صحافتی داؤ
Posted by ارتقاءِ حيات on October 29, 2011
امریکہ ریاست الی نوائے کے شہر گالینا میں ایک چھوٹی سی بچی گھومتی پھرتی ایک بینک میں دفتری اوقات کے خاتمے کے وقت داخل ہوئی ۔والٹ کا دروازہ بند ہو گیا۔اور ٹائم لاک لگ گیا۔لڑکی والٹ میں بند ہو گئی۔ اس خبر کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے اخباری نمائندوں کو دوڑایا گیا۔
اس زمانے کے ٹائم لاک باہر سے بھی کھولے جا سکتے تھے۔شکاگو کے اخبار “ہیرالڈ ایگزامنر”کا ایڈیٹر “والٹر ہادے”ا س حقیقت سے واقف تھا۔اس نے جولیٹ کے جیل خانے کے وارڈن کو فون کر کے کہا:کیا تمہاری جیل میں تجوری کھولنے یا توڑنے والے قیدی ہیں؟”
وارڈن نے بڑے فخر سے کہا”ہاں جناب کئی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ماہر فن۔”
والٹر ہادے نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا “میری بات گور سے سنو اور جو میں کہہ رہا ہوں اس پر فوری عمل کرو۔اپنے 4بہترین ماہر فن کو گالینا روانہ کرو،وہاں ایک چھوٹی بچی بینک کے والٹ میں بند ہو گئی ہے۔اسے باہر نہ نکالا گیا تو وہ صبح تک دم گھٹ کر ہلاک ہو جائے گی۔”
“اس کے لئے آپ کو گورنر سے اجازت لینا ہوگی۔”وارڈن نے عذر پیش کیا۔
اگر تم نے میری بات پر عمل نہ کیا تو میں گورنر سے کہہ کر ملازمت سے نکلوادوں گا۔”ہادے نے دھمکی دی۔
اس کے بعد ہاوے نے ایک کرائے کی کار میں اپنے بہترین رپورٹروںاور فوٹوگرافروںکو گالینا روانہ کر دیا۔
گالینا کے بینک کے والٹ کو جب قیدیوں نے کھولا تو وہا ں کوئی لڑکی موجود نہ تھی۔وہ تو اپنی سہلی کے ساتھ اس کے گھر پر موجود تھی۔کوئی اور ایڈیٹر ہوتا تو اس حرکت پر تباہ ہو گیا ہوتا۔لیکن وہ ہاوے تھا۔اس کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس نے اس خبر کو صفحہ اول پر نہایت نمایاں طور پر شائع کی کہ کس طرح گورنر نے تجوری توڑنے والوں کو رہا کیا۔اور والٹ کو کھولتے ہوئے سنگ دل بے رحم مجرب کس بری طرح رو رہے تھے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اور جب والٹ کا دروازہ کھل گیا اور لڑکی کو اندر نہ پایا تو وہ زمین پر گر گئے خدا کا شکر ادا کیا۔ اس خبر کی شہ سرخی اس نے یہ جمائی تھی”انسانیت بڑی حسین چیز ہے”




افتخار اجمل بھوپال said
سياست اور صحافت دو جديد ہتھيار ہيں تو مالدار لوگ عوام کے خلاف استعمال کرتے ہيں
ہمارے ہاں بھی صحافی کچھ کم نہيں ہيں ۔ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا ديتے ہيں ۔ لال مسجد پر حملہ اور ملحقہ جامعہ حفصہ ميں سينکڑوں بيگناہ کمسن لڑکيوں کے قتلِ عام کو جائز قرار دينے والے بھی صحافی ہی تھے ۔ وہاں تو بدنامِ زمانہ پوليس والوں نے يلغار کرنے سے انکار کر ديا ۔ پھر پہلے فوجی کمانڈو دستے نے انکار کيا ۔ يہ کچھ صحافيوں کے علم ميں تھا مگر نہ اخبار ميں آيا نہ ٹی وی پر نشر ہوا اس کی بجائے لال مسجد اور جامعہ حفصہ ميں محصور بھوکے پياسے بيگناہ لوگوں کے خلاف جھوٹا پروپيگنڈہ کيا جاتا رہا تھا
صحافتی داؤ | Tea Break said
[...] صحافتی داؤ [...]