فرعون کا آخری دن
Posted by ارتقاءِ حيات on November 2, 2011
ہمارا ایمان ہے کہ کسی کو محبت سے کھانا کھلانے سے انسان آفت الٰہی سے محفوظ رہتا ہے۔ایک مشہور حکایت ہے کہ:
جب فرعون کا ظلم و ستم اور نا فرمانیاں حد سے گذرگئیں تو فرشتوں نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا کہ اے پروردگار اس سرکش بندے کو جو خدائی کا دعوےدار بھی ہے آخر کیوں اتنی ڈھیل دی جا رہی ہے؟اس کی پکڑ کیوں نہیں ہوتی؟ارشاد ہوا اس کے دسترخوان(مہمان خانے)سے1000غریب ،مسکین ،مسافر اور نادار صبح کو اور شام کو بھی اتنے لوگ کھانا کھاتے ہیں ۔مجھے زیب نہیں دیتا کہ جو میرے بندوں کو بغیر کسی غرض کے رزق دے رہا ہو میں اس کا تختہ کیسے الٹوں۔
بہرحال جب فرعون کو کیفر کردار تک پہنچانے کا آسمانی فیصلہ ہو ہی گیاتو اس پر عمل در آمد یوں ہوا کہ فرعون کے وزیر ہامان کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ صبح و شام کے یہ 2000مفت خورے سرکاری خزانے پر بار ہیں۔اس نے فرعون کو سمجھایا کہ ان کاہلوں، نکمّوں اور نکھٹّوؤں کی سرپرستی بہت ہو گئی۔ اب یہ رسم بند کر دینی چاہئے۔فرعون نے پہلے تو ہامان کا مشورہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ رسم اس کے آباؤاجداد کے زمانے سے ایسا ہوتا چلا آرہا ہے۔لیکن ہامان کے مسلسل اصرار پر اس نے ایک وقت کا کھانا بند کر دیا۔کچھ عرصے بعد ہامان نے اسے یہ باور کرایا کہ جس طرح یہ ایک وقت کے کھانے کا بندوبست خود کرنے لگے ہیں، اسی طرح دوسرے وقت کا بھی کر سکتے ہیں۔فرعون نے اس کی بات نہ مانی لیکن کھانے والوں کی تعداد آدھی کر دی۔ہامان کے اکسانے پر یہ تعداد بتدریج گھٹتی گئی اور سرکاری خزانہ بھرتا چلا گیا۔یہاں تک کے صرف 2کھانے والے رہ گئے پھر 1رہ گیااگلے دن اسے بھی لوٹا دیا گیا تو وہ فرعون کا آخری دن تھا ۔ جب وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت غرقاب ہوگیا۔




غلام مرتضیٰ علی said
براہ کرم برا مت مانیے گا، ایسی حکایتوں کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔ میں نے بھی بچپن میں بڑوں سے یہ سنا تھا کہ فرعون دن کے وقت خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور رات کے وقت خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر اُس کی ربوبیت کا اعتراف کرکے اُس سے اپنی لاج رکھنے کی التجا کیا کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک چھوٹی حکایت تھی۔
فرعون کے بارے میں سب سے سچی باتیں قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ لوگوں کا ربِّ اعلیٰ ہونے کا دعویدار تھا اور کہتا تھا کہ یہ ملکِ مصر اور اس کی نہریں میری ملکیت ہیں۔ اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام نے اُسے کئی معجزتے دکھائے لیکن وہ یہ سب دیکھ کر بھی قائل نہ ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی قوم پر مختلف قسم کے عذاب آئے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دُعا سے ٹلے۔ لیکن فرعون اور اسکی آل پھر اپنے غلط کاریوں کے طرف لوٹ گئے۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کو مقابلے کی دعوت دے دی۔ مقابلے میں فرعونی جادوگرون نے فرعون کا نام پڑھ کر اپنا داو چلایا لیکن ناکام ہو گئے۔ اپنے کالے علم کو ناکام ہوتا دیکھ کر انھیں یقین آگیا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام برحق ہیں چنانچہ وہ اللہ کے حضور سجدے میں گر کر ایمان لے آئے۔ فرعون کے دل پر تب بھی قفل پڑا رہا اور اُس نے ان سابق جادوگروں سے کہا کہ تمہاری یہ جرات کہ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لے آئے۔ اس گستاخی پر میں تمہارے ہاتھ پیر کٹوا کر تمھیں سُولی پر لٹکوا دوں گا۔ وہیں اس نے پیغمبر خدا کو بڑا اُستاد جادوگر قرار دے دیا۔ بھی لیکن نور حق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے والے جادوگروں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور انھیں نے اُسے کہا کہ اس دنیا میں جو چاہو ہمارے ساتھ سلوک کر لو، ہم تو
اپنے رب رحیم کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔
القصّہ، جب اللہ کے حکم کے تحت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی ستم رسیدہ قوم کو ہجرت کا حکم دیا ، اور اس کی بھنک فرعون کو پڑی تو وہ اہلِ ایمان کو قتل کرنے کے ارادے کے ساتھ اپنے تمام لاو لشکر کے ساتھ اُن کے تعاقب میں آیا۔ یعنی اسے یہ بھی گوارا نہ ہوا کہ پیغمبر خدا اس کے ظلم سے پچ وہاں سے ہجرت کرکے کہیں اور پناہ ڈھونڈیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا جلال اپنے عمل میں آیا اور قوم موسیٰ کے بحفاظت سمندر عبور کرنے کے بعد فرعون اپنی آل کے ساتھ غرقاب ہوا۔
میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ظالم و جابر شخص سخی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر بالفرض وہ ایسا کرتا بھی ہو گا تو اپنے دنیاوی نام کے لیے نہ کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے۔ چنانچہ ایسے عمل کی اللہ پاک کے ہاں کیا حیثیت؟
ایک حدیث پاک میں تین ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو دُنیا میں بڑے مجاہد ، عالم اور سخی مشہور ہوں گے لیکن قیامت کے دن انھیں منہ کے بل جہنم میں پھینکنے کا حکم ہوگا۔ اُن کی فریاد پر انھیں باور کرایا جائے گا کہ ان کے تمام اعمال حسنہ کی نیت محض دنیاوی مشہوری کے حصول کی تھی۔ جو انھیں مل چکی۔ لہٰذا آخرت میں اُن کے لیے سوائے جہنم کے کچھ نہیں۔
اللہ کریم ہم سب کو خالص نیکی کی توفیق دے اور ہمارے تمام گناہ معاف فرمائے
غلام مرتضیٰ علی
تحریم said
اللہ کی قدرت پر شک ہے کیا آپ کو کیا وہ کسی ظالم کو توبہ کے لئے وقت بھی نہیں دے سکتا؟
اور وہ سخاوت کے لئے نہیں مضمون میں بتایا اور جتایا گیا ہے وہ محض خاندان کی روایات کو برقرار رکھنا چاہتا تھا
اسے سخاوت اور رحم دلی سے کوئی لینا دینا نہ تھا
اور اسے کوئی خاص دلچسپی بھی نہ تھی سوائے خاندانی روایات کی اور یہی اس کے زوال کا سبب بھی بنی
syed mubashir mehdi said
جی بالکل عدالت اور سخاوت اسلام میں مذھب کو قطع نظر بھت اچھی صفات شمار کی گؑی ھیں اسی لیؑے پیغمبر اکرم ﷺ نے بھی نوشیروان عادل کی اس کی عدالت کی تعریف کی ھے
کچھ اسباب حقیقی ھوتے ھیں اور کچھ انکےذیلی یا الحاقی جو سبب اًپ نے ذکر کیا ھے وہ ذیلی میں شمار ھوتا ھے