رستم و سہراب
Posted by ارتقاءِ حيات on November 2, 2011
رستم و سہراب یہ دو افسانوی کردار ہیں جو برصغیر اور پورے ایشیامیں مشہور ہیں۔ رستم باپ ہے اور سہراب اس کا بیٹا۔دونوں جنگجو پہلوان ہیں۔طاقت اور جرات کے مثالیے۔بد قسمتی سے کہانی میں سہراب کی ماں یہ نہیں بتاتی کہ رستم سہراب کا باپ ہے۔اس طرح دونوں میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔بالآخر کسی فطری احساس کے تحت سہراب رستم کو مارنےکی قدرت پاتے ہوئے بھی اسے چھوڑ دیتا ہے۔مگر رستم اپنا مان رکھنے کے لئے اس کے سینے میں تلوار گھونپ دیتا ہے۔اختتامی لمحات میں اسے یہ پتا چلتا ہے کہ اس نے اپنے ہی بیٹے کو ہلاک کر دیا ہے۔
یہ خوفناک و المناک رزمیہ داستان فارسی مین لکھی گئی ہے۔ اس کا خالق مشہور شاعر “فردوسی”ہے۔وہ صاحب کمال شاعر جو محمود غزنوی کے داربار سے وابستہ تھا۔کتاب کا نام ہے “شاہ نامہ”یہ کتاب پوری دنیا میں مشہور ہے۔اس میں اور بھی ادب سے خوبصورت اور جاذب توجہ کردار مگر رستم و سہراب کا نام کتاب سے جھلک کر بہت دور تک چلا گیاہے۔
رزمیہ کہانیاں یورپ میں بھی لکھی گئی ہیں مثلاً اوڈیسی جو ہومر کی تخلیق ہےاور اس کے بہت سے کردارجیسے ایکلیز ، ہر کولیس وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ مگر رستم وسہراب کی بات ہی کچھ اور ہے۔فردوسی نے یہ رزمیہ لالچ میں لکھا تھا۔کہ محمود غزنوی وعدے کے مطابق ہر شعر پر ایک سونے کی اشرفی دے گا۔یہ رقم اسے اپنی زندگی میں نہ مل سکی۔محمود نے جب رقم بصد جبروکراہ جب بھیجی تو اسی روز فردوسی دنیا سے رخصت ہو گیا۔یہ تمام قصہ خود ایک کہانی سے کم نہیں۔








Ali Hasaan said
رستم و سہراب سے میرا پہلا تعارف ایسے ہوا تھا کہ ایک موٹا سا شخص سائیکل چلاتا ہوا جا رہا تھا تو میرے ساتھ کھڑے ایک بھائی صاحب بولے “سہراب پر رستم” اگر آپ نے تب ہی لکھ دیا ہوتا یہ بلاگ تو میں کافی عرصہ سہراب سائیکل اور سہراب ولد رستم کو گڈمڈ نہ کرتا۔ آپکا بلاگ بہت اچھا ہے بہت معلوماتی ہے۔
تحریم said
علی بھائی آپ کی آمد کا شکریہ
سائکل تو میرے ابّو کے پاس بھی وہی تھی اور
میں نے بھی وہی چلائی پر فرق ضرور سمجھتی تھی
آتے رہا کیجئے بلاگ پر