“آپریشن لانگ جمپ”
Posted by ارتقاءِ حيات on October 22, 2011
جنگ عظیم دوم ایک آندھی تھی جو لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلاتی ،نئے نئے خطرناک ہتھیاروں کو جنم دیتی،ایک نئے عہد کا آغاز کرتی،رخصت ہوئی تو اپنے پیچھے ہزاروں چھوٹی بڑی کہانیا ںچھوڑگئی۔اس آگ و خون کی ہولی کھیلنے والوں میں ایک طرف جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے تو دوسری طرف برطانیہ ،روس اور امریکہ۔یورپ کے دوسرے ممالک کا تو پہلے ہی جھونکے میں خاتمہ ہو چکا تھا۔اس جنگ میں جہاں خطرناک ٹینکوں ،ہوائی جہازوں ،بموں مشین گنوں،بحری جہازوں ، آبدوزوں اور ایٹم بموں سے کام لیا گیا ،وہیں دوسرے قسم کے کئی خطرناک ہتھیاربھی استعمال ہوئے۔خفیہ ہتھیار تھے مہیب سازشیں اور منصوبے۔
دشمن کو نقصان پہنچانے ،اس کے لیڈروں کو ہلاک کرنے اور ان کے سائنسدانوں کواغوا کر کےبہر قیمت ان کے راز حاصل کر نے کے لئے طرح طرح کے خطرناک منصوبے بنائے گئے۔اور ان منصوبوں کے عجیب و گریب نام بھی رکھے گئے۔جیسے یورپ پر چڑھائی کا منصوبہ“آپریشن اوور لارڈ”کہلاتا تھا۔یورپ اور جرمنی کے سائندانوںکو امریکہ پہنچانے کا منصوبہ“آپریشن پیپر کلپ”کہلاتا تھا۔جرمنوں نے مالی بحران پیدا کرنے کی غرض سے برطانوی اور امریکی نقلی نوٹ تیار کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا اسے وہ“آپریشن برن ہارڈ:کہتے تھے۔انہیں میں ایک خطرناک منصوبہ بھی تھا “آپریشن لانگ جمپ“جو اگر کامیاب ہو جاتاتو آج شائد دنیا کی تاریخ ہی کچھ اور ہوتی۔انہوں نے یہ زبردست اور مہیب ترین منصوبہ بنایا کہ”چرچل، روز ویلٹ اور اسٹالن کو بیک وقت قتل کر دیا جائے۔”جرمن جاسوسوں کو کسی نہ کسی طرح اس بات کا علم ہو گیا تھا ۔کہ نومبر یا دسمبر 1943 میں 3 بڑوں کی کانفرنس تہران میں ہونے والی ہے۔لہٰذا انہوں نے نہایت ہوشیاری سےاپنے کئی جانباز پیراشوٹ کے ذریعےایران میں اتار دیئے۔تہران کانفرنس کی تیاریاں انتہائی رازدانہ طور پر کی گئیں تھیں ۔تمام ایرانی سرحدیں بند تھیں۔بیرونی دنیا سے ٹیلی فون، ٹیلی گراف، اور ڈاک کے رابطے منقطع کر دیئے گئے تھے۔کوئی جہاز سوائے سرکاری اور فوجی جہازوں کے پرواز نہیں کر سکتا تھا۔لیکن ان تمام تیاریوں کے باوجود جرمن جاسوسوں اور قاتولوں کی ٹولی تہران پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔لیکن ان سے ایک زبردست غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے ایک ایرانی پہلوان مصباح اتہاج پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کر لیا تھا ۔یہ شخص در اصل ڈبل ایجنٹ کا رول ادا کر رہا تھا۔جرمن اور امریکیوں دونو سے اپنی خدمات کے صلےمیں خطیر رقومات وصول کر رہا تھا۔چنانچہ اتہاج نے عین موقع پر جب کہ عملی اقدام کے طور پر جرمن کانفرنس ہال میں داخل ہو چکے تھے۔امریکیوں اور روسیوں دونوں کو اس راز سے آگاہ کر دیا ۔اور وہ سب کے ساب گرفتار کر لئے گئے۔بہتوں نے آخر وقت تک مقابلہ کیا اور مارے گئے۔اس طرح آپریشن لانگ جمپ کا خاتمہ اس کے عمل میں آنے سے قبل ہی ہو گیا۔اور دنیا کی تاریخ میں کوئی حیرت انگیز تبدیلی نہ ہوسکی۔



