تندی باد مخالف سے نہ گھبرا، اے عقاب!
Posted by ارتقاءِ حيات on October 20, 2011
آپ نے اکثر ٹرکوں ، رکشوں یا بسوں پر یہ شعر ضرور لکھا دیکھا ہوگا:
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا، اے عقاب!
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
مصرع اول میں لفظ عقاب کی وجہ سے اکثر لوگ اسے علامہ اقبال سے منسوب کرتے ہیں جب کہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ صادق حسین صادق کا ہے، آپ شکر گڑھ، سیالکوٹ کےرہنے والے تھے ، آپ کی ولادت 1اکتوبر 1898 شکر گڑھ اور وفات 4مئی 1989 شکر گڑھ سیالکوٹ ہے۔
(دیکھئے:برگ سبز، صادق حسین صادق ،فروری1970)




ڈاکٹر جواد احمد خان said
بہت خوب ۔۔۔ اس غلط اطلاع کے فروغ میں پی ٹی وی کا بھی بڑا ہاتھ ہے جس نے اس شعر کو علامہ اقبال سے خوب منسوب کیا ۔۔۔
تحریم said
ٹھیک کہہ رہے ہیں جواد جی
)(نجانے آپ کا پی ٹی وی کا ذکر کرنے سے پی ٹی وی کا ہی ایک ڈرامہ “خواجہ اینڈ سنز” میں جواد جی کہنے والی لڑکی یاد آگئی
افتخار اجمل بھوپال said
چلو جی گَل مُکی ۔ ہے تے دونو سيالکوٹی نيں ۔ ميرے نانکياں دے پِنڈ دے
پنجابی سمجھ آتی ہے کہ پشتو ميں ترجمہ کروں ؟
تحریم said
اردو سے بہتر کوئی زبان نہیں آتی
اور سچ یہ ہے کہ اردو بھی ٹھیک نہیں آتی
Iftikhar Ajmal Bhopal said
چليں جی ترجمہ اپنی ٹوٹی پھوٹی اُردو ميں کر ديتے ہيں
چليں چی بات ختم ۔ ہيں تو دونوں سيالکوٹ کے رہنے والے جو ميرے نانا کے والد صاحب کا گاؤں تھا ۔
صادق حسين صاحب کا يہ شعر ميں نے پہلی بار آٹھويں جماعت ميں [1950ء] اپنی رَف کاپی کے سرِ ورق پر لکھا تھا ۔ اس کے بعد ہر سال انجنيئرنگ پاس کرنے تک لکھتا رہا