تقسیم املاک پاک و ہند
Posted by ارتقاءِ حيات on October 19, 2011
;
تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی سرکاری املاک کی تقسیم کے لئے چھین جھپٹ شروع ہو گئی ۔کرسی ،میزیوں الماریوں اور پیپر ویٹ سے لے کر ٹائپ رائٹروں تک کی تقسیم عمل میں آئی۔ فارمولا یہ تیار کیا گیا کہ”ہندوستان کے لئے ٪80اور پاکستان کے لئے٪20۔اسی طرح اسٹیٹ بنک آف انڈیا کے اثاثوں بالخصوص سونے کی تقسیم کے لئے پاکستان کا حصہ ٪17.5 مقرر کیا گیا۔اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی یہی تناسب قرار پایا۔وائسرائے لاج کی نقری اور طلائی بگھیوں کی تقسیم کے لئے ٹاس کیا گیا۔




افتخار اجمل بھوپال said
آپ نے يہ تو بتايا نہيں کہ پاکستان کو ملا کيا ؟
بھارت نے کچھ بھی نہ ديا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بادشاہ بننے تک اس سلسلہ ميں سٹيٹ بنک آف پاکستان کی واضح رپورٹس چھپتی رہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے يہ سلسلہ بند کروا ديا کيونکہ اس سے ملک کی معاشی حالت کا اندازہ اور ذوالفقار علی بھٹو کے دوستوں کی قلعی کھُلتی تھی ۔ اس ملک پاکستان کی بربادی کا انتظام کرنے والا دراصل ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا جس نے ملک کا ہر ادارہ تباہ کر کے رکھ ديا اور سوات کے زلزلہ زدگان کيلئے آنے والی امداد اپنے سوئس بنک اکاؤنٹ ميں جمع کرالی تھی
تحریم said
جو کچھ ملا وہ بتلانے لائق ہی نہیں ہے
آپ کو کون اچھا لتا ہے بھلا آج یہ بھی بتا دیں
ہمیں تو نہیں لگتا آپ کو پاکستان کے کسی بھی شخص سے کوئی شکایت نہ ہو
علاوہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے
اور شائد کہ ان سے بھی کچھ شکایتیں ہوں
مجھے نہ سیاستدان پسند ہے اور نہ ہی ان کی باتیں
اور جو کچھ پسند نہ ہو میں اس کی باتیں ہی نہیں کرتی
ہان جس دن مجھے لگا کہ میرے کچھ کہنے لکھنے سے کچھ بھلا ہو گا میں ضرور کچھ لکھوں گی
پر ابھی ہم بحثیت مسلمان ہی ایک کمزور امت ہو چکے ہیں
ہمیں پہلے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے
جب تک ہم اپنے آپ میں تبدیلیاں نہیں لا سکتے ہم ملک تو کیا ایک شہر کا یا اپنے محلّے کا نظام بھی درست نہیں کر سکتے
ملک کے حکمرانوں سے کیا شکایت جب ایک عام شہری کسی دوسرے کے 10 روپے تک مار لینے کی کوشش میں لگا ہے تو
ملک پر اور ان پر اسے ہی حکمران آتے رہیں گے
اور معاملہ سختی کی ہی جانب جائے گا نہ کہ انتظار کرنے سے اور نہ ہی چہرے بدلنے سے
اور ایک نعرہ میں نے اکثر سنا اور پڑھا ہے
چہرے نہیں نظام کو بدلو۔۔۔
یہ بھی ایک تسلی اور ایک ڈھکوسلہ ہی ہے
پہلے اپنے ایمان کو مضبوط کرو پھر نظام اور چہرے خود بخود بدل جائیں گے
ملک میں فحاشی عریانیت کا سیلاب امنڈتا چلا آرہا ہے فیشن کے نام پر اور اسٹائل کے نام پر
پردے اور عبایا کو دقیانوسی اور غریبوں تک ہی سمیٹ دینا
لکھے پرھے ہونے کا مطلب بے دھڑک جو منہ میں آئے بول دینا
سماج مین تبدیلی لانے کا مطلب ایسی باتیں کہ جو معیوب ہوں وہ بھی کھلے عام سیمینار مین موضوع بنا لیا
آخر ہم اغیار سے ہی متاثر کیوں؟
ہم ترقی نہیں کر رہے بلکہ مزید تنزلی کی جانب گامزن ہے
پر ہمیں تو سییاست چمکانی ہے
بلاگنگ کا مقصد ہی یہی ہے ہمارا
کہ وہ موضوع جو باعث اچھی بحث ہو اس کو میں پہلے شروع کر سکوں
تاکہ مشہوری ہو
میں اکثر بلاگ دیکھتی ہوں یہاں ایسے بلاگنگ ہی زیادہ ہیں جو سیاست یا معاشرت پر ہی بحث کو ذریعہ بنائے ہیں
آخر ہم حقیقت میں سچ کیوں نہین بولتے
کہ ہم مذہب سے دور ہیں
افتخار اجمل بھوپال said
ميں نے واضح اور سادہ الفاظ ميں لکھا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو کچھ نہيں ديا
رہی اچھا يا بُرا لگنا تو بات اچھا يا بُرا لگنے کی نہيں ہے بلکہ حقيقت بيان کرنے کی ہے جو ہمارے ہاں بيان کی جائے تو لوگ بُرا مناتے ہيں
جو سياست ميں نے پچھلے 40 سال ميں ديکھی ہے وہ يہ ہے کہ اپنے عوام کو بيوقوف بناؤ خواہ پاکستان ہو يا امريکا
آپ مذہب کی بات کہہ رہی ہيں يہاں تو بہت سے انسانيت سے دُور ہيں
ويسے آپس کی بات ہے کہ آپ کس سے جلی بھُنی بيٹھی تھيں کہ ميرے تبصرے کے جواب ميں اتنا کچھ لکھ ديا ۔ يا ذوالفقار علی بھٹو کو آپ ہيرو سمجھتی ہيں اور ميری طرف سے حقيقت بيان کرنے کی گُستاخی آپ کو پسند نہيں آئی
تبديلی کيسے آئے گی ۔ اس کيلئے ميرے انگريزی بلاگ پر يہ تين سطری تحرير پڑھ ليجئے
http://http://iabhopal.wordpress.com/2011/10/22
تحریم said
پاکستان کی حالت زار پر جلتی ہوں میں بھی
اور بھلا کس پر؟
میرے نزدیک ہیرو وہ ہیں جو ملک و قوم کی ترقی مین معاون ہوں
جو میری نگاہ میں کوئی نہیں ہے یہاں
مسلمانوں کو خود اپنی فکر نہیں ملک و قوم کی کیا خاک ہو گی
اور جو کام کوئی کر ہی نہیں رہا تو اس پر لکھنا پڑھنا مجھے پسند نہیں
لۃٰذا میں اخبار میں کبھی سیاست کی خبریں نہیں پڑھتی جب تک کوئی خاص احساس نہ دلائے
اور سیاست پر مجھ سے کوئی گفتگو کرے تو وہ ایسا ہی جلا بھنا لہجۃ پائے گا
کبھی سیاست پر تحریر نہ لکھنے کی وجہ ہی یہی ہےے کہ مجھے سیاست تب تک نہیں پسند
جبتک ہم سیاسی ماحول کو سمجھنے کے قابل نہ ہوں
اسے سیاست کہتے ہیں آپ جو ہو رہی ہے؟
بیرونی ہاتھ فیصلے کرتی ہے سارے اور ،،،،،، اتنا ہی کافی ہے
میں حکمرانوں سے خوش ہوں یا نا خوش
بس اس سے ہی اندازہ لگا لیجئے کہ میں ان کی بات ہی نہیں کرنا چاہتی