ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قرآن کہانی : حضرت آدم عليہ السلام (آخری حصہ)

Posted by ارتقاءِ حيات on October 23, 2011

جنت سے اخراج
قران داستان حضرت آدم  عليہ السلام كو اگے بڑھاتے ہوئے كہا ہے، بالآخر شيطان نے ان دونوں كو پھسلاديا اور جس بہشت ميں وہ رہتے تھے اس سے باہر نكال ديا
سورۃ  اعراف آيت 20،21
اس بہشت سے جو اطمينان و آسائشے كا مركز تھي، اور رنج و غم سے دور تھى شيطان كے دھوكے ميں آكر نكالے گئے، جيسا كہ قرآن كہتا ہے:
”اور ہم نے انھيں حكم ديا كہ زمين پر اُترو ، جہاں تم ايك دوسرے كے دشمن ہوجائو گے ( آدم  و حوا ايك طرف اور شيطان دوسرى طرف)
مزيد فرمايا گيا:” تمہارے لئے ايك مدت معين تك زمين ميں قرار گاہ ہے، جہاں سے تم نفع اندوز ہوسكتے ہو”
سورۃ  بقرہ آيت 36
يہ وہ مقام تھا كہ آدم  متوجہ ہوئے كہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم كيا ہے اور بہشت كے آرام دہ اور نعمتوں سے مالا مال ماحول سے شيطانى وسوسے كے سامنے سر جھكانے كے نتيجے ميں باہر نكا لے جارہے ہيں اور اب زحمت ومشقت كے ماحول ميں جاكر رہيں گے يہ صحيح ہے ،كہ آدم  نبى تھے اور گناہ سے معصوم تھے ليكن جيسا كہ ہم آئندہ چل كربيان كريں گے كہ كسى پيغمبر سے جب ترك اولى سرزد ہوجاتا ہے تو خدا وند عالم اس سے اس طرح سخت گيرى كرتا ہے جيسے كسى عام انسان سے گناہ سرزد ہونے پر سختى كرتا ہے _
آدم  عليہ السلام كونسى جنت ميں تھے؟
اس سوال كے جواب ميں اس نكتے كى طرف متوجہ رہنا چاہئے كہ اگر چہ بعض نے كہا ہے كہ يہ وہى جنت تھى جو نيك اور پاك لوگوں كى وعدہ گاہ ہے ليكن ظاہر يہ ہے كہ يہ وہ بہشت نہ تھى بلكہ زمين كے سرسبز علاقوں ميں نعمات سے مالا مال ايك روح پر ورمقام تھا كيونكہ:
اوّل تو وہ بہشت جس كا وعدہ قيامت كے ساتھ ہے وہ ہميشگى اور جاودانى نعمت ہے جس كى نشاند ہى بہت سى آيات ميں كى گئي ہے اور اس سے باہر نكلنا ممكن نہيں _
دوّم يہ كہ غليظ اور بے ايمان ابليس كے لئے اس بہشت ميں جانے كى كوئي راہ نہ تھى وہاں نہ وسوسہ شيطانى ہے اور نہ خدا كى نافرمانى _

جنت کے بارے میں  روایت ہے کہ:
”دنيا كے باغوں ميں سے ايك باغ تھاجس پر آفتاب وماہتاب كى روشنى پڑتى تھى اگر آخرت كى جنتوں ميں سے ہو تى تو كبھى بھى اس سے باہر نہ نكالے جاتے”_
يہاں سے يہ واضح ہو جاتا ہے كہ آدم  كے ہبوط ونزول سے مراد نزول مقام ہے،نہ كہ نزول مكان يعنى اپنے اس بلند مقام اور سرسبز جنت سے نيچے آئے _
بعض لوگوں كے نزديك يہ احتمال بھى ہے كہ يہ جنت كسى آسمانى كرہ ميں تھى اگر چہ وہ ابدى جنت نہ تھى ،بعض اسلامى روايات ميں بھى اس طرف اشارہ ہے كہ يہ جنت آسمان ميں تھى ليكن ممكن ہے لفظ ”سماء ً(آسمان ) ان روايات ميں مقام بلند كى طرف اشارہ ہو _
تاہم بے شمار شواہد نشاندہى ہيں كرتے ہيں كہ يہ جنت آخرت والى جنت نہ تھى كيونكہ وہ تو انسان كى سير تكامل كى آخرى منزل ہے اور يہ اس كے سفر كى ابتداء تھى اور اس كے اعمال اور پروگرام كى ابتداء تھى اور وہ جنت اس كے اعمال و پروگرام كا نتيجہ ہے_
آدم  عليہ السلام كى باز گشت خدا كى طرف
وسوسئہ ابليس اور آدم  كے جنت سے نكلنے كے حكم جيسے واقعات كے بعد آدم  متوجہ ہوئے كہ واقعاً انہوں نے اپنے اوپر ظلم كيا ہے اور اس اطمينان بخش اور نعمتوں سے مالا مال جنت سے شيطانى فريب كى وجہ سے نكلنا پڑا اور اب زحمت مشقت سے بھرى ہوئي زمين ميں رہيں گے اس وقت آدم  اپنى غلطى كى تلافى كى فكر ميں پڑے اور مكمل جان ودل سے پروردگار كى طرف متوجہ ہوئے ايسى توجہ جو ندامت وحسرت كا ايك پہاڑساتھ لئے ہوئے تھى اس وقت خداكا لطف وكرم بھى ان كى مدد كے لئے آگے بڑھا اورجيسا كہ قرآن ميں خدا وندعالم كہتا ہے:
” آدم  نے اپنے پروردگار سے كچھ كلمات حاصل كئے جو بہت مو ثر اور انقلاب خيز تھے ،ان كے ساتھ توبہ كى خدا نے بھى ان كى توبہ قبول كرلى كيونكہ وہ تواب والرّحيم ہے ”
سورۃ  بقرہ آيت 37 
(قالا ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرين)
”ان دونوں نے كہا خدا يا ہم نے اپنے اوپر ظلم كيا ہے اگر تونے ہميں نہ بخشا اور ہم پررحم نہ كيا تو ہم زياں كاروں اور خسارے ميں رہنے والوں ميں سے ہوجائيں گے _”
حضرت آدم  فوراً اپنى كيفيت وحالت كى طرف متوجہ ہوئے اوراپنے پروردگار كى طرف پلٹے _
بہرحال جو كچھ نہيں ہونا چاہئے تھايا ہونا چاہئے تھا وہ ہو اور باوجود يكہ آدم  كى توبہ قبول ہوگئي ليكن اس كا اثروضعى يعنى زمين كى طرف اترنايہ متغير نہ ہوا
زمين پرسب سے پہلا قتل
قرآن مجيد ميں حضرت آدم  عليہ السلام كے بيٹوں كا نام نہيں ليا گيا ہے ،نہ اس جگہ اور نہ كسى اور مقام پر ،ليكن اسلامى روايات كے مطابق ايك كا نام ہابيل ہے اور دوسرے كا قابيل تھا،موجود ہ تو ريت كے سفر تكوين كے چوتھے باب ميں ايك كانام ”قائن” اور دوسرے كا نام ” ہابيل”تھا جيسا كہ مفسر معروف ”ابولفتوح رازي” كہتے ہيں كہ ان دونوں ناموں كى مختلف لغت ہيں پہلے كا نام ”ہابيل ”يا”ہابن”تھا_دوسرے كا نام ”قابيل ”يا ”قابين” يا ”قابل” يا”قابن”يا ”قبن” تھا_
بہرحال اسلامى روايات كے متن اور توريت ميں قابيل كے نام كے بارے ميں اختلاف لغت كى طرف بازگشت ہے اور يہ كوئي اہم بات نہيں ہے _
تعجب كى بات ہے كہ ايك عيسائي عالم نے اس لفظ كو قرآن پراعترض كى بنيادبناليا ہے كہ قرآن نے”قائن ”كو ”قابيل ”كيوں كہا ہے حا لانكہ اول تويہ اختلاف لغت ہے اور لغت ميں ناموں كے بارے ميں بہت زيادہ اختلاف ہے مثلا توريت ”ابراہيم ”كو ”ابراہام ”لكھتى ہے قرآن اسے ”ابراہيم ”لكھا ہے ثانياً بنيادى طور پر ”ہابيل ”كے نام قرآن ميں مذكور ہى نہيں يہ اسماء تو اسلامى روايات ميں آئے ہيں
يہاں پرحضرت آدم  عليہ السلام كے بيٹوں كا ذكر ہے ان ميں سے ايك كے ہاتھوں دوسرے كے قتل كے بارے ميں داستان بيان كى گئي ہے پہلے فرمايا: ”اے پيغمبر :انھيں آدم  كے دوبيٹوں كا حقيقى قصہ سنا ديجئے”_
سورۃ  مائدہ آيت 27
اس كے بعد واقعہ بيان كرتے ہوئے فرمايا گيا ہے :”جب ہر ايك نے تقرب پروردگار كے لئے ايك كام انجام ديا تو ايك كا عمل توقبول كرليا ليكن دوسرے كا قبول نہ ہوا ”
سورۃ  مائدہ آيت 27
مگرجو كام ان دونوں بھائيوں نے انجام ديا اس تذكرہ كا قرآن ميں وجود نہيں ہے بعض اسلامى روايات اور توريت كے سفر تكوين باب چہارم ميں جو كچھ مذكورہے ا س سے ظاہر ہوتا ہے كہ ہابيل كے پاس چونكہ پالتو جانور تھے اس نے ان ميں سے ايك بہترين پلاہوا مينڈھامنتخب كيا، قابيل كسان تھا اس نے گندم كا گھٹيا حصہ ياگھٹياآٹا اس كے لئے منتخب كيا
سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ فرزندان آدم  كو كيسے پتہ چلاكہ ايك كا عمل بارگا ہ ايزدى ميں قبول ہوگيا ہے اور دوسرے كا عمل ردّكرديا گيا ہے قرآن ميں اسكى بھى وضاحت نہيں ہے البتہ بعض اسلامى روايات سے پتہ چلتاہے كہ وہ دونوں اپنى مہيا شدہ چيزيں پہاڑ كى چوٹى پر لے گئے قبوليت كے اظہار كے طور پر بجلى نے ہابيل كى قربانى كھاليا اور اسے جلا ديا ليكن دوسرى اپنى جگہ پر باقى ر ہى اور يہ نشانى پہلے سے رائج تھى _
بعض مفسرين كا خيال ہے كہ ايك عمل كى قبوليت اوردوسرے كى ردّ حضرت آدم  عليہ السلام كو وحى كے ذريعے بتايا گيا اور اس كى وجہ سوائے اس كے كچھ نہ تھى كہ ہابيل ايك باصفا ،باكرداراور راہ خدا ميں سب كچھ كرگذرنے والاشخص تھا جبكہ قابيل تا ريك دل ،حاسد اور ہٹ دھرم تھا، قرآن نے دونوںبھائيوں كى جوگفتگو بيان كى ہے اس سے ان كى روحانى كيفت اچھى طرح سے واضح ہوجاتى ہے اسى وجہ سے جس كا عمل قبول نہ ہوا تھا ”اس نے دوسرے بھائي كو قتل كى دہمكى دى اور قسم كھا كر كہا كہ ميں تجھے قتل كردوں گا _”
سورۃ  مائدہ آيت 27
ليكن دوسرے بھائي نے اسے نصيحت كى اور كہا كہ اگر يہ واقعہ پيش آيا ہے تو اس ميں ميراكوئي گناہ نہيں ہے، بلكہ اعتراض توتجھ پرہونا چاہيے كيونكہ تيرے عمل ميں تقو ى شامل نہيں تھا اور خدا تو صرف پرہيزگاروں كا عمل قبول كرتا ہے”
سورۃ  مائدہ آيت 27
مزيد كہا كہ” حتى اگر تم اپنى دھمكى كو عملى جامہ پہنائواور ميرے قتل كے لئے ہاتھ بڑھا ئو تو ميں ہرگز ايسا نہيں كروں گا اور تمہارے قتل كے لئے ہاتھ نہيں بڑھائوںگا،كيونكہ ميں توخدا سے ڈرتا ہوں اور ايسے گناہ سے ہرگزاپنے ہاتھ آلودہ نہیں كروں گا_”
سورۃ  مائدہ آيت 28
قر ان ميں حضرت آدم  كے بٹيوں كا واقعہ ،ايك بھائي كا دوسرے كے ہاتھوں قتل اور قتل كے بعد كے حالات بيان كيے گئے ہيں ،پہلے فرمايا : ”سركش نفس نے بھائي كے قتل كے لئے اسے پختہ كرديا اور اس نے اسے قتل كرديا”
 سورۃ  مائدہ آيت 30
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ ہابيل كا عمل قبول ہوجانے كے بعد قابيل كے دل ميں ايك طوفان پيدا ہوگيا ايك طرف دل ميں ہر وقت حسد كى آگ بھڑكتى رہتى اوراسے انتقام پر ابھارتى اور دوسرى طرف بھا ئي كا رشتہ، انسانى جذبہ گناہ ،ظلم ،بے انصافى اور قتل نفس سے ذاتى تنفراسے اس جرم سے بازركھنے كى كوشش كرتا ،ليكن آخركار سركش نفس آہستہ آہستہ روكنے والے عوامل پر غالب آگيا اور اس نے اس كے بيداروجدان كو مطمئن كرديا اور اسے جكڑديا اور بھائي كو قتل كرنے پر آمادہ كرديا ”
سورۃ  مائدہ آيت 30
ظلم كى پردہ پوشي
قابيل نے جب اپنے بھائي كو قتل كرديا تو اس كى لاش اس نے صحرا ميں ڈال ركھى تھى اور اسے نہيں معلوم تھا كہ اسے كيا كرنا چاہئے زيادہ دير نہ گذرى كہ درندے ہابيل كے جسم كى طرف آنے لگے قابيل ضمير كے شديد دباؤ كاشكار تھا بھائي كے جسم كو بچانے كے لئے وہ لاش كو ايك مدت تك كندھے پرلئے پھرتا رہا كچھ پرندوں نے پھر بھى اسے گھيرركھا تھا اور وہ اس انتظار ميں تھے كہ وہ كب اسے زمين پر پھينكتا ہے تاكہ وہ لاش پر جھپٹ پڑيں _
جيساكہ قرآن كہتا ہے
اس موقع پر خدا تعالى نے ايك كواّبھيجا، مقصديہ تھا كہ وہ زمين كھودے اوراس ميں دوسرے مردہ كوّے كا جسم چھپادے يا اپنے كھانے كى چيزوں كو زمين ميں چھپادے جيسا كہ كوے كى عادت ہے تاكہ قابيل سمجھ سكے كہ وہ اپنے بھائي كى لاش كس طرح سپر د خاك كرے _
البتہ اس بات ميں كوئي تعجب نہيں كہ انسان كوئي چيز كسى پرندے سے سيكھے كيونكہ تاريخ اور تجربہ شاہد ہيںكہ بہت سے جانور طبعى طور پر بعض معلومات ركھتے ہيں اور انسان نے اپنى پورى تاريخ ميںجانوروں سے بہت كچھ سيكھا ہے يہاں تك كہ ميڈيكل كى بعض كتب ميں ہے كہ انسان اپنى بعض طبيّ معلومات ميں حيوانات كا مرہون منت ہے ،
افسوس اپنے اوپر
اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے:” اس وقت قابيل اپنى غفلت اور جہالت سے پريشان ہوگيا اور چيخ اٹھا كہ وائے ہومجھ پر ،كيا ميں اس كوے سے بھى زيادہ ناتواں اور عاجز ہوں ،مجھ سے اتنا بھى نہ ہوسكا كہ ميں اس كى طرح اپنے بھائي كا جسم دفن كردوں، بہرحال وہ اپنے كيے پرنادم وپشيمان ہوا”
سورۃ  مائدہ آيت 31
كيا اس كى پشيمانى اس بناپر تھى كہ اس كاگھٹيا اور براعمل آخركار اس كے ماں باپ پر اور احتمالى طورپر دوسرے بھائيوںپر آشكار ہوجائےگا اوروہ اسے بہت سرزنش كريں گے يا كيا يہ پشيمانى اس بناپر تھى كہ كيوں ميں ايك مدت تك بھائي كى لاش كندھے پر لئے پھرتا رہا اور اسے دفن نہ كيااور يا پھركيايہ ندامت اس وجہ سے تھى كہ اصولى طور پر انسان ہربراكام انجام دے لينے كے بعد اپنے دل ميں ہرطرح كى پريشانى اور ندامت محسوس كرتا ہے ليكن واضح ہے كہ اس كى ندامت كى جوبھى وجہ ہووہ اس كے گناہ سے توبہ كى دليل نہيں ہے كيونكہ توبہ يہ ہے كہ ندامت خوف خدا كے باعث اورعمل كے براہونے كے احساس كى بنا پر ہوا، اور يہ احساس اسے اس بات پر آمادہ كرے كہ وہ آيندہ ہرگز ايسا كام نہيں كرے گا ،قرآن ميں قابيل كى ايسى كسى توبہ كى نشاندہى نہيں كى گئي بلكہ شايد قران ميں ايسى توبہ كے نہ ہو نے كى طرف ہى اشارہ ہے
آپ صلٰی علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمايا :
”جس كسى انسان كا بھى خون بہايا جاتا ہے اس كى جوابدہى كا ايك حصہ قابيل كے ذمہ ہوتا ہے جس نے انسان كُشى كى اس برى سنت كى دنياميں بنيادركھى تھي” اس ميں شك نہيں كہ حضرت آدم  عليہ السلام كے بيٹوں كا يہ واقعہ ايك حقيقى واقعہ ہے اس كے علاوہ كہ آيات قرآن اور اسلامى رو آيت كا ظاہر ى مفہوم اس كى واقعيت كو ثابت كرتا ہے اس كے ”بالحق ” كى تعبير بھى جوقر آن ميں آئي ہے اس بات پر شاہدہے، لہذا جولوگ قران ميں بيان كئے گئے واقعہ كو تشبيہ ،كنايہ ياعلامتی داستان سمجھتے ہيں ،بغيردليل كے ايسا كرتے ہيں۔
ختم شد

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers