ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

مولانا جلال الدین رومی بلخی

Posted by ارتقاءِ حيات on October 24, 2011

 

مولانا جلال الدین رومی بلخی 1207ء ميں بلغ کے شہر ميں پيدا ہوئے – اس وقت تمام ايشيا سماجي وسياسي اورعسکري نقصانات برداشت کر رہا تھا- ان کے والد گرامي محمد بہاؤالدين الصديقي ، جن کا سلسلہ نسب دس واسطوں سے حضرت ابوبکر سے ملتا ہے- جو اسلام کے پہلے خليفہ تھے – طاہر المولوي کے مطابق رومي کي والدہ ماجدہ بھي سرکار دو عالم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نسل پاک سے تعلق رکھتي تھيں – رومي اس متبرک اور مطہر خاندان کے شجر محمود کا مقدس ثمر تھے -
 سلطان العلماء کي حيثيت خاص ميں ان کے والدگرامي مرد حق اور وارث پيغمبر اسلام تھے- رب العزت کے ديگر اولياء کاملين کي طرح ، انہوں نے سخت مصائب برداشت کيے اور بالآخر ہجرت کرنے پر مجبور کرديے گئے – اس طرح انہوں نے خوارزم کي سرزمين کو چھوڑا، جہاں وہ پيدا ہوئے تھے – اور ايک اذيت ناک اور طويل ترين سفر طے کيا- جو مختلف مقام منازل پر مشتمل تھا- سب سے پہلے انہوں نے اپنے افراد خاندان کے ہمراہ مقدس سرزمين مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ ميں حاضري دي – يہاں سے انہوں نے دوبارہ سفر شروع کيا اور دمشق ميں کچھ عرصہ قيام پذير رہے – جہاں  ان کي ملاقات بہت سے اولياء کاملين سے ہوئي – ابن العربي جيسے اولياء اللہ سے روحاني کمالات اور فيوض و برکات سے استفادہ کيا- چھ يا سات سال کي کم عمري ميں رومي اپنے والدگرامي کے ہمراہ ان تمام حالات و واقعات کا مشاہدہ کيا – ان کي روحاني اسرار و رموز دريافت کرنے کي عادت اورحسن تجسس نے ان کو اس قابل بنا ديا کہ وہ تمام تجربات اور احوال کا غير معمولي لياقت سے احاطہ کرسکيں – اس کم عمري ميں رومي نے اپنے پاکيزہ ماحول کو مکمل طور پر دل نشين کر ليا تھا- اور ان پر ابن عربي کے رموز و اسرار روحاني حقيقت مکمل طورپر منکشف ہو گئي تھي – رومي نے ابن عربي سے کامل يکسوئي سے روحاني فيض حاصل کيا-
گردش ليل و نہار نے ان کي ہجرت کے سفر کو کبھي چين نہيں لينے ديا- اس سخت سفر ہجرت نے انہوں گوناں گوں فيوض و برکات، فيضان روحاني اور وجداني تحريک سے مستفيد کيا- حضرت ابراہيم، حضرت موسي اور بالخصوص پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کي پيروي ميں رومي نے تواتر کے ساتھ ان فيوض وبرکات اور روحاني انعامات کو تلاش کرنے ميں کامياب وکامران رہے – تقدير الہي نے ان کو جو کچھ عطا کيا، رومي نے قبول کيا – اور رب العزت نے انہيں کثير احسانات اور انعامات سے سرفراز فرمايا تھا-
يہ متبرک اور ممتاز خاندان سفر کے دوران شہر Erizncan اور پھر کرامان Karaman قيام پذير ہوا- اس مختصر قيام کے دوران رومي نے کرامان ميں مختلف عرصہ کے ليے ميں Halavey School ميں تعليم حاصل کي – مزيد اس مدرسہ کے علاوہ انہوں نے ديني علوم اور روحاني سائينسيز Spiritual Sciences کي تعليم دمشق اور Aleppu کے مدارس سے حاصل کي – گريجويشن کرنے کے بعد قونيہ تشريف لائے – جس کو انہوں نے مستقل مسکن بنا ليا- اوربہت ہي عزت ومرتبہ سے قونيہ کي سرزمين کو سرفراز فرمايا- يہاں پر انہوں نے حضرت شمس الدين سرقندي کي بيٹي Gekher Khafun سے نکاح فرمايا- کچھ عرصے بعد رومي کے والد گرامي سلطان العلماء اللہ کو پيارے ہو گئے – بہاء الدين ترمزي کي نگراني ميں رومي نے اپنا طويل روحاني سفر شروع کيا- چند برسوں کے بعد رکن الدين زرکوبي کي تجويز پر رومي نے حضرت شمس الدين تبريزي سے قونيہ ميں ملاقات کي، جو اس وقت قونيہ کے سفر پرتھے – شمس الدين تبريزي کي صحبت سے فيض ياب ہوئے – اعلي وارفع روحاني منازل طے کيں – اورايک مرد حق اورمرد کامل کے اوصاف طيبہ اپني ذات اقدس ميں جمع کيے -يہ شمس تبريزي کا فيضان نظر ہے کہ رومي نے روحاني رموز واسرار کي بنا پر تمام دنيا ميں شہرت دوام حاصل کيا-ا
دنيا ميں بہت ہي کم لوگ ايسے ہوتے ہيں جو انسانيت کي سربلندي کے ليۓ اور فلاح کے راستے کي تلاش ميں اپني پوري زندگي قربان کر ديتے ہيں – يہي وہ لوگ ہوتے ہيں جو اپني محبت، قرباني ، سچے وعدوں اور کامل رہنمائي کي بدولت ہميشہ کے ليۓ تاريخ کا حصہ بن جاتے ہيں اور ان کے بعد آنے والے انسان انہيں ہميشہ قدر و منزلت کي نگاہ سے ديکھتے ہوۓ ان کو اپنے دلوں ميں زندہ رکھتے ہيں – ايسے عظيم کردار تاريخ کے اوراق سے کبھي بھي غائب نہيں ہو سکتے بلکہ ان کے قوت عمل سے لبريز زندہ وجاويد خيالات، تجزبات ،تشريحات ، روحاني پيغامات ہمارے جديد اورگوناں گوں سماجي مسائل کا قابل قبول نعم البدل پيش کرتے ہيں -
مولانا جلال الدين رومي کي شخصيت بھي کچھ ايسي ہي تھي جو صديوں پہلے اس دنيا ميں نمودار ہوئي اور پھر اس دنيا سے کوچ کر گئي مگر وہ اپنے عظيم کارناموں کي بدولت ہمارے دلوں ميں آج بھي زندہ و جاويد ہيں اور آج بھي  ہمارے احساسات اور غموں ميں شامل ہيں – ان کے نظريات سے اور ان کي تعليمات سے ہم آج بھي بہت سے مسائل کا حل تلاش کر ليتے ہيں – وہ آج بھي صديوں پہلے کي طرح ہمارے درميان رہنما ہيں – مولانا روم کي شخصيت نور ہدايت سے مالا اور تاريخ  کے  خاصہ خاصان اولياء کرام ميں شمار ہوتي تھي  – ان کا قلب  عشق الہي اور عشق نبي کي دولت سے معمور تھا – وہ انسانيت سے محبت کرنے والي عظيم شخصيات ميں ممتاز اور نماياں مقام رکھتے تھے – وہ حضرت اسرافيل کے مقدس مشن کے کل بھي امين تھے اور آج بھي مردہ دلوں ميں روحاني زندگي کي شمع روشن کر رہے ہيں – انہوں نے مردہ دلوں ميں آب حيات سے زندگي کي روحاني اوراخلاقي رمق دمق پيدا کي، اور آج بھي اس روحاني زرخيزي کا عمل خيز جاري کيے ہوئے ہيں- انہوں نے سالکين کو نور ہدايت سے مستفيد فرمايا- اور آج بھي انسانيت کو اپنے نور سے منور فرما  رہے ہيں-
مولانا جلال الدين رومي مرد کامل اور مرد خدا تھے  جنہوں نے خدا کے  قرب کے حصول کے ليے برق رفتاري سے روحاني منازل طے کيں – انہوں نے دوسرے لاتعداد افراد ميں اس روحاني سفر کو طے کرنے کا پاکيزہ جذبہ بيدار کيا- ايسا عظيم روحاني سفر طے کرنے کا جذبہ صادق جو قرب خدا کے حصول کي جستجو کو تيز تر کردے – وہ ايک متوازن صاحب حال مرد کامل تھے- جنہوں نے شديد جذبہ محبت سے اپني پاکيزہ زندگي کو روحاني معراج کي رفعتوں سے ہم کنار کيا- انہوں نے دوسرے افراد ميں بھي ان پاکيزہ احساسات کو تحريک دي اور آج بھي اس روحاني تحريک کے روح رواں ہيں – رومي نے اپنے عشق خدا اپنے علم مدني اور خدا کے ساتھ اپنے شديد لگاؤ کے علاوہ انہوں نے خوف خدا اور ادب کي وجہ سے شہرت دوام اور ممتاز مقام حاصل کيا – انہوں نے انسانيت کو اپنے مسحور کن انداز ميں حقيقت ابدي کي تلاش کرنے کي طرف مائل کيا- آج بھي ان کي صدائے حق ہر فرد کو حقيقت ابدي کي شديد محبت رب العزت کے خصوصي فضل و کرم کا مرہون منت ہے – ان کي پاکيزہ زندگي رب کي سچائي اور حقانيت کي واضح شہادت پيش کرتي ہے – بيک وقت جيسے  وہ اپنے دورکے افراد سے انتہائي موثر انداز ميں مخاطب ہوتے تھے -  وہ اپنے اس عظيم مشن ميں بہت ہي زيادہ صاحب اثر تھے – انہوں نے اپني صدائے حق اور پاس انفاس ميں ايسي اخلاقي اور روحاني قوت کو اجاگر کيا تھا، جو کہ پيغمبر اسلام حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي صدائے حق اور پاس انفاس کا کامل پر تو تھا- رومي کي صدائے حق آج بھي صديوں کے طويل عرصہ کے بعد جذبہ اشتياق سے سماعت کي جاتي ہے – وہ ايسي مسرت بخش آواز ميں مخاطب ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے ہم عصرمعزز عوام کي مکمل راہنمائي فرمائي ، بلکہ دور حاضر کے انسانوں کي بھي مکمل راہنمائي فرما رہے ہيں – خداوند قدوس نے ان کو يہ عظيم فريضہ سرانجام دينے کے ليے منتخب فرما ليا تھا- اس مقصد عظيم کے ليے رب و دود نے رومي کو روحاني اکميت اور جسماني جاہ و جلال سے مزين فرمايا تھا- تاکہ وہ اس منسب جليلہ ميں مکمل طور پر نماياں کاميابي حاصل کر سکيں – ان کا قلب اظہر نور خدا کے انوار و تجليات سے منور تھا – اسي طرح ان کي قدر و منزلت اوران کي عقل سليم کي وجہ سے بہت ہي نماياں اور ممتاز ہے- اوران کي عقل سليم کي ضيا، اس طرح سے منور ہے جس طرح ايک گوہر ناياب چمکتا دمکتا ہے ان کي خودي کو رب ذوالجلال کے مقدس رموز و اسرار اور علم معرفت نے مکمل طور پر اپنے احاطہ ميں ليے ہوئے تھا- ان کي روحاني آنکھيں اسي خصوصي نور سے منور تھيں -
آسمان ولايت پر مولانا جلال الدين رومي ايک روشن ستارے کي طرح چمک دمک رہے ہيں- اور آج بھي اپنے زمانہ زندگي کي طرح دعوت حق کا منبع اور مرکز ہے – انہوں نے چراغ ولايت کے تمام اوصاف جليلہ کو اپني ذات ميں مکمل طور پر متشکل کيا ہوا ہے-  رومي کے نور ولايت نے لاکھوں روحاني تتليوں کو اپني روحاني کشش سے اپنا ديوانہ بنايا ہوا ہے – وہ اس ضيائے حق کے حصول کي خاطر ان کي طرف کھنچي آتي ہيں- انسانيت جن اوصاف کاملہ کي جستجو ميں سرگرداں ہے، رومي اس تحريک کے راہبر کامل ہيں- قرآن پاک ميں جو صداقتيں بيان کي گئي ہيں ، رومي ان حقائق اور معارف آيات قرآني کے محتاب مفسر ہيں- عشق مصطفے صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم  کے خوش اسلوب اور رواں گفتار ترجمان ہيں -رومي نے انتہائي کاميابي سے معرفت کي زبان استعمال کرکے انسانوں کي خدا کے عشق ميں رواں دواں ہونے کي راہنمائي کي ہے- جو حضرات ان کے حلقہ ارادت ميں ايک مرتبہ شامل ہوئے ، انہوں نے عقيدہ وحدت الوجود کا مکمل فہم اور ادراک حاصل کر ليا تھا- جو ان کي راہنمائي ميں قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرتے ہيں ان کي زندگي ميں ايسا روحاني انقلاب برپا ہو جاتا ہے جس طرح عظيم تر روحاني و اخلاقي انقلاب اصحاب رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي زندگي ميں بيان کيا جاتا ہے – جب رومي کے فيض يافتہ احباب نے قرآن پاک کي آيات مقدسہ کي تفسير بيان کي ، تمام قلوب و اذبان نے اسي نور ہدايت سے استفادہ کيا- جو کہ رومي کي عقل سليم نے ان ميں منور کيا تھا- ايسا محسوس ہوتا تھا کہ آسمان معرفت کے تمام رموز و اسرار ان کے ذکر ذات ‘اللہ ‘کرنے سے ان پر عيان ہو جاتے -
مولانا جلال الدین بلخی کي روحاني زندگي کو جاننے کے ليۓ ہم ان کي شاعري سے مدد ليتے ہيں – ان کي شاعري ان کے روحاني سفر کي حقيقت اور روحانيت سے ان کي آشنائي کو ظاہر کرتي ہے – ان کے چند اشعار کا ترجمہ پيش خدمت ہے -
” محبت کا براق ميري روح اور ذہن بلکہ دل اورسب کچھ اپنے اوپر سوار کرکے لے گيا ہے-
مت پوچھ کہ کہاں لے گيا ہے-
ميں ايسے مقام رفعت ميں پہنچ چکا ہوں ،جہاں کوئي چاند نہيں ہے،نہ دن ہے
ميں ايسے جہاں ميں پہنچ چکا ہوں جہاں پر يہ دنيا نہيں ہے- “
رومي کو نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ و سلم سے بےحد محبت تھي – ان کي اس محبت اور مقام رفقت  کے پرتو کو سليمان جلي اس طرح سے بيان کرتے ہيں کہ
” وہاں کوئي افق نہيں ، کوئي زمين نہيں ، اور کوئي آسمان نہيں ہے -”
ان کي روح جو بھي سنتي اور ديکھا کرتي تھي وہ اللہ تعالي کا خاص کرم تھا کيونکہ ايسي حالت کو جسماني آنکھ نہيں ديکھ سکتي اور نہ ہي جسماني کانوں سے اسے سنا جا سکتا ہے اور انساني ذہن کے ليۓ اس کا احاطہ کرنا بھي بہت مشکل ہوتا ہے-
رومي روحانيت کي اعلي بلنديوں پر پرواز کرتے اور اس سے لطف اندوز ہوتے تھے اور ايسي چيزوں کو ديکھتے  اور سنتے جن تک رسائي کے ليۓ بڑے اعلي مرتبہ کي ضرورت ہوتي ہے جو ہر کسي کو نصيب نہيں ہوتا اور جو اسرار وحدت کو ظاہر کرتا ہے اکثر وہ لوگوں کے عقل وشعور کےمعيار سے ماورا ء ہوتا ہے – جيسا معروف ترکي شاعر غالب فرماتے ہيں:
”محبوب حقيقي کي شمع کا ايسا حيران کن نور ہے کہ جنتي چراغوں ميں نہيں سما سکتا-”
عشق خدا کي روحاني تحريک کو منظم انداز ميں آگے بڑھانے کے  پاکيزہ عمل  کے ليۓ  خدا اور مخلوق خدا سے محبت کا جذبہ ہونا بےحد ضروري ہے – رومي نے تمام کائنات سے محبت کا جذبہ اپنے اندر پيدا کر ليا تھا – رومي کي شخصيت بہت وسيع ہے جسے مختصر طور پر بيان کرنا بےحد مشکل کام ہے -
  1. مولانا جلال الدين روم کو خدا تعالي سے بےحد محبت تھي اور ان کا عشق الہي ايک شعلہ فشاں ولولہ تھا  جو اللہ تعالي کي معرفت کے حصول کے ليۓ دن رات کوشاں رہتا تھا – رومي  عشق ا لہي  کے اس روحاني  جذبے کو اپني خلوت نشيني اور اپنے زہد اور تقوي کو معاشرتي زندگي ميں بروۓ کار لاتے تھے –
انہوں نے خدا سے وصل کے ليۓ تنہائي اور خلوت اختيار کي تاکہ اللہ تعالي کا قرب ممکن ہو – اس کام ميں وہ بےحد مستقل مزاج رہے – انہوں نے کبھي بھي  بے صبري کا مظاہرہ نہ کيا – رومي کے مطابق جولوگ اللہ تعالي سے حقيقي عشق کرنے کي تعليم ديتے ہيں وہ ہميشہ اپنايہ عہد ياد رکھيں کہ وہ شعلہ فشان جذبات کے ساتھ اللہ سے محبت کرتے ہيں  – يہ وہ گراں قيمت ہے جو ہر باوفا عاشق اللہ کے عشق ميں فنا حاصل کرنے کے ليے ضرور ادا کرتا ہے – مزيد انہيں ايسے بلند پايہ اخلاق اور روحاني رويوں ميں سرمست رہنا چاہيے کہ وہ کم خور و کم خواب ہوں اور اپني گفتگو ميں ہميشہ رب تعالي کي طرف مکمل طور پر متوجہ رہيں -اورجب ايسا مرد کامل خدا کے عشق ميں فنا ہو کر لازوال نعمت عشق حاصل کرتا ہے تو وہ لازمي طور پر حيران کن روحاني تجربات سے گزرتا ہے-
رومي کي نظر ميں ايک عاشق کو غفلت کي نيند نہيں سونا چاہيں  کيونکہ اس کي يہ نيند محبوب کو ناگواز گزر سکتي ہے اس ليۓ محبوب سے ملاقات کے وقت عاشق کو ہمہ وقت بيدار رہنا چاہيۓ – جيسا کہ خدا تعالي نے حضرت داود کو ہدايت فرمائي -
” اے داود جولوگ ميرے دائمي ذکر سے غافل ہو کر سوتے ہيں اور پھر مجھ سے محبت کا دعوي کرتے ہيں ، وہ جھوٹے ہيں -”
مولانا رومي کا کہنا ہے کہ
” جب رات شروع ہوتي ہے عاشق اللہ سے بہت ہي شديد محبت کي وجہ سے بيدار اور ہوشيار ہو جاتا ہے -”
رومي کے دعوے زباني نہيں تھے بلکہ اس نے اپنے اعمال  سے اپنے دعوğ کي تائيد کرکے دکھائي -
 ان کے مندجہ ذيل اشعار کا ترجمہ اس بات  کي مزيد وضاحت کرتا ہے -
* ميراٹوٹا ہوا غريب وناتواں دل دشت محبت ميں مجنوں کي طرح  ہے -
جس کے جسم کا انگ انگ فنا ہو چکا ہے-
مجھ ميں خدا کي محبت کا حق ادا کرنے کي طاقت نہيں ہے
ہر صبح وشام ميں نے محبت کي زنجيروں کي گرفت سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کي کوشش جاري رکھي ہے-
وہ زنجير جس نے مجھے قيد ميں ڈال رکھا ہے-
جب محبوب کے خواب شروع ہوتے ہيں،ميں اپنے آپ کو لہو لہو پاتا ہوں -
کيونکہ ميں مکمل طور پرہوش وحواس ميں نہيں ہوں-
مجھے خدشہ ہے کہ ميں اپنے محبوب کو اپنے خون دل سے رنگين کردوں-
حقيقت ميں اے محبوب حقيقي!توحوروں کو لازمي حکم دے کہ وہ ضرورجان سکيں کہ ميں تمام رات کيسے جلتا ہوں-
ہرکوئي آرام کي نيند سو چکا ہے -
مگر ميں وہ ہوں جس نے اپنا دل تيرے حضور پيش کيا ہے-
غافلوں کي طرح سونا پسند نہيں کيا-
تمام رات ميري آنکھيں آسمان کي طرف تکتي ہيں-
ستاروں کوگنتي ہيں -
محبوب کي شديد محبت نے ميري نيند کو مکمل طور پر اپني گرفت ميں لے رکھا ہے- ميں يقين نہيں کرتا کہ وہ دوبارہ کبھي آئے گي-”
 رومي کے کلام سے عشق ومستي ،محبت شديد اورعقيدہ وحدت الوجود کي توانائي معصوم و منتظر آہيں اورسسکياں ،تمنائے ديدارمحبوب اورملاقات رب ودود کے سچے جذبات ظاہر ہوتے دکھائي ديتے ہيں -
رومي کو اپنے جذبہ عشق پر يقين کامل تھا اور انہوں نے تمام عمر عشق و مستي کا اظہار کيا – انہيں يقين تھا کہ وہ خدا کو محبوب ہيں – ان کي قربت ميں بہت سي  پاک ہستياں بھي موجود ہوا کرتي تھيں – وہ يقين رکھتے تھے کہ وفا کي حساسيت کے ليے ناگرير ہے کہ وہ جام محبت جو ان کو رب کي جانب سے انہيں پيش کيا جاتا تھا -وہ جام محبت اپنے تمام حلقہ احباب کو پيش کريں. -

One Response to “مولانا جلال الدین رومی بلخی”

  1. kindly proof read your article before publishing it on the blog.

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers