ارتقاءِ حيات

متعجب نہ ہوں گر آپ کو اس بلاگ میں کوئی غلطی نظر آجائے۔میں ہر ایک کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھتی ہوں اور کچھ لوگ ہیں جو صرف غلطیاں ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔

حضرت امام جعفرصادق (رض)کی شخصیت کا مختصر جائزہ

Posted by ارتقاءِ حيات on October 22, 2011

اسم گرامی جعفر (رض)
والد ماجد اور اجداد محمد الباقر (رض) بن علی زین العابدین (رض) بن  حضرت امام  حسین (رض) سید نا حضرت امام  حسین(رض)بن علی (رض) بن ابی طالب (رض)
مشہور القاب صادق ۔ صابر ۔ فاضل ۔ طاہر ۔ مصدق
کنیت ابو اسماعیل ‘ ابو عبداللہ ۰اصول کافی میں آپ کا ذکر ابو عبداللہ ہی سے فرمایا گیا ہے۔
مادر گرامی محترمہ معظمہ ام فروہ(رض)  بنت جناب قاسم (رض) بن محمد بن ابی بکر (رض)
تاریخ ولادت
۱۷ربیع الاول پر اتفاق کیا گیا ہے مگر سال ولادت میں مورخین کا اختلاف ہے ۔  حضرت امام  بخاری(رح) اور علامہ حسن الامین کے نزدیک سن پیدائش ۸۰ہجری بمطابق ۲۴ مئی ۶۹۹ء ہے تہذیب الاسماء میں علامہ نوری نے اور وفیات الاعیان میں ابن خلکان نے اسی تاریخ کو اختیار کیا ہے ۔ نیز العجالی اور الخشاب کے نزدیک بھی یہی زیادہ صحیح ہے ۔ لیکن ثقتہ الاسلام جناب یعقوب کلینی اور شیخ مفید علیما الرحمہ کے مطابق ۱۷ ربیع الاول ۸۳ء بمطابق ۲۶اپریل ۷۰۳ء زیادہ صحیح ہے ۔
تاریخ شہادت
۱۴۸ھ مطابق ۷۶۵ء میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے مگر یوم وفات پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے بعض نے ۱۵ رجب اور اکثر نے ۱۵ شوال کو تاریخ شہادت قرار دیا ہے ۔
سبب شہادت عباسی بادشاہ منصور دوانیقی نے عداوت کے باعث انگوروں میں زہر دے کر شہید کیا ۔
مدفن جنت البقیع مدینہ منورہ میں اپنے والد ماجد  حضرت امام  باقر (رض)اپنے دادا سید سجاد  حضرت امام  زین العابدین(رض)‘  حضرت امام  حسن (رض) مجتبی (رض)اور اپنی جدہ طاہرہ سیدہ خاتون جنت فاطمہ(رض)کے مزارات کے قریب دفن ہوئے مگر عہد سعودیہ میں یہ تمام روضہ ہائے آل رسول منہدم کر دیئے گئے اور آج یہ قبور حسرت و یاس کی تصاویر بنی امت کی غیرت کا منہ دیکھ رہی ہیں ۔
دددھیال و ننھیال یقینا  حضرت امام  جعفر صادق (رض)کے دودھیال بے مثل و بے نظیر تھے ۔ خانوادہ رسالت و  حضرت امام ت کا ثانی کون ہو سکتا ہے مگر ننھیال بھی کم نہ تھے مادر گرامی جناب اما فروہ (رض)علمی معدن کا درنایاب تھیں ۔ آپ کے نانا قاسم اسلام کے عظیم فقیہ تھے اور اس فرزند اسلام جناب محمد بن ابی بکر کے نور چشم تھے جن کو علی المرتضی (رض)کی آغوش تربیت نصیب ہوئی تھی اور علی (رض)ان کو اپنا بیٹا کہتے تھے آپ کے ماموں جناب عبدالرحمن بن قاسم کا علمی مرتبہ بھی بہت بلند تھا اور فقہائے مدینہ میں انتہائی ممتاز مقام کے حامل تھے ۔
رفیقہ حیات  حضرت امام  جعفر صادق (رض) کی صرف ایک زوجہ تھیں جن کا اسم گرامی “فاطمہ” تھا ۔
ایک روایت ہے کہ آپ (فاطمہ )  حضرت حسین بن علی ابن  حضرت امام  حسین (رض)کی صاحبزادی تھیں اور شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نزدیک یہی صحیح ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ فاطمہ بنت حسین الاثرم بن حسن تھیں ۔
اولاد آپ کے سب سے بڑے فرزند  حضرت اسماعیل تھے ۔ جن کا آپ کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا دوسرے عبداللہ اور بیٹی ام فروہ تیسرے فرزند  حضرت امام  موسی کاظم(رض) چوتھے اسحاق پانچویں محمد ۳,۴,۵ کی والدہ حمیدہ خاتون تھیں جو بربریہ تھیں ) ان کے علاوہ عباس علی اسماء فاطمہ مختلف البطن تھیں گویا سات بیٹے ا ور تین بیٹیاں ۔
مشہور اصحاب اور شاگر د چار ہزار سے زیادہ عظیم ترین افراد اور ہستیاں آپ کے حلقہ علم و ارادت سے منسلک تھیں ان کی فہرست باقاعدہ موجود ہے اس وقت چند مشہور شخصیتوں کا تزکرہ اور اسماء درج زیل ہے جو علم و فضل میں ممتاز تھے ۔
ابن تغلب اسحاق ابن عمار ابو القاسم برید بن معاویہ عجلی ثابت بن دینار ابو حمزہ ثمالی
مالک ابن انس سفیان ثوری 9; سفیان بن عینیہ فضل بن عیاض شعبہ بن حجاج حاتم بن اسماعیل
حفص بن غیاث 9; 9; ا براہیم بن محمد ابو المنذر زہیر بن محمد حماد بن زیاد
زرارہ بن اعین شیبانی ابو محمد صفوان بن مہران ہشام بن الحکم معلی بن خنیس مفضل بن عمرو
بکر الشیبقی جابر بن حیان  حضرت امام  اعظم ابو حنیفہ (رح)وغیر ہم بادشاہان وقت اموی عبدالملک ‘ ولید بن عبدالملک ‘ سلیمان ابن عبدالملک ‘ عمر ابن عبدالعزیز ‘یزید بن عبدالملک ‘ ہشام بن عبدالملک ‘ ولید بن عبدالملک ثانی ‘یزید ناقص ‘ ابراہیم بن ولید ‘ مروان بن محمد ‘ عباسی ابوالعباس السفاح ‘ ابو جعفر منصور
شعراء السید الحمیری ‘الکمیت ‘ابوہریرہ الابار‘ اشجع السلمی البعدی
دربان محمد بن سنان ‘ مفضل بن عمرو
تصانیف و تالیفات
رسالہ عبداللہ ابن النجاشی ‘ رسالہ مروی عن الاعمش ‘ توحید مفضل ‘ کتاب ‘ کتاب مصباح ‘ الشریعت مفتاح الحقیقت ‘ رسالہ الی اصحاب ‘ رسالہ الی اصحاب الرائے والقیاس ‘رسالہ بیان غنائم وجوب الخمس ‘ وصیت العبد اللہ ابن جندب ‘ وصیت لابی جعفر بن النعمان الاحول ‘ نثر الدررر ‘ کلام دربیان محبت اہل بیت ‘ توحید ‘ ایمان ‘ اسلام ‘ کفر و فسق ‘ وجوہ معالیش العباد و وجوہ اخراج الاموال ‘ رسالہ فی احتجاج علی الصوفیہ ‘ کلام در خلق و ترکیب انسان ‘ مختلف اقوال حکمت و آداب ‘ نسخہ (اس کاذکر نجاشی نے اپنی کتاب الرجال میں کیا ہے )‘نسخہ (جس کو عبداللہ ابن ابی اولیس بن مالک بن ابی عامر الاصبحی نے بیان کیا ہے ) نسخہ (جو سفیان بن عینیہ سے مروی ہے ) نسخہ (جو ابراہیم بن رجاء الشیبانی سے مروی ہے ) کتاب (جو جعفر بن بشیر البجلی کے پاس تھی ) کتاب رسائل جو آپ کے شاگرد جابر بن حیان الکوفی سے مروی ہے ‘ تقسم الرویاء

2 Responses to “حضرت امام جعفرصادق (رض)کی شخصیت کا مختصر جائزہ”

  1. Asma Khan said

    Jaza-kl-Allah for such info…
    Visit my blog–> Stay Blessed

  2. syed mubashir mehdi said

    jazaakallah allah paak apki tofeeqaat e khair me izaafa frmaey amin

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 28 other followers