حضرت امام جعفر صادق (رض) کا مقام (حصہ اوّل)
Posted by ارتقاءِ حيات on October 19, 2011
]زیر مطالعہ مضمون میں امام جعفر صادق (رض)کی علمی مرکزیت اور آپ کے عظیم کارہائے نمایاں سے متعلقہ عمیق تحقیقی کو ہدیہ کرنے کی سعادت حاصل کی گئی ہے یہ ریسرچ ۲۵مختلف النسل اکابرین کے وسیع مطالعہ کا نچوڑ ہے اس کا اصلی متن فرانسیسی زبان میں]اسلامک اسٹڈیز سنٹر اسٹراسبرگ }فرانس)کا ایک میگزین دربارہ امام جعفر صادق{ہے جسے جناب ذبیح اللہ منصوری مد ظلہ نے فارسی کا جامہ پہنایا ۔وجہ اس مضمون کی یہ ہے کہ آپ (رض)کا تعارف و شناخت تاریخی علمی اور نظریاتی حوالوں کے ساتھ ان سب لوگوں کو کرایا جائے جو آپ کی ذات بالاصفات کی معرفت نہیں رکھتے۔[
حضرت امام جعفر صادق (رض)کی ولادت با سعادت اس سیاسی دور میں ہوئی جب حق و دیانت کے چراغ گل کئے جا رہے تھے اور جزیرہ نما عرب میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا ۔ جگہ جگہ فتنہ انگیز ‘عناد و فساد اور بے چینی و بد امنی پھیل ہوئی تھی لوگ علم حق اور صداقت کی تلاش کے بجائے جاہ و منصب سیم و زر اور تاج و تخت کی تلاش میں سر گرداں تھے ہر طرف مفاد پرسی کا سکہ چل رہا تھا اور ملوکیت و اقتدار کی قربان گاہ پر دیانت و امانت کو قربان کیا جا رہا تھا ۔ ایسے عہد ظلمت میں حضرت امام جعفر صادق (رض) نامی مہتاب اپنی پوری آب و تاب سے چمکا ۔ آپ حضرت امام محمد باقر(رض)کے فرزند ارجمند حضرت امام زین العابدین (رض)کے پوتے اور سیدنا حضرت امام حسین (رض)کے پڑپوتے ہیں ۔ آپ اسلام کے نامور عظیم ترین اور سرمایہ فخر و ناز اکابرین میں ممتاز و منفرد مقام و مرتبے کے حامل ہیں آپ نے اپنی ساری زندگی انسانی فلاح و اصلاح کیلئے وقف کر دی آپ کی سیرت اسلامی کردار کی کامل اور بے نظیر تصویر ہے آپ نے ہمیشہ وہی کہا اور وہی کیا جو دین فطرت اسلام کا حقیقی منشاو مقصد تھا اپنی پوری زندگی میں آپ نے ایک لمحہ کیلئے بھی ان ذمہ داریوں اور تقاضوں سے غفلت نہ برتی جو انفرادی اجتماعی خانگی اور عوامی شعبہ ہائے حیات کی طرف سے آپ پر عائد ہو سکتے تھے آپ نے اپنے خطبوں مقالات ارشادات افعال اعمال کردار اور گفتار سے اسلام کی اس مقدس روح کو اجاگر کردیا جو پیغمبر اکرم ﷺکی حیات طیبہ کا سب سے بڑا مقصد تھا اپنے اس طرز مخصوص کے سبب آپ انسانی شعور و ادارک میں ایک عظیم ترین تعمیری انقلاب کا سبب بن گئے ۔ آپ نے فکر انسانی کا رخ حقیقت پسندی اور تلاش حق کی جانب موڑ دیا علمی تحقیقات کیلئے جدید راہیں پیدا کر دیں ۔ اس طرح آپ کی سیرت پاک کی قدریں جدید و قدیم ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق (رض) کا تبحر علمی پاکیزہ اسلامی کردار عبادت و تقوی صبرو ا ستقلال اور حسن اخلاقی انسانیت کیلئے ہدایت کا مینار بن گئے ان نظیروں نے انسانی طرز فکر اور بشری تخیل کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کر دیا اور لوگ ستاروں پر کمندیں ڈالنے میں مشغول ہو گئے علم دوستی بڑھ گئی ۔ آپ نے نوع انسان کو ایسی ثقافت سے روشناس کرایا جس میں ہر فرد معاشرہ کے ضمیر میں خوف خدا اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی بیرونی نگرانی کی حاجت باقی نہیں رہتی اور اس کے احساس فرض میں از خود اتنی قوت آ جاتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ ہوس پرستیوں اور خود غرضانہ حماقتوں کی طاقتوں کو کچل دینے پر قادر ہو جاتا ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق (رض)نے ہمیشہ یہ سعی مشکور فرمائی کہ بغیر کسی دنیوی لالچ مادی حرس سیاسی دباؤ اور چاپلوسی کے ہر شخص قانون خدا وند ی کے احترام کا عادی ہو جائے اور اس میں فرض شناسی حق گوئی اور صداقت پسندی کے وہ جذبات پیدا ہو جائیں جو کسی بھی استحصالی طاقت سے سرد نہ ہو سکیں اسلام جس اخوت و یگانگت اور اخلاقی برتری کا پیغام لے کر آیا تھا حضرت امام جعفر صادق (رض)نے عملا اپنے طرز عمل اور سیرت سے اس کو بڑی عمدگی کے ساتھ واضح اور روشن کر دیا اور اپنے خصائل و شمائل سے ثابت کر دیا کہ حقیقی سر بلندی صرف اس انسان کا مقدر ہے جو متقی اور مطیع پروردگا رہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی نسل قوم اور قبیلے سے ہو ۔ حسب و نسب مال و زر جاہ و منصب کثرت و قلت یا کوئی اور معیار انسانیت نہیں ہے ۔
آپ دنیوی معیار کے اتنے بڑے آدمی ہو کر بھی ایک عام آدمی کی زندگی بسرکرنے پر قناعت فرماتے تھے جھلسا دینے والی گرمی دھوپ کی شدت اور سورج کی تمازت میں پسینے میں شرابور معاشرہ کے عام فرد کا سب کی مانند اپنا آزوقہ حاصل کرنے کو شرف انسانی سمجھتے تھے آپ کی صحبت میں ہر قوم نسل اور طبقہ کے لوگ جمع رہتے تھے جو اس علم کے دریا سے فیض یاب ہوتے تھے اور اپنے روحانی رہنما کے حکیمانہ ارشادات سے سبق حاصل کرتے تھے آپ کا نصب العین اور مقصد حیات اسلامی کردار سازی تھا آپ مسلم معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں شب و روز مشغول رہتے تھے لہذا آپ کو کبھی اس بات کی پرواہ نہ ہوئی کہ آپ کے حلقہ ارادت میں ہمنواؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی آپ کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ کام کا مسلم ہو یعنی ایسا مسلم جو ہر خامی نقص اور کجی سے مبرا ہو آپ نے چاہا کہ لوگ فلسفے اور اسلامی نظریات کو صحیح سطح پر سمجھنے کی اہلیت پیدا کریں آپ کے نزدیک چند سچے اور پکے مسلمان جو اللہ اور اس کے دین کی صحیح معرفت رکھتے ہیں اور اس کے دین کی صحیح معرفت رکھتے ہیں ان لا تعداد افراد سے ہر طرح برتر و افضل ہیں جن کی زندگی اسلام کی تعلیم اسلامی شعائر اور اسلامی قدروں سے محروم ہو ۔
جب آپ کی ولادت ہوئی اس وقت اموی حکمران عبدالملک بن مروان کا دور حکومت تھا اس کے بعد دوسرے حاکم آتے رہے حتی کہ ۱۳۲ہجری میں اموی دور ختم ہو گیا پھر بنو عباس کا دور شروع ہو یہی وہ انتقال و تحویل اقتدار ملوکیت کا محدود اور مختصر سا وقفہ تھا جس میں اس عظیم مصلح اور اسلامی کے جلیل القدر فرزند کو اس بات کا زیادہ موقع مل سکا کہ آپ نے اسلامی علوم اور معارف دین کی ترویج و اشاعت کا اہم کام سر انجام دیا ۔ آپ نے اس فضائے خوشگوار میں ہر دقیقہ سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش فرمائی ۔ جس میں ان کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ۔
آپ کے سیرت پاک کے دو رخ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اور زمانے کے ہر دور میں ان پر خاصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ایک آپ کی سماجی طرز بود و باش جس میں اسلامی زندگی کی اکملیت نظر آتی ہے اور انسانیت اپنے معراج پر فائز دکھائی دیتی ہے اور دوسرا حضرت امام جعفر صادق (رض) کی علمی کاوشیں ‘ آپ کی45 سالہ زندگی میں یہ محدود اور مختصر زمانہ جس میں اموی حکومتوں کا چراغ شمع سحری کی طرح ٹمٹما رہا تھا اور عباسی حکومتی کا زمانہ شروع ہو گیا تھا ابو العباس سفاح کے بعد منصور کا عہد سلطنت گزر رہا تھا علمی خدمات بجا لانے کیلئے سنہری وقت ثابت ہوا تھا ۔
آپ کی عوامی زندگی کا اندازہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ ابو عمر شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (رض) کو ایک باغ میں یوں دیکھا کہ آپ ہاتھ میں بیلچہ لئے ہوئے پسینے میں شرابور بہ نفس نفیس ایک دیوار کو درست فرما رہے تھے میں اتنی شدید گرمی میں حضرت امام کو اس حالت میں مشقت میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکا میں نے عرض کیا کہ سرکار یہ بیلچہ مجھے دے دیجئے اس کام کو خادم انجام دے گا لیکن حضرت امام نے میری درخواست کو قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ انسان تلاش معاش میں دھوپ کی تیزی کا مزا چکھے ۔
حسام بن سالم سے مروی ہے کہ حضرت امام جعفری صادق (رض)کی عادت تھی کہ رات کے وقت وہ سامان خوراک اور درہموں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اپنے آپ کو ظاہر کئے بغیر غرباء و حاجت مندوں میں یہ اشیاء تقسیم کیا کرتے تھے ان ضرورت مندوں کو اپنے محسن عظیم کے بارے میں علم اس وقت ہوا جب آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے بے شک انسان کا صحیح رہنما صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنے عمل سے زندگی کی دشواریوں اور مسائل کا تسلی بخش حل پیش کر سکتا ہو صرف زبانی کلامی ڈینگ نہ مارتا ہو لہذا جناب حضرت امام جعفر صادق (رض)محض زبانی رہنمائے انسانیت نہیں بلکہ اسلامی سیرت اور الہی پیغام کا عملی نمونہ ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق (رض) نے علوم اسلامیہ کے نشرو اشاعت میں جو حصہ لیا اور جس طرح اسلام کی ثقافت کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں اس کی مثال ملنا محال نہ سہی مگر مشکل ضرور ہے اور ان کے طاہر گھرانے کے سوا ان کی نظیر تلاش کرنا ممکن نہیں ہے آپ کا عہد حیات و ہ دور تھا جب فتوحات اور بیرونی دنیا کے اتصال خاص کریونانی اور رومی لٹریچر کی نشرو اشاعت کے باعث عربستان میں مختلف علوم و فنون طرح طرح کے نظریات اور نئے نئے فکر رجحانات داخل ہو رہے تھے اور اندریں صورت اسلام کے خلاف بیرونی محاذوں سے علمی اور ثقافتی یلغار کا سلسلہ زور و شور سے جاری تھا یہ ایک ایسی سرد جنگ نہ تھا کیونکہ عقل و فکر کا مقابلہ علم و دانش ہی سے کیا جا سکتا ہے نسلی تعصب سے فکر و نظریاتی طوفانوں پر بند نہیں باندھے جا سکتے چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (رض)نے اس محاذ پر جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ تاریخ اسلام میں حروف زہیہ سے مرقوم ہیں ۔
مسجد نبوی اور مدینہ میں آپ کا گھر حقیقی معنوں میں مدینتہ العلم بن گئے تھے۔ جو وقت کے عالی شان علمی تحقیقاتی مرکز کی حیثیت رکھتے تھے ۔ آپ کا مدرسہ اپنے دور کی بڑی یونیورسٹی کا درجہ رکھتا تھا ۔ جس کا حلقہ تعلیم و تدریس اور تحقیق خاصا وسیع تھا ۔ اس میں بیک وقت کم سے کم چار ہزار دانش جو مختلف علاقوں کے زیر تعلیم ہوا کرتے تھے اس عظیم الشان اسلامی ریسرچ سنٹر اور مسلم دانشگاہ سے بڑے بڑے علماء جید فقہاء اور نامور مفکر فارغ التحصیل ہوئے ۔ اور ان طالب علم نے یہاں سے جو کچھ سیکھا اس علم کی روشنی دنیا کے چپہ چپہ میں پھیلائی ۔
یحیی بن سعید انصاری ‘ سفیان ثوری ‘ سفیان بن عینیہ ‘ حضرت امام مالک(رح)‘ حضرت امام ابو حنیفہ (رح)جیسے اکابرین نے حضرت امام جعفر صادق (رض)کے مرکز تعلیم سے فیض حاصل کیا ۔ لیکن یہ بات بہر حال تاریخی شواہد کے پیش نظر کبھی ضروری نہ رہی کہ استاد اور اس کے شاگردوں کے مسلک اور نظریاتی میں بھی ہم آہنگی رہی ہو جس کی وجوہ سیاسی ‘ نسلی ‘ ماحول کے تاثرات ‘ گردو پیش کے حالات کا دباؤ ‘ ذاتی خواہشات ‘ مخصوص مصلاح ‘ نام و نمود کے مقاصد اور اسی طرح کی دوسری باتیں بھی ہو سکتی ہیں ۔
حضرت امام ابو حنیفہ (رح)کہا کرتے تھے کہ
“میں نے حضرت امام جعفر صادق (رض)سے بڑھ کر علم دین کا عالم کسی دوسرے کو نہیں پایا “
حضرت امام مالک(رح)کا قول ہے کہ
” میری آنکھوں نے علم و فضل اور تقوی میں حضرت امام جعفر صادق (رض)سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا “‘
آپ کے مشہور شاگردوں میں حضرت امام الکیمیا جابر بن حیان کوفی بھی تھے ۔ جو عالمی شہرت کے حامل ہیں ۔ جابر بن حیان نے ایک ایسی مفصل مضمون لکھی تھی جس میں حضرت امام عالی مقام کے کیمیاء پر پانچ سو رسالوں کو جمع کیا تھا آپ کے شاگردوں کی تصانیف کے علاوہ خود آپ کی تصانیف بھی بہت زیادہ ہیں ۔ کیمیاء ‘ فلسفہ ‘ طبیعات ‘ ہیئت ‘ منطق ‘ طب ‘ تشریح الاجسام ‘ افعال اعضاء اور ما بعد الطیعات و غیرہ وغیرہ پر آپ نے بہت کچھ لکھا ہے ۔
آپ نے ہر شعبہ علم پر قرآن و حدیت کی رو سے ایسی روشنی ڈالی ہے کہ اہل علم حیران رہ گئے ہیں ۔ آپ کے ظاہری و باطنی کمالات و فضائل کے دوست دشمن سب قائل ہیں ۔ حضرت امام شافعی(رح) تحریر کرتے ہیں کہ
” حضرت امام جعفر صادق (رض)سادات و بزرگان اہل بیت میں سے تھے ۔ ہر طرح کے جملہ عبادات مسلسل اور اد اور وظائف اور نمایاں زہد کی حامل تھے ۔ کثرت سے تلاوت فرماتے تھے اور ساتھ ہی آیات قرآں کی تفسیر فرماتے تھے ۔ اور قرآن کے بحر بے کراں سے جواہر نکال کر پیش کرتے اور عجیب و غریب نتائج اخذ فرماتے تھے ۔ آپ کی زیرات آخرت کی یاد دلانے والی ‘ آپ کا کلام سننا اس دنیا میں زہد ‘ اور آپ کی ہدایات پر عمل کرنا حصول جنت کا باعث تھا ۔ آپ کی نورانی شکل گواہی دیتی تھی کہ آپ خاندان نبوت میں سے ہیں اور آپ کی پاکیزگی بتاتی ہے کہ آپ نسل رسول سے ہیں آپ سے حضرت امام اور علماء اعلام کی ایک جماعت نے حدیثیں نقل کی ہیں اور علوم حاصل کئے ہیں ۔ جیسے یحیی بن سعید انصاری ‘ ابن صریح ‘ مالک بن انسا ‘ سفیان ثوری ‘ ابن عینیہ ‘ شعبی ابو حنیفہ (رح)‘ ایوب سختیانی وغیر ہم ۔ اور یہ لوگ اس شرف استفادہ اور نسبت فصیلت پر فخر کرتے تھے “
حضرت امام جعفر صادق (رض) کے خوان علم سے نہ صرف علم کی اشتہا رکھنے والوں کی سیری ہوئی بلکہ جب آپ نے علم الابدان پر درس دیا تو اس تبحر علمی سے دنیا آپ تک محو حیرت ہے کتاب الا ہلیح اور کتاب المفضل اس پر آج تک گواہ ہیں ۔
یہ حضرت امام جعفر صادق (رض) کے فیوض کا ہی تصدق ہے کہ پروفیسر ہٹی جیسا شخص جابر بن حیان کو ایشیا اور یورپ میں فادر آف کیمسٹری کہہ کر پکارتا ہے ۔
ابن تیمیہ نے خیرہ چشمی اور گستاخی سے کام لیتے ہوئے حضرت امام ابو حنیفہ (رح)کے حضرت امام جعفر صادق (رض) کے شاگر ہونے پر اعتراض کیا ہے اور اس کی وجہ ان دونوں بزرگوں کا ہم عصر ہونا قرار دیا ہے ۔ چنانچہ شمس العلماء مولانا شبلی(رح)نے سیرت نعمان میں ابن تیمیہ کا تعاقب کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ
” حضرت امام ابو حنیفہ (رح)لاکھ مجتہد اور فقیہ ہوں لیکن فضل و کمال میں ان کو حضرت امام جعفر صادق (رض) سے کیا نسبت ؟ حدیث و فقہ بلکہ تمام علوم اہل بیت کے گھر سے نکلے ہیں “
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی(رح) اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں کہ
” حضرت امام ابو حنیفہ (رح)ہمیشہ حضرت امام جعفر صادق (رض)کی محبت و خدمت پر افتخار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ لو لا السنتان لھلک النعمان یعنی اگر یہ دو برس نہ ہوتے (جو خدمت حضرت امام جعفر صادق (رض)میں گزارے )تو نعمان ضرور ہلاک ہو جاتا “
(یہاں ہلاکت سے مراد مسائل کے جواب میں غلطیاں کرنا ہے )
حضرت امام جعفر صادق (رض)اور دیگر اہل بیت سے حضرت ابو حنیفہ (رح)کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ مشہور روایت ہے کہ جب کبھی ابو حنیفہ (رح) حضرت امام جعفر صادق (رض)سے کلام کرتے تو کہتے جعلت فداک یعنی میں آپ پر قربان ہوں ۔ اور اسی حقیقت سے منصور دو انیقی بھی خوب واقف تھا اور جناب ابو حنیفہ (رح)کو منصور کا رعب و دبدبہ بھی اس عقیدت مندی سے باز نہ رکھ سکا چنانچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی(رح) لکھتے ہیں کہ جب محمد نفس ذکیہ نے خروج کیا تو ان دنوں میں منصور عباسی نے حضرت امام ابو حنیفہ (رح)سے پوچھا :
اے نعمان ! تمہارے علم کے ماخذ کون کون لو گ ہیں ؟
ابو حنیفہ (رح)نے جواب دیا کہ
” میں نے علم حضرت علی کے اصحاب اور حضرت علی (رض) سے اور عبداللہ بن عباس (رض) کے صحابیوں اور ابن عباس (رض) سے لیا ہے “
یہ کس طرح خوبصورتی کے ساتھ حضرت امام ابو حنیفہ (رح)نے حق گوئی کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ماخذ علم صرف علی کرم اللہ وجہہ(رض)ہیں ۔ کیونکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو مسلمہ طور پر جناب امیر (رض)کے شاگرد تھے ۔
حضرت امام جعفر صادق (رض) کا تبحر علمی پاکیزہ اسلامی کردار عبادت و تقوی صبرو ا ستقلال اور حسن اخلاقی انسانیت کیلئے ہدایت کا مینار بن گئے ان نظیروں نے انسانی طرز فکر اور بشری تخیل کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کر دیا اور لوگ ستاروں پر کمندیں ڈالنے میں مشغول ہو گئے علم دوستی بڑھ گئی ۔ آپ نے نوع انسان کو ایسی ثقافت سے روشناس کرایا جس میں ہر فرد معاشرہ کے ضمیر میں خوف خدا اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی بیرونی نگرانی کی حاجت باقی نہیں رہتی اور اس کے احساس فرض میں از خود اتنی قوت آ جاتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ ہوس پرستیوں اور خود غرضانہ حماقتوں کی طاقتوں کو کچل دینے پر قادر ہو جاتا ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق (رض)نے ہمیشہ یہ سعی مشکور فرمائی کہ بغیر کسی دنیوی لالچ مادی حرس سیاسی دباؤ اور چاپلوسی کے ہر شخص قانون خدا وند ی کے احترام کا عادی ہو جائے اور اس میں فرض شناسی حق گوئی اور صداقت پسندی کے وہ جذبات پیدا ہو جائیں جو کسی بھی استحصالی طاقت سے سرد نہ ہو سکیں اسلام جس اخوت و یگانگت اور اخلاقی برتری کا پیغام لے کر آیا تھا حضرت امام جعفر صادق (رض)نے عملا اپنے طرز عمل اور سیرت سے اس کو بڑی عمدگی کے ساتھ واضح اور روشن کر دیا اور اپنے خصائل و شمائل سے ثابت کر دیا کہ حقیقی سر بلندی صرف اس انسان کا مقدر ہے جو متقی اور مطیع پروردگا رہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی نسل قوم اور قبیلے سے ہو ۔ حسب و نسب مال و زر جاہ و منصب کثرت و قلت یا کوئی اور معیار انسانیت نہیں ہے ۔
آپ دنیوی معیار کے اتنے بڑے آدمی ہو کر بھی ایک عام آدمی کی زندگی بسرکرنے پر قناعت فرماتے تھے جھلسا دینے والی گرمی دھوپ کی شدت اور سورج کی تمازت میں پسینے میں شرابور معاشرہ کے عام فرد کا سب کی مانند اپنا آزوقہ حاصل کرنے کو شرف انسانی سمجھتے تھے آپ کی صحبت میں ہر قوم نسل اور طبقہ کے لوگ جمع رہتے تھے جو اس علم کے دریا سے فیض یاب ہوتے تھے اور اپنے روحانی رہنما کے حکیمانہ ارشادات سے سبق حاصل کرتے تھے آپ کا نصب العین اور مقصد حیات اسلامی کردار سازی تھا آپ مسلم معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں شب و روز مشغول رہتے تھے لہذا آپ کو کبھی اس بات کی پرواہ نہ ہوئی کہ آپ کے حلقہ ارادت میں ہمنواؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی آپ کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ کام کا مسلم ہو یعنی ایسا مسلم جو ہر خامی نقص اور کجی سے مبرا ہو آپ نے چاہا کہ لوگ فلسفے اور اسلامی نظریات کو صحیح سطح پر سمجھنے کی اہلیت پیدا کریں آپ کے نزدیک چند سچے اور پکے مسلمان جو اللہ اور اس کے دین کی صحیح معرفت رکھتے ہیں اور اس کے دین کی صحیح معرفت رکھتے ہیں ان لا تعداد افراد سے ہر طرح برتر و افضل ہیں جن کی زندگی اسلام کی تعلیم اسلامی شعائر اور اسلامی قدروں سے محروم ہو ۔
جب آپ کی ولادت ہوئی اس وقت اموی حکمران عبدالملک بن مروان کا دور حکومت تھا اس کے بعد دوسرے حاکم آتے رہے حتی کہ ۱۳۲ہجری میں اموی دور ختم ہو گیا پھر بنو عباس کا دور شروع ہو یہی وہ انتقال و تحویل اقتدار ملوکیت کا محدود اور مختصر سا وقفہ تھا جس میں اس عظیم مصلح اور اسلامی کے جلیل القدر فرزند کو اس بات کا زیادہ موقع مل سکا کہ آپ نے اسلامی علوم اور معارف دین کی ترویج و اشاعت کا اہم کام سر انجام دیا ۔ آپ نے اس فضائے خوشگوار میں ہر دقیقہ سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش فرمائی ۔ جس میں ان کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ۔
آپ کے سیرت پاک کے دو رخ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اور زمانے کے ہر دور میں ان پر خاصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ایک آپ کی سماجی طرز بود و باش جس میں اسلامی زندگی کی اکملیت نظر آتی ہے اور انسانیت اپنے معراج پر فائز دکھائی دیتی ہے اور دوسرا حضرت امام جعفر صادق (رض) کی علمی کاوشیں ‘ آپ کی45 سالہ زندگی میں یہ محدود اور مختصر زمانہ جس میں اموی حکومتوں کا چراغ شمع سحری کی طرح ٹمٹما رہا تھا اور عباسی حکومتی کا زمانہ شروع ہو گیا تھا ابو العباس سفاح کے بعد منصور کا عہد سلطنت گزر رہا تھا علمی خدمات بجا لانے کیلئے سنہری وقت ثابت ہوا تھا ۔
آپ کی عوامی زندگی کا اندازہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ ابو عمر شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (رض) کو ایک باغ میں یوں دیکھا کہ آپ ہاتھ میں بیلچہ لئے ہوئے پسینے میں شرابور بہ نفس نفیس ایک دیوار کو درست فرما رہے تھے میں اتنی شدید گرمی میں حضرت امام کو اس حالت میں مشقت میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکا میں نے عرض کیا کہ سرکار یہ بیلچہ مجھے دے دیجئے اس کام کو خادم انجام دے گا لیکن حضرت امام نے میری درخواست کو قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ انسان تلاش معاش میں دھوپ کی تیزی کا مزا چکھے ۔
حسام بن سالم سے مروی ہے کہ حضرت امام جعفری صادق (رض)کی عادت تھی کہ رات کے وقت وہ سامان خوراک اور درہموں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اپنے آپ کو ظاہر کئے بغیر غرباء و حاجت مندوں میں یہ اشیاء تقسیم کیا کرتے تھے ان ضرورت مندوں کو اپنے محسن عظیم کے بارے میں علم اس وقت ہوا جب آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے بے شک انسان کا صحیح رہنما صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنے عمل سے زندگی کی دشواریوں اور مسائل کا تسلی بخش حل پیش کر سکتا ہو صرف زبانی کلامی ڈینگ نہ مارتا ہو لہذا جناب حضرت امام جعفر صادق (رض)محض زبانی رہنمائے انسانیت نہیں بلکہ اسلامی سیرت اور الہی پیغام کا عملی نمونہ ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق (رض) نے علوم اسلامیہ کے نشرو اشاعت میں جو حصہ لیا اور جس طرح اسلام کی ثقافت کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں اس کی مثال ملنا محال نہ سہی مگر مشکل ضرور ہے اور ان کے طاہر گھرانے کے سوا ان کی نظیر تلاش کرنا ممکن نہیں ہے آپ کا عہد حیات و ہ دور تھا جب فتوحات اور بیرونی دنیا کے اتصال خاص کریونانی اور رومی لٹریچر کی نشرو اشاعت کے باعث عربستان میں مختلف علوم و فنون طرح طرح کے نظریات اور نئے نئے فکر رجحانات داخل ہو رہے تھے اور اندریں صورت اسلام کے خلاف بیرونی محاذوں سے علمی اور ثقافتی یلغار کا سلسلہ زور و شور سے جاری تھا یہ ایک ایسی سرد جنگ نہ تھا کیونکہ عقل و فکر کا مقابلہ علم و دانش ہی سے کیا جا سکتا ہے نسلی تعصب سے فکر و نظریاتی طوفانوں پر بند نہیں باندھے جا سکتے چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (رض)نے اس محاذ پر جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ تاریخ اسلام میں حروف زہیہ سے مرقوم ہیں ۔
مسجد نبوی اور مدینہ میں آپ کا گھر حقیقی معنوں میں مدینتہ العلم بن گئے تھے۔ جو وقت کے عالی شان علمی تحقیقاتی مرکز کی حیثیت رکھتے تھے ۔ آپ کا مدرسہ اپنے دور کی بڑی یونیورسٹی کا درجہ رکھتا تھا ۔ جس کا حلقہ تعلیم و تدریس اور تحقیق خاصا وسیع تھا ۔ اس میں بیک وقت کم سے کم چار ہزار دانش جو مختلف علاقوں کے زیر تعلیم ہوا کرتے تھے اس عظیم الشان اسلامی ریسرچ سنٹر اور مسلم دانشگاہ سے بڑے بڑے علماء جید فقہاء اور نامور مفکر فارغ التحصیل ہوئے ۔ اور ان طالب علم نے یہاں سے جو کچھ سیکھا اس علم کی روشنی دنیا کے چپہ چپہ میں پھیلائی ۔
یحیی بن سعید انصاری ‘ سفیان ثوری ‘ سفیان بن عینیہ ‘ حضرت امام مالک(رح)‘ حضرت امام ابو حنیفہ (رح)جیسے اکابرین نے حضرت امام جعفر صادق (رض)کے مرکز تعلیم سے فیض حاصل کیا ۔ لیکن یہ بات بہر حال تاریخی شواہد کے پیش نظر کبھی ضروری نہ رہی کہ استاد اور اس کے شاگردوں کے مسلک اور نظریاتی میں بھی ہم آہنگی رہی ہو جس کی وجوہ سیاسی ‘ نسلی ‘ ماحول کے تاثرات ‘ گردو پیش کے حالات کا دباؤ ‘ ذاتی خواہشات ‘ مخصوص مصلاح ‘ نام و نمود کے مقاصد اور اسی طرح کی دوسری باتیں بھی ہو سکتی ہیں ۔
حضرت امام ابو حنیفہ (رح)کہا کرتے تھے کہ
“میں نے حضرت امام جعفر صادق (رض)سے بڑھ کر علم دین کا عالم کسی دوسرے کو نہیں پایا “
حضرت امام مالک(رح)کا قول ہے کہ
” میری آنکھوں نے علم و فضل اور تقوی میں حضرت امام جعفر صادق (رض)سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا “‘
آپ کے مشہور شاگردوں میں حضرت امام الکیمیا جابر بن حیان کوفی بھی تھے ۔ جو عالمی شہرت کے حامل ہیں ۔ جابر بن حیان نے ایک ایسی مفصل مضمون لکھی تھی جس میں حضرت امام عالی مقام کے کیمیاء پر پانچ سو رسالوں کو جمع کیا تھا آپ کے شاگردوں کی تصانیف کے علاوہ خود آپ کی تصانیف بھی بہت زیادہ ہیں ۔ کیمیاء ‘ فلسفہ ‘ طبیعات ‘ ہیئت ‘ منطق ‘ طب ‘ تشریح الاجسام ‘ افعال اعضاء اور ما بعد الطیعات و غیرہ وغیرہ پر آپ نے بہت کچھ لکھا ہے ۔
آپ نے ہر شعبہ علم پر قرآن و حدیت کی رو سے ایسی روشنی ڈالی ہے کہ اہل علم حیران رہ گئے ہیں ۔ آپ کے ظاہری و باطنی کمالات و فضائل کے دوست دشمن سب قائل ہیں ۔ حضرت امام شافعی(رح) تحریر کرتے ہیں کہ
” حضرت امام جعفر صادق (رض)سادات و بزرگان اہل بیت میں سے تھے ۔ ہر طرح کے جملہ عبادات مسلسل اور اد اور وظائف اور نمایاں زہد کی حامل تھے ۔ کثرت سے تلاوت فرماتے تھے اور ساتھ ہی آیات قرآں کی تفسیر فرماتے تھے ۔ اور قرآن کے بحر بے کراں سے جواہر نکال کر پیش کرتے اور عجیب و غریب نتائج اخذ فرماتے تھے ۔ آپ کی زیرات آخرت کی یاد دلانے والی ‘ آپ کا کلام سننا اس دنیا میں زہد ‘ اور آپ کی ہدایات پر عمل کرنا حصول جنت کا باعث تھا ۔ آپ کی نورانی شکل گواہی دیتی تھی کہ آپ خاندان نبوت میں سے ہیں اور آپ کی پاکیزگی بتاتی ہے کہ آپ نسل رسول سے ہیں آپ سے حضرت امام اور علماء اعلام کی ایک جماعت نے حدیثیں نقل کی ہیں اور علوم حاصل کئے ہیں ۔ جیسے یحیی بن سعید انصاری ‘ ابن صریح ‘ مالک بن انسا ‘ سفیان ثوری ‘ ابن عینیہ ‘ شعبی ابو حنیفہ (رح)‘ ایوب سختیانی وغیر ہم ۔ اور یہ لوگ اس شرف استفادہ اور نسبت فصیلت پر فخر کرتے تھے “
حضرت امام جعفر صادق (رض) کے خوان علم سے نہ صرف علم کی اشتہا رکھنے والوں کی سیری ہوئی بلکہ جب آپ نے علم الابدان پر درس دیا تو اس تبحر علمی سے دنیا آپ تک محو حیرت ہے کتاب الا ہلیح اور کتاب المفضل اس پر آج تک گواہ ہیں ۔
یہ حضرت امام جعفر صادق (رض) کے فیوض کا ہی تصدق ہے کہ پروفیسر ہٹی جیسا شخص جابر بن حیان کو ایشیا اور یورپ میں فادر آف کیمسٹری کہہ کر پکارتا ہے ۔
ابن تیمیہ نے خیرہ چشمی اور گستاخی سے کام لیتے ہوئے حضرت امام ابو حنیفہ (رح)کے حضرت امام جعفر صادق (رض) کے شاگر ہونے پر اعتراض کیا ہے اور اس کی وجہ ان دونوں بزرگوں کا ہم عصر ہونا قرار دیا ہے ۔ چنانچہ شمس العلماء مولانا شبلی(رح)نے سیرت نعمان میں ابن تیمیہ کا تعاقب کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ
” حضرت امام ابو حنیفہ (رح)لاکھ مجتہد اور فقیہ ہوں لیکن فضل و کمال میں ان کو حضرت امام جعفر صادق (رض) سے کیا نسبت ؟ حدیث و فقہ بلکہ تمام علوم اہل بیت کے گھر سے نکلے ہیں “
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی(رح) اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں کہ
” حضرت امام ابو حنیفہ (رح)ہمیشہ حضرت امام جعفر صادق (رض)کی محبت و خدمت پر افتخار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ لو لا السنتان لھلک النعمان یعنی اگر یہ دو برس نہ ہوتے (جو خدمت حضرت امام جعفر صادق (رض)میں گزارے )تو نعمان ضرور ہلاک ہو جاتا “
(یہاں ہلاکت سے مراد مسائل کے جواب میں غلطیاں کرنا ہے )
حضرت امام جعفر صادق (رض)اور دیگر اہل بیت سے حضرت ابو حنیفہ (رح)کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ مشہور روایت ہے کہ جب کبھی ابو حنیفہ (رح) حضرت امام جعفر صادق (رض)سے کلام کرتے تو کہتے جعلت فداک یعنی میں آپ پر قربان ہوں ۔ اور اسی حقیقت سے منصور دو انیقی بھی خوب واقف تھا اور جناب ابو حنیفہ (رح)کو منصور کا رعب و دبدبہ بھی اس عقیدت مندی سے باز نہ رکھ سکا چنانچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی(رح) لکھتے ہیں کہ جب محمد نفس ذکیہ نے خروج کیا تو ان دنوں میں منصور عباسی نے حضرت امام ابو حنیفہ (رح)سے پوچھا :
اے نعمان ! تمہارے علم کے ماخذ کون کون لو گ ہیں ؟
ابو حنیفہ (رح)نے جواب دیا کہ
” میں نے علم حضرت علی کے اصحاب اور حضرت علی (رض) سے اور عبداللہ بن عباس (رض) کے صحابیوں اور ابن عباس (رض) سے لیا ہے “
یہ کس طرح خوبصورتی کے ساتھ حضرت امام ابو حنیفہ (رح)نے حق گوئی کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ماخذ علم صرف علی کرم اللہ وجہہ(رض)ہیں ۔ کیونکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو مسلمہ طور پر جناب امیر (رض)کے شاگرد تھے ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔




Asma Khan said
He is really a great source of inspiration…
تحریم said
درست کہا آپ نے اسماء
آج ہم اپنے اسلاف کو بھولتے جا رہے ہیں
یہی ہماری اصل گمراہی ہے
اور اگر ان کی بات کریں تو تنقیدی یا گروہوی ضرور کریں گے
افتخار اجمل بھوپال said
معذرت کہ تحرير طويل ہے اور مجھے ابھی آنکھوں پر زيادہ بوجھ ڈالنے کی اجازت نہيں ملی ۔
اس نام سے منصوب ايک عمل بچپن سے ميرے عِلم ميں ہے ۔ “امام جعفر صادق کے کُونڈے بھرنا”۔ کيا اس کی کوئی دليل موجود ہے ؟ يا افاديت ہے ؟
تحریم said
آپ نی نگاہوں کے لئے دعا خاص الجمعہ ہوگی
http://iftikharajmal.blogspot.com/2006/03/blog-post_15.html
یہاں آپ اس پر موضوع لکھ چکے ہیں
میں کسی فرقہ پر نا ہی بات کرتی ہوں نہ ہیس اس پر بحث لہٰذا نقطہ چینی سے پرہیز کیجئے
کونڈے بھرنا امام جعفر صادق کے نام پر ہم جو بھی کرنے ہیں
یا غوث پاک کے نام پر جو بھی کچھ کرتے ہین
یہ ان کا اپنا فعل ہے
ان بذرگوں نے کا افعال اور اعمال کا اس مین کوئی دخل نہیں
اپنے اپنے امام کی پیروی کیجئے
ان کے افکار و خیالات کا مطالعہ کیجئے
آپ بہتر سمجھ سکیں گے
اپنے دین و مطالعہ کو وسعت دیجئے اور ٹھنڈے دل و دماغ سے مشاہدہ کیجئے کیا درست ہے اور کیا غلط
اسلام پر عمل کیجئے
اور ارکان اسلام پر عمل کیجئے جہی نجات کا اصل راستہ ہے
افتخار اجمل بھوپال said
ميری جس تحرير کا آپ نے حوالہ ديا ہے وہ يہاں موجود ہے
http://www.theajmals.com/blog/2006/03/
اور يہاں بھی
http://iftikharajmal.wordpress.com/2006/03/15/
نصيحت کيلئے شکرگذار ہوں ۔ اِن شاء اللہ عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا
جہاں تک امام کا تعلق ہے تو ميرے امام جيسا کہ ميری اس تحرير سے واضح ہے جس کا آپ نے حوالہ ديا ہے ميرے امام قرآن و حديث ہيں
تحریم said
چلیئے اچھا ہے نصیحت مان لی آپ نے آرام سے
امام کو ماننا نا ماننا میں نے اس پر کوئی تنقید نہین کی
امام کو تو ہم مسجد میں ہی مان لیتے ہیں جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہین
قرآن و حدیث اس کےلئے ہم استاد مقرر کرتے ہیں
پیروی بھی ہم کسی نہ کسی امام کی ہی کرتے ہیں
میں اہلسنت و الجماعت سے تعلق رکھتی ہوں اور
امام ابو حنیفہ رح میرے امام ہیں
امام کیوں ہوتے ہیں آپ بزرگ مجھے سے بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں
syed mubashir mehdi said
MUHTRMA
asal men mosuf zehni etbar sy narrow minded/shiddat pasand lagty hain JO apny nazriaat k ilawa hr chiz ko qabil e etraz smjhty hain.
insaan ko broad minded hona chahiey or yeh chiz wus’at e mutal’a sy peda hoti hy.
syed mubashir mehdi said
ilawa azee’n imaamat ussi quraan o hadees sy saabit hy jiska muhtram iftikhar sahb ny zikr kia hy.koi maany ya na maany uski apni mrzi.lakin kisi chiz ka apk ilm men na hona usk adm wjood ya ghalat hony ki daleel nahi bn skta.
ap ny drust kaha k mzhbi ammal hr kisi k apny hoty hain jinka wh khud zima daar hota hy.
wish you good luck……………….