ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

مختصر تاریخ مصر جدیدیت تک

Posted by ارتقاءِ حيات on October 25, 2011

 
نیل کی ارض مرتفع اور زراعت کے قابل اراضی پر پھیلے قدیم پتھروں پر کندہ کاری کے جو نمونے ملتے ہیں ، وہ قبل از تاریخ کے مصر کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔یہ اب سے پندرہ ہزار سال قبل کی بات ہے۔جب انسان نے پتھر سے اوزار بنانا سیکھے۔”اسٹون ایج”کا درمیانی حصہ جسے درمیان حجری یعن
کہا جاتا ہے،میں شکار اور ماہی گیری کے کلچر پر زرعی کلچر کا غلبہ ظاہر ہونے لگاتھا،Mesolithic
جس نے بدلتے موسم کی مدد سے8000قبل مسیح میں مصر کی زمین کو صحرا کی شکل دینی شروع کی۔اس زمانے میں مختلف قبائل نے نیل کے گرد آباد ہونا شرو ع کیا ،اور زرعی معاشروں کی داغ بیل ڈالی۔جسکی بدولت اس زمین نے آگے چل کر تہذیب کا گہورہ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
وقت گزرتا رہا اور جس کی بہتر تفہیم کے لئے آج کا انسان اسے مختلف ادوار میں تقسیم کرتا ہے۔مصر کے مغربی کنارے کے قصبے “نقادا”سے جو قدیم مصر میں “نبت”کہلاتا تھا۔ملنے والی مٹی کے برتن اور مرتبانوں پر نقش تصویری تحریروں سے قبل از تاریخ کے مصرکی بابت معلومات ملتی ہیں۔الغرض موجودہ مصر کی جڑیں قبل از تاریخ تک پھیلی ہیں۔
پہلے فرعون تصور کیئے جانے والے “مینس“نے تین ہزار سال قبل مسیح میں اس سر زمین پر ایک متحدہ ریاست کی بنیاد رکھی۔اسی خاندان کے طاقتور حکمران آنے والے تین ہزار سال تک سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ انہیں برسوں میں مصر کی ثقافت پروان چڑھی، اور اس کی شناخت بنی۔شاہی سلسلے کے ابتدائی 2فرعونوں کا زمانہ جو اندازاً2700سے2200قبل از تاریخ کا درمیانی حصہ ہے، آج اہرام کی وجہ سے تاریخ انسانی میں خاص مقام کا حامل ہے۔ سولہویں صدی قبل از مسیح سے کیارہویں صدی قبل مسیح کا زمانہ تاریخ میں ایک نئی مملکت کے قیام کا زمانہ ہے۔جس کا آغاز اٹھارویں فرعون کے وقت سے ہوتا ہے۔اس زمانے میں مصر نے “سپر پاور “کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔
تیسواں فرعون وہ بدنصیب انسان تھا جسے اس وسیع ریاست کا زوال دیکھنا پڑا ۔ 343 قبل از مسیح میں اس سرزمین پر پیدا ہونے والے “نیگٹا نیبو دوم”نے جنگ میں شکست کھائی اور یہ ریاست فارس کے زیر تسلط آگئی۔بعد میں رومنوں نے بھی اس پر
چرحائی کی۔دوہزاربرس تک غیر ملکی حکمران اس مملکت کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے۔ بازنطینیوں کے زیر تسلط آنے سے قبل،پہلی صدی میں حضرت عیسٰی ؑکے حواری مرقس نے مصر کو عیسائیت سے روشناس کروایا۔639؁تک بازنطینی اس سرزمین کے حکمران رہے۔پھر عرب کی سرزمین سے مسلمانوں کے لشکروں نے مصر پر چڑھائی کردی اور یوں اسلام اس ریاست میں داخل ہوگیا۔
اگلی چھ صدیوں تک مسلمانوں نے اس ریاست پر حکومت کی اور خلیفہ کے الفاظ کو حکم کا درجہ حاصل رہا۔1517؁میں ترکوں نے اسے تسخیر کر لیا اور یوں سلطنت عثمانیہ کا یہ حصہ بن گیا۔اس صدی میں “طاعون “کی صورت”سیاہ موت”نے دینا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔مصر بھی اس کی زد میں آیا، اور ٪40آبادی اس عفریت کی نذر ہوگئی۔
پندرہویں صدی کے اواخر میں عثمانی حکومت کے اقدامات حالات میں بگاڑ کا سبب بننے لگے ۔ عوام متنفر ہوگئےاور معاشی و سماجی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے۔غیر ملکی تاجروں نے رخت سفر باندھ لیا ،زراعت تباہ ہوگئی۔1687؁سے1731؁کے درمیان 6قحط آئے 1784؁کے قحط نے ریاست کی بڑی آبادی کو نگل لیا۔
1798؁ میں نپولین بونا پارٹ کی سربراہی میں فرانسسیوں نےمصر پر حملے شروع کئے۔ حالات میں تیزی سے بگاڑ آتا گیا۔اسی زمانے میں  ترک فوج کی البانوی رجمنٹ کا کمانڈر محمد علی پاشا ابر ہر سامنے آیا۔استنبول میں بیٹھے سلطان نے اسے مصر میں اپنا قائم مقام مقرر کیا ۔بظاہر تومصر پر حکومت کرنے والا کارندہ سلطان کے زیر اثر تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ استنبول کی گرفت کمزور ہوتی جارہی تھی، اور بالآخر محمد علی پاشا نے مصر پر اپنی حکومت قائم کر لی۔اور اسی خاندان کے دور حکومت میں جب مصر برطانوی سامراج کے زیر اثر تھا ،جدید عربی ادب کو بین الاقوامی دنیا میں متعارف کروانے والا تخلیق کار پیدا ہوا جس کی علمیت کے سامنے مغرب کا تعصب نہ ٹھہر سکا ۔ جس کے گرویدہ بنالینے والے اسلوب نے قارئین و ناقدین کو حیرت کے وسیع سمندر میں دھکیل دیا 1988؁ میں ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والے مصر کے اس بطل جلیل کا نام “نجیب محفوظ“تھا۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers