قرآن کہانی : حضرت آدم عليہ السلام (حصہ دوم)
Posted by ارتقاءِ حيات on October 22, 2011
بہشت ميں قيام
بہرحال اس واقعہ اور فرشتوں كے امتحان كے بعد آدم اور حوا كو حكم ديا گيا كہ وہ بہشت ميں سكونت اختيار كريں چنانچہ قرآن كہتا ہے :”ہم نے آدم سے كہا كہ تم اور تمہارى بيوى بہشت ميں رہو اوراس كى فراوان نعمتوں ميں سے جو چاہو كھا ئو ليكن اس مخصوص درخت كے نزديك نہ جانا ورنہ ظالموں ميں سے ہوجائوگے_”
سورۃ اعراف آيت 18
آيات قرآنى سے ظاہر ہو تا ہے كہ آدم زندگى گزار نے كے لئے اسى عام زمين پر پيدا ہوئے تھے ليكن ابتداء ميں خدا وند عالم نے انہيں بہشت ميں سكونت دى جو اسى جہان كا ايك سرسبز وشاداب اور نعمتوں سے مالامال باغ تھا وہ ايسى جگہ تھى جہاں آدم نے كسى قسم كى تكليف نہيں ديكھى شايد اس كا سبب يہ ہوكہ آدم زمين ميں پر زندگى گزارنے سے آشنائي نہ ركھتے تھے اوربغير كسى تمہيد كے زحمات وتكليف اٹھا نا ان كے لئے مشكل تھا اور زمين ميں زندگى گزارنے كے لئے يہاں كے كر دارورفتار كى كيفيت سے آگاہيت ضرورى تھى لہذا مختصر مدت كے لئے بہشت كے اندر ضرورى تعليمات حاصل كرليں كيونكہ زمين كى زندگى پروگراموں ، تكليفوں اور ذمہ داريوں سے معمور ہے جس كا انجام صحيح سعادت ،تكامل اور بقائے نعمت كا سبب ہے اور ان سے روگردانى كرنا رنج ومصيبت كا باعث ہے _
اور يہ بھى جان ليں كہ اگر چہ انہيں چاہئے كہ زمين كى كچھ چيزوں سے چشم پو شى كريں نيز يہ جان لينا
كريں،لہذا اس ميں شك و شبہ نہيں كہ ملائكہ نے آدم كے لئے سجدہ عبادت نہيں كيا بلكہ يہ سجدہ خدا كے لئے تھا،ليكن اس عجيب و غريب مخلوق كى وجہ سے يايہ كہ سجدہ آدم كے لئے تھا ليكن وہ خضوع وتعظيم كا سجدہ تھا نہ كہ عبادت وپرستش كا_
كتاب عيون الاخبارميں امام على بن موسى رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسى طرح كى رو آيت ہے جس ميں اپ نے فرمايا:”فرشتوں كا سجدہ ايك طرف سے خدا كى عبادت تھى اور دوسرى طرف آدم كا اكرام واحترام كيونكہ ہم صلب آدم ميں موجود تھے ”
آيات قرآنى سے ظاہر ہو تا ہے كہ آدم زندگى گزار نے كے لئے اسى عام زمين پر پيدا ہوئے تھے ليكن ابتداء ميں خدا وند عالم نے انہيں بہشت ميں سكونت دى جو اسى جہان كا ايك سرسبز وشاداب اور نعمتوں سے مالامال باغ تھا وہ ايسى جگہ تھى جہاں آدم نے كسى قسم كى تكليف نہيں ديكھى شايد اس كا سبب يہ ہوكہ آدم زمين ميں پر زندگى گزارنے سے آشنائي نہ ركھتے تھے اوربغير كسى تمہيد كے زحمات وتكليف اٹھا نا ان كے لئے مشكل تھا اور زمين ميں زندگى گزارنے كے لئے يہاں كے كر دارورفتار كى كيفيت سے آگاہيت ضرورى تھى لہذا مختصر مدت كے لئے بہشت كے اندر ضرورى تعليمات حاصل كرليں كيونكہ زمين كى زندگى پروگراموں ، تكليفوں اور ذمہ داريوں سے معمور ہے جس كا انجام صحيح سعادت ،تكامل اور بقائے نعمت كا سبب ہے اور ان سے روگردانى كرنا رنج ومصيبت كا باعث ہے _
اور يہ بھى جان ليں كہ اگر چہ انہيں چاہئے كہ زمين كى كچھ چيزوں سے چشم پو شى كريں نيز يہ جان لينا
كريں،لہذا اس ميں شك و شبہ نہيں كہ ملائكہ نے آدم كے لئے سجدہ عبادت نہيں كيا بلكہ يہ سجدہ خدا كے لئے تھا،ليكن اس عجيب و غريب مخلوق كى وجہ سے يايہ كہ سجدہ آدم كے لئے تھا ليكن وہ خضوع وتعظيم كا سجدہ تھا نہ كہ عبادت وپرستش كا_
كتاب عيون الاخبارميں امام على بن موسى رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسى طرح كى رو آيت ہے جس ميں اپ نے فرمايا:”فرشتوں كا سجدہ ايك طرف سے خدا كى عبادت تھى اور دوسرى طرف آدم كا اكرام واحترام كيونكہ ہم صلب آدم ميں موجود تھے ”
یہ بھى ضرورى تھاكہ اگر خطاولغزش دامن گير ہو توايسا نہيں كہ سعادت وخوش بختى كے دروازے ہميشہ كےلئے بند ہوجائيں گے بلكہ انہيں پلٹ كردوبارہ عہد وپيمان كرنا چاہيئے كہ وہ حكم خدا كے خلاف كوئي كام انجام نہيں ديں گے تاكہ دوبارہ نعمت الہى سے مستفيد ہوسكيں، يہ بھى تھا كہ وہ اس ماحول ميں رہ كر كچھ پختہ ہوجائيں اور اپنے دوست اور دشمن كو پہچان ليں اور زمين ميں زندگى گزارنے كى كيفيت سے آشنا ہوجائيں يقينا يہ سلسلہ تعليمات ضرورى تھا تاكہ وہ اسے يادركھيں اور اس تيارى كے ساتھ روئے زمين پر قدم ركھيں _
يہ ايسے مطالب تھے كہ حضرت آدم اور ان كى اولاد آئندہ زندگى ميں ان كى محتاج تھى لہذا اس كے باوجود كہ آدم كو زمين كى خلافت كے لئے پيدا كيا گيا تھا ايك مدت تك بہشت ميں قيام كرتے ہيں اورانہيں كئي ايك حكم دئے جاتے ہيں جوشايد سب تمرين وتعليم كے پہلوسے تھا _
يہ ايسے مطالب تھے كہ حضرت آدم اور ان كى اولاد آئندہ زندگى ميں ان كى محتاج تھى لہذا اس كے باوجود كہ آدم كو زمين كى خلافت كے لئے پيدا كيا گيا تھا ايك مدت تك بہشت ميں قيام كرتے ہيں اورانہيں كئي ايك حكم دئے جاتے ہيں جوشايد سب تمرين وتعليم كے پہلوسے تھا _
شيطان كا وسوسہ
اس مقام پر آدم نے اس فرمان الہى كو ديكھا جس ميں آپ كو ايك درخت كے بارے ميں منع كيا گيا تھا ادھر شيطان نے بھى قسم كھا ركھى تھى كہ آدم اور اولاد آدم كو گمراہ كرنے سے باز نہ آئے گا وہ وسوسے پيدا كرنے ميں مشغول ہوگيا جيسا كہ باقى آيات قرآنى سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم كو اطمينا ن دلايا كہ اگراس درخت سے كچھ ليں تو وہ اوران كى بيوى فرشتے بن جائيں گے اور ہميشہ ہميشہ كے لئے جنت ميں رہيں گے يہاں تك كہ اس نے قسم كھائي كہ ميں تمہارا خير خواہ ہوں _”
سورۃ اعراف آيت 20
اس طرح اس نے فرمان خدا كو ان كى نظر ميں ايك دوسرے رنگ ميں پيش كيا اور انہيں يہ تصور دلانے كى كوشش كى كہ اس ” شجرہ ممنوعہ” سے كھالينا نہ صرف يہ كہ ضرر رساں نہيں بلكہ عمر جاوداں يا ملائكہ كا مقام ومرتبہ پالينے كا موجب ہے_ اس بات كى تائيد اس جملے سے بھى ہوتى ہے شيطان كى زبانى وارد ہوا ہے: اے آدم : ”كيا تم چاہتے ہوكہ ميں تمہيں زندگانى جاودانى اور ايسى سلطنت كى رہنمائي كروں جو كہنہ نہ ہوگي؟ ”
اس طرح اس نے فرمان خدا كو ان كى نظر ميں ايك دوسرے رنگ ميں پيش كيا اور انہيں يہ تصور دلانے كى كوشش كى كہ اس ” شجرہ ممنوعہ” سے كھالينا نہ صرف يہ كہ ضرر رساں نہيں بلكہ عمر جاوداں يا ملائكہ كا مقام ومرتبہ پالينے كا موجب ہے_ اس بات كى تائيد اس جملے سے بھى ہوتى ہے شيطان كى زبانى وارد ہوا ہے: اے آدم : ”كيا تم چاہتے ہوكہ ميں تمہيں زندگانى جاودانى اور ايسى سلطنت كى رہنمائي كروں جو كہنہ نہ ہوگي؟ ”
سورۃ طہ آيت 120
ايك رو آيت ہے :
”شيطان نے آدم سے كہا كہ اگر تم نے اس شجرہ ممنوعہ سے كھاليا تو تم دونوں فرشتے بن جائوگے ،اور پھر ہميشہ كے لئے بہشت ميں رہوگے، ورنہ تمہيں بہشت سے باہر نكال ديا جائے گا ”_
آدم نے جب يہ سنا تو فكر ميں ڈوب گئے ليكن شيطان نے اپنا حربہ مزيد كار گر كرنے كے لئے سخت قسم كھائي كہ ميں تم دونوں كا خيرخواہ ہوں_
ايك رو آيت ہے :
”شيطان نے آدم سے كہا كہ اگر تم نے اس شجرہ ممنوعہ سے كھاليا تو تم دونوں فرشتے بن جائوگے ،اور پھر ہميشہ كے لئے بہشت ميں رہوگے، ورنہ تمہيں بہشت سے باہر نكال ديا جائے گا ”_
آدم نے جب يہ سنا تو فكر ميں ڈوب گئے ليكن شيطان نے اپنا حربہ مزيد كار گر كرنے كے لئے سخت قسم كھائي كہ ميں تم دونوں كا خيرخواہ ہوں_
سورۃ اعراف آيت 21
حضرت آدم عليہ السلام كو آب حيات كى تمنا
آدم ، جنہیں زندگى كا ابھى كافى تجربہ نہ تھا ، نہ ہى وہ ابھى تك شيطان كے دھوكے، جھوٹ اور نيرنگ ميں گرفتار ہوئے تھے ،انہيں يہ يقين نہیں ہوسكتا تھا كہ كوئي اتنى بڑى جھوٹى قسم بھى كھا سكتا ہے اور اس طرح كے جال، دوسرے كو گرفتار كرنے كےلئے پھيلا سكتا ہے، آخركار وہ شيطان كے فريب ميں آگئے اور آب حيات وسلطنت جاودانى حاصل كرنے كے شوق ميں مكر ابليسى كى بوسيدہ رسى كو پكڑكے اس كے وسوسہ كے كنويں ميں اتر گئے رسى ٹوٹ گئي اور انہيں آب حيات ہاتھ نہ آيا بلكہ خدا كى نافرمانى كے گرداب ميں گرفتار ہوگئے ان تمام مطالب كو قرآن كريم نے اپنے ايك جملے ميں خلاصہ كرديا ہے ارشاد ہوتا ہے:”اس طرح سے شيطان نے انہيں دھوكا ديا اور اس نے اپنى رسى سے انہيں كنويں ميں اتار ديا ”
سورۃ اعراف آيت 22
آدم كو چاہئے تھا كہ شيطان كے سابقہ دشمنى اور خدا كى وسيع حكمت ورحمت كے علم كى بناپر اس كے جال كو پارہ پارہ كرديتے اور اس كے كہنے ميں نہ آتے ليكن جو كچھ نہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوگيا _
”بس جيسے ہى آدم وحوانے اس ممنوعہ درخت سے چكھا، فوراً ہى ان كے كپڑے ان كے بدن سے نيچے گرگئے اور ان كے اندام ظاہرہوگئے”
آدم كو چاہئے تھا كہ شيطان كے سابقہ دشمنى اور خدا كى وسيع حكمت ورحمت كے علم كى بناپر اس كے جال كو پارہ پارہ كرديتے اور اس كے كہنے ميں نہ آتے ليكن جو كچھ نہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوگيا _
”بس جيسے ہى آدم وحوانے اس ممنوعہ درخت سے چكھا، فوراً ہى ان كے كپڑے ان كے بدن سے نيچے گرگئے اور ان كے اندام ظاہرہوگئے”
سورۃ اعراف آيت 22
مذكورہ بالا جملے سے يہ بخوبى ظاہر ہوتا ہے كہ درخت ممنوع سے چكھنے كے ساتھ ہى فوراً اس كابرا اثر ظاہر ہوگيا اور وہ اپنے بہشتى لباس سے جوفى الحقيقت خدا كى كرامت واحترام كا لباس تھا، محروم ہو كر برہنہ ہوگئے _
اس جملہ سے اچھى طرح ظاہر ہوتا ہے كہ آدم وحوايہ مخالفت كرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلكہ كپڑے پہنے ہوئے تھے ، اگر چہ قرآن ميں ان كپڑوں كى كوئي تفصيل بيان نہيں كى گئي ليكن جو كچھ بھى تھا وہ آدم وحوا كے وقار كے مطابق اور ان كے احترام كے لئے تھا ،جو ان كى نافرانى كے باعث ان سے واپس لے ليا گيا _
ليكن خود ساختہ توريت ميں اس طرح سے ہے :
آدم وحوا اس موقع پربالكل برہنہ تھے ليكن اس برہنگى كى زشتى كو نہيں سمجھتے تھے، ليكن جس وقت انہوں نے اس درخت سے كھايا جو درحقيقت ” علم ودانش” كا درخت تھا تو ان كى عقل كى آنكھيں كھل گئيں اور اب وہ اپنے كو برہنہ محسوس كرنے لگے اور اس حالت كى زشتى سے آگاہ ہوگئے_
جس ” آدم ” كا حال اس خود ساختہ توريت ميں بيان كيا گيا ہے، وہ فى الحقيقت آدم واقعى نہ تھا بلكہ وہ تو كوئي ايسا نادان شخص تھا جو علم ودانش سے اس قدر دور تھا كہ اسے اپنے ننگا ہونے كا بھى احساس نہ تھا ليكن جس ” آدم ”كا تعارف قرآن كراتا ہے وہ نہ صرف يہ كہ اپنى حالت سے باخبر تا بلكہ اسرار آفرينش (علم اسما) سے بھى آگاہ تھا اور اس كا شمار معلم ملكوت ميں ہوتا تھا، اگر شيطان اس پر اثرانداز بھى ہوا تويہ اس كى نادانى كى وجہ سے نہ تھا، بلكہ اس نے ان كى پاكى اور صفائے نيت سے سوئے استفادہ كيا _
اس بات كى تائيد كلام الہى كے اس قول سے بھى ہوتى ہے:
”اے اولاد آدم : كہيں شيطان تمہيں اس طرح فريب نہ دے جس طرح تمہارے والدين (آدم وحوا) كو دھوكا دے كر بہشت سے باہر نكال ديا اور ان كا لباس ان سے جدا كرديا ”
اس جملہ سے اچھى طرح ظاہر ہوتا ہے كہ آدم وحوايہ مخالفت كرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلكہ كپڑے پہنے ہوئے تھے ، اگر چہ قرآن ميں ان كپڑوں كى كوئي تفصيل بيان نہيں كى گئي ليكن جو كچھ بھى تھا وہ آدم وحوا كے وقار كے مطابق اور ان كے احترام كے لئے تھا ،جو ان كى نافرانى كے باعث ان سے واپس لے ليا گيا _
ليكن خود ساختہ توريت ميں اس طرح سے ہے :
آدم وحوا اس موقع پربالكل برہنہ تھے ليكن اس برہنگى كى زشتى كو نہيں سمجھتے تھے، ليكن جس وقت انہوں نے اس درخت سے كھايا جو درحقيقت ” علم ودانش” كا درخت تھا تو ان كى عقل كى آنكھيں كھل گئيں اور اب وہ اپنے كو برہنہ محسوس كرنے لگے اور اس حالت كى زشتى سے آگاہ ہوگئے_
جس ” آدم ” كا حال اس خود ساختہ توريت ميں بيان كيا گيا ہے، وہ فى الحقيقت آدم واقعى نہ تھا بلكہ وہ تو كوئي ايسا نادان شخص تھا جو علم ودانش سے اس قدر دور تھا كہ اسے اپنے ننگا ہونے كا بھى احساس نہ تھا ليكن جس ” آدم ”كا تعارف قرآن كراتا ہے وہ نہ صرف يہ كہ اپنى حالت سے باخبر تا بلكہ اسرار آفرينش (علم اسما) سے بھى آگاہ تھا اور اس كا شمار معلم ملكوت ميں ہوتا تھا، اگر شيطان اس پر اثرانداز بھى ہوا تويہ اس كى نادانى كى وجہ سے نہ تھا، بلكہ اس نے ان كى پاكى اور صفائے نيت سے سوئے استفادہ كيا _
اس بات كى تائيد كلام الہى كے اس قول سے بھى ہوتى ہے:
”اے اولاد آدم : كہيں شيطان تمہيں اس طرح فريب نہ دے جس طرح تمہارے والدين (آدم وحوا) كو دھوكا دے كر بہشت سے باہر نكال ديا اور ان كا لباس ان سے جدا كرديا ”
سورۃ اعراف آيت 27
اگرچہ بعض مفسرين اسلام نے يہ لكھا ہے كہ آغاز ميں حضرت آدم برہنہ تھے تو واقعاً يہ ايك واضح اشتباہ ہے جو توريت كى تحريركى وجہ سے پيدا ہوا ہے_
بہرحال اس كے بعد قرآن كہتا ہے : ” جس وقت آدم وحوا نے يہ ديكھاتو فوراًبہشت كے درختوں كے پتوں سے اپنى شرم گاہ چھپانے لگے _
اس موقع پر خدا كى طرف سے يہ ندا آئي:” كيا ميں نے تم دونوں كو اس درخت سے منع نہيں كيا تھا كيا ميںنے تم سے يہ نہيں كہا تھا كہ شيطان تمہارا كھلا دشمن ہے، تم نے كس لئے ميرے حكم كو بھلاديا اور اس پست گرداب ميں گھر گئے ؟
اگرچہ بعض مفسرين اسلام نے يہ لكھا ہے كہ آغاز ميں حضرت آدم برہنہ تھے تو واقعاً يہ ايك واضح اشتباہ ہے جو توريت كى تحريركى وجہ سے پيدا ہوا ہے_
بہرحال اس كے بعد قرآن كہتا ہے : ” جس وقت آدم وحوا نے يہ ديكھاتو فوراًبہشت كے درختوں كے پتوں سے اپنى شرم گاہ چھپانے لگے _
اس موقع پر خدا كى طرف سے يہ ندا آئي:” كيا ميں نے تم دونوں كو اس درخت سے منع نہيں كيا تھا كيا ميںنے تم سے يہ نہيں كہا تھا كہ شيطان تمہارا كھلا دشمن ہے، تم نے كس لئے ميرے حكم كو بھلاديا اور اس پست گرداب ميں گھر گئے ؟
سورۃ اعراف آيت 22
شجرہ ممنوعہ كونسادرخت تھا؟
قرآن كريم ميں بلا تفصيل اور بغير نام كے چھ مقام پر” شجرہ ممنوعہ” كا ذكر ہوا ہے ليكن كتب اسلامى ميں اس كى تفسير دوقسم كى ملتى ہے ايك تو اس كى تفسير مادى ہے جو حسب روايات ” گندم ” ہے _
اس بات كى طرف توجہ رہنا چاہئے كہ عرب لفظ ” شجرہ ”كا اطلاق صرف درخت پر نہيں كرتے بلكہ مختلف نباتات كو بھى ” شجرہ ” كہتے ہيں چاہے وہ جھاڑى كى شكل ميں ہوں يابيل كى صورت ميں _
دوسرى تفسير معنوى ہے جس كى تعبير ” شجرہ حسد” سے كى گئي ہے ان روايات كا مفہوم يہ ہے كہ آدم نے جب اپنا بلند ودرجہ رفيع ديكھا تو يہ تصور كيا كہ ان كا مقام بہت بلند ہے ان سے بلند كوئي مخلوق اللہ نے نہيں پيدا كى اس پر اللہ نے انہيں بتلا يا كہ ان كى اولاد ميں كچھ ايسے اولياء الہى (پيغمبر اسلام اور ان كے صحابہ) بھى ہيں جن كا درجہ ان سے بھى بلند وبالا ہے اس وقت آدم ميں ايك حالت حسد سے مشابہ پيدا ہوئي اور يہى وہ ” شجرہ ممنوعہ” تھا جس كے نزديك جانے سے آدم كو روكا گيا تھا_
حقيقت امر يہ ہے كہ آدم نے (ان روايات كى بناپر)دو درختوں سے تناول كيا ايك درخت تو وہ تھا
اس بات كى طرف توجہ رہنا چاہئے كہ عرب لفظ ” شجرہ ”كا اطلاق صرف درخت پر نہيں كرتے بلكہ مختلف نباتات كو بھى ” شجرہ ” كہتے ہيں چاہے وہ جھاڑى كى شكل ميں ہوں يابيل كى صورت ميں _
دوسرى تفسير معنوى ہے جس كى تعبير ” شجرہ حسد” سے كى گئي ہے ان روايات كا مفہوم يہ ہے كہ آدم نے جب اپنا بلند ودرجہ رفيع ديكھا تو يہ تصور كيا كہ ان كا مقام بہت بلند ہے ان سے بلند كوئي مخلوق اللہ نے نہيں پيدا كى اس پر اللہ نے انہيں بتلا يا كہ ان كى اولاد ميں كچھ ايسے اولياء الہى (پيغمبر اسلام اور ان كے صحابہ) بھى ہيں جن كا درجہ ان سے بھى بلند وبالا ہے اس وقت آدم ميں ايك حالت حسد سے مشابہ پيدا ہوئي اور يہى وہ ” شجرہ ممنوعہ” تھا جس كے نزديك جانے سے آدم كو روكا گيا تھا_
حقيقت امر يہ ہے كہ آدم نے (ان روايات كى بناپر)دو درختوں سے تناول كيا ايك درخت تو وہ تھا
جو ان كے مقام سے نيچے تھا، اور انہيں مادى دنيا ميں لے جاتا تھا اور وہ ” گندم” كا پودا تھا دوسرا درخت معنوى تھا ،جو مخصوص اوليائے الہى كا درجہ تھا اور يہ آدم كے مقام ومرتبہ سے بالاتر تھا آدم نے دونوں پہلوئوں سے اپنى حد سے تجاوز كيا اس لئے انجام ميں گرفتار ہوئے_
ليكن اس بات كى طرف توجہ رہے كہ يہ ”حسد” حسد حرام كى قسم سے نہ تھا يہ صرف ايك نفسانى احساس تھا جبكہ انہوں نے اس طرف قطعاً كوئي اقدام نہيں كيا تھا جيسا كہ ہم نے بارہاكہا ہے كہ آيات قرانى چونكہ متعدد معانى ركھتى ہيں لہذا اس امر ميں كوئي مانع نہيں كہ ” شجرہ ” سے دونوں معنى مراد لے لئے جائيں_
اتفاقاًكلمہ ” شجرہ ” قرآن ميں دونوں معنى ميں آياہے ، كبھى تو انہى عام درختوں
ليكن اس بات كى طرف توجہ رہے كہ يہ ”حسد” حسد حرام كى قسم سے نہ تھا يہ صرف ايك نفسانى احساس تھا جبكہ انہوں نے اس طرف قطعاً كوئي اقدام نہيں كيا تھا جيسا كہ ہم نے بارہاكہا ہے كہ آيات قرانى چونكہ متعدد معانى ركھتى ہيں لہذا اس امر ميں كوئي مانع نہيں كہ ” شجرہ ” سے دونوں معنى مراد لے لئے جائيں_
اتفاقاًكلمہ ” شجرہ ” قرآن ميں دونوں معنى ميں آياہے ، كبھى تو انہى عام درختوں
جيسے ( وَشَجَرَةً تَخرُجُ من طُور سَينَائَ تَنبُتُ بالدُّہن )جس سے مراد زيتون كادرخت ہے_
كے معنى ميں استعمال ہوتا ہے، اور كبھى شجرہ معنوى كے معنى ميں استعمال ہوا ہے_
كے معنى ميں استعمال ہوتا ہے، اور كبھى شجرہ معنوى كے معنى ميں استعمال ہوا ہے_
جيسے
وَالشَّجَرَةَ المَلعُونَةَ فى القُرآن ) جس سے مراد مشركين يا يہودى يا دوسرى باغى قوميں (جيسے بنى اميہ ) ہيں
ليكن يہاں پر ايك نكتہ ہے جس كى طرف توجہ دلانا مناسب ہے اور وہ يہ ہے كہ موجودہ خود ساختہ توريت ميں ، جو اس وقت كے تمام يہود ونصارى كى قبول شدہ ہے اس شجرہ ممنوعہ كى تفسير ” شجرہ علم ودانش اور شجرہ حيات وزندگى ” كى گئي ہے توريت كہتى ہے:
”قبل اس كے آدم شجرہ علم ودانش سے تناول كريں،وہ علم ودانش سے بے بہرہ تھے حتى كہ انہيں اپنى برہنگى كا بھى احساس نہ تھا جب انہوں نے اس درخت سے كھايا اس وقت وہ واقعى آدم بنے اور بہشت سے نكال ديئے گئے كہ مبادا درخت حيات وزندگى سے بھى كھاليں اور خدائوں كى طرح حيات جاويدانى حاصل كرليں_”
ليكن يہاں پر ايك نكتہ ہے جس كى طرف توجہ دلانا مناسب ہے اور وہ يہ ہے كہ موجودہ خود ساختہ توريت ميں ، جو اس وقت كے تمام يہود ونصارى كى قبول شدہ ہے اس شجرہ ممنوعہ كى تفسير ” شجرہ علم ودانش اور شجرہ حيات وزندگى ” كى گئي ہے توريت كہتى ہے:
”قبل اس كے آدم شجرہ علم ودانش سے تناول كريں،وہ علم ودانش سے بے بہرہ تھے حتى كہ انہيں اپنى برہنگى كا بھى احساس نہ تھا جب انہوں نے اس درخت سے كھايا اس وقت وہ واقعى آدم بنے اور بہشت سے نكال ديئے گئے كہ مبادا درخت حيات وزندگى سے بھى كھاليں اور خدائوں كى طرح حيات جاويدانى حاصل كرليں_”
سفر تكوين فصل دوم نمبر 17
يہ عبارت اس بات كى كھلى ہوئي دليل ہے كہ موجودہ توريت آسمانى كتاب نہيں ہے بلكہ كسى ايسے كم اطلاع انسان كى ساختہ ہے جو علم و دانش كو آدم كے لئے معيوب سمجھتا ہے، اور آدم كو علم ودانش حاصل كرنے كے جرم ميں خدا كى بہشت سے نكالے جانے كا مستحق سمجھتا تھا، گويا بہشت فہميدہ انسان كے لئے نہيں ہے_
يہ عبارت اس بات كى كھلى ہوئي دليل ہے كہ موجودہ توريت آسمانى كتاب نہيں ہے بلكہ كسى ايسے كم اطلاع انسان كى ساختہ ہے جو علم و دانش كو آدم كے لئے معيوب سمجھتا ہے، اور آدم كو علم ودانش حاصل كرنے كے جرم ميں خدا كى بہشت سے نكالے جانے كا مستحق سمجھتا تھا، گويا بہشت فہميدہ انسان كے لئے نہيں ہے_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ ڈاكٹر وليم ميلر (جسے عہدين خصوصاً انجيل كا ايك مقتدر مفسر مانا گيا ہے) اپنى كتاب ”مسيحيت چيست” (مسيحيت كيا ہے) ميں رقمطراز ہے:
”شيطان ايك سانپ كى شكل ميں باغ كے اندر داخل ہوا اور اس نے حوا كو اس بات پر آمادہ كرليا كہ اس درخت كے ميوہ ميں سے كھاليں چنانچہ حوّانے خود بھى كھايا اور آدم كو كھانے كو ديا اور انہوں نے بھى كھايا، ہمارے اولين والدين كا يہ عمل ايك معمولى اشتباہ پر مبنى نہ تھا يا ايك بے سوچى سمجھى خطا بھى نہ تھى بلكہ اپنے خالق كے بر خلاف ايك جانا بوجھا عصيان تھا دوسرے لفظوں ميں وہ يہ چاہتے تھے كہ وہ خود” خدا” بن جائیں وہ اس بات كےلئے آمادہ نہ تھے كہ خدا كے ارادہ كے مطيع بنيں بلكہ يہ چاہتے تھے كہ اپنى خواہش كو پايہ تكميل تك پہنچائيں نتيجہ كيا ہوا؟ خدا نے ان كى شدت سے سرزنش كى اور باغ (فردوس ) سے باہر نكال دياتاكہ دردورنج سے بھرى دنيا ميں زندگى بسر كريں _
توريت وانجيل كے اس مفسرنے درحقيقت يہ چاہاہے كہ ” شجرہ ممنوعہ ” كى توجيہ كرے، ليكن اس كى بجائے عظيم ترين گناہ يعنى خدا سے جنگ كى نسبت آدم كى طرف دے دى كيا اچھا ہوتا كہ بجائے اس طرح كى كھوكھلى تفسيروں كے كم از كم اپنى ” كتب مقدسہ” ميں تحريف كے قائل ہوجاتے
”شيطان ايك سانپ كى شكل ميں باغ كے اندر داخل ہوا اور اس نے حوا كو اس بات پر آمادہ كرليا كہ اس درخت كے ميوہ ميں سے كھاليں چنانچہ حوّانے خود بھى كھايا اور آدم كو كھانے كو ديا اور انہوں نے بھى كھايا، ہمارے اولين والدين كا يہ عمل ايك معمولى اشتباہ پر مبنى نہ تھا يا ايك بے سوچى سمجھى خطا بھى نہ تھى بلكہ اپنے خالق كے بر خلاف ايك جانا بوجھا عصيان تھا دوسرے لفظوں ميں وہ يہ چاہتے تھے كہ وہ خود” خدا” بن جائیں وہ اس بات كےلئے آمادہ نہ تھے كہ خدا كے ارادہ كے مطيع بنيں بلكہ يہ چاہتے تھے كہ اپنى خواہش كو پايہ تكميل تك پہنچائيں نتيجہ كيا ہوا؟ خدا نے ان كى شدت سے سرزنش كى اور باغ (فردوس ) سے باہر نكال دياتاكہ دردورنج سے بھرى دنيا ميں زندگى بسر كريں _
توريت وانجيل كے اس مفسرنے درحقيقت يہ چاہاہے كہ ” شجرہ ممنوعہ ” كى توجيہ كرے، ليكن اس كى بجائے عظيم ترين گناہ يعنى خدا سے جنگ كى نسبت آدم كى طرف دے دى كيا اچھا ہوتا كہ بجائے اس طرح كى كھوكھلى تفسيروں كے كم از كم اپنى ” كتب مقدسہ” ميں تحريف كے قائل ہوجاتے
جاری ہے




