”خدا نما “کو بے بس کردیا
Posted by ارتقاءِ حيات on October 23, 2011
امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں”جعد بن درہم “نامی ایک شخص تھا جس نے اسلام کے خلاف بہت سی بدعتیں ایجاد کی تھیں اور اس نے چند لوگوں کو اپنا شاگرد بنا لیا تھا۔آخر کار اسے عید قربان کے دن سزائے موت دے دی گئی۔
اس نے ایک دن تھوڑی خا ک اور پانی لے کر ایک شیشی میں ڈالا چند دنوں بعد اس میں کیڑے مکوڑے پیدا ہو گئے۔وہ شیشی لے کر لوگوں کے درمیان آکر یہ دعویٰ کرنے لگا۔ان کیڑے مکوڑوں کو میں نے پیدا کیا ہے ،چونکہ ان کی پیدائش کا سبب میں بنا ہوں لہٰذا میں ہی ان کا خالق و خدا ہوں“۔
چند مسلمانوں نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے پوچھو کہ شیشی میں کیڑوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس میں نر و مادہ کتنے ہیں ،ان کا وزن کتنا ہے ؟اس سے کہو کہ ان کی شکل بدل دے ، کیونکہ جو ان کا خالق ہوگا وہ اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہوگا کہ ان کی شکل بدل دے“۔
ان چند مسلمانوں نے اس سے انھیں سوالات کے ذریعہ مذاکرہ کیا اور وہ ان کے جوابات سے قاصر رہا اس طرح اس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا اور اس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔




ماہم said
اس چاہئیے تھا کہ یہی سوال مسلمانوں کے خدا کے سامنے رکھ دیتا تاکہ کم از کم اس کی خدائی کا پول بھی کھل جاتا۔
تحریم said
ایسا کیون چاہیئے تھا
مجھے لگتا ہے اس سے زیادہ آپ کو یہ رات ہو رہی ہے
پہلے اپنی تیاری کرلیجئے میدان میں آنے کی کیوں کہ ایک سوال کے جواب مین آپ کو ہزاروں سوالات کا جواب بھی دینا پڑے گا
یا تو توبہ کر لیجئے مسلمان ہین تو تجدید ایمان کر لیجئے
غیر مسلم ہیں تو مناظرہ کی تیاری کیجئے
تحریم said
ایسا کیون چاہیئے تھا
مجھے لگتا ہے اس سے زیادہ آپ کو یہ رات ہو رہی ہے
پہلے اپنی تیاری کرلیجئے میدان میں آنے کی کیوں کہ ایک سوال کے جواب مین آپ کو ہزاروں سوالات کا جواب بھی دینا پڑے گا
یا تو توبہ کر لیجئے مسلمان ہین تو تجدید ایمان کر لیجئے
غیر مسلم ہیں تو مناظرہ کی تیاری کیجئے