علی بن میثم کاایک عیسائی سے مذاکرہ
Posted by ارتقاءِ حيات on November 1, 2011
ایک روز آپ نے ایک عیسائی سے اس طرح مذاکرہ کیا:
علی بن میثم: ” تم لوگوں نے اپنی گردن میں صلیب کی شکل کیوں لٹکا رکھی ہے “؟
عیسائی: ”کیونکہ یہ شکل اس چیز سے شباہت رکھتی ہے جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لٹکا کر پھانسی دی گئی تھی“۔
علی بن میثم: ”کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود اس طرح کی چیز کا اپنی گردن میں لٹکا نا پسند کریں گے ؟“
عیسائی: ”ہر گز نہیں“۔
علی بن میثم: ”کیوں؟“۔
عیسائی: ”کیونکہ وہ جس چیز پر قتل کئے گئے ہیں اس کو ہر گز نہیں پسند کریں گے“۔
علی بن میثم: ”مجھے یہ بتاوٴ کہ کیا جناب عیسیٰ علیہ السلام اپنے کاموں کے لئے گدھے پر سوار ہوتے تھے ؟“۔
عیسائی: ”ہاں“۔
علی بن میثم: ”کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ا س چیز کو پسند کرتے کہ وہ گدھا باقی رہے اور ان کی ضرورت کے وقت انھیں ان کی منزل مقصود تک لے جائے؟“
عیسائی: ”ہاں“۔
علی بن میثم: ”تم نے اس چیز کو تر ک کر دیا جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چاہتے تھے کہ باقی رہے اور جس چیز کو وہ پسند نہیں کرتے تھے تم لوگوں نے اسے باقی رکھا ہے اور اسے اپنی گردن میں لٹکا رکھا ہے جب کہ تمہارے نظریہ کے مطابق تو تمہارے لئے بہتر یہ تھا کہ گدھے کی شکل کی کوئی چیز گردن میں لٹکاتے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے باقی رکھنا چاہتے تھے، تم صلیب کو دور پھینکو ورنہ اس سے تمہاری جہل و نادانی ثابت ہوگی“۔




دوست said
غالباً عیسائی عالموں کا زیادہ “منطقی” جواب یہ ہوگا کہ عیسیؑ نے چونکہ ان کے گناہوں کی تلافی معافی کے لیے اپنا آپ مصلوب کر دیا۔ اس لیے صلیب پہننا انہیں ضرور پسند ہو گا۔
تحریم said
آپ یہی جواب دیجئے گا رہنمائی کر دی گئی ہے
علی بن میثم کاایک عیسائی سے مذاکرہ | Tea Break said
[...] علی بن میثم کاایک عیسائی سے مذاکرہ [...]