تا ہم يہ بہت بعيد نظر آتا ہے_خصوصاًجبكہ مناسب يہ ہے كہ قرآن يہاں پيغمبر اسلام(ص) كو ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ اور مسلمانوں كو ان كے اصحاب اور انصار سے تشبيہ دے_
يہ تواريخ ميں بھى آيا ہے كہ بابل ميں ايك گروہ ايسا تھا،جو ابراہيم عليہ السلام كے معجزات ديكھنے كے بعدا ن پر ايمان لے آيا تھااور شام كى طرف ہجرت ميں وہ آپ كے ساتھ تھا،اس سے پتہ چلتا ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے كچھ وفادار ياروانصار بھى تھے_
ابراہيم عليہ السلام پيغمبروں كے بزرگ تھے_ ان كى زندگى سرتا سر خدا كى عبوديت،جہاد فى سبيل اللہ اور اس كى پاك ذات كے عشق كے لئے ايك سبق تھي_وہ ابراہيم عليہ السلام كہ امت اسلامى ان كى بابركت دعا كا نتيجہ ہے اور ان كے ركھے ہوئے نام پر فخر كرتى ہے;وہ تمہارے لئے اس سلسلہ ميں ايك اچھا نمونہ بن سكتے ہيں_
”والذين معہ”(جو لوگ ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ تھے)كى تعبير سے مراد وہ مو منين ہيں جو اس راہ ميں ان كے پيرو اور ساتھى رہے_اگر چہ وہ قليل تعداد ميں تھے_ باقى رہا يہ احتمال كہ اس سے مراد وہ پيغمبر ہيں جو آپ كے ساتھ ہم آواز تھے يا ان كے زمانے كے پيغمبر،جيسا كہ بعض نے احتمال ديا ہے_تا ہم يہ بہت بعيد نظر آتا ہے_خصوصاًجبكہ مناسب يہ ہے كہ قرآن يہاں پيغمبر اسلام(ص) كو ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ اور مسلمانوں كو ان كے اصحاب اور انصار سے تشبيہ دے_
يہ تواريخ ميں بھى آيا ہے كہ بابل ميں ايك گروہ ايسا تھا،جو ابراہيم عليہ السلام كے معجزات ديكھنے كے بعدا ن پر ايمان لے آيا تھااور شام كى طرف ہجرت ميں وہ آپ كے ساتھ تھا،اس سے پتہ چلتا ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے كچھ وفادار ياروانصار بھى تھے_
شائستہ اولاد
قرآن كريم ميں بعض ان نعمات ميں سے ايك كى طرف اشارہ ہوا ہے كہ جو خدا وند تعالى نے حضرت ابراہيم كو عطا كى تھيں ، اور وہ نعمت ہے صالح اور آبرومند اور لائق نسل جو نعمات الہى ميں سے ايك عظيم ترين نعمت ہے _
پہلے ارشاد ہوتا ہے : ”ہم نے ابراہيم عليہ السلام كو اسحاق اور يعقوب (فرزند اسحاق ) عطاكئے”_( سورہ انعام آيت 84 )
اور اگر يہاں ابراہيم كے دوسرے فرزند اسماعيل كى طرف اشارہ نہيں ہوا بلكہ بحث كے دوران كہيں ذكر آيا ہے شايد اس كا سبب يہ ہے كہ اسحاق كا سارہ جيسى بانجھ ماں سے پيدا ہونا ، وہ بھى بڑھا پے كى عمر ميں ، بہت عجيب وغريب امراور ايك نعمت غيرمترقبہ تھى _
اس كے بعد يہ بتانے كے لئے كہ كہيں يہ تصور نہ ہو كہ ابراہيم سے قبل كے دور ميں كوئي علم بردار توحيد نہيں تھا اور يہ كام بس انہى كے زمانے سے شروع ہوا ہے مزيد كہتاہے :”اس سے پہلے ہم نے نوح كى بھى ہد آيت ورہبرى كى تھى ”_( سورہ انعام آيت 84)
اور ہم جانتے ہيں كہ نوح پہلے اولوالعزم پيغمبر ہيں جو آئين وشريعت كے حامل تھے اور وہ پيغمبران اولوالعزم كے سلسلے كى پہلى كڑى تھے_
حقيقت ميں حضرت نوح عليہ السلام كى حيثيت اور ان كے مقام كى طرف اشارہ كركے كہ جو حضرت ابراہيم عليہ السلام كے اجدادميں سے ہيں ، اور اسى طرح پيغمبروں كے اس گروہ كے مقام كا تذكرہ كركے كہ جو ابراہيم عليہ السلام كى اولاد اور ذريت ميں سے تھے،حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ممتاز حيثيت كو وراثت، اصل اور ثمرہ كے حوالے سے مشخص كيا گيا ہے _
اوراس كے بعد بہت سے انبياء كے نام گنوائے ہيں جو ذريت ابراہيم عليہ السلام ميں سے تھے پہلے ارشاد ہوتاہے : ”ابراہيم عليہ السلام كى ذريت ميں سے داؤد، سليمان ، ايوب ،يوسف ،موسى اور ہارون تھے”_( سورہ انعام آيت 84)
اس كے بعد:”زكريا عليہ السلام ، يحى عليہ السلام ،عيسى عليہ السلام اور الياس عليہ السلام كانام ليا گيا ہے اور مزيد كہاگيا ہے كہ يہ سب صالحين ميں سے تھے _”(سورہ انعام آيت 85)
پہلے ارشاد ہوتا ہے : ”ہم نے ابراہيم عليہ السلام كو اسحاق اور يعقوب (فرزند اسحاق ) عطاكئے”_( سورہ انعام آيت 84 )
اور اگر يہاں ابراہيم كے دوسرے فرزند اسماعيل كى طرف اشارہ نہيں ہوا بلكہ بحث كے دوران كہيں ذكر آيا ہے شايد اس كا سبب يہ ہے كہ اسحاق كا سارہ جيسى بانجھ ماں سے پيدا ہونا ، وہ بھى بڑھا پے كى عمر ميں ، بہت عجيب وغريب امراور ايك نعمت غيرمترقبہ تھى _
اس كے بعد يہ بتانے كے لئے كہ كہيں يہ تصور نہ ہو كہ ابراہيم سے قبل كے دور ميں كوئي علم بردار توحيد نہيں تھا اور يہ كام بس انہى كے زمانے سے شروع ہوا ہے مزيد كہتاہے :”اس سے پہلے ہم نے نوح كى بھى ہد آيت ورہبرى كى تھى ”_( سورہ انعام آيت 84)
اور ہم جانتے ہيں كہ نوح پہلے اولوالعزم پيغمبر ہيں جو آئين وشريعت كے حامل تھے اور وہ پيغمبران اولوالعزم كے سلسلے كى پہلى كڑى تھے_
حقيقت ميں حضرت نوح عليہ السلام كى حيثيت اور ان كے مقام كى طرف اشارہ كركے كہ جو حضرت ابراہيم عليہ السلام كے اجدادميں سے ہيں ، اور اسى طرح پيغمبروں كے اس گروہ كے مقام كا تذكرہ كركے كہ جو ابراہيم عليہ السلام كى اولاد اور ذريت ميں سے تھے،حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ممتاز حيثيت كو وراثت، اصل اور ثمرہ كے حوالے سے مشخص كيا گيا ہے _
اوراس كے بعد بہت سے انبياء كے نام گنوائے ہيں جو ذريت ابراہيم عليہ السلام ميں سے تھے پہلے ارشاد ہوتاہے : ”ابراہيم عليہ السلام كى ذريت ميں سے داؤد، سليمان ، ايوب ،يوسف ،موسى اور ہارون تھے”_( سورہ انعام آيت 84)
اس كے بعد:”زكريا عليہ السلام ، يحى عليہ السلام ،عيسى عليہ السلام اور الياس عليہ السلام كانام ليا گيا ہے اور مزيد كہاگيا ہے كہ يہ سب صالحين ميں سے تھے _”(سورہ انعام آيت 85)
جاری ہے




افتخار اجمل بھوپال said
جزاک اللہ خيراٌ
زکريا کا يا يحٰی کے بعد تھا ۔ ايسا کيوں ہوا ۔ تحقيق کر ليجئے ۔ ميں نے درست کر ديا ہے
بابل ميری سمجھ کے مطابق موجودہ عراق ميں بغداد سے اسی نوے کلو ميٹر جنوب کی طرف واقع تھا ۔ اس کی ايک صفت معروف ہے کہ وہاں معلق باغ تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ يہ باغ ايک فلسطينی انجنيئر نے بنايا تھا
تحریم said
شائد جلد بازی مین ہوا ہو
آپ نے تصحیح کر دی ہے تو مجھے اب دکھائی بھی نہیں دے رہی کہ غلطی تھی کیا؟
شکریہ