ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اودھی زبان اور اس کا پس منظر

Posted by ارتقاءِ حيات on October 28, 2011

رانی پدمنی کی بے مثال وفاداری اور بہادری کی داستان کو سب سے زیادہ شہرت“پدماوت”نامی ایک طویل نظم سے ملی ۔جسے1540؁میں ملک محمد جسی نے اودھی زبان میں تحریر کیا۔اس نظم کا انتساب شیر شاہ(1486؁سے1545؁)کے نام سے تھا۔جبکہ اودھی زبان میں یہ پہلا عظیم ادبی شاہکار تھا۔
اودھی ایک انڈو آرین زبان ہے۔ زیادہ تر یہ زبان اتر پردیش کے علاقے اودھ میں بولی جاتی ہے۔لیکن بہار،مدھیا  پردیش ،دہلی اور نیپال میں بھی اودھی زبان بولنے والے پائے جاتے ہیں۔اودھی کا ایک اور لہجہ برج بھاشا یا بوندیلی سے زیادہ متاثر ہے۔وتسا یعنی زیریں دو آب کے حصوں یعنی اودھ ریجن کے جنوب میں بھی بولا جاتا ہے۔ان علاقوں میں کانپور اور الہ آباد شامل ہیں۔
گو کہ آج کل اودھی زبان کو ہندی کا ہی ایک انداز یا لہجہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ہندی کے ارتقاء سے پہلے اودھی زبان برج بھازا کے بعد دوسری بڑی زبان تھی۔ اودھی زبان میں جو شاہکار تخلیق ہوئے ان میں تلسی داس کی رام چرت مانس(رامائن)اور ملک محمد جسی کی پادما وت قابل ذکر ہیں۔
اودھی کی “ماردری زبان”بدج بھاشا ہے،جسے اس علاقے کی قدیم ترین زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جبکہ اس کے علاوہ اودھی نے اپنے مشرق میں بولی جانے والی مگاہی کا اثر بھی قبول کیا۔
ماہر لسانیات کا کہنا ہے کہ اگر کھڈی زبان کو جدید ہندی زبان کا باپ قرار دیا جاتا ہے تو اودھی کو اس کی ماں کہا جاسکتا ہے۔ ہندی کو پہلے ہندوی کہا جاتا تھا اور ماہر لسانیات کے مطابق اس زبان کو ان لوگوں نے رواج دیا جو دہلی کے قرب و جوار کےعلاقوں سے ہجرت کر کے لکھنؤ پہنچے تھے۔ ان میں امیر خسرو جیسے لوگ بھی شامل تھے جنہیں بعض افراد جدید ہندی کا بانی قرار دیتے ہیں۔اسی طرح اودھی نے ہندی کی کی ترویج اور ارتقا میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
اودھی زبان،بھوج پوری سے قطعی مختلف ہے۔ان کے لہجے بے شک ایک دوسرےسے ملتے ہوں لیکن ویسے یہ ایک دوسرے سے قطعی علیحدہ زبانیں ہیں۔یہ دونوں ہندوستانی فلموں اور ڈراموں میں عام طور پر وہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔جنہیں ہجرت کر کے بمبئی میں اپنی زندگی کی جدو جہد کرتے دکھایا جاتا ہے۔
اودھی زبان ہندوستان کے اضلاع لکھنؤ ، رائے، بریلی،فیض آباد ، بارہ بنکی ، سیتا پور، لکھم پور کھیری،ہردوئی، بہرائچ، گونڈا، سلطان پور، ادوناؤ،پرتاب گڑھ، بھیم پور، برلام پور، کے علاوہ کانپور اور الہ آباد میں بھی بولی جاتی ہے۔
ملک محمد جسی کا شمار اسی اودھی زبان کے مشہر شعراء میں ہوتا ہے۔1477؁ میں پیدا ہونے والے ملک محمد جسی کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع رائے بریلی کے گاؤں سے تھا جس جو اب بہت بڑا قصبہ ہے۔
ملک محمد جسی کا مقبرہ امریٹھی کے نزدیک رام نگر سے 3کلو میٹر شمال میں واقع ہیں جہاں1542؁ میں ان کا انتقال ہواتھا لیکن جیس شہر میں ان کا نام پر”جیسی سمارک”(جیسی میموریل)بہر حال موجود ہے۔
ملک محمد جسی نے گو”آخراوت”اور “آخری کلام” جیسی معرکتۂ الآرا نظمیں بھی لکھیں ،لیکن انہیں اصل شہرت میں چتوڑپرسلطان علاؤ الدین خلجی کے حملے کی وجوہات اور رانی پدمنی کی اجتماعی خودکشی کا احوال نہایت تفصیل کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق اس طویل نظم میں “چتوڑ”کو “جسم”راجا کو ذہن ،سیلون کو دل، پدمنی کو عقل، اور علاؤالدین کو ہواس کے استعماروں میں استعمال کیا گیا ہے۔ جس نے پدما وت کو دینا اور حکمران کو خواہش سے تعبیر کیا ہے۔چنانچہ پوری نظم میں اسی ترتیب کو کارفرما رکھا گیا ہے۔
تواریخ میں ہے کہ رانی پدمنی کی تقلید مین چتوڑ کی دو اور مہارانیوں نے بھی بیرونی حملہ آوروں کے ہاتھوں اپنی عزت و ناموس کو محفوظ رکھنے کے لئے اجتماعی چتا میں جلنے کا راستہ اپنایا، لیکن رانی پدمنی کو سب سے زیادہ شہرت نصیب ہوئی،کیونکہ سلطان علاؤالدین نے دوسرے حملہ آوروں کے برعکس یہ لڑائی چتوڑپر قبضے کے لئے نہیں بلکہ رانی پدمنی کے حصول کے لئے لڑی تھی۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers